تازہ تر ین

غافل تجھے گھڑےال دےتا ہے منادی

تابندہ خالد……..بحث ونظر
مستقبل قرےب مےں چےن عالمی معاشی طاقت کا ٹائٹل اپنے نام کرنے جارہا ہے اور عےن ممکن ہے کہ طاقتور معےشت کے بل بوتے پر امرےکہ کو پےچھے چھوڑ جائے اور عالمی جنگی قوت مےں بھی اپنا لوہا منوا لے۔ واضح رہے کہ پاکستان گوادر بندرگاہ کی وجہ سے خطے مےں سب ممالک سے اہم جےو سٹرےٹےجک پوزےشن کا حامل ہے۔ ماہرےن کے نزدےک پاک چائےنہ کورےڈور (سی پےک) اس دنےا کا نےا ”سلک روڈ“ ہے۔ اس پلےٹ فارم سے 75% انٹرنےشنل کاروباری سامان کی ترسےل ہوگی۔ گوادر بندرگاہ کی سب سے بڑی اہمےت ےہ ہے کہ ےہ سمندر کے جس حصے پر واقع ہے وہاں کا پانی گرم ہے اسی سبب کی بناءپر گرم پانی والے سمندری حصے پر سارا سال تجارتی جہازوں کی آمدورفت رہتی ہے۔ روس انٹرنےشنل ٹرےڈ سے ہرگز بےگانہ نہےں ہے۔ لہٰذا اس نے گرم پانےوں تک رسائی مانگی ہے۔ گوادر پورٹ کے علاوہ روس پاکستان سے تعلقات استوار کرنے پر اس لئے آمادہ ہے کہ انہوں نے تارےخ سے سےکھ لےا ہے کہ افغانستان مےں سپرپاور کو شکست دےنے والی اصل قوت کوئی اور نہےں بلکہ پاکستان کی عسکری افواج تھےں۔ جنہوں نے روسےوں کے پرخچے اڑانے مےں تاخےر نہےں کی تھی۔
سکھ کمےونٹی نے 2020ءمےں UNO کے زےر اہتمام اےک رےفرنڈم کروانا ہے جس کے تحت وہ علےحدہ خطہ خالصتان بنا سکےں۔ سکھوں نے جو نقشہ تعمےر کےا ہے اس مےں کوئی مضبوط بندرگاہ نہےں ہے لےکن معےشت کو پروان چڑھانے کے لےے انہےں سی پےک کے ضمن مےں پاکستان اور چائےنہ جےسے زبردست اتحادی ملےں گے۔ اگر اےسا ہوتا ہے اور مختلف ممالک اپنی اپنی کرنسےوں مےں لےن دےن شروع کر دےں تو ڈالر کی اُونچی اُڑان ختم ہو جائے گی اور امرےکہ کی عالمی چودھراہٹ اپنی موت آپ مر جائے گی۔ CIA ، 2015ءمےں کراچی کو پاکستان سے علےحدہ کرنے کا پاورفل منصوبہ بنا چکی تھی۔ اس کے بعد بلوچستان، خےبرپختونخواہ اور جنوبی وزےرستان کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ان کے خوردنی وسائل مثلاً تےل، گےس، کوئلہ و سونے کی کانےں، قےمتی پتھر کے پہاڑوں پر اپنا پنجہءاستبداد گاڑھنا انکا اصل ٹارگٹ تھا لےکن افواجِ پاکستان اور ISI نے ان کے مذموم مقاصد خاک مےں ملا دئےے۔
دوسری جانب اسرائےل گرےٹر اسرائےل بننے کے خواب دےکھ رہا ہے۔ تقرےباً تمام متحدہ عرب امارات اسکے نرغے مےں اور امرےکہ اس کی مٹھی مےں ہے۔ ےہ چھوٹا سا ملک عرب ممالک مےں بغاوتےں اور شورشےں برپا کرنے مےں کامےاب ہو چکا ہے۔ نےو ورلڈ آرڈر کے سامنے دےوار اس خطے مےں اب صرف پاکستان ہی ہے۔ اسرائےل بخوبی جانتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ براہِ راست ٹکر نہےں لی جاسکتی۔ لہٰذا اس نے خلےج عمان لےز پر لے لی ہے۔ جو لوگ ےہ زعم رکھتے ہےں کہ عمان کے ساحل پر اسرائےل نے بحری بےڑے مچھلےاں پکڑنے کے لے منگوائے ہےں تو وہ احمق ہےں۔ مغرب مےں نےٹوفورسسز اور مشرق مےں بھارت سی پےک پر للچائی ہوئی نظروں کے ساتھ دےکھ رہا ہے۔ سامراجی قوتوں نے ےہ باور کر لےا ہے کہ پاک فوج کی اصل طاقت اس کی عوام ہے کےوں نہ عوام مےں صوبائی تعصب، فرقہ بندی، لونی ےا لسانی منافرت کو اتنی ہوا دی جائے کہ پنجابی، سندھی، بلوچی، پختون، اُردو سپےکنگ، شےعہ، سنی آپس مےں اختلافات کے باعث پھٹ پڑےں اور خانہ جنگی کا آغاز ہوجائے تو ان کی راہ خاصی ہموار ہو جائے گی۔
ذرا سوچئے اگر ہم ان کے پروپےگنڈے کا شکار ہو جاتے ہےں تو دشمن سو فی صد ہم پر قابض ہو جائے گا اور ےقےنا ہم اس وقت سب اےک ہوں گے جب صےہونی طاقتےں ہمےں چکی مےں پےسےں گی۔ ہمےں اےک لمحہ ضائع کےے بغےر دانشمندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ بہتر ہوگا بھائی چارہ کی فضا قائم کی جائے کےوں کہ دشمن صف بہ صف کھڑے ہےں اور لمحہءگرےہ کہ اندرونی طور پر اپنے بھی خنجر بہ کف ہےں۔ ملاحظہ کےجئے کہ گزشتہ روز قبل اپوزےشن پارٹےز کی بڑی گرفتارےوں کے بعد آل پارٹےز کانفرنس اپنا نےا سےاسی سرکس لگانے کو ہے۔ مےرے نزدےک اے پی سی کی مثال اےسے ہی ہے ”کہےں کی اےنٹ کہےں کا روڑا…. بھان متی نے کنبہ جوڑا“ ہونا تو ےہ چاہےے کہ خطے مےں نازک صورتحال کے پےش نظر سب متحد ہو جائےں۔ استعماری قوتےں جانتی ہےں کہ پاکستانی عوام کو اگر سائنس و ٹےکنالوجی کی تمام سہولےات مہےا کر دی جائےں تو ےہی قوم ذہانت مےں پہلے نمبر پر ہوگی مگر پے در پے مسائل، سےاسی رسہ کشےوں، خود کش حملوں کے سبب ہمارا عزم تھوڑا دھندلا سا گےا ہے۔
لہٰذا ہمےں وقت کا ضیاع کےے بغےر ٹےکنالوجی ووسائل کو تقوےت دےنی ہوگی، فارغ البالی کی عادت کو ترک کرنا ہوگا جس طرح چےونٹےاں موسمےاتی تبدےلےوں، طوفان سے قبل اپنا بھرپور بندوبست کرتی ہےں۔ اگر ہم نے گھڑےوں کے وقت کی قدر نہ کی اور سنجےدگی سے اس پر غور نہ کےا، محض بزرگوں کی دعا¶ں کے آسرے پر رہے، تدبےر نہ کی تو عجب نہےں ہم غلامی کی زنجےروں مےں دوبارہ جکڑے جائےں۔ امرےکہ کا اےران پر حملہ کا پلان تو اےک بہانہ ہے نشانہ کوئی اور ہے!!!
(کالم نگارمختلف موضوعات پرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved