تازہ تر ین

پانیوں کے غاصب ہمسائے کو نمک….؟

سی ایم رضوان….جگائے گا کون
بھارت پاکستان کا واحد ہمسایہ ہے جس سے پاک سرزمین کی ازلی مخالفت اور دشمنی چلی آ رہی ہے اور ریکارڈ گواہ ہے کہ اس مخالفت کی وجہ صرف اور صرف بھارت کی غاصبانہ ،عیارانہ اور ظالمانہ روش ہے جو کہ پہلے دن سے آج تک جاری ہے ۔قیام پاکستان کے وقت جبکہ دونوں نوآزاد ممالک کو اپنے اپنے علاقے اور وسائل باہم برابری کے ساتھ تقسیم کرنا تھے اس وقت بھی بھارت نے مسلم علاقوں کی پاکستان کو حوالگی میں ، پاکستان کے حصے کا اسلحہ اور فوج اس کو دینے میں بدنیتی کے ساتھ بے ایمانی کی ۔ پھر ستم بالائے ستم یہ کہ کشمیر جیسی جنت نظیر مسلم اکثریتی آبادی کو اپنے پنجہ استبداد میں دبوچ لیا اور پاکستان کی تمام جائز اور مثبت کوششوں اور پرامن مطالبوں کے باوجود اسے آج تک آزاد نہیں کیا اور وہاں آج تک خون مسلم کو پانی کی طرح بہا رہا ہے باوجوداس کے کہ دنیا بھر کے ممالک اور عالمی ادارے اسے بارہا شرم دلا چکے ہیںمگر شرم نام کی چیزگویا بھارتی حکومتوں کے پاس ہی نہیں ۔ گو کہ کشمیر اور دیگر تنازعات کے ضمن میں دونوں ممالک کے مابین مختلف معاہدات بھی موجود ہیں اور عالمی ضابطہ اخلاق بھی بھارت کو ہی مجرم گردانتا ہے مگر بھارت کو شرم نہیں آتی ۔ یہاں بھارت سے مراد بھارتی حکومتیںہیں جو اکثر پاکستان دُشمنی میں ریکارڈ بناتی اور توڑتی رہتی ہیں ۔ پاکستان میں دہشت گردی کروانا ، تخریب کاری اور جاسوسی کو تسلسل سے جاری رکھنا اور پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دینا اس کا قدیمی وطیرہ ہے ۔ جبکہ اس کے برعکس پاکستان نے ہمیشہ عالمی اخلاقیات کی پاسداری کا ثبوت دیتے ہوئے اصول اور اخلاق کی حدود میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کی جنگ لڑی ہے یہاں تک کہ ہماری عظیم ترین عسکری طاقت بھی صرف اپنے علاقوں اور عوام کی حفاظت اور خطہ میں امن کے قیام کے لئے مختص ہے۔
پاکستان اور بھارت کے مابین پانی اور نمک کے دو معاہدوں کا احوال بھی ثابت کرتا ہے کہ پاکستان اپنے سراسر نقصان کے باوجود ان معاہدوں کی خلاف ورزی کا مرتکب نہیں ہوا جبکہ بھارت نے ان معاہدوںمیں سے ایک یعنی پانی کے معاہدے کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہیں اور پاکستان کے تین دریاو¿ں راوی ، ستلج اور بیاس کا پانی بند کیا ہوا ہے حالانکہ معاہدہ یہ تھا کہ جنگ ہو یا امن بھارت اپنے علاقوں سے آنے والا پانی پاکستان پر بند نہیں کرے گا اور نہ ہی دریاو¿ں پر ایکسٹرا ڈیم بنائے گا لیکن وہ یہ جرم پچھلے دو سال سے کر رہا ہے اور ہمارے تین دریا اب خاک کی گزرگاہ بن کر رہ گئے ہیں۔ دوسرا معاہدہ نمک کا تھا کہ جنگ ہو یا امن پاکستان بھارت کو نمک کی سپلائی بند نہیں کرے گا اور اس معاہدے میں نمک کے نرخ کے حوالہ سے کوئی شق یاضابطہ تحریر نہیں کیا گیا تھا کہ پاکستان کس قیمت پر بھارت کو نمک فروخت کرے گا لیکن پاکستانی حکومتوں کی سادگی ملاحظہ ہو کہ آج بھی کھیوڑہ سے نکلنے والایہ نمک بھارت کو اس ریٹ پر دیا جارہا ہے کہ جس سے نمک کی کان کھیوڑہ سے کراچی پورٹ تک کا کرایہ بھی پورا نہیں ہوتا ۔ بھارت اس نمک کو اونے پونے داموں خریدتا ہے ،کرش کر تا ہے اور نہ صرف اندرون بھارت بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کو پورے منافع کے ساتھ فروخت کرتا ہے ۔ پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر اس حوالہ سے ایسے ایسے انکشافات اور حقائق سامنے آئے ہیں کہ جن کی روشنی میں غور کرنے سے احساس ہوتا ہے کہ آج ہمارا پیارا ملک قرضوں ، مہنگائی اور مالیاتی خساروں کا بمشکل مقابلہ کر رہا ہے اور ایک ایک چیز سے منافع کمانے اور ملکی معیشت کو مضبوط کرنے کی کوششیں اور مطالبے ہو رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ہم بھارت کے ساتھ نمک سپلائی معاہدے پر اس قدر سادگی سے عمل کر رہے ہیں کہ ہماری سادگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ ہمارے نمک کو اپنے برانڈز کے ساتھ فروخت کرکے زر مبادلہ کما رہا ہے ۔ حالانکہ یہی نمک ہم خود کرش کر کے اپنے برانڈز کے ساتھ دنیا کو فروخت کر سکتے ہیں اور بھارت کو صرف اس کی ضرورت کے مطابق نمک دینے کی پالیسی وضع کر سکتے ہیں اور اس کے منہ مانگے نرخ بھی وصول کر نے کے مجاز ہیں ۔ جس طرح بھارت کے پاس ہمارے دریاو¿ں پر سینکڑوں کی تعداد میںڈیمز بنانے کے بہانے اور عذر موجود ہیں اور ہمارے حصے کے پانی پر جس طرح وہ ڈکار مار چکا ہے ہم یہ جاننے کے باوجود کہ ہمارا نمک دنیا کا بہترین نمک ہے اور کھیوڑہ کی کانیں ہمارے اوپر اﷲ تعالیٰ کا خاص احسان ہے جو کہ خالصتاً پاکستانی قوم کا حق ہے ہم یہ حق بھی رکھتے ہیں اپنی چیز جس نرخ پر چاہیں فروخت کریں ہمیں بھارت سے نمک کی فروخت کے ضمن میں کثیر زرِ مبادلہ کمانا چاہیے اوراس پر یہ شرط بھی عائد کر دینی چاہئے کہ وہ ہمارا نمک خود تو استعمال کر سکتا ہے (وہ بھی انسانی حقوق کی بنیادوں پر ) لیکن آگے فروخت نہیں کر سکتا ۔ ہماری نظر میں بھارت جیسے ملک کو صرف اس کی ضرورت کے مطابق نمک دینا بھی اس پر احسان عظیم ہوگا اور انسانی حقوق کی عظیم ترین پاسداری کا ایک شاندار عملی مظاہرہ ہوگا کیونکہ بھارت نہ صرف بھارت کے اندر انسانی حقوق کے ساتھ خون کی ہولی کھیلتے ہوئے اپنے ملک کے اقلیتی مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے بلکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی معصوم اور نہتے کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کئے ہوئے ہے اور پھر ستم بالائے ستم کہ خطہ میں کھلی بدمعاشی کرتے ہوئے پاک بھارت سرحدوں پر روزانہ کی بنیاد وں پر دراندازی اور قتل و غارت کا بھی مرتکب ہو رہا ہے ۔
بھارت کے حالیہ انتخابات سے پہلے تک بی جے پی کی حکومت نے پاکستان مخالف جذبات اور اقدامات کے اظہار کو انتہا تک پہنچا دیا تھا ۔ تاہم سیاسی مبصرین یہ امید رکھتے تھے کہ دوبارہ کا میابی کی صورت میںمودی پاکستان کے خلاف نفرت انگیز ی کی انتخابی حکمت عملی سے بالاتر ہو کر معقولیت کا رویہ اپنائے گا اور کشمیر سمیت تمام تنازعات کا حل بات چیت سے ڈھونڈنے کا راستہ اختیار کرے گا لیکن انتخابات کے بعد بھی بھارتی قیادت کے طرز عمل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جس کا ایک واضح ثبوت شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کی ملاقات کے اہتمام سے بھارت کا انکار ہے۔ اس حد تک بے اصول اور ظالم ہمسایہ ملک کو چاہیے تو یہ کہ نمک دیا ہی نہ جائے لیکن اگر دیا بھی جائے تو کم از کم اس نرخ پر کہ اسے قیمت ادا کرتے ہوئے سو بار یہ احساس ہو کہ ہمسایوں کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرنے کی بھی سزا ہوتی ہے ۔ سنا ہے کہ کھیوڑہ نمک کی کانوں کے اندر سے نمک ملا پانی بھی وافر مقدار میں برآمد ہوتا ہے جسے برائن سلوشن کہا جاتا ہے جو کہ 88فیصد منرلز سے لبریز ہوتا ہے جو کہ ڈٹرجنٹ اور واشنگ سوڈا کمپنیوںکا قیمتی ترین را میٹریل ہے۔ یہ بھی سنا ہے کہ چند بااثر سرمایہ کار اسے کوڑیوں کے مول خرید کر لاکھوں کما رہے ہیں۔ حکومت خاص طور پر اس شعبہ کو چلانے والی پی ڈی ایم ڈی سی کو چاہئے کہ وہ نمک جیسے سفید سونا اور کانوں سے نکلنے والے قیمتی پانی کے پورے نرخ وصول کئے جانے کو یقینی بنائے تاکہ ملک کی ڈوبتی معیشت کو سنبھالا جاسکے ۔دوسری جانب بھارت کو پاکستان کے حصے کا پانی غصب کرنے اور معاہدہ کی خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں سزا کے طور پر نمک اس نرخ پر دینا چاہئے کہ اسے خود اپنے سابقہ رویے پر شرم آئے ۔اور اگر بھارت کو شرم آجائے تو یہ اس صدی کا اہم ترین واقعہ ہوگا۔
(کالم نگارسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved