تازہ تر ین

قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی نمبر گیم پوری،اپوزیشن کے لیے بجٹ روکنا مشکل

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کا پتہ نہیں ہوتا کہ کس وقت وہ سمت پھیر لیں۔ کچھ دنوں سے یہ فواہ بھی چل رہی ہے کہ اختر مینگل جن کے 4 ووٹ ہیں جس طرف وہ ہو جائیں گے وہ پارٹی جیت جائے گی۔ میں نے نیٹ سے رزلٹ نکلوائے ہیں۔ حکومتی اتحاد ایک طرف ہے دوسری طرف اپوزیشن ہے۔ حکومتی اتحاد میں پی ٹی آئی کے ہیں 155 ووٹ، ق لیگ کے ہیں 5 ووٹ، جے ڈی اے 3 ووٹ، عوامی مسلم لیگ شیخ رشید والی ایک ووٹ بلوچستان عوامی پارٹی جن کا بلوچستان میں وزیراعلیٰ ہے ان کے 5 ووٹ، ایم کیو ایم کے7 ووٹ جمہوری وطن پارٹی کا ایک ووٹ، آزاد ان کے ساتھ 2 ایم این اے ہیں۔ اب اپوزیشن اتحاد کو دیکھیں۔ ن لیگ کے 84 ووٹ، پیپلزپارٹی کے 54 ووٹ، ایم ایم اے 16 ووٹ، اے این پی کا ایک ووٹ، آزاد 2 ووٹ، بی این پی مینگ کے ہیں 4 ووٹ۔ اس وقت جو پوزیشن ہے وہ یہ ہے کہ ٹوٹل حکومتی اتحاد کے پاس 182 ووٹ ہیں اور ٹوٹل اپوزیشن اتحاد کے پاس 161 ووٹ ہیں۔ اگر کوئی مینگل کے 4 ووٹ ادھر چلے بھی جائیں تو بھی ان کے زیادہ سے زیادہ 161 ہو جائیں گے اور پھر 21 ووٹ جو ہیں پھر بھی زیادہ ہیں۔ اسی تناسب سے آپ دیکھ لیں بجٹ کے پاس ہونے میں تو بھی اس کا مطلب ہے حکومت کے پاس سادہ اکثریت ہوتی ہے اس کے لئے دو تہائی ضروری نہیں ہوتا۔ حکومت کے پاس سادہ اکثریت موجود ہے اگر ایک دو لوگ بھی زیادہ ہوں تو بھی یہ بجٹ منظور کروا سکتے ہیں۔
شاہد خاقان عباسی کے ایک نجی انٹرویو میں خبر کہ ان کی طرف سے کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کے 12 ارکان ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں ضیا شاہدنے کہا کہ یہ تو دعوے ہیں عین وقت پر وہ 12 بندے توڑ دیں لیکن اسی طرح سے یہ پی ٹی آئی والے بھی دعویٰ کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے پاس 16 ایم این اے جو ہیں ن لیگ کے وہ فارورڈ بلاک بنا کر ہمارے ساتھ آنے کو تیار ہیں کون کل کو کیا کرے گا اس کا تو یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس کا انحصار ابھی آنے والے وقت پر ہے۔ اے پی سی بلانے کے حوالے سے ضیا شاہد نے کہا کہ کچھ اپوزیشن کے اندر اختلاف بھی ہے جسے شہباز شریف کے بارے میں مختلف لوگوں کا خیال ہے کہ وہ صرف نوازشریف کی بات کرتے ہیں اپنی حکومت کی کارکردگی جتاتے ہیں وہ پیپلزپارٹی کے سربراہ کے بارے میں ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے بارے میں اس بات پر زیادہ زور نہیں دیتے۔ لیکن اس کے باوجود پھر آخر کار ساری اپوزیشن مل جائے تو بھی فی الحال نظر آتا ہے کہ کچھ ووٹوں سے حکومتی پارٹی جیت رہی ہے۔ شور اس لئے ڈالا جا رہا ہے سیاست اسی کا نام ہے جتنا زوروشور سے یہ پروپیگنڈا کر لیں گے کہ ہم جیت گئے ہم جیت گئے تو سہولتیں آدھی جیت آپ کی ہو گئی ہے۔ جب اپوزیشن عمران خان کو بولنے نہیں دے رہے تھے تو میں بار بار اس میز پر بیٹھ کر کہتا تھا کہ ایک دوسرے کو برداشت کریں اور ایک دوسرے کو قومی اسمبلی میں بات کرنے کا موقع دیں۔ بالآخر عمران خان کو بھی اپنی پارٹی کو گائیڈ لائن دینا پڑی کہ آپ بھی ان کو نہ بولنے دیں۔ یہ صورت حال کوئی اچھی نہیں ہے بہرحال ردعمل ہے اس بات کا چونکہ وہ عمران خان کو نہیں بولنے دیتے حکومتی پارٹی کو نہیں بولنے دیتے شیخ رشید کو انہوں نے نہیں بولنے دیا لہٰذا اب جواب میں وہ یہ طے کر کے بیٹھے ہیں اورطے کر کے آتے ہیں ہم نے ان کو نہیں بولنے دینا۔ انہوں نے آج شہباز شریف کو بات نہیں کرنے دی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ صورتحال ختم ہونی چاہئے دونوں طرف سے یہ احساس ہونا چاہئے کہ ایک دوسرے کو چلنے دو اور جیو اور جینے دو کے فارمولے کے تحت ایک دوسرے کو برداشت کرنا چاہئے۔ جمہوری نظام کو چلانے کے لئے اپوزیشن کی بھی اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے جتنی حکومتی پارٹی کی، لہٰذا ن لیگ پیپلزپارٹی اور دوسری اپوزیشن پارٹیوں کو مل کر حکومت کو چلنے کا موقع دینا چاہئے ان کو راستہ دینا چاہئے تا کہ وہ ان کو راستہ دیں۔ اپوزیشن کے مشترکہ لائحہ عمل کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہاکہ ہو سکتاہے آگے چل کر یہ اکٹھے ہو جائیں کیونکہ ان کو اکٹھے بلانا پڑے گا۔ دونوں بڑی پارٹیوںکا مل کر کچھ وزن بنتا ہے ورنہ تو نہیں بنتا لیکن لگتا یہی ہے ان کے دل صاف نہیں ہیں۔ جب تک نمبر گیم پی ٹی آئی کے ہاتھ میں ہے یہ ان کے حلیفوں کے ہاتھ میں ہے میرا خیال ہے کہ ان کو کوئی بڑا خطرہ نہیں ہے۔ 10 سال میں لئے گئے قرضوں کے حوالے سے کمیشن بنانے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا ہے کہ حسین اصغر پچھلے دنوں شعیب سڈل کا نام آیا تھا لگتا ہے کہ وہ فائنل نہیں ہو سکا اور حسین اصغر ایک اچھا نام ہے نیب کے ڈپٹی چیئرمین کے طور پر ان کی کارکردگی بہت اچھی رہی ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ بہت بڑا کام ہے ان کے سپرد کیا گیا ہے کہ پچھلی حکومتوں نے اتنے سارے قرضے لے کر کیا کیا اور کہاں خرچ کئے۔ کیا وہ واقعی وہ قوم کی بہتری کے لئے خرچ ہوئے ہیں یا وہ ہمیں قرضوں کا بوجھ دے گئے ہیں۔ ترقیاتی کونسل بنائی گئی ہے وزیراعظم اس کی سربراہی کریں گے تمام صوبوں کے وزراءاعلیٰ اس کے رکن ہوں گے۔ آرمی چیف بھی اس کے رکن ہوں گے ضیا شاہد نے کہا کہ یہ اچھی بڑی تعداد اور بڑی موثر یہ ایک فورم ہے اور وہ یہ دیکھے گا کہ کس طرح کے معاملات چل رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ جس طرح آرمی چیف یا چاروں صوبوں کے سربراہ اور وزیر تجارت بھی آئے ہیں یہ جو آئے دن ڈالر ریٹ بڑھ رہے ہیں ۔ یہ اس کا بھی جائزہ لے سکیں گے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved