تازہ تر ین

بھارتی جیلوں میں قید پاکستانیوں کورہا کروائیں

خدا یار خان چنڑ …. بہاولپور سے
پاکستان میں جتنی بھی حکومتیں آئی ہیں آج تک کسی حکومت نے اس طرف توجہ ہی نہیں دی کہ ہزاروں پاکستانی مختلف ملکوں میں چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی وجہ سے جیلوں میں گل سڑرہے ہیں ان کاکسی نے حال تک نہیں پوچھا ۔بیچارے قیدیوں کے جوورثاءہیں وہ انتہائی غریب لوگ ہیں وہ تواپنے ملک پاکستان میں تھانے سے بندہ نہیں چھڑواسکتے وہ دوسرے ممالک سے بندہ کوکیسے چھڑواسکتے ہیں ۔ باہرکے ممالک میں پاکستانی قیدیوں کے ورثاءان پڑھ اورسادہ لوگ ہیں پاکستان کے اعلیٰ حکام تک ان کی رسائی نہیں ہوتی کہ اپنی دردبھری کہانی سناسکیں نہ ہی حکومت پاکستان نے کوئی ایسی پالیسی بنائی ہے کہ باہرکے ملکوں میں پاکستانی قیدیوں کی آوازاٹھائی جائے ۔انتہائی افسوس کے ساتھ کہہ رہاہوں کہ باہرکے ملکوں کے قیدیوں کی دورکی بات پاکستان کے اندرجیلوں میں انتہائی معمولی جرم کرنے والے ہزاروں لوگ گل سڑرہے ہیں ان لوگوں کے پیچھے ضمانت دینے ولاکوئی نہیں ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ سالوں سال سے قیدکاٹ رہے ہیں۔ حکومت کواس طرف توجہ دینی چاہئے معمولی نوعیت کے کیسوں میں بندقیدیوں کورہاکرناچاہیئے تاکہ یہ لوگ حکومت پاکستان پربوجھ نہ بنیں باہرآکراپناکام کریں ۔ یہ ساراکام وزیرجیل خانہ جات کوکرناچاہئے ان کوپاکستان کی تمام جیلوں سے معلومات حاصل کرکے جولوگ بلاوجہ جیل میں پڑے ہیں ان کورہاکرناچاہئے۔ تحریک انصاف کی حکومت کواس طرف بھرپورتوجہ دینی چاہئے۔ خداکے خوف سے ڈرنا چاہئے، وہ بھی توانسان ہیں چاہے پاکستان کی جیلوں میں ہویاغیرملکی جیلوں میں ان کوآزادکروانے کی بھرپورکوشش کرنی چاہئے۔ سابقہ حکومتوں کے سربراہوں نے مال بنایا عیاشیاں کیں غریب لاوارث قیدیوں کی طرف توجہ ہی نہیں دی ۔اللہ پاک کے گھرمیں دیرہے اندھیرنہیں ،آج وہی سابقہ حکوتوں کے ذمہ دارجیل کاٹ رہے ہیں آج شایدان کواحساس ہوگیاہوگاکہ جیل کیاچیز ہوتی ہے۔ غریبوں کی جیل کاٹنااورامیروں کی جیل میں زمین آسمان کافرق ہوتاہے مگرپھربھی امیروں کی چیخیں نکل رہی ہوتی ہیں۔ غریب بھی توانسان ہوتاہے اس کے اندربھی دل ہوتاہے اب خدانے پاکستانیوں کو عمران خان کی شکل میںایسا وزیراعظم دیاہے جوکہ خاص طورپرقیدیوں کے لئے تومسیحا ہے ۔پچھلے دنوں جب شہزادہ ولی عہدسعودی عرب محمدبن سلمان پاکستان تشریف لائے تھے توپاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے وہ پاکستانی جو سعودی جیلوں میں کافی عرصہ سے گل سڑرہے تھے ان کی رہائی کی اپیل کرکے پاکستانیوں کو قید سے آزادکروایاتھا جس سے پورے پاکستان میں ایک خوشی کی لہردوڑگئی تھی۔و ہ ہرطبقہ فکرسے تعلق رکھنے والے شخص نے عمران خان کے اس عمل کوسراہاتھا اورکتنی ماﺅں کے لال گھرآگئے تھے کتنی بہنوں کے بھائی گھرآگئے تھے ان ماﺅں ،بہنوں نے جھولیاں بھربھرکروزیراعظم پاکستان عمران خان کودعائیں دی تھیں۔ یہ وزیراعظم پاکستان کااچھاعمل تھا پاکستان کے اندر اور پاکستان کے باہراس اچھے عمل پرتعریف کی گئی تھی۔ آج وہ لوگ اپنے اپنے گھروں میں بوڑھے ماں باپ کاسہارابنے ہوئے ہیں ۔پچھلے دنوں جب ملائیشیا میں قیدپاکستانیوں کوآزادکرواکرخصوصی طیارے کے ذریعے پاکستان لایا گیا یہ کتنے عرصہ سے قیدکاٹ رہے تھے طیارے سے اترتے ہی پاکستان کی سرزمین پرسجدہ ریز ہوکرمٹی کوچوم چوم کر عمران خان کودعائیں دے رہے تھے اورعمران خان زندہ بادکے نعرہ لگارہے تھے ۔ذوالفقارعلی بھٹوکے بعد واحد لیڈر عمران خان ہیں جوبیرون ممالک میں قید پاکستانیوں کا درد دل میں رکھتے ہیں۔ اب پتہ چلاہے کہ وزیراعظم عمران خان اس طرف خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ وزیرخارجہ سے رپورٹ طلب کرلی ہے کہ کتنے پاکستانی اورکس کس ملک میں قیدکاٹ رہے ہیں اس کی لسٹیں بنناشروع ہوگئی ہیں خداکرے جلدازجلدیہ کام پایہ تکمیل تک پہنچے۔ اب مایوس کن بات نہیں ہے انشااللہ امیدکی کرن نظرآناشروع ہوگئی ہے ۔ پہلے کسی وزیراعظم نے اس طرف توجہ ہی نہیں دی تھی اب وزیراعظم پاکستان عمران خان کے حکم پر وزارت خارجہ نے چاروںصوبوں کے آئی جی جیل خانہ جات سے تفصیل طلب کرلی ہے کہ انڈین قیدی پاکستان کی جیلوں میں کتنی تعدادمیں پڑے ہیں صوبوں کے علاوہ چیف سیکرٹری گلگت بلتستان اورآزادکشمیرسے بھی تفصیل طلب کی گئی ہے تاکہ انڈیاکے ساتھ قیدیوں کاتبادلہ کیاجائے۔
وزیراعظم پاکستان نے بھارت میں قیدپاکستانی کی رہائی کے لئے منصوبہ بندی شروع کردی ہے یہ کام اب تیزی سے شروع ہوگیاہے ۔وزارت خارجہ کی جانب سے انڈین قیدیوں کی تفصیلات کی سوفٹ کاپی 30جون تک بھجوانی ہوگی۔ پاکستان اورانڈین قیدیوں کے تبادلہ کے حوالہ سے وزارت خارجہ نے اعلیٰ سطح پریکم جولائی 2019کواجلاس بلالیاہے۔ اس اجلاس میں پاکستان اوربھارت کے درمیان قیدیوں کے تبادلہ کے حوالہ سے تفصیلی بات چیت ہوگی ۔امیدکی جاسکتی ہے کہ بڑی عیدپرپاکستانی جوانڈین جیلوں میں پڑے ہیں وہ پاکستان آکراپنے پیاروں عزیزواقارب کے ساتھ عیدگزاریں گے۔ میں حکومت پاکستان اورخاص طورپر وزیراعظم عمران خان کی توجہ اس طرف دلوانا چاہتاہوں کہ ہمارا سب سے قریبی ہمسائیہ ملک بھارت ہے، ہمارے اکثرسادہ پاکستانی ان کے ہتھے چڑھ جاتے ہیںمیں حکومت پاکستان اور خاص طورپر پاک افواج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کی توجہ اس طرف دلانا چاہتاہوں کہ منچن آبادسے لے کرصادق آبادتک پاکستان اوربھارت کے درمیان جوبارڈرلائن ہے وہ چولستان میں ہے بھارت نے شرارتاً بارڈرلائن اپنی حدسے 600فٹ چھوڑ کراندربنائی ہوئی ہے سادہ پاکستانی لوگ توان کے بارڈرسے دورہوتے ہیں مگربھارت کے فوجی گھات لگاکربیٹھے ہوتے ہیں جونہی کوئی جانوریاانسان بھول کران کی حدودمیں قدم رکھتاہے توفوراًیہ پکڑکربھارت کی جیلوں میں قیدکردیتے ہیں۔ آئے دن کوئی نہ کوئی واقعہ ہوتارہتاہے حکومت پاکستان کوچاہیے کہ منچن آبادسے لے کرصادق آبادتک بارڈرلائن پرکوئی مضبوط قسم کی باڑلگاناچاہیے اورلائیٹنگ کاانتظام بھی ہوناچاہیے تاکہ کوئی پاکستانی بھول کربھی بھارتی فوج کے ہتھے نہ چڑھ سکے۔
پچھلے سال 2018میں تحصیل حاصل پورتھانہ قائم پورموضع نورپورکارہائشی منظوراحمدولدنورمحمدقوم ڈھڈی جس کاشناختی کارڈ نمبر 31203-8227723-1 ہے یہ انتہائی سادہ ان پڑھ دماغی طورپربھی مریض آدمی ہے یہ بھول کرکہیں تحصیل فورٹ عباس کے بارڈرلائن کے قریب چلاگیابھارتی فوج نے اس کوپکڑکربھارتی جیل میں رکھاہواہے ۔بھارتی فوج انتہائی ظالم ہے، ہمارے ذہنی معذورلوگ کوبھی جاسوس دہشت گردسمجھ کر تشدد کرتے رہتے ہیں ۔یہ ہماری پاک افواج کااعلیٰ ظرف ہے کہ دشمن فوج کاکمانڈرابھی نندن کوبھی پکڑکرتشددکی بجائے چائے پیش کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں منظوراحمدجوکہ بھارت کی جیل میں بندہے اس کا بیٹا ظہوراحمدجس کاموبائل نمبر 03016625389ہے مجھے آکرملاپھوٹ پھوٹ کر رونے لگاکہ میں انتہائی غریب آدمی ہوں میرے پاس تولاہورجانے کاکرایہ بھی نہیں ہے میںانڈیاسے اپنے بوڑھے مریض والدکوکیسے چھڑوا سکتاہوں میری آوازاعلیٰ حکام تک پہنچاﺅ۔میں نے اس کوحال وبے حال یاروبے مددگاردیکھ کروزارت خارجہ کوخط بھی لکھے ہیں اب بھی میں اپنے کالم کے ذریعہ وزیراعظم عمران خان اوروزیرخارجہ شاہ محمودقریشی اور پاکستان کے تمام اعلیٰ حکام سے اپیل کرتاہوں کہ ظہور احمدکے والدنورمحمدکوبھارت کی جیل سے آزاد کروایاجائے اورخاص طورپرجناب ضیا شاہدسے بھی اپیل کرتاہوں کہ آپ نے ہمیشہ ہرفورم پرمظلوم کی آواز کو اعلیٰ حکام تک پہنچایاہے باہرکے ممالک میں جوپاکستانی قیدکاٹ رہے ہیں ان کے لئے بھی آوازاٹھائیں حکومت پاکستان کی توجہ اس طرف دلوائیں تاکہ بے گناہ پاکستانی باہرکے ملکوں اورخاص طورپربھارت سے رہاکروائیں تاکہ یہ لوگ پاکستان میں اپنے پیاروں کے ساتھ زندگی گزارسکیں۔
(کالم نگارچیئر مین تحریک بحالی صوبہ بہاولپور ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved