تازہ تر ین

رحمت علی رازی بھی رخصت ہو گئے

سجادوریا……..گمان
14جون جمعہ کی رات اچانک سوشل میڈیا پر اےک خبر چلنے لگی کہ نامور صحافی ،کالم نگار اور اےوارڈ ےافتہ تحقیقاتی رپورٹر رحمت علی رازی دل کا دورہ پڑنے کے سبب انتقال کر گئے ہےں۔اک دم جھٹکا لگا اور دل کی دھڑکن تےز ہوئی اور زُبان پر دعائیں چلنے لگیں، ےا اللہ ےہ خبر سوشل میڈیا کی جھوٹی خبروں کی طرح جھوٹ ہو۔لےکن قارئین مےں نے تجربہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھےلائی جانے والی منحوس اور بدقسمت خبرےں اکثر سچ نکلتی ہےں۔ان خبروں کو جھوٹا سمجھ کر جتنا مرضی ان سے آنکھ چرانے کی کوشش کرےں ،لےکن چند ہی لمحے ان بدقسمت خبروں کی سچائی کو آپ کے سامنے لا کھڑا کرتے ہےں۔چند ہی لمحوں مےں ذمہ دار اور معتبر ذرائع کے حوالے سے خبرےں آنا شروع ہو گئیں ،دل بےٹھ گےا اور ان سے شناسائی اور صرف دو ملاقا توں کے مناظر اےک فلم کی جھلکیوں کی طرح دماغ کی سکرین پر چلنے لگے۔ مےرا ان سے پہلا تعارف تو روزنامہ جنگ مےں اتوار کے روز چھپنے والا ”درون پردہ“کے عنوان سے ہفتہ وار کالم تھا ،مےں اُس زمانے مےں ان کی دلےری اورخبریت سے بھر پوربےوروکرےسی کے حوالے سے خبروں کو دلچسپی سے پڑھا کرتا تھا،ےہ سلسلہ بس اےک کالم نویس اور قاری کی حد تک رہا ۔اُن سے ملاقات نہیں تھی،اےک غائبانہ قاری کی حےثیت سے ان سے فون پر بات ہوتی رہتی تھی ،وہ ہمےشہ محبت سے بات کرتے بلکہ اگر کبھی کال مِس ہو جاتی تو فرصت پاتے ہی فوراََ کال بےک کرتے اور پنجابی زبان مےں اپنے مخصوص دھیمے انداز مےں بات شروع کر دےتے۔مےں نے دےارِغےر سے بھی اپنے پرانے دوست احباب سے رابطہ رکھا ،ان سے بھی کبھی کبھار بات ہو جاتی۔
ایک بار سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ وہ عمرہ کرنے سعودی عرب آ رہے ہےں ،ان سے رابطہ ہوا اور کچھ دنوں مےں مدینہ منورہ مےں ان سے ملاقات کا وقت طے ہو گےا ۔ مجھے ےاد ہے جب مےں ان کے ہوٹل پہنچا ،ان کے صاحبزادگان نے دروازہ کھولا اور رحمت علی رازی کے کمرے مےں لے گئے۔انہوں نے کمال محبت و شفقت سے نوازا،ڈھےروں باتےں کیں اور کئی بار تو اےسے کڑوے سچ اور کئی سےاستدانوں کے خلاف کھلی نفرت بےان کرنے لگتے ،اےسے محسوس ہو تا اگر وہ سامنے آئیںتو رازی صاحب بے خوف و خطر بےان کر دےں۔کئی صحافیوں کی منافقت کودےکھ کر کڑھتے تھے۔مےں حےران ہوا کہ صحافت کےسے کرتے ہےں۔نبی اکرم سے بے پناہ محبت کرتے اور اپنا انداز رکھتے اور کھل کر بےان کرتے تھے۔کچھ عرصہ بعد مےں پاکستان گےا اور لاہور پہنچ کرنے انہےں فون کیا اور ملنے کی خواہش کا اظہار کیا ،فرمانے لگے آفس آ جاﺅ۔ جےل روڈ پر واقع ان کے دفتر پہنچا اور استقبالیہ پر بتاےا تو اندر سے فوراََ ہی بلاوا آگےا ،ان کے دفترمےں داخل ہوا تو کیا دےکھتا ہوں کہ سفےد شلوار قمیض مےں ملبوس اےک بڑی سی ٹےبل کے اُس پار بےٹھے ہےں،مجھے دےکھا ،اُٹھے اور مےز کے اِدھر آ کر گلے ملے، پوچھا’ ’دفتر آسانی نال مل گےا سی“۔مےں نے کہا جی سر ،حال پوچھنے لگے ،گرین ٹی منگوائی ،سےاسی اور صحافتی امور پر گفتگو کا سلسلہ چل نکلا ،انہوں نے اپنے دفتر کی دیوار پر اےک فرےم مےں عربی زبان کی عبارت،ترجمے کے ساتھ حمائل کر رکھی تھی۔ ترجمہ بھی ملاحظہ فرمائیے ۔
”ُاے اللہ کے رسول ہمارے حالات پر توجہ فرمائیے۔
اے اللہ کے حبیب ہماری عرض سماعت فرمائیے۔
بے شک مےں پرےشانیوں کے سمندر مےں غرق ہوں
مےرا ہاتھ پکڑیے اور ہماری مشکلات کو آسان فرمائیے“۔
مےں نے اس طرف اشارہ کیا تو فرمانے لگے ،سجاد ،مےرا تو ایمان ہے کہ نبی کریم کی نظر کرم زندگی بدل دےتی ہے۔اس موضوع پہ بات جاری تھی کہ اےک شخص اُردو مےں بات کرتا ہوا اندر داخل ہوا ،رازی صاحب سے لپٹ گےا،شکریہ ،دعائیں اور مہربانی جےسے الفاظ کا طویل سلسلہ چل پڑا ۔ رازی صاحب کو مخاطب ہوا کہ والدہ کا حکم تھا کہ آپکی خدمت مےں حاضر ہوں اور شکریہ ادا کروں ۔رازی صاحب تھے کہ بے نےاز ان کے چہرے کے تاثرات ہےں کہ بالکل سرد،کہنے لگے کوئی بات نہیں آپ کا کام ہو گےا ،مےں اس پر ہی خوش ہوں۔باتوں سے پتہ چلا کہ وہ صاحب کوئٹہ سے ہےں ،لاہور مےں سرکاری ملازم تھے۔ انہوں نے کسی طرح رازی صاحب کو تلاش کر لیا ،ان سے درخواست کی کہ مجھے کوئٹہ ٹرانسفر کروا دیا جائے ۔ مےری والدہ ،فےملی اور مےں خود بھی خاصی مشکل کا شکار ہوں ۔ جناب رازی صاحب نے کسی ”صاحب“ کو کہہ کر ان بلوچ بھائی کا کام کروا دیا تھا ،وہ جناب رازی صاحب کو الوداعی سلام کہنے آےا تھا اور شکرےہ بھی ادا کرنے کی خاطر۔مےں خاموشی سے ےہ منظر دےکھتا رہا ،لےکن رازی صاحب نے بالکل محسوس نہیں ہو نے دیا کہ تمہارا بڑا کام کر دیا ہے۔ کہنے لگے بھائی کوئی بات نہیں ہم نے کسی کو فون ہی کرنا تھا آپ کا کام ہو گےا ،شکریے کی بات نہیں آپ ہمارے لئے دعا کرےں ،والدہ کو سلام کہنا۔
مجھ سے مخاطب ہوئے ،بےورو کرےسی مےں دوست ہےں ان کو کہہ دےتے ہےں اےسے بے وسیلہ لوگوں کی مدد ہو جاتی ہے۔مےں نے کہا سر ےہ بڑی بات ہے ،اللہ آپ سے راضی ہو گا۔تمہےں کوئی کام ہو تو بتاےا کرو ،مےں نے کہا ضرور سر ،جب بھی ضرورت پڑے گی ،عرض کروں گا۔مےں نے اجازت چاہی ،کیوں ؟ جلدی اے؟جی سر ۔چلو ٹھیک اے ،رابطہ رکھنا ۔
مےں نے رازی صاحب سے دو ملاقاتوں اور ان کی تحریرپڑھنے کے بعد جو رائے قائم کی تھی کہ وہ بظاہر دھان پان سی شخصیت تھے لےکن اندر سے بڑے دبنگ اور بے خوف ،دلےر صحافی تھے۔جب ان کو اختلاف ہوتا تو ےہ نہیں دےکھتے کہ سامنے کون ہے؟اپنا نقطہ نظر بے خوفی سے بےان کرتے۔سی پی اےن ای کے اجلاس منعقد ہوتے تو رازی صاحب ،دوستوں سے خوش گپیوں کو انجوائے کرتے ،اختلاف بھی کرتے،بلکہ سخت اختلاف کرتے ،ناراض بھی ہو جاتے۔جناب ضےا شاہد سے محبت کا اظہار کرتے۔ اےک دفعہ ذکر ہوا کہ خبرےں کے لئے کالم لکھتا ہوں ۔کہنے لگے ،خبرےں اےک اچھا اور بڑا اخبار ہے ،ضےا شاہد ایک محنتی ،جان مارنے والا انسان ہے۔ابھی چند دن قبل ان کے کالم خبرےں مےں شائع ہو رہے تھے۔مجھے ان کو پڑھ کر ،کالم دےکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ سوچا،اس بار پاکستان جاﺅں گا ،ان سے ملوں گا تو بولوں گا ،سر کتنے سال ہو گئے مےں آپ کے کالم پڑھ رہا ہوں ،تُسی مےرا کالم پڑھےا کہ نہیں؟ وہ کیا جواب دےں گے ؟لےکن اس سوال اوران کے جواب کا انتظار تو حشر تک طویل ہو گےا اور حشر بہت دور ہے۔
اللہ سے دعا کرتا ہوں اللہ پاک ان کی مغفرت فرما،ان کو نبی کی شفاعت نصیب فرما،وہ اپنے اعمال کا دفتر لئے اپنے رب کے حضور پےش ہو چکے ہےں ،جہاں اےک دن ہم سب کو پےش ہونا ہے۔مےرا ”گمان“ ہے کہ اللہ پاک اپنی رحمت ضرور کرےں گے جب رحمت علی رازی ” ےا رسو ل اللہ انظر حالنا“ اور پھر ” مےرا ہاتھ پکڑیے ،مےری مشکلات کو آسان فرمائیے “کی فرےا دکرےں گے تو اللہ پاک ،رسول کے اس امتی کونبی کی شفاعت نصیب کرےں گے اور بخش دےں گے۔بے شک اللہ مہربان اور بخشنے والا ہے۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved