تازہ تر ین

مسلح افواج ملکی سلامتی و استحکام کی ضامن

رانا زاہد اقبال …. (اظہار خیال)

ہماری مسلح افواج پاکستان کی سلامتی و استحکام کی ضامن ہےں۔ پاکستان کی مسلح افواج کو ےہ کرےڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے ہر مشکل وقت مےں آگے بڑھ کر چےلنجز کا سامنا کےا اور کامےاب رہے۔ ہمےں اپنی اےٹمی قوت پر فخر ہے اورقوم کی صلاحےت پر بھی کوئی شک نہےں۔ ہمارے ملک کا جغرافےائی نقشہ کچھ اےسا ہے کہ دنےا کی بڑی طاقتےں اس کو نظر انداز نہےں کر سکتےں، اوپر سے ہمارا پڑوس ہے جو ہر وقت ہمےں نقصان پہنچانے کے پلان بناتا رہتا ہے۔ بلوچستان اور فاٹا مےں بھارت کی مداخلت کے ثبوت موجود ہےں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ملک کے اندر کچھ عناصر فوج اور ہماری ایجنسیوں کے خلاف پروپےگنڈہ مےں مصروف ہےں تا کہ ان کو کمزور کےا جا سکے۔ پاکستانی فوج کی کامےابےوں کے پےچھے عوام کا مکمل تعاون شامل ہے جو ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہےں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج نے جو کامےابےاں حاصل کی ہےںاور امن و امان قائم ہوا ہے اس مےں افسروں اور جوانوں کی بےش بہا قربانےوں کے ساتھ عوام کا زبردست تعاون بھی شامل ہے۔ مسلح افواج نے دہشتگردوں کی کمر توڑ کراےک نئی تارےخ رقم کی ہے، ےہی وہ چےز ہے جو جو دشمن کو کھٹکتی ہے۔ ہمارے خلاف سازشوں کے جال بنے جا رہے ہےں ہمےں ہوشےار رہنے کی ضرورت ہے، لےکن ہم ہےں کہ اپنی نادانےوں سے اپنے لئے ہی مشکلات پےدا کر رہے ہےں۔ سی پےک کے بعد وسطی اےشےا کی اہمےت اس لحاظ سے بہت زےادہ ہے کہ روس سے آزاد ہونے والی رےاستوں سے لے کر پاکستان تک ےہ تمام مسلم ممالک ہےں۔ اگر ےہ متحدہو کر اپنے وسائل بروئے کار لے آئےں تو مستقبل مےں اےک ناقابلِ تسخےر اسلامی بلاک بن سکتا ہے۔ پاکستان اس خطے کا واحد مضبوط اور اےٹمی طاقت رکھنے والا ملک ہے۔ اس کی فضائی، بحری اور بری افواج بڑی منظم اور پروفےشنل ہےں۔
طاغوتی طاقتوں کے نزدےک مضبوط پاکستان ان کے مقاصد کے حصول مےں رکاوٹ ہو سکتا ہے لہٰذا وہ اسے ہر صورت مےں کمزور دےکھنا چاہتی ہےں۔ پاکستان کے داخلی استحکام کے لئے گھناو¿نی سازشےں ہو رہی ہےں اور اس کی عسکری قوت کو کمزور کرنے کے لئے اندر سے ہی لوگوں کو استعمال کےا جا رہا ہے اور ہم بھی اتنے نادان ہےں کہ بےرونی دنےا کے آلہ¿ کار بننے مےں ذرا برابر بھی ہچکچا نہےں رہے ہےں۔ جس طرح کی باتےں ہمارے سےاستدان اور چند مفاد پرست عناصر اداروں کے خلاف کر رہے ہےں اگر ٹھنڈے دل سے سوچےں توےہ حقےقت آشکار ہو جاتی ہے کہ ان کی اےسی باتوں سے غےر ملکی طاقتوں کے مقاصد پورے ہو رہے ہےں جو ان کا دےرےنہ خواب ہے۔ تصوےر کا دوسرا رخ ےہ بھی ہے کہ محسن داوڑ، علی وزےر اور منظور پشتےن جےسے لوگ قبائلی علاقوں مےں بےرونی قوتوں کے آلہ¿ کار بنے ہوئے ہےں۔ بظاہر تو ےہ مقامی لوگوں کے حقوق کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہےں لےکن ان کے مقاصد کچھ اور ہےں۔ اپنے بےانات سے وہ امرےکہ اور بھارت کو تقوےت پہنچا رہے ہےں۔ قبائلی علاقوں کے لوگ انتہائی محبِ وطن ہےں اور انہوں نے ہمےشہ پاکستان کے دفاع مےں سب سے بڑھ کر کردار ادا کےا ہے۔ اس مےں بھی کوئی دو رائے نہےں ہے کہ اس وقت مسلح افواج نے قبائلی علاقوں مےں جو کامےابےاں حاصل کی ہےں اس مےں وہاں کے مقامی باشندوں کی بہت مدد شامل رہی ہے۔ وہ وہاں پر ہونے والے امن اقدامات سے خوش بھی ہےں۔
اےران دوسرا اسلامی ملک ہے جو اےٹمی صلاحےت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کے خلاف بھی اگر چہ سازشوں کے جال بنے جا رہے ہےں لےکن وہاں پر پوری قوم اور عسکری و سےاسی قےادت مےں مکمل ہم آہنگی ہے، ےہی وجہ ہے کہ تمام تر امرےکی دھمکےوں کے باوجود اےران نے بے مثال جرا¿ت کا مظاہرہ کےا ہے۔ لےکن اےک ہم ہےں کہ ہمارے اپنے اندر ہی اتحاد و اتفاق کا فقدان ہے۔ اب وقت آ گےا ہے کہ قوم کو حالات و واقعات سے باخبر رکھ کر ان کی طاقت اےک نقطے پر مرکوز کرنی ہو گی۔ ہمارا ملک ہے تو ہم ہےں، ملکی مفادات ہر چےز پر مقدم ہےں۔ عوام اور قومی قےادت سےسہ پلائی ہوئی دےوار کی طرح ہم آواز ہو کر صف آرا ہو جائےں تو بڑی سے بڑی طاقت کو ہمارے خلاف سازشےں کرنے کی جرا¿ت نہےں ہو گی۔ ہمےں اپنے مو¿قف کو م¿وثر انداز مےں ہر پلےٹ فارم پر پےش کرنا چاہئے۔ ہمارے سےاستدان پاکستان پر ےوں بات کرتے ہےں گوےا ےہ ان کا وطن ہی نہےں، محض تماشائی ہوں۔
دنےا کے کسی بھی ملک کے سےاسی لےڈروں کو لے لےجئے وہ کبھی اپنے ملک اور اس کے اداروں کے بارے مےں بات نہےں کرتے۔ جب کہ ہمارے ہاں کے سےاستدان جو اقتدار کی کئی کئی بارےاں بھگت چکے ہےں وہ اور ان کے رفقائے کار اس طرح بےانات دے رہے ہےں جےسے وہ کسی دوسرے ملک کے ادارے ہوں۔ انہےں نہ تو اقتدار نے کچھ سکھاےا اور نہ ہی جلا وطنی کی بے شمار ٹھوکروں نے سمجھاےا۔ حےرانگی کی بات ہے کہ اپنے مفادات کے سوا کسی چےز کی پرواہ انہےں ہر گز نہےں۔ کےا خاندان کے افراد حتیٰ کہ بھائےوں بےٹوں سے اختلافات نہےں ہوتے پھر کےا برسرِ عام اپنے بےٹوں، بھائےوں، دوستوں اور خاندان کے دوسرے افراد کے خلاف بات کی جا سکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اےک شرےف آدمی کو اپنے وطن سے کم از کم اتنی وابستگی ضرور ہونی چاہئے جتنی اپنے اقرباءسے۔ محبت ہمےشہ اےثار و وابستگی کا مطالبہ کرتی ہے کہ قربانی ہی محبت کی واحد قابلِ اعتبار شہادت ہے۔ نظرےات الگ اور ذاتی صدمات الگ، اےک چےز اخلاق بھی ہوتی ہے اور آدمےت بھی۔ ےہ بات سےاستدانوں، مےڈےا، سول سوسائٹی اور معاشرے کے ہر فرد کو ذہن مےں رکھنی چاہئے۔
(کالم نگارسماجی وادبی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved