تازہ تر ین

نئی چالیں!

افتخار خان ….اظہار خیال
یہ امیر ملکوں کی سازش ہے کیا تیل کی قیمت فکس (Fix)نہیں کی جاسکتیں۔ کون سی انہونی مصیبتیں قیمتیں بڑھانے پر مجبور کرتی ہیں۔ ذرا غور کریں تیل کی فی بیرل قیمت 40 ڈالر سے بڑھ کر 140 ڈالر کے درمیان گردش کر رہی ہے۔ یہ کچھ نہیں بلکہ صرف اور صرف غریب ملکوں کو اور غریب کرنے کی امیر ملکو ں کی سازش ہے۔
آپ ذرا غور کریں آج کل ساری دنیا میں Recession چل رہی ہے۔ دوکاندار سیل پرائز کو Upto 75% تک کم کر کے گذارا کر رہے ہیں۔ امریکہ جیسے ملک میں غربت بڑھ رہی ہے۔ Hawks اپنی دولت کو کئی گنا کرنے کے لیے اپنے ہی ملکوں کو تباہ کررہے ہیں۔ امن کی باتیں کرنے والے ملک امن کا شاید مطلب نہیں جانتے۔ آج کل دنیا میں انتہائی گندی سیاست چل رہی ہے۔ اس کو ہرصورت روکنا ہوگا۔ کیا غریب ملک اس کو روک سکتے ہیں۔ خیال رہے غریب ممالک کثرت میں ہیں اور ہم ان امیر ملکوں کو سبق سکھا سکتے ہیں۔ UNO کا ادارہ ہے اس کے ہم سب ممبر ہیں وہاں آواز بلند کی جاسکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے غریب ملکوں کو اپنے اندر کے ڈر کو دور کرنا ہوگا۔ دوسرے نمبر پر جو مسلمان ممالک میں تیل وافر ہے ان کو سمجھایا جاسکتا ہے۔ عیسائی قوم تو مسلمانوں کے خلاف کام کرتی ہے لیکن مسلمانوں کو عقل کرنی چاہیے۔ جس ملک میں تیل اور گیس نکل آتی ہے اس کی گردن میں سریا ڈھل جاتا ہے اور وہ اپنے آپ کو دوسری غریب دنیا سے اعلیٰ سمجھنا شروع کردیتا ہے۔ خیال رہے کہ دنیا میں ایک سپر پاور بھی ہے اوردنیا کا مال لوٹنا اس کی عادت ہے۔ جس ملک میں جو بھی کار آمد چیز پائی جاتی ہے یہ سپر پاور اس کو فتح کرنا اپنا حق سمجھتی ہے تاکہ اس کی دولت پر قبضہ کیا جائے۔ ایران اور وینزویلا کے حکمرانوں نے امریکہ کی بات نہیں مانی وہاں روز نئی پابندیاں لگتی رہتی ہیں اور حقیقتاً حالت جنگ میں ہیں۔ اب روس اور چین کے حکمران کوشش کر رہے ہیں کہ امریکہ کی Superiorty کو توڑا جائے۔
یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں نے تیل کی قیمت کے اتار چڑھاو¿ کے اثر کو کم کرنے کے لیے تیل اپنے ملکوں میں ڈھونڈ لیا ہے۔ امریکہ ، روس، انگلینڈ کے پاس اب اتنا تیل ہے کہ ان ممالک کو تیل دوسرے ملکوں سے لینے کی ضرورت نہیں رہی۔ اب یہ ممالک تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاو¿ کو غریب ملکوں کی مالی حالت کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
ایک اور بری عادت جو Developed ملکوں میں آج کل عام ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ مثلاً امریکہ میں 9/11 کا واقعہ ہوا ہے وہ انہوں نے خود ہی کروایا تاکہ بغداد اور افغانستان کو فتح کیا جائے۔ یہ بات کہاں تک سچ ہے کچھ نہیں کہا جاسکتا میرے پاس اس کا کوئی ثبوت تو نہیں۔ اسی طرح انڈیا نے اپنی اسمبلی پر حملہ کروایا اور نام پاکستان کا لگا دیا۔ انڈیا کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان پر دہشت گردی کے الزام کو اور تقویت دی جاسکے۔ کل کی بات ہے کہ امریکن ڈپٹی منسٹر لیڈی نے پاکستان میں ہمارے لیڈروں کو سامنے بٹھا کر بیان دیا کہ امریکہ کے علم میں ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ افغانستان کا علاقہ پاکستان کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔ دراصل امریکہ انڈیا سے مل کر خود افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا ہے۔
حقیقت میں افغانستان میں جتنے صوبے ہیں وہاں وار لارڈز نے اپنی اپنی فوج بنائی ہوئی ہے جن کی وار لارڈز خوب آو¿ بھگت کرتے ہیں اور پھر ان سے دہشت گردی کرواتے ہیں۔ انڈیا، امریکہ، اسرائیل جب کوئی دھماکہ پاکستان میں کروانا چاہتے ہیں تو وہ وار لارڈز سے بات کرتے ہیں اور ایک کثیر رقم ان کو دیتے ہیں اور کام ہوجاتا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ پاکستان میں لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کی بس پر فائرنگ ہوئی تھی۔ یہ کام انڈیا کا تھا کیونکہ انڈیا ہر صورت میں وہ تمام کام کر رہا تھا جس سے پاکستان پر دہشت گرد ہونے کا ٹھپہ پکا ہوجائے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ پاکستانی عوام سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ کریں۔
یہ قصے جو میں نے بیان کیے ہیں یہ ہمارے خطے میں ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ امیر ملکوں نے ساری دنیا میں ایسا ہی گند پھیلایا ہوا ہے۔ میری ناقص رائے میں یہ کالے گورے کے درمیان جنگ کا آغاز ہے۔ کالوں میںگندمی اور پیلے لوگ شامل ہیں۔ یہ ایک تباہ کن جنگ ہوگی۔
امریکہ آج کل نئی چال چل رہا ہے ، جس ملک کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے اس کی کرنسی کو نقصان پہنچانے کے لیے امریکہ ڈالر استعمال کرتا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا امریکہ نے ترکی کی کرنسی پر حملہ کر کے اس کو کافی نقصان پہنچایا تھا۔ آج کل پاکستان کی کرنسی اسی طرح اوپر نیچے ہو رہی ہے حالانکہ پاکستان کچھ نہیں کر رہا ہے۔ ہمارا دشمن ڈالر کو پاکستان سے کھینچ لیتا ہے جس سے ڈالر کی Shortage ہوجاتی ہے اور پاک کرنسی نیچے گر جاتی ہے۔ اس کا حل تو بہت آسان ہے کہ پاکستان میں ڈالر کی Shortage کو فوراً ٹھیک کیا جائے۔ پاکستان خود ڈالر مارکیٹ میں پھینکے جس سے مسئلہ وقتی طور پر حل ہوجائے گا۔ لیکن اس وقت پاکستان کے پاس ڈالر ہی تو نہیں ہیں اس لیے ہمارا دشمن فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ہمارے دشمنوں میں ہمارے ملک کے لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے پاکستان کا پیسہ لوٹ کر باہر کے ملکوں میں منتقل کر دیا ہوا ہے وہ لوگ بھی آج کل بڑے Active ہیں۔ ہمارے ملک کے سیاست دان جو تین دہائیوں سے حکومت کر رہے ہیں انہوں نے ملک سے پیسہ لوٹا ہے اور باہر کے ممالک میں منتقل کر دیا ہے۔ اب ان سے جب تفتیش ہو رہی ہے تو وہ چیخ رہے ہیں اور موجودہ حکومت کو ختم کرنے کے لیے ہر وہ کام کر رہے ہیں جس سے ملک کو نقصان ہو۔ مارکیٹ سے ڈالر غائب کرنے میں بھی ان کا ہی ہاتھ ہے۔ اینکرز اور ٹاک شوز میں حصہ لینے والے بھی بعض افراد ان سے مل گئے ہوئے ہیں۔ ہمارے لیڈرز جو سپر پاور کے پٹھو تھے اب ان کی نہیں چلتی لہٰذا وہ چیخ رہے ہیں۔ حکومت کو اب عقل کرنا ہوگی اور ہوشمندی کے ساتھ فیصلے کرنا ہوں گے۔
(کالم نگارقومی وسماجی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved