تازہ تر ین

14 اگست‘اسلام آباد لاک ڈاون

کامران گورائیہ
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی کوششوں سے تقریباً تمام سیاسی قوتوں اوراپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کی تاریخ کا اعلان کیا چکا ہے جس میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی جیسی بڑی جماعتیں بھی شامل ہیں۔ مولانا فضل الرحمن تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اے پی سی میں شرکت کے لیے آماہ کر چکے ہیں حتیٰ کہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی اتحادی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کو بھی اے پی سی میں شریک ہونے کی دعوت دی ہے جسے قبول بھی کر لیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن بظاہر ملک کو درپیش سنگین معاشی بحران کا جواز بنا کر اے پی سی بلانے کا ارادہ کیے ہوئے ہیں لیکن بعض حلقوں کا مو¿قف یہ بھی ہے کہ مولانا کو ملک کی ان نادیدہ قوتوں کی حمایت حاصل ہو چکی ہے جو ہمیشہ سے پاکستان میں حکومت سازی کے لیے فیصلہ ساز اہمیت کی حامل رہی ہیں۔ ایک اور خاص بات اس اے پی سی کی یہ بھی ہوگی کہ مولانا فضل الرحمن اے پی سی میں شامل تمام اپوزیشن جماعتوں کو عمران خان حکومت کے خلاف 14 اگست کو اسلام آباد میں ایک ایسی احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ منوانے پر قائل کر یں گے جو بعد ازاں لاک ڈاو¿ن کی صورت اختیار کرے۔ یہاں پر یہ باور کرانا بے حد ضروری ہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے دور حکومت میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی 14اگست 2014ءمیں اسلام آباد سے اپنی احتجاجی تحریک شروع کی تھی جس میں ان کا ساتھ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کی جماعت اور ان کے کارکنان نے بھی بھرپور انداز سے دیا تھا ۔لیکن سوچنا یہ بھی تو ہوگا کہ تب کے حالات اور موجود حالات میں کیا فرق،کیا مماثلت ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ عمران خان کو نادیدہ قوتوں کی پشت پناہی حاصل تھی جبکہ مولانا فضل الرحمن صرف عمران خان کی مخالفت میں احتجاجی تحریک شروع کر رہے ہیں اور انہیں ملک کی فیصلہ ساز قوتوں کی سرپرستی حاصل نہیں ہے۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ عمران خان کے اسلام آباد میں دیئے گئے دھرنوں اور مولانا فضل الرحمن کی احتجاجی تحریک کے سپانسرز کون تھے لیکن بہت سی چیزیں اب بھی واضح ہو چکی ہیں جو آئندہ دونوں میں خود بخود آشکار ہو جائیں گی اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ سردست پاکستان کا بنیادی مسئلہ ہچکولے کھاتی اور ڈگمگاتی معیشت ہے جس پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن حکومت کو میثاق معیشت کی پیشکش بھی کر چکی ہے جبکہ حکومت نے بھی اس پیش کش کا خیر مقدم کیا ہے۔ قوی امکان ہے کہ آئندہ چند دنوں میں حکومت اور اپوزیشن نمائندوں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی جائے گی جو میثاق معیشت کے لیے مشاورت کرتے ہوئے فیصلہ سازی کرے گی تا کہ ملک کو بدترین معاشی بحران کی دلدل سے باہر نکالا جا سکے۔
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ ہم پورے ملک میں ملین مارچ کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ان کا کہنا تھا ایک کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے جو اسلام آباد کو لاک ڈاﺅن کرنے کے لیے طریقہ کار وضع کرے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ معاشی پالیسیاں ریاست کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہیں، ہم اس وقت پاکستان کو بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں، اگر ہم مصلحت شکار ہوئے تو مقصد میں کامیاب نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد میں نے جو مشورے دیئے تھے وہ صحیح تھے، میں نے کہا تھا انتخابات کے بعد حلف نہ اٹھائیں۔ان کا کہنا تھا کہ کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کی کوششوں کو ہماری مجلس شوریٰ نے سراہا ہے، حزب اختلاف کی تمام سیاسی جماعتوں سے روابط بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے گزشتہ اٹھارہ سال کے بیانیے کو شوریٰ نے فرسودہ قرار دیا ہے، عالمی مارکیٹ میں مذہبی فکر کو بیچا گیا۔فضل الرحمان کے مطابق ان کی جماعت جعلی مینڈیٹ پر کسی کے حق حکمرانی کو تسلیم نہیں کرتی، قوم کو از سر نو نئی حکومت کا انتخاب کرنا ہو گا۔پاکستان تحریک انصاف حکومت کی معاشی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تباہ کن اقتصادی پالیسیوں کے ذریعے غریب انسان کو مشکل میں مبتلا کردیا گیا،مہنگائی کا جن بے قابو ہوکر غریبوں کونگل رہا ہے،آئے روز کسی نہ کسی چیز کی قیمت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے حکومت آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر مکمل طور پر عمل کرکے اپنے بیرونی آقاو¿ں کو خوش کرنے میں مصروف ہے جبکہ دوسری طرف عوام دو وقت کی روٹی کے لئے ترس رہی ہے۔ نااہل حکمرانوں نے بجٹ پیش کر کے غریب کی کمر توڑ دی ہے، یہ بجٹ پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنے کا ذریعہ ہے۔مہنگائی اور بیروزگاری میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ملک کا کوئی ایسا طبقہ نہیں ہے جس نے بجٹ کو متاثر نہ کیا ہو۔بجٹ منظور بھی نہیں ہوا لیکن ہر چیز کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔
دوسری طرف پاکستان کی موجودہ صورت حال کوئی اتنی پرسکون نہیں ہے۔حکومت ایسے فیصلے کررہی ہے جس سے دنیا بھر میں ہماری جگ ہنسائی ہورہی ہے۔حالت یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن نے مل کر مصر کے صدر جنرل عبدالفتح السیسی اور اس کے تمام عالمی سر پرستوں کی مذمت کر دی۔ اس قرار داد کی منظوری سے اگلے دن امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی پاکستان کے دورے پر تشریف لائے تو انہیں 21توپوں کی سلامی دی گئی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اتفاق سے پاکستان میں نہیں تھے، وہ برطانیہ میں تھے لیکن پاکستان کے صدر عارف علوی اور وزیراعظم عمران خان نے امیرِ قطر کی جو عزت افزائی کی وہ سینیٹ کی قرارداد کی طرح بہت غیر معمولی تھی کیونکہ امیرِ قطر دنیا کے ان چند حکمرانوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے کی مذمت کی، انہوں نے محمد مرسی کے ساتھیوں کو قطر میں پناہ دی جس پر ایک عرب ملک نے اعتراض کیا۔ امیرِ قطر نے محمد مرسی کی موت پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار بھی کیا۔ امیرِ قطر اور نواز شریف کے خاندان میں دوستانہ تعلقات بھی ڈھکے چھپے نہیں۔ انہی دوستانہ تعلقات کی وجہ سے کچھ عرب ممالک نواز شریف سے دور ہو گئے تھے کیونکہ قطر کو ایران کا خاموش اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ امیرِ قطر کی پاکستان میں عزت افزائی پر کئی عرب دارالحکومتوں میں پیشانیوں پر بل پڑ چکے ہیں اور خارجہ محاذ پر پاکستان کے لئے کئی نئی پریشانیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس صورتحال میں وزیراعظم عمران خان کو داخلی استحکام کی ضرورت ہے لیکن وہ داخلی استحکام کے تقاضوں سے بے خبر نظر آتے ہیں۔ کوئی بھی ذی شعور اس امر کی تردید نہیں کر سکتا کہ حکومت اور اپوزیشن میں میثاق معیشت کا کسی ایک پارٹی یا افراد کو نہیں پورے ملک کو فائدہ ہے لیکن تحریک انصاف کی قیادت نے میثاق معیشت کی تجویز کو این آر او کی کوشش قرار دیا لیکن میثاق معیشت ہونا چاہئے ۔ موجودہ صورتحال میں حکومت نے ایک ہی وقت میں کئی محاذ کھولے ہوئے لیکن اسے کہیں بھی کامیابی ملتی دکھائی نہیں دے رہی اور نہ مستقبل قریب میں اس کا کوئی امکان ہے۔
ایسا لگ رہا ہے کہ پاکستان کی سیاست میں ایک نئی جنگ شروع ہوچکی ہے۔ سابق وزیراعظم اور سابق صد ایک دفعہ پھر جیل میں ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں یہ لڑائی پارلیمنٹ سے باہر لڑنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں اور مولانا فضل الرحمن کو اپنا سپہ سالار مقرر کر چکی ہیں۔ اندر کی خبر یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے مولانا صاحب سے رابطہ کیا ہے تاکہ انہیں مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی سے علیحدہ کیا جائے لیکن مولانا صاحب جانتے ہیں کہ ان کی سیاسی بقا مفاہمت میں نہیں مزاحمت میں ہے۔ عمران خان نے مفاہمت کو این آر او کا نام بنا دیا ہے کیونکہ انہیں ہر معاملے میں اپنی بات منوانے کی عادت ہے لیکن ان کی یہ عادت عوام کے ساتھ ساتھ سیاستدانوں کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔ عمران خان کے خلاف سیاسی سٹیج سجانے کی تیاریاں عروج ہیں اور دور دور تک مفاہمت کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔اس بار یوم آزادی عوام کے لئے خوشیاں لے کر آرہا ہے یا مزید پریشانیاں۔اس راز سے بھی جلد پردہ اٹھ جائے گا۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved