تازہ تر ین

ایک بزرگ کا پیغام ۔ضیاشاہد کے نام

لقمان اسد….دریا کنارے
وطن عزیز کے تمام نشیبی علاقے مختلف گھمبیر مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔حکومت کی خصوصی توجہ کے منتظر نشیبی علاقوں میں بسنے والے افراد شہری آبادی کے مقابلے میں سہولیات کے فقدان کے باعث دوگنی اور کٹھن محنت کر کے زیست کے شام و سحر بسر کرتے ہیں۔ بڑا المیہ یہ ہے علاقہ نشیب کبھی مقامی انتظامیہ ، عوامی نمائندوں اور حکومتوں کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا۔ ملک کی کثیر آبادی کے لیے مختلف اناج اور سبزیاں مہیا کرنے والے نشیبی علاقہ کے مکینوں کی زندگی کب بدلے گی ، کس دور میں کون سی حکومت ان بے بس و لاچار لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے حتمی اقدامات اٹھائے گی ؟بر س ہا برس سے امیدوں کے روشن دیے اپنے ہاتھوں میں اٹھا کر زندگی کا سفر طے کرنے والے،وطن کی محبت کا دم بھرنے والے یہ غمناک چہرے اپنے حالات ، معمولات زندگی بدلنے اور اپنے خوابوں کے شرمندہ تعبیر ہونے کے شدت سے متمنی اور بے تابی کے ساتھ ابھی تک منتظر ہیں۔
ممتاز دانشور اور نامورصحافی جناب ضیا شاہد صاحب نے ہمیشہ محکوم ، مجبور ، پسے ہوئے اور افلاس زدہ طبقات کے حقوق کےلیے آواز بلند کی ۔وطن عزیز کا ہر ذی شعور شہری اور سیاست و صحافت اور علم و ادب سے دلچسپی رکھنے والا ہر پڑھا لکھا شخص بخوبی سمجھتااور جانتا ہے کے روز نامہ” خبریں“ نے روایتی صحافت سے ہٹ کر اپنی مقبولیت کا الگ معیار قائم کیایقیناصحافتی سطح پر اس عہد ِ پر آ شوب میں ”روز نامہ خبریں“ اور” چینل فائیو“ کے پلیٹ فارم سے عام آدمی کے دیرینہ مسائل کے عملی حل کے لیے تاریخ ساز کردار ادا کیا جا رہا ہے۔ جناب ضیا شاہد صاحب کے اس پُر خلوص جذبے ،لگن اور اس حوالے سے جہد ِ مسلسل پر انہیں سلام تحسین پیش کرنا ضروری ہے، ساتھ ہی ان کی خدمت میں عرض ہے کہ وہ نشیبی علاقہ کے ان مذکورہ بڑے مسائل پر خصوصی توجہ فرمائیں۔ ضلع بھکر میں نوانی برادران نے ضلع بھکر کی شہر ی آبادی کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ دیہی اور نشیبی آبادی کو دریائی کٹاﺅ سے محفوظ کرنے کے لیے مختلف جگہوں پر سپر بند تعمیر کرائے ان کے ان اقدامات کی وجہ سے اب وہاں دریا کے کٹاﺅ کے امکانات بہت حد تک کم ہو گئے ہیں جبکہ ضلع لیہ میں دریائے سند ھ کے کٹا ﺅ کے سبب نشیبی علاقہ کے لوگوں کی زندگی ایک طویل مدت سے اجیرن ہے لیکن عوامی نمائندوں ، مقامی انتظامیہ ، صوبہ اور وفاق کی حکومت کی طرف سے کبھی عملی اقدامات سامنے نہ آ سکے اوربدستور دریائی کٹاﺅ تسلسل کے ساتھ لوگوں کو بے گھر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی کمائی کا واحد ذریعہ زرخیز اور آباد زرعی زمینوں سے انہیں محروم کر رہا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتہ میں تحصیل کروڑ سے لے کر تحصیل لیہ کی دریائی پٹی کے نشیبی علاقوں کا میں نے وزٹ کیا تو بہت سے ایسے مسائل سامنے آئے جو فوری طور پر حل طلب ہیں دریا برد ہو کر نقل مکانی کرنے والے افراد کو سر چھپانے کی جگہ تک میسر نہیں جس کی وجہ سے وہ بہت تکلیف اور اذیت سے گزر رہے ہیں۔ کروڑ لعل عیسن کے نشیبی علاقہ موضع واڑہ سیہڑاں اور چاہ ممدوٹوٹن والا کے مقام پر جب ہم پہنچے توادھر ہر طرف آہ و بکا تھی اور قیامت خیز منظر تھا لوگ اپنی مدد آپ کے تحت اپنے قیمتی درخت کاٹنے اور ٹریکٹر ٹرالیوں پر گھروں کا ملبہ اٹھانے میں مصروف تھے ان لوگوں کی ہمت اور حوصلے کی داد دینا پڑتی ہے۔ ہم سے وہاں پہ کھڑے ہو کر یہ دلدوزاور کربناک مناظردیکھنے کا حوصلہ نہیں تھا جبکہ وہ لوگ اپنے ہاتھوں سے اپنے گھروں کا ملبہ اٹھا رہے تھے اور اپنی آنکھوں کے سامنے سر سبز و شاداب فصلات سے کسی نوخیز دولہن کی طرح سجی اپنی سونا اگلتی زمینوں کو دریا کا نوالہ بنتا دیکھ رہے تھے ۔ اداسیوں کے شاعر آنس معین بلے نے کہا تھا
عجب انداز سے یہ گھر گرا ہے
میرا ہی ملبہ میرے اوپر گرا ہے
خوشبوﺅ ں کی شاعرہ محترمہ پروین شاکرنے کہا
گھر کے مٹنے کا غم تو ہوتا ہے
اپنے ملبے پہ کون سوتا ہے
کچھ ایسی ہی تکلیف دہ صورت حال سے یہاں کے مکیں گزر رہے تھے۔ وزیر اعظم عمران خان نے سرائیکی وسیب سے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا انتخاب کیا تو نشیبی علاقہ کے لوگوں نے دلی مسرت کا اظہار کیا لیکن نشیبی علاقہ کے اس سات دن کے مسلسل سفر اور وزٹ کے دوران کوئی ایک شخص بھی ایسا نہ ملا جس نے ان کی کارگردگی کو بھرپور انداز میں سراہا ہو۔ایک ضعیف العمر بزرگ چاچا رمضان کو جب میں نے روز نامہ خبریں اور جناب ضیا شاہد صاحب کے حوالے سے بتایا تو بزرگ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور گویا ہوئے ضیا شاہد صاحب ہمارے محسن ہیں انکی خدمت میں میرا سلام کہیں اور انہیں میرا یہ پیغام پہنچائیں کہ کبھی ہمارے پاس آ کر ہماری حالتِ زار تو دیکھےں،ہمارے ہنستے بستے گھر اجڑ چکے ہیں ،مال مویشی کا چارہ اور بچوں کی دوا لینے کی سکت اب ہم میں نہیں ہے ، حکمرانوں نے تو ہماری کوئی نہیں سنی آپ ہی ہمارے لیے حسب ِ سابق مسیحا کا کردار ادا کریں۔ یہ بیٹ گُجی دَبلی کا علاقہ تھا ہم ایف نارتھ بند پر دریا کنارے کھڑے تھے میں نے بزرگ کو گلے لگایا اور اسے دلاسہ دیتے ہوئے کہا میں آپ کا پیغام جناب ضیا شاہد صاحب کی خدمت میں مکمل دیانتداری اور پوری ذمہ داری کے ساتھ پہنچا دوں گا اور انشاءاللہ وہ آپکے مسائل کے حل کےلئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ایک نوجوان اصغر سٹھار جو میٹرک کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کر چکا ہے افسردہ ہو کر بتانے لگا ان پریشانیوں کی وجہ سے تعلیم کا سلسلہ منقطع ہو چکا ہے حکومت نے کبھی ہمارے لیے کچھ نہیں کیا نہ سر چھپانے کے لیے کوئی متبادل جگہ فراہم کی ہم عارضی طور پر کسی جنگ زدہ اور آفت زدہ ملک سے نکالے ہوئے مہاجرین اور پناہ گزینوں کی طرح زندگی کے شب وروز ادھر کاٹ رہے ہیں ہمارے بزرگوں کی طرح ہماری زندگیاں بھی شاید کبھی بدل نہ سکےں اور ہمارے خواب بھی یوں ہی شاید سسک، سسک کر مر جائیں اور بن کھلے مرجھا جائیں !
(کالم نگارسیاسی و قومی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved