تازہ تر ین

اربوں روپے ہڑپ کرنے والے!

مسز جمشید خاکوانی….(آئینہ)

سنا ہے کرپٹ شخصیات سعودی ماڈل کے تحت ستر ارب دینے کو تیار ہو گئی ہیں لیکن وہ اس کے بدلے کچھ سہولیات مانگ رہی ہیں جو تا حال وزیر اعظم عمران خان نہیں مان رہے۔ معاملہ کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ تو معلوم نہیں، لیکن پائی دھیلے کی بات کرنے والے کچھ شرم کریں ۔باپ کہتا ہے میری ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہو جائے تو چوک میں الٹا لٹکا دینا ،بیٹا کہتا ہے ایک پائی کی کرپشن ثابت ہو جائے تو سیاست چھوڑ دونگا۔ زور کس پر ہے ؟ثابت ہونے پر ،یہ نہیں کہتے کہ اگر ہم نے ایک دھیلے ،پائی کی کرپشن کی ہو تو ہم پر خداکا قہر نازل ہو چونکہ ہر ریکارڈ کو بقلم خود آگ لگا چکے ہیں اس لیے ابھی بھی ڈھٹائی سے جمے ہوئے ہیں کہ ثابت کرو ۔ان کو معلوم نہیں کہ ہرشے کا ریکارڈ موجود ہے، جب ان کو اعمال نامہ ہاتھ میں تھمایا جاتا ہے تب یہ سب سے اہم ریاستی ادارہ کے پیچھے پڑ جاتے ہیں کیونکہ ان کو معلوم ہے شاید کسی اورادارے میں مافیا سے ٹکرانے کی جرات نہیں، ایک وہی ہیں جو جان پر کھیل کر بھی پاتال سے ان کے کرتوت نکال لاتے ہیں ۔منگل کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے جعلی اکاﺅنٹس کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ بینک عملہ کی شمولیت کے بغیر جعلی اکاﺅنٹس نہیں کھل سکتے لیکن جعلی اکاﺅنٹس کے ذریعے ٹرانزیکشن کرنا تو بہت بڑا جرم ہے، اس موقع پر چیف جسٹس نے ملزم انور کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کیا آپ چاہتے ہیں کہ ملزم کو بری کر دیا جائے تاکہ وہ بینک میں دوبارہ جا کر بچ جانے والی رقم نکلوانے کا تمام کام مکمل کر لے ؟اس موقع پر نیشنل بینک کے وکیل نے پیش ہو کر عدالت کو آگاہ کیا کہ ملزم نے بینک کی مختلف برانچوں میں جعلی اکاﺅنٹس کھول کر فراڈ کیا اس نے دیگر برانچوں کے علاوہ مظفر آباد میں واقع نیشنل بینک کی برانچ سے بھی پیسے نکلوائے ہیں ۔ یہ کیس اسسٹنٹ محمد انور سے متعلق درخواست واپس لینے کا تھا ملزم انور کو ٹرائل کورٹ نے ایک کیس میں تین سال قید اور آٹھ لاکھ جرمانے کی سزا سنائی تھی دوسرے کیس میں اس کو آٹھ سال قید کی سزا سنائی لیکن ہائی کورٹ نے دونوں کیسز میں سزا میں کمی کرتے ہوئے سزا صرف تین سال کر دی لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ بینک والوں کی شمولیت کے بغیر جعلی اکاﺅنٹس نہیں کھل سکتے اور یہاں جتنے بھی اکاﺅنٹ کھولے گئے ان کے اوپننگ فارم پر ملزم کے دستخط موجود ہیں ملزم نے ایک لاکھ کا اکاﺅنٹ کھول کر نو لاکھ روپے کا اکاﺅنٹ بنا دیا ۔
یہ تو صرف ایک مثال ہے ،آپ کو یاد ہو گا زرداری صاحب نے حامد میر کو انٹر ویو میں اس سوال پر کہ اگر رکشے والے ،ریڑھی والے ،فالودے والے کے اکاﺅنٹس سے پیسے نکلیں اور انہیں اس کی خبر نہ ہو تو قصور انہی کا ہے ۔یعنی فراڈ کرے کوئی اور قصور ان کا جن کے نام استعمال کیے گئے ۔اس جعلی اکاﺅنٹس کی کہانی بہت دور تک پھیلی ہوئی ہے ترس مجھے ان بینک ملازمین پر آتا ہے جن کو بینک میں ملازمت ہی اس بنیاد پر دی جاتی ہے کہ اتنا پیسہ جمع کرو گے تو نوکری پکی ،اب وہ بے چارے ایک ایک کی منتیں ترلے کرتے ہیں خدا کے لیے ہماری برانچ میں پیسے جمع کروا دو تاکہ ہماری نوکری پکی ہو جائے۔ اب بتائیے اس میں کون اپنا ایمان بچا سکتا ہے جس کو یہ معلوم نہ ہو اکاﺅنٹ کھلوانے والا حلال کمائی رکھتا ہے یا فراڈ کا مال ہے، ان لوگوں نے عوام کےلئے مسائل کے در کھولے ہیں جانے کون کون گرفت میں آئے گا ۔حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کی جعلی اکاﺅنٹس کے زریعے رقوم منتقلی کی تصدیق ان کا فرنٹ مین مشتاق چینی کر چکا ہے اس نے عدالت میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے اپنے جرم کا اقرار کیا کہ ہم منی وائٹ ہونے کے چکر میں حمزہ اور سلمان شہباز کی ہر بات مانتے گئے اور جعلی اکاﺅنٹس کے زریعے ٹرانزیکشن کی جنہوں نے فرضی اکاﺅنٹس کے ذریعے کروڑوں روپے باہر بھیجے، انہوں نے میرے اور میرے والد کے ساتھ دو فرضی معاہدے کیے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا، مشتاق چینی نے اکاﺅنٹس نمبرز اور رقوم کی تمام تفصیل مہیا کر دی ہےں جو آپ سوشل میڈیا اور یقینا اخبارات میں بھی دیکھ لیں گے۔ حمزہ شہبازکس منہ سے پاک صاف ہونے کی باتیں کر رہے ہیں ؟ ادھر ڈاکٹر شاہد مسعود نے خبر دی ہے کہ فریال تالپور کے ایک ذاتی ڈرائیور حمید ثمرو کے نام پر خلیجی ملک میں چھ ارب پچاس کروڑ کی جائیداد موجود ہے یہ صرف ایک ڈرائیور کے نام پر ہے اس کے علاوہ اور ڈرائیور ،ملازم ،باورچی اور رشتہ داروں کے نام پر پیرس ،امریکہ ،برطانیہ ، بھارت میں جائیدادیں اور پیسہ رکھا ہوا ہے ۔شائد اسی وجہ سے یہ دونوں پارٹیاں اب کھل کر ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہیں کہ اب جرم کے ساتھی ہونے کی وجہ سے دونوں کا غم ایک ہے ۔کب تک عوام بے وقوف بنتی، اب ذرائع کے مطابق چند دنوں میں مزید گرفتاریاں ہونے والی ہیں ، کہا جا رہا ہے کہ خورشید شاہ ،سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ،وزیر اعلی سندھ مراد شاہ گرفتار ہو سکتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی ایل این جی میں دو ارب ڈالر کی کرپشن میں ملوث ہیں اس کے علاوہ مریم صفدر پر وزیر اعظم یوتھ پروگرام میں انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔اس قوم کے ساتھ کوئی ایک ظلم نہیں ہوا ۔ کہتے ہیں بلاول زرداری ہاﺅس کی ہوش ربا داستان ہے 2009ءمیں بلاول ہاﺅس ایک گھر پر مشتمل تھا اب بڑھتے بڑھتے 48گھروں پر پھیل چکا ہے اور یہ سب گھر خریدنے کے لیے جس اکاﺅنٹ سے پے منٹ ہوئی ہے وہ اکاﺅنٹ فیک ہے ۔
اب مزید سنئے سات ارب کی منی لانڈرنگ میں ملوث امین فہیم کے فرنٹ مین فرحان جونیجو کی جب برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے 36گھنٹے تحویل میں رکھ کے تحقیقات کی تو اس دوران سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کا لندن میں ہوٹل بھی نکلنے کا انکشاف ہوا، یہ وہ ہوٹل ہے جہاں پاکستان سے جانے والے متمول افراد کی جانب سے مہنگی ترین تقریبات منعقد کی جاتی ہیں اس ہوٹل کا نام ”حیات ریجنسی دی چرچل ہوٹل ہے “یہ ہوٹل 440کمروں اور آٹھ سوئٹس پر مشتمل ہے اور یہ لندن شہر کے قلب 30پورٹ مین اسکوائر پر واقع ہے اس کا افتتاح 1970میں ہوا ، میں اس کی تفصیلات میں نہیں جاﺅنگی کالم طویل ہو جائے گا بہر حال مختلف ہاتھوں میں بکتا ہوا یہ ہوٹل 2014ءمیں اس کو نا معلوم انتظامیہ جو کہ اب معلوم انتظامیہ کہا جاتاہے یعنی آصف علی زرداری نے British Pounds million 295$ میں خرید لیا اور اس ہوٹل کے پاکستانی مالک اس ہوٹل میں اس وقت یعنی نومبر 2014 جمعے کی شام ڈاکٹر عاصم کے ساتھ موجود تھے جب وہاں دھماکہ ہوا اس میں دس افراد زخمی ہوئے اس نئی انتظامیہ نے کئی ملین پاﺅنڈ سے 2015میں اس ہوٹل کی از سر نو تزئین و ارائش کرائی حالیہ دنوں میں مشہور منی لانڈرنگ کیس میں گرفتار ملزم فرحان جونیجو نے اپنی بیوی سے بے پناہ محبت کے اظہار کے لیے اس کی سالگرہ پر کئی کروڑ روپے خرچ کیے مذکورہ واقعہ اس کی گرفتاری سے ایک ہفتہ قبل رونما ہوا۔ فرحان جونیجو کی اہلیہ 30مختلف پاکستانی خواتین سمیت اس ریکٹ میں شامل ہیں جنھیں ٹڈاپ کرپشن اسکینڈل کے مرکزی ملزم کے ذریعے ہی ہینڈل کیا جاتا رہا ہے۔ غریب ملک کے امیر ملزم فرحان جونیجو نے اپنی زوجہ کی سالگرہ لندن میں منانے کا فیصلہ کیا اس تقریب کے لیے انہوں نے دبئی سے ایک بوئنگ 777چارٹر کیا جس کے زریعے دوستوں اور رشتہ داروں سمیت تقریبا 100افراد لندن پہنچے اور مشہور فائیو سٹار ہوٹل ”حیات ریجنسی دی چرچل “ میں قیام کیا جس کے ایک کمرے کا کرایہ ایک دن کے لیے کم از کم ایک لاکھ روپے ہے جبکہ سوئٹ کا پانچ لاکھ روپے ہے ۔اس ہوٹل میں رہائش کرنا ان کی مجبوری تھی کیونکہ اس ہوٹل کے مالک پاکستان کے انتہائی طاقتور سیاسی شخصیت اور سابقہ اعلی ترین عہدے پر فائز شخصیت ہیں ،پہلے بھی پاکستان سے جانے والے تمام وفود کی رہائش اور میٹنگزاس ہوٹل میں کرنا لازمی رہا تھا۔مہمان لے جانے والے کا قریبی تعلق مذکورہ سیاسی شخصیت سے ہونے کے سبب وہ بھی پابند تھے کہ اسی ہوٹل میں رہائش اختیار کریں مذکورہ ملزم نے اس ہوٹل میں رہائش کے بعد سالگرہ منانے کے لیے اس ہوٹل کی بجائے لندن کے انتہائی مشہور چائنیز ریسٹورینٹ کو مکمل طور پر ایک دن کے لیے بک کر لیا (کیا شان ہے جی پاکستانی چوروں کی)جبکہ اس کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ کوئی اور گاہک اندر نہ جا سکتا ہو اور پھر دو دن ہوٹل کی رہائش ،طعام ،شام کے بعد کے لوازمات ،وہاں مہمانوں کو خریداری کروانے اور چارٹر جہاز کے اخراجات کے علاوہ جہاز اور گاڑیوں کی دو دن پارکنگ اور دیگر اخراجات پر دس کروڑ روپے سے زیادہ پھونک ڈالے جو کہ پاکستان سے منی لانڈر کیے گئے تھے ۔ ایف آئی اے کراچی میں ملزم پر درج ہونے والے چودہ مقدمات میں سامنے آنے والے ثبوت اور شواہد بھی برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کو فراہم کر دیے گئے ہیں جس میں کرپشن کے ذریعے ٹریڈڈیولپمنٹ اتھارٹی سے لوٹی گئی رقم کے علاوہ اس رقم کو حوالہ ہنڈی کے ذریعے پہلے دبئی اور پھر وہاں سے سوئزرلینڈ ،امریکہ اور برطانیہ کے بینک اکاﺅنٹس میں منتقل کیے جانے کے شواہد بھی شامل ہیں بقول ایف آئی اے کے ذریعے ملزم سے مذکورہ پاکستانی شخصیت اور ان کی ہوٹل کی ملکیت کے حوالے سے بھی ثبوت حاصل کیے جائیں گے کیونکہ برطانیہ میں زیر تفتیش شخص پر پاکستانی سیاسی شخصیت کا فرنٹ مین ہونے اور ان کے کہنے پر سرمایہ کاری کے حوالے سے اطلاعات ہیں ۔
آخر میں ایک خوشخبری عمران خان کی کوششوں سے پاکستان FATFکے ذریعے بلیک لسٹ ہونے سے بچ گیا ہے پاکستان کو FATFمیں چائنا اور ترکی کے بعد ملائیشیا کی حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے تین ملکوں کی حمایت کی وجہ سے پاکستان اب بلیک لسٹ نہیں ہو سکتا وزیر اعظم نے فون کر کے مہاتیر محمد کا شکریہ ادا کیا !
(کالم نگارسماجی اورسیاسی مسائل پرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved