تازہ تر ین

بھارتی سیکولر ازم بے نقاب….(1)

ظہور احمد نیازی….(خاص مضمون)

گذشتہ پانچ برسوں کے دوران نام نہاد بھارتی سیکولرزم بری طرح بے نقاب ہوچکا۔ بھارت کی 72 سالہ تاریخ اقلیتوں کے ساتھ بدترین تشدد، خون ریز فسادات اور پڑوسی ملکوں کے اندر دہشت گردی کرانے کے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ اگست 1947ءمیں کانگریس کی حکومت قائم ہوتے ہی پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے سیکولرزم کا جو نقاب چہرے پر سجا لیا تھا، نریندر مودی کی قیادت میں وہ نقاب اتر چکا ہے، پڑوسی ملکوں کو اس سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس عمل نے خود بھارت کا اصلی تنگ نظر برہمن چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔ اس ایجنڈے پر بھارت ایک عرصے سے کام کر رہا ہے، جہاں تشدد پسند ہندوتنظیمیں عدم برداشت کو ہوا دے کر غیر ہندوﺅں کے خلاف نفرت کی فضا کو الاﺅ بناچکی ہیں۔ بہرحال بھارت کے سبھی لوگ نفرت کی آگ میں نہیں جل رہے، ان میں معتدل اور انصاف پسند لوگ بھی ہیں۔ انتخابی وعدوں کو پورا کرنے میں ناکامی کو چھپانے کے لیے بی جے پی نے ملک کے اندر اور سرحدوں پر جارحانہ پالیسی اپنانے کا فیصلہ کیا۔ ایودھیا کو رام کی جنم بھومی قرار دے کر تشددپسند ہندو قیادت نے 2دسمبر 1992ءکو 16ویں صدی کی تعمیرشدہ تاریخی بابری مسجد، ہندو بلوائیوں کے ذریعے شہید کرادی اور پھر ہندوﺅں نے چن چن کر ملک بھر میں مسلمانوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ ان فسادات میں کم از کم دو ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جن میں بھاری اکثریت مسلمانوں ہی کی تھی۔
بی جے پی، پونے تین ایکڑ اراضی پر رام مندرکی تعمیر شروع کر کے زیادہ سے زیادہ ہندو ووٹ حاصل کرنے کی خواہش مند اور دو تہائی اکثریت سے بھارت کا آئین تبدیل کرکے اسے ہندو ریاست قرار دینا چاہتی ہے۔ مگر عدالتی کارروائیوں کی بنا پر یہ تعمیر شروع نہ ہوسکی۔ رام مندر تعمیر شروع ہونے کی صورت میں بی جے پی کے ووٹوں میں بہت زیادہ اضافہ متوقع تھا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا بابری مسجد کا مقدمہ زیر التوا ہونے کی صورت میں نریندر مودی پارٹی کو نقصان ہو رہا ہے؟ تو ہمارا جواب ’نہیں‘ میں ہوگا۔ اس مقدمے کی طوالت کا فائدہ بھی بی جے پی ہی کو پہنچ رہا ہے۔ نئی دہلی کے ایک تھنک ٹینک ’آبزرور ریسرچ فاﺅنڈیشن‘ (ORF)کے سینیر فیلو نرنجن ساہوکا کہنا ہے کہ: ’جب تک یہ مسئلہ زندہ ہے، بی جے پی اس سے فائدہ اٹھاتی رہے گی‘۔ بی جے پی بھارت کے اندر میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے جو جنگی جنون پیدا کرچکی ہے، اس کی بناپر سیاسی پنڈتوں کو یقین تھا کہ اگر وہ پاکستان کے ساتھ ایک محدود جنگ میں کامیابی حاصل کرلیتی تو دوتہائی ووٹ بآسانی ان کی جھولی میں آپڑتے۔ رات کی تاریکی میں ایک نام نہاد اسٹر ٹیجک اسٹرائک میں مبینہ طور پر جیش محمد کے تربیتی مرکز پر حملہ کرکے، بالاکوٹ میں350’دہشت گرد‘مارنے کا دعویٰ کیا گیا۔ صبح کے وقت میڈیا جب اتنی بڑی خبرکی تصدیق کے لیے وہاں پہنچا تو انھیں ٹوٹے ہوئے چار درخت اور ایک کوے کی لاش ملی۔ حملے کی جگہ پر نہ کوئی عمارت تھی، نہ تربیتی مرکز۔ بعدازاں فضائی لڑائی میں پاک فضائیہ نے دو بھارتی جیٹ گرا کر نریندر مودی کے جنگی جنون کے غبارے سے ہوا نکال دی۔ جس کے نتیجے میں مودی پارٹی کو فائدے کے بجاے نقصان ہوا۔بھارتی حکومتوں اور میڈیا نے اپنے ملک کے اندر پاکستان کے خلاف اتنی نفرت پیدا کر رکھی ہے کہ آج ہرسیاسی پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ اگر وہ خود کو پاکستان کا سب سے بڑا دشمن ثابت کردے تو اسے زیادہ ووٹ ملیں۔
یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ پاکستان کی مضبوط دفاعی اسٹرے ٹیجی کی بناپر بھارتی حکومت کو بّری فوج کے مختلف علاقوں میں عالمی سرحد کو پار کرکے پاکستان میں گھس جانے اور میزائلوں کے حملے کا منصوبہ بھی ترک کرنا پڑا۔ اس بارے میں پاکستانی میڈیا میں تفصیل سے خبریں آچکی ہیں، لہٰذا ہم یہاں بابری مسجد کے تنازعے کے ان پہلوﺅں کو اجاگر کریں گے، جو پاکستانی میڈیا میں رپورٹ نہیں ہوئے۔ اس سلسلے میں ان ہڈیوں کا کیا قصہ ہے جو بابری مسجد کی جگہ پر کھدائی سے نکل آئیں؟ یہ ہڈیاں کس کی ہیں؟ کیا برہمن اور مندروں کے باسی پہلے گوشت خور ہوتے تھے؟ پھر سوال یہ ہے کہ کس امید پر یہ کھدائی کرائی گئی تھی؟ کیا ثابت کرنا مقصود تھا؟ کھدائی سے ثابت کیا ہوا؟ اور اب بابری مسجد کی جگہ پہلے مندر ہونے کو ثابت کرنے کے لیے کیا کیا جھوٹ گھڑا جا رہا ہے؟ بابری مسجد پر ہندوﺅں نے جو تنازع اٹھایا تھا، اس پر الٰہ آباد ہائی کورٹ نے 2010ءمیں فیصلہ دیا تھا کہ: ’ایک تہائی زمین سنی وقف بورڈ کو دے دی جائے اور بقیہ دوگروپوں، نرموہی اکھاڑہ اور رام للا کے حوالے کر دی جائے۔ بھارت کے مشہور قانون دان اور دانش ور اے جی نورانی نے دوجلدوں میں اپنی فاضلانہ کتابThe Babri Masjid Question(مطبوعہ 2003ء) میں الٰہ آباد ہائی کورٹ کے بابری مسجد پر فیصلے کا نہایت گہرائی سے تجزیہ کرکے ہندوانتہا پسندوں کے دعوے کے تاروپود بکھیر دیے ہیں اور فیصلے کی کج روی کو آشکارا کیا ہے۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں 14اپیلیں داخل کی گئیں۔ جن پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی دستوری بنچ نے مارچ 2019ءکو ایک سہ رکنی پینل تشکیل دیا کہ: ’وہ فریقین میں مصالحت کرانے کی کوشش کرے‘۔ پینل کو اپنی رپورٹ داخل کرنے کے لیے آٹھ ہفتے کا وقت دیا گیا۔ ایودھیا کے ایک قریبی قصبے فیض آباد میں بند کمرے میں پینل کا پہلا اجلاس ہوا۔ اس میں تمام فریقوں کے قانونی مشیروں سمیت 50 سے زائد افراد نے شرکت کی۔ اس کے بعد تین اجلاس مزید ہوئے۔
بعدازاں مسلم نمایندوں نے معذرت کرلی کہ رمضان کے مہینے کے دوران وہ اجلاسوں میں شریک نہیں ہوسکیں گے۔ تازہ ترین صورتِ احوال یہ ہے کہ سہ رکنی کمیٹی نے اپنی عارضی سربمہر رپورٹ سپریم کورٹ کو جمعرات 9مئی 2019ءکو پیش کردی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگئی کا کہنا تھا کہ: ”ہم آپ کو نہیں بتا سکتے کہ کتنی پیش رفت ہوئی ہے؟ یہ ابھی صیغہ راز میں رہے گی“۔ سپریم کورٹ نے جمعہ 10مئی کو، 15اگست کی آیندہ سماعت تک کمیٹی کو مزید تین مہینے کا وقت دے دیا۔ پانچ رکنی بنچ کا کہنا تھا کہ: ”اگر مصالحت کار بہتر نتائج کے بارے میں پرامید ہیں اور وہ مزید کچھ وقت چاہتے ہیں تو انھیں یہ وقت دینے میں کیا حرج ہے؟“ پانچ رکنی بنچ میں ایک مسلم جج ایس عبدالنذیر شامل ہیں۔ اس موقعے پر عدالت نے تمام فریقوں کو اجازت دی کہ: ’وہ زیادہ سے زیادہ30جون تک اپنے اعتراضات داخل کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد کسی کو مصالحتی کوشش میں رکاوٹ بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘۔دو انتہاپسند کٹر ہندو تنظیموں کے سوا مقدمے کے تمام ہی فریقوں نے 15اگست تک توسیع کی حمایت کی ہے۔
مسلمانوں کی جانب سے ایک درخواست گزار مفتی حزب اللہ بادشاہ، جو جمعیت العلما ہند کے حاجی محمود کی جگہ اس مقدمے میں فریق ہیں، ان کا کہنا تھا: ’ہم سپریم کورٹ سے مکمل تعاون کر رہے ہیں۔ اگر عدالت مثبت نتیجے کے بارے میں پرامید ہے تو ہم توسیع کی حمایت کرتے ہیں‘۔ ہندوﺅں کی جانب سے اصل درخواست گزار نرموہی اکھاڑے کے مہنت دھرما داس نے کہا کہ: ’صدیوں پرانے تنازعے‘پر مصالحت کے لیے وقت کی توسیع کی مَیں حمایت کرتا ہوں‘۔ مسلمانوں کی جانب سے پہلے درخواست گزار اقبال انصاری کہتے ہیں کہ:’ پینل 70سال پرانے کیس کو سلجھانے کی کوشش کر رہا ہے اور بات چیت مثبت انداز میں آگے بڑھ رہی ہے، تو ہم چند ماہ مزید انتظار کرسکتے ہیں‘۔ ہندوﺅں کی جانب سے ایک اور درخواست گزار ہندو مہاسبھا کے صدر اچاریا چکرپانی نے بھی توسیع کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ: ’میں تمام فریقوں کے لیے قابلِ قبول حل نکل آنے کی امید کررہا ہوں۔ یہ ملک میں ہندو مسلم بھائی چارہ قائم کرنے کے لیے زبردست قدم ہوگا‘۔ ہندو درخواست گزاروں میں سے ایک تنظیم رام جنم بھومی نے اس نے توسیع کی مخالفت کی ہے۔ مہنت گوپال داس کا کہنا ہے کہ: ’کیس کی سماعت ہرلحاظ سے مکمل ہوچکی ہے۔ اب سپریم کورٹ اپنا فیصلہ دے‘۔
دوسری تنظیم جو توسیع کی مخالفت کر رہی تھی وہ ’وشواہندو پریشد‘ (VHP) ہے۔ اس کے ترجمان شرادشرما کا کہنا تھا: ’ہم توسیع نہیں، بس اب آخری فیصلہ چاہتے ہیں‘۔ اس تنظیم کا مرکز ایودھیا میں کارسیوک پورم میں ہے۔ بابری مسجد کوشہید کرنے میں بڑی تعداد میں یہی کارسیوک بھی شامل تھے۔ دونوں ہندو تنظیمیں نریندر مودی کا ووٹ بنک بڑھانا چاہتی تھیں۔ یہ صورتِ حال مسلمانوں کے لیے کتنی حوصلہ افزا ہے؟ ’آبزرور ریسرچ فاﺅنڈیشن‘ کے سینیر فیلو نرنجن ساہو، جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے، اس بارے میں قطعی پرامید نہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ’مصالحتی کوشش ناکام رہے گی اور بالآخر عدالت ِ عظمیٰ یہ کہہ دے گی کہ: ”مسئلے کے قانونی حل کے تمام امکانات ختم ہوچکے ہیں، اس لیے اب پارلیمنٹ ہی اس معاملے کو نمٹانے کے لیے قانون سازی کرے“۔ بنیادی طور پر یہ مقدمہ زمین کی ملکیت سے شروع ہوا، لیکن ہندو انتہاپسند اسے مذہبی رنگ دینے میں کامیاب ہوگئے۔ عدلیہ جانتی ہے کہ سیاسی طور پر انتہائی حساس مذہبی معاملے کا وہ فیصلہ نہیں کرسکتی۔ چنانچہ اس نے مصالحت کرانے کی راہ اپنائی۔ اس میں ناکامی ہوئی تو وہ کہہ دے گی کہ اسے سیاسی طور پر حل کیا جائے“۔
سہ رکنی مصالحتی پینل کے سربراہ سپریم کورٹ کے ایک سابق مسلم جج، جسٹس ایف ایم خلیفة اللہ ہیں۔ ان کے بارے میں عام راے یہ ہے کہ ”وہ بس نام کے ہی مسلمان ہیں“۔ کمیٹی کے ایک رکن ہندوﺅں کے روحانی گرو اور آرٹ آف لیونگ فاﺅنڈیشن کے بانی سری سری روی شنکر اور دوسرے رکن سینیر ایڈووکیٹ سری رام پنچھو ہیں۔ سری سری روی شنکر کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا پارلیمانی بورڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ: ’دونوں فریقوں کے وقار کا لحاظ رکھتے ہوئے انصاف کیا جائے‘، جب کہ جمعیت العلما ہند کے رہنما مولانا محمود مدنی کہتے ہیں کہ:
’سری سری کمیٹی سے ہم کسی مثبت اور خوش گوار رویے کی توقع نہیں رکھتے‘۔ بابری مسجد کے انہدام کی بنیاد ’رامائن‘ کے عنوان سے بننے والے ایک ٹی وی شو نے رکھی۔ جس نے 19ویں صدی میں گھڑے جانے والے اس جھوٹ کو پرکشش کہانی کے انداز میں پیش کیاکہ: ”یہ رام دیوتا کی جنم بھومی ہے اور یہاں ان کا مندر ہوتا تھا، جسے شہنشاہ ظہیرالدین بابر کے جنرل میرباقی نے منہدم کر کے یہاں مسجد بنوا دی“۔ اسے بی جے پی نے اپنی انتخابی مہم کا حصہ بنالیا، بالآخر مسجد شہید کر دی گئی۔ الیکشن جیتنے کے بعد بی جے پی نے اپنی مقامی مخلوط صوبائی حکومت کے تعاون سے رام مندر کی تعمیر کا بیڑا اٹھایا۔ ہندوﺅں کی ایک بڑی تعداد کو پورا یقین ہوگیا تھاکہ مندر کی جگہ مسجد بنائی گئی تھی۔ اس ناٹک کے ذریعے ہندو انتہا پسند پارٹی حکومت میں آئی اور اس مشن پر گامزن چلی آرہی ہے کہ یہاں مندر بنوا کر وہ کئی اَدوار تک حکومت کرتی رہے گی۔ بات عدالت تک پہنچی۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے سہ رکنی بنچ میں دو ہندو اور ایک مسلمان جج تھے۔ مسلمان جج ایس یوخان کے خیال میں: ”آثارِ قدیمہ کے شواہد کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ سیدھا سادا ملکیت کا کیس تھا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ پہلے یہاں کون رہتا تھا“۔ (جاری ہے)
(بشکریہ:عالمی ترجمان القرآن)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved