تازہ تر ین

احتساب کا عمل رکنا نہیں چاہئے

روہیل اکبر……..(میری بات)

جیسے جیسے نیب کی طرف سے کرپٹ سیاستدانوں کے گردگھیرا تنگ کیا گیا ویسے ویسے ان کے بچوں نے حکومت بالخصوص عمران خان کے خلاف سخت زبان استعمال کرنا شروع کردی۔ بظاہر عوام کی غربت ،پسماندگی ،بے روزگاری اور مہنگائی کا رونا رویا گیا مگر اصل میں مقصد ایک تھا جو وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشیداحمد نے بہت پہلے بتا دیا تھا کہ اپوزیشن اگر کوئی تحریک چلائے گی تو وہ ابو بچاﺅ تحریک ہوگی کیونکہ اس وقت مہنگائی اور عوام کا دردانکا مسئلہ نہیں ہے یہ سب چیزیں ان دونوں کی ہی پیدا کی ہوئی ہیں ۔
اس وقت مریم نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری دونوں کا دکھ ایک جیسا ہے دونوں کے ابو میگا کرپشن میں اندر ہیں اور ہاں یاد آیا مریم نواز شریف نے بلاول بھٹو زرداری کو ابو کے دن (فادرز ڈے) پر رائیونڈ میں اپنے پاس کھانے پر بلایا اور دونوں رہنماﺅں نے اپنے اپنے ابو کو بچانے کے لیے ملکرجدوجہد کرنے کا اعلان بھی کیا۔ جی ہاں یہ انہی دونوں کے ابو ہوا کرتے تھے جو ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار نہیں تھے اور دونوں ایک دوسرے کو اسی جگہ دیکھنا چاہتے تھے جہاں یہ آج ہیں، دونوں نے اپنے اپنے دور حکمرانی میں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کا عالمی ریکارڈ بھی قائم کیا اور دونوں ایک دوسرے کو ایک منٹ کے لیے بھی حکمران دیکھنا پسند نہیں کرتے تھے جبکہ شہباز شریف صاحب آصف علی زرداری کو لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹنا چاہتے تھے مگر حالات نے پلٹا کھایا عوام نے جرات اور ہمت دکھائی اپنے ووٹ کی طاقت سے اپنے آپ کو بادشاہ سمجھنے والوں کو اقتدار سے باہر کیا اور عمران خان کو وزیراعظم بنا دیا۔ جس کے بعد جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں نیب بھی متحرک ہوئی اور پھر واضح ثبوت ہونے پر گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں جسکے بعد سے اب تک اندر والوں کے حمایتیوں نے پوری کوشش کی کہ کسی نہ کسی طرح حکومت اور نیب کو عوامی دباﺅ میں لاکر اپنے کام سیدھے کیے جائیں مگر نہ تو عوام انکے ساتھ نکلی اور نہ ہی ابھی تک کسی اور طرف سے انہیں کوئی اشارہ ملا۔ اس لیے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن والے سخت مشکل میں ہیں اور مشکل بھی وہ جو مکڑی کے جالے کی طرح ہے جس میں شکار جتنی مزاحمت کرتا ہے اتنا ہی زیادہ پھنستا جاتا ہے اگر نہیں یقین تو آپ ذرا یہ بیانات غور سے پڑھ لیں کہ ابتدا کہاں سے ہوئی اور اب انتہا کہاں ہورہی ہے۔
سب سے پہلے کہا گیاکہ ہماری پاکستان یا لندن میں بھی کوئی پراپرٹی نہیں ہے پھر کہافلیٹس کرائے پر ہیں پھر کہاالحمداللہ ہمارے ہیں پھر کہاہمارے پاس سب ثبوت موجود ہیں اگر کوئی فورم ہو گا تو پیش کریں گے پھر کہاحضور یہ ہیں وہ ذرائع جن سے لندن فلیٹ خریدے پھر کہامیرا کوئی تعلق نہیں بلکہ بچوں کے ہیں۔ پھر کہا” حضور یہ ہیں ذرائع ” والا بیان سیاسی تھا، پھر کہاعمران خان ثبوت دیں کہ فلیٹ کے پیسے ہم نے کہاں سے لئے۔ پھر کہا پیسوں کا ثبوت کوئی نہیں، قطری شہزادے نے پیسے دئیے ۔پھر کہابینک منی ٹریل بھی نہیں، پیسے نقد بھیجے تھے پھر کہاعدلیہ تضخیک نہ کرے، ہم لوہے کے چنے ہیں، دانت ٹوٹ جائیں گے پھر کہاگاڈ فادر کہہ کر عدالت نے جانبدار ہونے کا ثبوت دیا پھر کہامٹھائیاں بانٹو، ہم سرخرو ہو گئے، JIT بن گئی پھر کہا JIT کے دو ممبرز پر اعتراض ہے پھر کہا JIT تضخیک نہ کرے، ریٹائر ہو جا¶ گے تو زمین تنگ کر دیں گے ۔ پھر کہاJIT کرسی پر بیٹھاتی ہے یہ تذلیل ہے۔ پھر کہاJIT بہت سخت سوال کرتی ہے، جانبدار ہے ۔پھر کہاہماری دھمکیوں پر سسیلین مافیا کہہ کر عدالت نے تذلیل کی اور جانبدار ہونے کا ثبوت دیا۔ پھر کہاقطری بھی آنے کو تیار نہیں۔ پھر کہا JIT مشکوک ہو چکی ہے۔ پھر کہاJIT کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ثبوت ہیں تو دکھائیں پھر کہاجج بغض سے بھرے ہوئے ہیں پھر کہاپانچ جج عوامی ووٹ کی تذلیل کر رہے ہیں پھر کہامجھے کیوں نکالا ۔ پھر کہاججوں کا بھی احتساب بھی ہونا چاہیے ۔ پھر کہااگر حکومت نے ججوں کا احتساب کیا تو ہم عدلیہ کی عزت کے لئے باہر نکلیں گے اور اب میاں نواز شریف ،آصف علی زرداری اور حمزہ شہباز شریف تینوں کرپشن اور لوٹ مار کے کیسوں میں اندر ہیں ا اور لوٹ مار بھی وہ جو غریبوں کے نام پر کی گئی اور انہی غریبوں ،پاپڑ والوں ،دہی بھلے والوں،مالیوں اور خاکروبوں کے نام سے سے بنک اکاﺅنٹ کھلوا کر پیسہ باہر اپنے پاس شفٹ کروایا اور اب شہباز شریف خاندان کا فرنٹ مین مشتاق چینی بھی وعدہ معاف گواہ بن گیا اورچیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب) جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے شہباز شریف فیملی کی مبینہ منی لانڈرنگ کا معاملے میں رمضان شوگر ملز کے مرکزی کردار مشتاق چینی کی وعدہ معاف گواہ بننے کی درخواست منظورکرلی اور اس سلسلہ میںمشتاق چینی نے دو نجی بنکوں کے ذریعے 37 ٹرانزیکشن سے متعلق نیب کو ریکارڈ فراہم کردیاہے۔
مشتاق چینی نے تسلیم کرلیا ہے کہ 2 بنک اکاﺅنٹس کے ذریعے 50 کروڑ 44 لاکھ 4 ہزار 899 روپے کی غیر ملکی ترسیلات موصول ہوئیں سلمان شہباز کے اکاﺅنٹ میں 60 کروڑ 30 لاکھ 54ہزار بذریعہ چیک منتقل کیے۔مشتاق چینی نے نیب کو 6 کروڑ 10 لاکھ 27 ہزار 612 روپے کی غیر ملکی ترسیلات کے بارے میں بھی بتا دیا ہے دوران تفتیش مشتاق چینی کے مختلف بنکوں میں 23 بنک اکاونٹس سامنے آئے،23 بنک اکاﺅنٹس میں سینکڑوں مشکوک ٹرانزیکشن ہوچکی ہیں جو اربوں روپے کی ہیں۔مشتاق چینی نے اپنے اور کمپنی کے نام پر یہ اکاﺅنٹس بنا رکھے تھے۔مشتاق چینی نہ صرف سہولت کار بلکہ شریف فیملی کا بے نامی دار بھی ہے ، مشتاق چینی نے 9 غیر ملکی کرنسی کی مشکوک ٹرانزیکشن کا ریکارڈ بھی نیب کو فراہم کر دیا ہے اور ان 9 ٹرانزیکشن کے ذریعے 6 کروڑ 10 لاکھ 27 ہزار 612 روپے منتقل ہوئے،مشتاق چینی کو 12 جنوری 2009 تک تواتر سے غیر ملکی ترسیلات موصول ہوتی رہیں۔
یادرہے8اپریل کو شریف فیملی کے مبینہ فرنٹ مین محمد مشتاق چینی کو لاہور ائرپورٹ سے دبئی فرار ہونے کی کوشش میں ائر پورٹ سے گرفتار کیا گیاتھااور اب جیسے جیسے دن گزر رہے ہے ہیں ویسے ویسے کرپشن کرنے والوں کے خلاف مزید ثبوت اکٹھے ہورہے ہیں اب مریم اور بلاول کی ابو بچاﺅ تحریک کہاں تک کامیاب ہوتی ہے یہ پاکستان کی باشعور عوام فیصلہ کریگی کہ وہ ملک لوٹنے والوں کے ساتھ ہے یا پھرملک بچانے والوں کے ساتھ۔تاہم احتساب کا یہ عمل اب رکنا نہیں چاہئے۔
(کالم نگارمختلف امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved