تازہ تر ین

آئندہ ماہ بجلی مزید مہنگی ، نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم پر پابندی

کراچی، واشنگٹن(این این آئی، آن لائن) پاکستان اگلے ماہ سے بجلی بلوں میں مزید اضافہ کرے گا، انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف)کی رپورٹ میں نئے انکشاف سامنے آگئے آئی ایم ایف کی اسٹاف سطح کی اس رپورٹ میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کے 516ارب روپے کے ٹیکسوں کے نفاذ کے دعوے کے برعکس، ٹیکسوں کا اصل تخمینہ ریکارڈ 733ارب 50کروڑ روپے ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 16مئی سے پاکستان اوپن ایکسچینج ریٹ لاگو کر رکھا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اس حقیقت کا برملا اظہار نہیں کر پارہا ۔39ماہ کے6 ارب ڈالر پیکیج کے تحت کوئی نئی ٹیکس ایمسنٹی اسکیم متعارف کرانے پر بھی مستقل پابندی ہو گی۔پاکستان حالیہ جنرل سیلز ٹیکس کی جگہ پر ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے نفاذ کا بھی پابند ہے۔آئی ایم ایف نے اسٹاف سطح کی یہ رپورٹ ایگزیکٹو بورڈ کی پاکستان کو6ارب ڈالر کی منظوری کے 5روز بعد جاری کی ہے۔آئی ایم ایف شرائط کے نفاذ کو کارکردگی کی بنیاد پر مانیٹر کرے گی۔جن میں سے ایک یہ ہے کہ ایف بی آر کو ستمبر کے آخر تک 1.071ٹریلین روپے ٹیکسوں کی مد میں جمع کرنے ہوں گے تاکہ یوں ایف بی آر اگلے سال جون تک 5.503 ٹریلین سالانہ ہدف کو حاصل کرسکے۔آئی ایم ایف کے مطابق ایف اے ٹی ایف کی سفارشات کے تحت پاکستان منی لانڈرنگ اور دہشت گردی میں مالی معاونت کی روک تھام کے لیے خاطر خواہ اقدامات کرے۔رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرط پرصارفین سے اضافی آمدن کی مد میں 150ارب روپے وصول کرنے کیلئے جولائی سے بجلی کی قیمتوں میں 11فیصد اضافہ کیا گیا۔دوسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ اگست کے آخر سے پہلے نافذ ہو جائے گی۔آئی ایم ایف کی ایک اور شرط کے مطابق حکومت سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دسمبر کے آخر تک پارلیمنٹ میں ترمیمی نیپرا ایکٹ لانے کی پابند ہو گی ۔عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو منظور شدہ 6 ارب ڈالرقرض کی پہلی قسط جاری کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے ہماری مشاورت سے مالی سال کا بجٹ تیار کیا اور پارلیمنٹ سے بھی منظور کروا دیا۔آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کے ساتھ قرض کےمعاہدے کے حوالے سے 96 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے تمام یقین دہانیوں پر عمل درآمد کیا اور پروگرام شروع ہونے سے قبل گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا وعدہ پورا کیا۔آئی ایم ایف نے اعتراف کیا ہے کہ حکومت پاکستان نے مالی سال 2019-20 کا بجٹ آئی ایم ایف کی مشاورت سے تیار کیا اور پارلیمنٹ سے منظور کروایا۔ مےڈےا رپورٹ کے مطابق پاکستان نے یقین دہائی کروائی ہے کہ بجلی اور گیس کی مکمل لاگت صارفین سے وصول کی جائے گی اور پیٹرولیم مصنوعات پرجی ایس ٹی17فیصد سےکم نہیں کیا جائے گا۔نئے ٹیکسوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے یقین دہائی کروائی ہے کہ کوئی نئے ٹیکس کی چھوٹ نہیں دی جائےگی۔آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں کی نج کاری، بجلی اور گیس کی قیمتوں پر سہ ماہی بنیادوں پرنظرثانی کی بھی یقین دہانی کروائی گئی اس کے علاوہ پی آئی اے اور اسٹیل ملز کا بین الاقوامی فرم سےآڈٹ کرایا جائے گا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے ایکسچینج ریٹ مارکیٹ پر مبنی کردیا ہے اور اسٹیٹ بینک کے حوالے سے نئی ترامیم کرانے کی یقین دہانی کروائی ہے۔آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اےٹی ایف) کے ایکشن پلان پرمکمل عمل در آمد کیا جائے گا اور منی لانڈرنگ کو سنگیں جرم قرار دیا جائے گا اور اینٹی منی لانڈرنگ فریم ورک کو مو¿ثر بنایا جائے گا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مشن چیف برائے پاکستان ارنسٹو رمیزار رینگو نے اسلام آباد کو قرض کی پہلی قسط چند گھنٹوں میں جاری ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ معیشت میں ٹیکس کا حصہ 1.7 فیصد تک بڑھانا وقت کی ضرورت ہے۔واشنگٹن میں پریس کانفرنس کے دوران ارنسٹو رمیزو رینگو نے کہا کہ پاکستان کو ایک ارب ڈالر قرض کی پہلی قسط چند گھنٹوں میں مل جائےگی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے معاشی اصلاحات پر توجہ دی ہے اور قرض پروگرام کا مقصد معیشت اور اداروں کو مستحکم کرنا ہے۔پاکستان میں ڈالر کی قدر میں اضافے کو مثبت قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ڈالر کا ریٹ حقیقت کے قریب تر ہے۔آئی ایم ایف کے نمائندے نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس آمدن بڑھانا اور معاشی استحکام ضروری ہے اور اگر ٹیکس کا دائرہ کار بڑھے تو خسارہ کم ہوسکتا ہے اور معیشت میں ٹیکس کا حصہ 1.7 فی صد بڑھانا وقت کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کے استحکام کے کئی راستے کھولے گا جبکہ یورو بانڈ اور سکوک کے اجرا کا فیصلہ پاکستان کی حکومت کو کرنا ہے۔ارنسٹو رمیزو رینگو نے کہا کہ نجکاری سے نان ٹیکس آمدن بڑھے گی اور جب ٹیکس آمدن بڑھے گی تو معاشی ترقی بھی ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ 5 ہزار 5 سو ارب کا ٹیکس جمع کرنے کے لیے صوبوں کو بھی کردار ادا کرنا ہوگا، پاکستان کی وفاقی حکومت ٹیکس آمدن کا 57 فیصد صوبوں کو فراہم کرتی ہے، ٹیکس ہدف کے حصول کے لیے مرکز و صوبوں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے مشن چیف نے کہا کہ معاشی کارکردگی میں شفافیت کے لیے اسٹیٹ بینک کی خودمختاری ضروری ہے۔قبل ازیں ایک سنیئر عہدیدار نے ڈان کو آئی ایم ایف سے ملنے والے قرض کے حوالے سے کہا تھا کہ پاکستان کو مجموعی قرض سے صرف ایک ارب 65 کروڑ ڈالر ملیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو تین برس میں آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر ملیں گے لیکن پاکستان کو 4 ارب 35 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی رقم 23-2022 تک واپس بھی کرنا ہوگی۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved