تازہ تر ین

افغان مہاجرین کی میزبانی کب ختم ہوگی؟

ضیاءالحق سرحدی….یقیں محکم
کرئہ ارض پر پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے انسا نی تاریخ میں پہلی مرتبہ مہاجرین کی ایک کثیر تعداد کو ایک طویل عرصہ تک اپنے دامن میں جگہ دی ،اپنی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے انہیں ایک عزیز مہمان کی طرح پروٹوکول دیا، کمیونزم کے خونی پنجوں سے تحفظ کیلئے،بہترین پناہ گاہیں فراہم کیں، تعلیم وصحت کی سہولتیں دیں اور ان کی ہر قسم کی ضروریات کی تکمیل کی پاسداری کی۔ افغانستان پر روسی یلغار کے دوران اور بعداز جنگ سر زمین پاکستان اور بالخصوص صوبہ خیبرپختونخوا نے جس طرح افغان مہاجرین کی خدمت کی وہ ایک یکتاتاریخی مثال بن گئی ہے۔پاکستان میں 40سال طویل عرصہ تک قیام پزیر افغان مہاجرین کے قیام کی مدت 30جون 2019ءکو ختم ہو رہی ہے اور افغان مہاجرین کو پاکستان میں40سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے اور یہاں ان کی دوسری نسل جوان ہوچکی ہے۔ مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد میں کسی ملک میں رہنا تاریخ میں پہلی بار دیکھا گیا ہے۔ افغان روس جنگ لگتے ہی مہاجرین کی پاکستان آمد شروع ہوگئی اور تقریبا پچاس سے ساٹھ لاکھ مہاجرین نے پاکستان میں پناہ لی ۔ پاکستانیوں نے انصار مدینہ کا کردار ادا کرتے ہوئے مہاجرین کو گلے سے لگایااور ان کو اپنے کاروبار، رہائش اور خوراک میں برابر کا حصہ دار بنایا۔ آج ایک وقت یہ آگیا ہے کہ مہاجرین جو کہ اب صرف خیبرپختونخوا کے چند اضلاع میں رہائش پذیر ہیں ۔پاکستان میں 14لاکھ سے زائدرجسٹرڈ افغان مہاجرین ہیں جن میں سب سے زیادہ خیبرپختونخوا میں8 لاکھ 17ہزار،بلوچستان میں 3لاکھ 23ہزار، پنجاب میں 1لاکھ 64ہزار، سندھ میں64ہزار،اسلام آباد میں33ہزار اور آزاد کشمیر وگلگت بلتستان میں4ہزار مقیم ہیں۔حکومتی دعویٰ کے مطابق پاکستان میںمزید 16لاکھ افغان مہاجرین بھی قیام پزیر ہیں جن کی ابھی تک رجسٹریشن نہیں ہوئی اور اُن کے پاس پروف آف رجسٹریشن نہیں۔یہاں بالخصوص ضلع پشاور، ہری پور، نوشہرہ، مانسہرہ، ایبٹ آباد، مردان اور چارسدہ وغیرہ کی معیشت پر ان کا قبضہ ہے۔پاکستان نے تقریباً پچاس سے ساٹھ لاکھ افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کر کے نیک نامی تو کمائی مگر دوسری جانب اسی بناءپاکستان پر طالبان کے محفوظ پناہ گاہ بننے کے الزامات بھی لگے جو ہمارے بارے میں منفی تاثرات کا باعث بھی بنے۔ یہ صورت حال اب تک جاری ہے اس صورت حال پر غور کرنے اور صورتحال میں تبدیلی لانے کے اقدامات پر غور کی ضرورت ہے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان گزشتہ تقریبا 40برس سے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دئیے ہوئے ہے شروع میں تو عالمی برادری ان مہاجرین کی ہر قسم کی امداد جاری رکھے ہوئے تھی۔ تاہم گزشتہ کئی برس سے پاکستان تن تنہا ان مہاجرین کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے ان کی موجودگی کی وجہ سے پاکستان کی اپنی اقتصادی صورتحال پر کس قسم کے منفی اثرات پڑے ہیں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ جبکہ پاکستان خصوصاً خیبر پختونخوا کے انفراسٹرکچر، معاشرتی صورتحال اور امن و امان کو درپیش چیلنجز میں ان مہاجرین کا بنیادی کردار ہے۔ بدقسمتی سے ہر چھ ماہ یا ایک سال بعد مہاجرین کی واپسی کےلئے نئی تاریخ طے کرتے ہیںجن سے پاکستانی عوام ویسے ہی بہت نالاں ہوچکے ہیں ۔جبکہ یو این ایچ سی آر کے حکام ان قانونی اور غیر قانونی ہر دو قسم کے مہاجرین کو واپس اپنے وطن میں آباد کرنے کےلئے سنجیدہ اقدامات کی بجائے الٹا پاکستان پر ہی انہیں یہاں مزید اقامت کےلئے دباﺅ ڈال کر جان چھڑا لیتے ہیں۔ آخر یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا ؟ کسی کو نہیں پتہ اور نہ ہی ہماری حکومت میں اتنی جرات ہے کہ وہ پاکستانی عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے یو این ایچ سی آر اور امریکی دباﺅ کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکے۔ افغان مہاجرین کی آمد کے ساتھ پاکستان میں کلاشنکوف کلچر درآیا،ہیروئن کی آفت ٹوٹ پڑی، پاکستانی بم دھماکوں سے آشنا ہوئے، خودکُش دھماکوں کا سلسلہ چل پڑا۔یہ حقیقت ہے کہ ان میں زیادہ تر لوگ پُر امن تھے،لیکن انہی کی آڑ لے کر دہشت گردوں نے پاکستان میں قدم رکھا اور آج بھی اپنی کاروائیوں کو کسی نہ کسی طرح جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہماری صوبائی پولیس بھی کئی مرتبہ اس بات کا اظہار کر چکی ہے کہ صوبے میں جرائم کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا افغان مہاجرین کے حوالے سے ہے جو کبھی یہاں اور کبھی افغانستان میں ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی مشکل ہوجاتی ہے۔پاک افغان سرحد کی مجموعی لمبائی 1660کلو میٹر ہے جس میں آمد و رفت روکنے کے حوالے سے کوئی مناسب انتظام نہیں ہے۔ صرف طور خم ایسا مقام ہے جہاں آمد و رفت کے حوالے سے معاملات کو کنٹرول کیاجاسکتا ہے تاہم وہ بھی کمزور ہے۔ قتل، ڈکیتی اغواءبرائے تاوان اور کار چوری جیسی واردات میں افغان مہاجرین کے جرائم پیشہ عناصر کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد کے باوجود وفاقی حکومت لاکھوں افغان مہاجرین کی بلا جواز مہمانداری کو جاری رکھے ہوئے ہے۔جبکہ پڑوسی ملک ایران میں افغان مہاجرین کو شہروں سے باہرکیمپوں تک محدود رکھا گیا اور کیمپ سے باہر جانے کےلئے ان کو اجازت ناموں کا پابند بنایا گیا اور اب بیشتر افغان مہاجرین کو اپنے ملک واپس بھیجا چکا ہے ۔جبکہ پاکستان میں ان کو آزادانہ نقل حرکت اور شہروں میں قیام، کاروبار کرنے اور جائیدادیں خریدنے تک اجازت ہے اور ہزاروں افغان مہاجرین کو نادرا کے کمپیوٹرائزد شناختی کارڈ بھی جاری ہوچکے ہیں۔
افغانستان نے پاکستان کے خلاف بھارت کو مدد فراہم کرتے ہوئے اس کی سرحد کے ساتھ ایک درجن سے زائد قونصل خانوں کے لیے جگہ اور سہولت فراہم کی۔وہی بھارت جس نے سوویت یونین کو افغانستان کے خلاف سپورٹ کیا، افغانستان کا دوست ٹھہرا اور پاکستان نے افغانستان کے لیے اپنے بے شمار فوجی اور سول شہریوں کی قربانی دی،اپنے امن کو داو¿ پر لگا دیا، افسوس افغانستان نے ہمارے ہر دشمن کے لیے اپنی سرحدیں اور دل کھول دیے،خصوصاً بھارت کو اپنے معاملات میں اتنا دخیل کیا کہ وہی افغانی جو پاکستان میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے،وطن عزیز کے خلاف کمر بستہ ہوگئے۔ہم اہالیان پشاور جانتے اور آپ کو بتا سکتے ہیں کہ ابتداًبے یارو مددگار یہ افغان مہاجرین آج پشاورمیں اپنے کاروبار اور دکانوں کے مالک ہیںاور اِن کے بچے شہر کے بہترین تعلیمی اداروں میں اولیول اور اے لیول کر رہے ہیں ۔
دنیا کے مختلف ممالک میں مہاجرین کے قیام کےلئے ان کے اپنے اوطان میں مسائل و مشکلات کے پیش نظراقوام متحدہ کی نگرانی میں بندوبست کیا جاتا ہے تاہم حالات معمول پر آجانے کے بعد یہ لوگ بہ خوشی اپنے اپنے وطن واپس جاتے ہیں مگر غالباً افغان مہاجرین دنیا کی واحد ایسی قوم ہے جن کی اکثریت اپنے وطن واپس جانے کو یا تو تیار نہیں ہے یا پھر جولوگ اس دوران میں اقوام متحدہ کی کوششوں اور امدادی پیکج کے تحت واپس گئے بھی ہیں تو ان کی بھی اکثریت چند دن یا ہفتے دو ہفتے کے بعد واپس آکر غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم ہے۔ اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ یو این ایچ سی آر (UNHCR) ہر بار جب ان کے قیام کی مدت پوری ہونے کو ہوتی ہے پاکستان کے حکمرانوں پر کسی نہ کسی طور اثر انداز ہوکر مزید وقت حاصل کر لیتا ہے اس دوران میں حکومت پاکستان نے بعض مہاجرین کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے کچھ مراعات بھی دیں مگر مہاجرین کی غالب اکثریت بغیر کوئی ٹیکس ادا کئے کاروبار میں مصروف ہے۔پشاورہائی کورٹ نے اس اہم نوعیت کے کیس میں وفاق اور صوبوں کو افغان مہاجرین کو ان کے ملک واپس بھجوانے کے اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کر کے یقینا عوام کے دلوں کی بات کہی تھی لیکن اس پر بھی عمل درآمد نہ ہو سکا ۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس سلسلے میں کوئی مربوط لائحہ عمل اختیار کیا جائے اور ملکی وسائل پر اور ایک بڑی آبادی کو درپیش ضروریات کے حامل انتظامات کے بوجھ سے چھٹکارا حاصل کیا جائے تاکہ انہی وسائل اور انتظامات کو مقامی آبادی کےلئے مختص کیا جاسکے۔کچھ عرصہ پہلے عدالت عالیہ پشاور کے فاضل چیف جسٹس کے ریمارکس مبنی بر حقیقت ہیں کہ اب جبکہ افغانستان میں امن و امان قائم ہوچکا ہے اور ہماری اپنی ضروریات کےلئے بجلی اور گیس نہیں ہے ان کو مزید قیام کی اجازت دینے کا کوئی جواز نہیں بنتا، امیدہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عدالتی احکامات پر عمل پیرا ہوکر پاکستانیوں کو اس مشکل ہے نجات دلائیں گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان بھی اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور اپنے ہی شہریوں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کےلئے اپنے اعلان پر قائم رہے تاکہ لوڈ شیڈنگ، بے روزگاری اور بے پناہ مسائل میں گھرے ہوئے ان کے اپنے شہری کچھ سکھ کا سانس لینے کے قابل ہوسکیں۔
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved