تازہ تر ین

سیاست اور معیشت کا گورکھ دھندا

چوہدری ریاض مسعود….نقطہ نظر
حضرت قائد اعظم محمد علی جناح نے تاریخی جدوجہد کے بعد پاکستان اس مقصد کیلئے حاصل کیا تھا کہ یہاں اسلام کے سنہرے اصولوں کے مطابق انصاف ہوگا، مساوات ہوگی، یہاں کے عوام آزادانہ ماحول میں زندگی گزار سکیںگے، کوئی کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی نہیں کرسکے گا،ہرعلاقے کے لوگوں کو ترقی کے یکساں مواقع ملیں گے، یہاں جمہوریت پھلے پھولے گی، سیاست میں اصول ہونگے ، ضابطے ہونگے، اخلاقی اور سیاسی اقدار فروغ پائے گی، مگر حضرت قائداعظم کی رحلت اور قائد ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد ہماری سیاست اور جمہوریت کی کشتی مسلسل ہچکولے کھارہی ہے، ہمارے سیاسی لیڈروں کی باہمی کشمکش اور رسہ کشی کی وجہ سے کئی بار جمہوریت کی بساط بھی لپیٹی گئی اور یہاں آمریت کی طویل اور تاریک چادر اوڑھا دی گئی ، جمہوریت جمہوریت کا شور مچانے والے سیاستدانوں کو پھر بھی ہوش نہیں آئی جس کی وجہ سے عوام کے ووٹوں سے برسراقتدار آنے والے حکمرانوں کو پھانسی کے پھندے ، جیلوں کی سلاخوں اور جلاوطنی جیسے ظلم و ستم اٹھانے پڑے۔
پاکستان کی 72سالہ تاریخ میں صرف دوبار جمہوری قوتوں کو اپناعرصہ اقتدار پانچ سال پورا کرنے کا موقع ملا، یعنی پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پھر انہوں نے انتقال اقتدار کے مراحل بھی خوش اسلوبی سے طے کرلئے، 2018کے عام انتخابات کے بعد پاکستان کی سیاست ایک بار پھر ”گھن چکر“ کی زد میں آچکی ہے، جس کی وجہ سے ہماری سیاست، جمہوریت، معیشت اور اقدار پر منفی اثرات پڑرہے ہیں، ہماری سیاسی جماعتوں کی باہمی لڑائی، سیاسی رسہ کشی اور الزامات کی سیاست نے صورتحال کو تشویشناک حد تک خراب کرکے رکھ دیا ہے، ملک کی ترقی اور عوام کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو چور ،ڈاکو،لٹیرے اور وطن دشمن ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہاہے، اپنے اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کیلئے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا ، سوشل میڈیا اور دوسرے جدید ذرائع کا بے دریغ استعمال کیا جارہاہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سیاستدانوں کی اسی باہمی کشمکش کی وجہ سے زندگی کا ہر شعبہ تباہ ہورہاہے، مہنگائی اور بیروزگاری کی سونامی تیزی سے پر پھیلارہی ہے، بجٹ کا خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکا ہے، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان کا تجارتی خسارہ 32ارب ڈالر اور کرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ 20ارب ڈالر سے بھی بڑھ چکا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر کم ہورہے ہیں ، افراط زر اور شرح سود میں اضافہ ہوچکاہے، گذشتہ دس ماہ کے دوران بیرونی سرمایہ کاری میں تقریباً52فیصد کی ریکارڈ کمی ہوچکی ہے،درآمدات کا گراف مسلسل بڑھ رہاہے جبکہ برآمدات میں ہونیوالی کمی نے ملک کی معیشت کو ہلاکر رکھ دیاہے، وزیراعظم کے مشیر خزانہ ریونیو اور اقتصادی امور ڈاکٹر عبدالحفیط شیخ نے یہ خبر دیکر قوم کو حیران کردیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ہمارے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ ہے اور دنیا میں ہماری ساکھ کے خراب ہونے کے امکانات ہیں، انہوں نے اس بات کا بھی اقرار کیا ہے کہ 2018-19کے مالی سال میں ہم زراعت ، صنعت اور خدمات کے شعبے میں اپنے مقررکردہ اہداف کو بھی حاصل نہیں کرسکے ہیں، اس وقت پاکستان جس سیاسی ، اقتصادی، مالی اور اخلاقی بحران سے گزر رہاہے اس سے یوں لگتا ہے کہ ہم اپنے عوام اور ملک کی ترقی کیلئے بیان بازی، ڈرامے بازی اور فرضی اعداد و شمار کے چکروں میں پڑے ہوئے ہیں، سرکاری اعداد و شمار اپنی ہی حکومت کا پول کھول رہے ہیں، مثلاً موجودہ حکومت نے یکم جولائی 2018سے اب تک سٹیٹ بنک سے تقریباً3300ارب روپے کا قرضہ حاصل کیا ہے، آئی ایم ایف سے 6ارب ڈالر ملے، ایشیائی ترقیاتی بنک سے ایک ارب ڈالر اور عالمی بنک سے 80ارب روپے کا پیکیج لیا ہے۔
حکومت وقت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ پچھلے دس سال کے دوران برسراقتدار آنیوالی دونوں جماعتوں نے ملک کو لوٹا ہے ، منی لانڈرنگ کی ہیں، غیر قانونی جائیدادیں بنائی ہیں، ان سب کااحتساب کرینگے، ان سب چوروں ،ڈاکوو¿ںاور لٹیروں کو جیلوں میں ڈالیں گے(اپوزیشن کے کئی بڑے لیڈر اس وقت جیلوں میں بند ہیں) ان کو سب سبق سکھا دینگے، اپوزیشن کی ان دونوں بڑی جماعتوں نے گذشتہ دس سالوں کے دوران ملک پر 24ہزار ارب روپے کا قرضہ چڑھا دیا، وزیراعظم عمران خان نے اسی لئے آئی ایس آئی، ایف بی آر، آئی بی اور سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کا اختیاراتی اور تحقیقی کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ کمیشن کس طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے ،تحریک انصاف کی حکومت مسلسل یہ نعرے ،دعوے اور وعدے کرتی آرہی ہے کہ بیرون ممالک سے پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت واپس لائینگے، ہم نے دنیا کے کئی ممالک میں خفیہ دولت اور اکاو¿نٹس کا سراغ لگالیا ہے ، لیکن ابھی تک بیرون ممالک سے ایک روپیہ لانے میں بھی یہ کامیاب نہیں ہوسکے۔
یہ حقیقت ہے کہ اس وقت پاکستان سیاسی اور اقتصادی طور پر تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، سیاسی لیڈروں کی باہمی لڑائیوں اور سیاسی رسہ کشی سے جمہوریت کی نازک کشتی ہچکولے کھا رہی ہے، لیکن ابھی ہمارے سیاستدانوں کو اس کا قطعاً احساس نہیں ہورہا، جب پانی سر سے گزرجاتا ہے تو پھر انکی آنکھیں کھلتی ہیں، لیکن وقت کبھی بھی انکا غلام نہیں رہتا، یہ حقیقت ہے کہ ہمارے سیاستدان اقتدار سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے عوام اور عوامی مسائل سے پہلو تہی کرتے ہیں، آپ حالیہ وفاقی بجٹ 2019-20کو ہی لے لیں، اس میں اور اس سے پہلے عوام پر جس طرح مسلسل ”مہنگائی بم“ برسائے جارہے ہیں اسکی مثال پاکستان کی تاریخ میں بھی نہیں ملتی۔
ضروریات زندگی کی تمام اشیا کی قیمتوں جس تیز رفتاری سے اضافہ ہواہے اور ان ٹیکسوں میں جس قدر اضافہ کای جارہاہے یا کیا گیا ہے اس سے یقینا عوام کی چیخیں نکل گئی ہیں، موجودہ حکومت کے سب سے اہم ستون اور سابق وفاقی وزیر خسانہ اسد عمر نے قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے تیل ، گیس، گھی، چینی اور دیگر اشیاءکی قیمتوں میں اضافے اور ان پر ٹیکس بڑھانے کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے ، انہوں نے جس جرا¾ت کے ساتھ ”عوام کی آواز“ کو قومی اسمبلی میں اٹھایا وہ قابل صد تحسین ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ”جرا¾ت رندانہ“ پر اسد عمر پر کیا کیا الزامات لگتے ہیں، ہمارے حکمران ان کے وزراءاور منتخب و غیر منتخب ترجمان یہ حقیقت تسلیم کریں یا نہ کریں کہ ملک میں مہنگائی ، بیروزگاری، انانصافی اور لاقانونیت بڑھتی جارہی ہے، سرمایہ کاری، صنعتکاری، تجارتی سرگرمیاں ماند پڑتی جارہی ہیں، مینو فیکچرنگ ، ایکسپورٹ سیکٹر کے ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتیں بھاری پیداواری اخراجات کی وجہ سے بند ہورہی ہیں، دیہی علاقوں میں پسماندگی اور مسائل مسلسل بڑھتے جارہے ہیں، سیاسی کشمکش اور گیم بازی کا سب سے بڑا نشانہ ہماری عوام بن رہی ہے، تعلیم یافتہ اور نوجوان طبقے کی بیروزگاری نے اس قوم کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے، حکومت وقت نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریوں کے سبز باغ دکھا کر اب ان سے نہ جانے کس بات کا بدلہ لینے کی منصوبہ بندی کررہی ہے، خیبرپختونخواہ میں ریٹائرمنٹ کی عمر 60سال سے بڑھا کر 63سال کرنے کی منصوبہ بندی کی جاچکی ہے اور فخریہ طور پر یہ دعویٰ کیا جارہاہے کہ اس سے پنشن اور دیگر واجبات کی مد میں 24ارب روپے سالانہ کے حساب سے 3سالوں میں72ارب روپے کی بچت ہوگی، اس سے صاف نظر آرہاہے کہ اگلے 3سالوںکے دوران کے پی کے میں بیروزگار نوجوانوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوجائیگا، یاد رہے کہ وفاقی حکومت بھی ریٹائرمنٹ کی عمر کو 60سال سے بڑھا کر 63سال کرنے کے منصوبے پر عملی کام مکمل کرچکی ہے، لیکن تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ اس کا اعلان موخر کردیاگیا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ حکومت جمہوریت اور سیاست کو مضبوط بنائے، ملک کو ترقی دینے اور عوام کے بے پناہ مسائل کو حل کرنے کیلئے اپوزیشن کا بھرپور تعاون حاصل کرے، ان سے مشاورت کرے ، انکی جائز تجاویز کو تسلیم کرے۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved