تازہ تر ین

ڈھونڈتا پھر رہا ہوں

نجینئر افتخار چودھری ….باعث افتخار
یہ تو ایسے ہی ہے کہ قافلے چلے گئے اور صدائے جرس آتی رہی۔کدھر گئے وہ سنہری لوگ، کہاں ہیں شباب کے دن؟یہ سوال مجھے بار بار پریشان کرتا ہے۔اشرف طاہر نے دعا کی اپیل کی ہے اسے بھی وہی مرض ہے جو میرے دوست احسن رشید کو کھا گیا۔ دو چار روز ہی ہوئے ہیں مجھے آئے ہوئے اس خوابوں کی سر زمین پر ،حرمین کے دروازے کی چوکھٹ پر اور جسے یہاں کے لوگ عروس البلاد احمر بھی کہتے ہیں نام ہے اس شہر بے مثال کا جدہ۔میں کوئی چار برس بعد یہاں آیا ہوں۔پچھلی بار جب عمران خان احسن رشید کے ساتھ آئے تو شیرٹن میں ملاقات ہوئی ۔کہنے لگے آپ کی تو چھٹی دو سال کی تھی چار ہو گئے ہیں پاکستان آﺅ۔کمبل کو چھوڑتے ہوئے دیر لگی البتہ ان چار برسوں میں جب کبھی کوئی بڑی تقریب یا معاملہ ہوتا تو میں پہنچ جاتا۔اس شہر کی یادیں میرے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔یہیں 1977ءمیں جوانی میں خوابوں کی گٹھڑی اٹھائے آیا، ہر جوان کی طرح فرہادی تیشہ چلایا، اپنے اور پورے خاندان کے حالات بدلے ۔اکیس سال والے جوان کا جدہ آج کے چونسٹھ برس کے بوڑھے کے سامنے بہت بدل گیا ہے ۔میں بیالیس سال والے شہر کو بھلا بھی دوں تو یہ شہر گزشتہ چار سالوں میں جو شکل اختیار کر گیا ہے اس کا بیان بھی کارے دارد۔ آنے سے پہلے سیکرٹری اوورسیز ڈاکٹر عبداللہ ریاڑ سے ملاقات ہوئی انہیں جب پتہ چلا کہ میں بھی عازم جدہ ہو رہا ہوں تو کہنے لگے یہ بہت اچھا ہے وہیں ملیں گے ۔میرے پہنچنے سے پہلے کچھ اہتمام بھی کر لینا۔دل بہت خوش ہوا پی ٹی آئی اوورسیز چیپٹر میں اپنا حصہ ڈالوں گا۔ بعد میں وہ مصروف ہو گئے دو چار دن سم لینے میں لگ گئے ،آتے ہی دوسرے روز دوست ملنے آ گئے۔ تنویر خان سے یاد اللہ ہے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب لاثانی میں آ رہے ہیں۔یہاں جدہ میں دو لاثانی ہیں ایک چودھری شہباز حسین کا ،دوسرا وزیر خان کا۔ ہمیں بتایا گیا وہیں ایک میٹنگ ہے۔ہمیں بھی ایک دوست نے گھر سے لے لیا گاڑی ہم چلا نہیں سکتے اس لئے کہ لائسنس نہیں ہے۔ڈاکٹر عبداللہ سے وہیں ملاقات ہوئی ۔دوسرے لاثانی میں بھی ایک محفل سجی تھی۔میں نے محسوس کیا کہ وزیر خانی ہوٹل میں لوگوں کے تحفظات تھے، انہیں ڈاکٹر صاحب سے شکوہ تھا اور ڈاکٹر صاحب کا انداز بیاں بھی پر جوش تھا۔ایک دبنگ شخص کی بات میں تلخی نمایاں تھی۔میں نے اپنے تئیں زاہدعوان، عجب خان، شہباز بھٹی ،عدنان تنویر، انصر مغل، ناصر چودھری و دیگر کو ٹھنڈا کیا شائد ڈاکٹر صاحب کے پاس وقت کم تھا۔وہ شہبازی ہوٹل سے عقیل ارائیں، خواجہ حماد اور دیگر کے ساتھ آئے تھے۔فرخ رشید بھی ان کے ساتھ تھے۔اسی گرما گرمی میں ڈاکٹر صاحب اٹھے تو فرخ نے مجھے بھی دعوت دی وہاں چلیں۔ دوسری طرف گیا تو دیکھا فرخ رشید ہی نہیں عدنان ادی اور چند پرانے دوست تھے البتہ وہاں نئے لوگوں کا ہجوم تھا ۔دمام سے عدنان ارائیں مہتمم دکھائی دیے۔میں نے محسوس کیا کہ یہاں لڑائی قدرے اوپر سے ہے۔ سعودی چیپٹر کیا مڈل ایسٹ کے ذوالقرنین علی خان بذریعہ ظفر علی خان اپنے بھائی کی شکل میں وزیری دوستوں کے ساتھ ہیں اوریہاں شہبازی محفل میں ڈاکٹر عبداللہ ریاڑ کو خوش آمدید کہنے والے کسی حد تک ذوالقرنین علی خان سے ناراض لوگ بیٹھے تھے۔ بھائیوں کے گلے شکوے بتا رہے تھے کہ معاملہ ٹھیک نہیں ہے۔
میری حالت یہ تھی کہ دونوں جانب گیا تو لوگوں نے بڑھ کر خوش آمدید کہا۔میں اس شخص کی مانند خاموش اور بعض اوقات مصالحانہ کوشش کرتا دکھائی دیا۔سچی بات ہے مجھے اچھا نہیں لگا جب لوگ نام لے لے کر تنقید کر رہے تھے۔ ایک جگہ تو میں بول اٹھا جب برادر گل حمید اور قاسم سوری کے بارے میں ذوالقرنین پر کڑی تنقید کی گئی۔ ایک صاحب تو گھر سے قسم کھا کے آئے تھے کہ معاملے کو خراب کرنا ہے۔ یہ ڈاکٹر عبداللہ کی کامیابی تھی کہ وہ الجھے بغیر آگے نکلے۔کسی بھائی نے دو تین رکنی کمیٹی کی بھی بات کی لیکن میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہہ کر مسترد کرایا۔ سیاسی کارکنوں کا اختلاف اپنی جگہ لیکن مجھے یہاں عبداللہ رحمان فرح رشید جیسے پرانے ساتھیوں کو شہباز بھٹی عجب گل سے الگ دیکھ کر اچھا نہیں لگا میں تو انہیں اسی طرح ہنستا کھیلتا دیکھنا چاہتا تھا جیسے وہ پہلے ہوا کرتے تھے۔ میں تو اس ہوٹل میں حفیظ اللہ نیازی،انجینئر رفیع ان کے ننھے نواسے عمر شیر خان ،ریاض سپرو، انور قریشی ،مشتاق طفیل ،انجینئر عزیز چودھری زبیر کا متلاشی تھا۔میں اس شہر میں مدتوں بعد آیا تھا ۔ایک روز انصر اقبال سے کہا چلو مجھے شہر گھماﺅ ہم ٹی پوائنٹ پر بیٹھے رہے۔ انجم اقبال وڑائچ تنویر خان بھی ادھر تھے یہاں سے ہم اس ہسپتال گئے جہاں چوبیس سال پہلے میری بیٹی ربیعہ پیدا ہوئی تھی وہ ننھی پری یہیں سے وصول کی تھی ۔اللہ نت بخشے ارشد خان کے گھر سے گزرے تو بارہ منگے کا وہ پٹھان یاد آ گیا جو دبنگ شخص تھا مسلم لیگ نون کا صدر تھا اس وقت بھی دو دھڑے تھے ایک شکیل کا دوسرا ارشد خان کا۔اسی جگہ رانا عبدالباقی رہتے تھے۔یہیں رانا جاوید فوٹو گرافر کی دکان تھی جو سیاسی جلسوں کی تصاویر بنایا کرتا تھا۔نماز مسجد تعاون میں پڑھی امام صاحب جو سعودی تھے انہوں نے منہ موڑا تو دیکھ کر دل پر ہاتھ رکھ لیا سلام پھیرا تو کیپٹن صفدر کے سابق پارٹنر جو اب اعظم سواتی کے ساتھی ہیں صالح محمد کے گروپ میں کئی ساتھیوں سمیت مل گئے۔ وسیم بخاری جو حج والینٹئرز کے انچارج ہیں وہ بھی مل گئے۔
اپنے پرانے مکان میں گیا دروازے کی تصویریں کھینچیں باہر بالکونی کی تصویریں جہاں نوید نبیل شکیل اور دلدار اپنی بہن ربیعہ کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔اس بالکونی پر بڑی دیر کھڑا رہا یہاں میری ماں میری منتظر رہتی تھیں وہ عمرے پر 1990ءمیں آئی تھیں۔ میں مدینہ منورہ سے جمعرات کی رات کو واپس آیا کرتا ،بے جی کا انتظار وہ ایلومنیم کی باڑ یا گرل ویسی ہی تھی، رنگ بھی ویسے ہی تھا ۔یہ وہ گھر تھا جہاں احمد فراز ،امجد اسلام امجد، عطا ءالحق قاسمی، انور مسعود، قائد اعظم کے پارلیمانی سیکرٹری۔غلام دستگیر خان حمزہ شہباز سب آتے رہے۔ اس کے بڑے ڈرائینگ میں پردوں کے پیچھے دس گدے رکھے ہوتے تھے۔ محدود وسائل کے باوجود یہ گھر رونقوں والا تھا ۔اس وقت اس شہر میں ملک ایوب بھی تھے ملک محی الدین بھی چودھری اکرم بھی چودھری اعظم ،راجہ اکرم، شبیر گجر ،ریاض فاروق ساہی ،ممتاز کاہلوں، چودھری شہباز ،سردار شیر بہادر، ارشد خان، قاری شکیل عنائت جاڑا، رحمت خان ،سجاد میرا بھائی۔ لسانیت پرست سنپولیوں کو حلقہ یاران وطن نے دیوار کے ساتھ لگا رکھا تھا ۔اس بار اردود نیوز نہیں ہے اور نہ ہی اردو میگزین، یہ ختم ہو گئے ہیں خالد منہاس ،رﺅف طاہر، حامد ولید کے علاوہ اطہر ہاشمی، نصیر ہاشمی، مظفر اعجاز یہ سب لوگ یاد آئے۔
بے جی اتنی یاد آئیں کہ آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ مرحوم والد صاحب مرحوم امتیاز بھائی یہیں عزیزیہ میں رہتے تھے۔کل ہی فردوس ہوٹل کے پاس سے گزرا خبریں کے چیف ایڈیٹر جناب ضیا شاہد کو یاد کیا۔ڈاکٹر غلام اکبر نیازی، سید سلیم معینی ،انجینئر رفیع کیا پہاڑ لوگ تھے۔ یہ سمیرہ پولی کلینک والی گلی ہے یہاں کبھی جگنوﺅں کے مکان تھے ۔احمد سعود قاسمی نسیم سحر کچھ ساتھ تھوڑے فاصلے پر نور جرال بھی رہتے تھے۔سچ پوچھئے یہ جدہ جو میرا ساتھی تھا 1977ءسے2002ء تک پھر ہمارے اس چہچہانے پر پابندی لگی صیاد نے پر کاٹ دئے اور ہم پاکستان چلے گئے۔2009 ءکا فروری ہماری دوسری بار آمد تھی۔اسی شہر میں احسن رشید ہوا کرتے تھے ظفر تالپور ذوالقرنین علی خان کے ساتھ مل کر سماجی بہبود کا کام کیا۔شنید ہے ابرارالحق آج آ رہے ہیں انہیں بھی انہی دوستوں نے بلایا تھا۔اس شہر بے مثال کی کیا بات کروں۔یہاں ہم نے بڑی مجاہدانہ زندگی گزاری۔کشمیر کی جد و جہد ہو یا بلوچستان کی خشک سالی سیلاب ہو یا کوئی شوکت خانم کا چندہ اکٹھا کرنا ہو ہم لوگ آگے آگے رہے۔ایک تاریخی بات لکھ دیتا ہوں جب ورلڈ کپ جیتنے کے بعد عمران خان یہاں آئے تو اس وقت ساری تقریب کا اہتمام ڈاکٹر غلام اکبر نیازی نے کیا تھا تنظیمی میٹنگز مسعود پوری کے ہاں ہوتی تھی اور اس کمیٹی کا جنرل سیکرٹری میں تھا جس میں چودھری شہباز حسین منیر گوندل قادر گجر حسنین رضا تھے۔
دوستو !ایک بات ہے یہاں کے لوگ اب بہت بڑی بڑی عمارتوں کے دڑبوں میں بند ہیں کہیں شام کو نکلتے ہیں۔ کل زہرہ پے تھا راجہ مظہر نے بتایا چودھری اعظم چلے گئے ہیں۔ملک محی الدین ، چودھری شہباز حسین سے نشست ہوئی ۔ریاض بخاری حمراءکی طرف ہیں اطہر نفیس عباسی حامد خان انجینئر احسان الحق سے بھی ملنا ہے ابھی پرانے دوستوں سے ملاقاتیں ہونی ہیں۔ قونصلیٹ اسکول پی آئی اے جاﺅں گا۔کوشش ہو گی دل کی باتیں کروں پتہ نہیں آپ کو اچھی لگی یا نہیں۔ابہا سے شاہد کا پیار بھرا فون آیا تھا راجہ مسکین اور چودھری اکرم نے بھی پوچھا۔اس شہر بے مثال کی پاکستان بلڈنگ جو اب ڈھے گئی ہے جہاں قیصر سلیم چودھری شاہنواز اور طاہر عبدالرحمن راٹھور تھے اب بکھر گئے ہیں۔ہر موڑ ہر گلی سے پوچھتا ہوں کہ کہاں ہیں وہ ساکنان شہر میرے پیارو ڈھونڈتا پھر رہا ہوں تمہیں۔
( تحریک انصاف کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved