تازہ تر ین

تبادلہ ”تحائف“ کا عالمی موسم

عارف بہار ….مہمان کالم
عالمی بساط سیاست پر محض چالیں چلی جا رہی ہیں یا واقعی خوش خبریوں کا موسم آکر ٹھیرنے کو ہے کچھ نہ کچھ نیا اور مختلف بہرطور ہورہا ہے۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں خوش گوار ہوائیں چلنے کے آثار ہویدا ہیں۔ رواں ماہ عمران خان ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر امریکا جارہے ہیں اور یہ کم وبیش چار دن پر محیط دورہ ہوگا ۔ اس دورے سے پہلے امریکا کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے بلوچستان میں سرگرم عمل علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرگنائزیشن کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ امریکا اور ناٹو کے زیر اثر افغانستان کو یہ تنظیم اپنے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرتی رہی اور کابل کے صدارتی محل کے قریب ہی براہمداغ بگٹی اور حیربیار مری کی رہائش گاہوں کا ہونا پس پردہ کھیل کا پتا دیتا تھا۔ پاکستان نے افغان حکومت اور امریکا پر دباﺅ بڑھایا تو دونوں شدت پسند لیڈر یورپ سدھار گئے۔ یہ بات واضح ہوگئی تھی کہ بلوچ علیحدگی پسندوں کو چین اور پاکستان کی مخالفت میں امریکا، بھارت اور افغان حکومت بلکہ کئی یورپی ملکوں کی حمایت حاصل ہے۔ افغانستان سے یورپ تک اڑانیں بھرنا، جنیوا اور نیویارک کے عالمی ایوانوں میں چہل قدمی کرنا اس بات کا ایک اور ثبوت تھا۔
امریکا بلوچستان میں گوادر کی بندرگاہ اور وہاں چین کے عمل دخل سے قطعی ناخوش تھا اور اس نے اپنی ناپسندیدگی کو کبھی چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ بھارت کا دکھ بھی اس کرب میں شامل ہوگیا اور علاقے کے کچھ دوسرے ممالک کے غموں نے نشے کو دوآتشہ کردیا تھا۔ پاکستان نے دنیا بھر میں بلوچستان میں را اور این ڈی ایس سمیت کئی خفیہ اداروں کی مداخلت کے ثبوت ڈوزیر کی صورت تقسیم کیے اور کلبھوشن یادیو کی صورت میں زندہ ثبوت پکڑ کر دنیا کے سامنے پیش کیا مگر کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ اب امریکا کو افغانستان میں پاکستان کی ضرورت درپیش ہے۔ پاکستان نے طالبان کو امریکیوں کے سامنے لابٹھایا ہے۔ عین اس دوران عمران خان کا دورہ امریکا بھی آن پڑا ہے تو امریکا نے بلوچستان میں علیحدگی پسندی کی سب سے بڑی علامت بی ایل اے کو وقت اور حالات کے دھارے کے رحم وکرم پر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا اگر عمران خان کے دورہ امریکا سے پہلے پیش کیا جانے والا تحفہ ہے تو حافظ سعید پر قید وبند اور مقدمات کا نیا سلسلہ جوابی تحفے سے کم نہیں۔ عین ممکن نے عالمی عدالت انصاف کلبھوشن یادیو کے مقدمے میں فیصلہ اس کے حق میں سنادے تو یہ بھارت کے لیے ایک خوش خبری اور تحفہ ہوگا۔ ریاستوں کی ضرورتیں وقت اور حالات کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں ۔ اس سارے عمل میں سارے فریق ”اسٹرٹیجک ڈیپتھ“ تلاش کی آدھی خواہشات کو ترک کرنے پر آمادہ ہوں تو جنگ وجدل کے موجودہ ماحول میں تبدیلی آسکتی ہے۔ وگرنہ وقتی تحائف کے تبادلوں سے حقیقی تبدیلی خواہش عبث ہے۔
(بشکریہ:روزنامہ جسارت)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved