تازہ تر ین

چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی ممکن ہے؟

زید حبیب….قلم آزمائی
پاکستان کی سیاست کے اندازواطوارسب سے نرالے اور انوکھے ہیں ، یہاں آج کے حریف کو حلیف جبکہ حلیف کو حریف بننے میں ذرا بھی دیر نہیں لگتی ہے۔ ہمارے ہاں سیاستدانوں کی خواہشات کا مرکز ومحور ہمیشہ اقتدار ہی رہا اور یہی وجہ ہے کہ وہ مختلف جماعتیں بدل بدل کر اپنی اس خواہش کی تسکین کا ساماں کرتے رہے ہےں۔ میں کسی کا نام لیے بغیر اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے یہی کہوں گا کہ یہاں کسی کو عام آدمی سے کوئی سروکار نہیں رہااور عام آدمی کی زندگی مسائل کا شکار رہی اور آج تک ہے۔ بلکہ آج توان کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی ناممکن ہوتا جا ریا ہے۔ میرے متعدد دوست جو کاروبار سے وابستہ ہیں وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ کاروباری طبقہ شدید گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہے ۔ ایسے حالات میں ہونا تو یہ چاہئے کہ حکومت ، اپوزیشن اور تمام ریاستی ادارے عوامی فلاح و بہبود کی خاطر اکٹھے ہوں اور ملکر ایسے اقدامات اٹھائیں جن سے عام آدمی کی مشکلات کم ہوں ۔ لیکن جیسا عرض کیا کہ یہاں کا اندازِ سیاست ہی منفرد ہے ، ایک طرف وزیراعظم اور حکومتی وزراءنے اپوزیشن کیلئے ”مولا جٹ“ سٹائل اپنا رکھا ہے تو دوسری طرف اپوزیشن بھی اپنی ”اناﺅں“ کی تسکین میں لگی ہوئی ہے کسی کو عوامی مسائل حل کرنے میں ذرہ برابر بھی دلچسپی نہیں ہے۔ اب آپ حالیہ مثال ہی دیکھ لیں اس وقت حکومت اور اپوزیشن میں چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کیلئے ”جوڑ“ پڑ چکا ہے ۔ اس معاملہ کا عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں لیکن ”انا کی جنگ“ ہے اب اس میں کون فاتح ہوتا ہے اس کا اندازہ تو چند روز میں ہو ہی جائیگا۔ چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کیلئے اپوزیشن جماعتوں نے صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی ہے۔ یہ قرارداد راجہ ظفر الحق، مشاہد اللہ، شیری رحمان اور دیگر ارکانِ سینیٹ نے منگل کو سینیٹ کے سیکریٹری کے پاس جمع کروائی۔ تحریکِ عدم اعتماد کی درخواست جمع کروانے کے لیے اس پر 26 ارکان کے دستخط درکار تھے جبکہ اپوزیشن کی درخواست پر 44 ارکان کے دستخط ہیں۔ چیئرمین سینیٹ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے قرارداد پر رائے شماری خفیہ ہو گی۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کی صورت میں نئے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے شیڈول جاری ہو گا اور یہ انتخاب بھی خفیہ رائے شماری سے ہی ہو گا۔
سینیٹ کے اندر اعدادوشمار کا معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے ، جب موجودہ چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہونا تھا تو پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنا وزن صادق سنجرانی کے پلڑے میں ڈال کر انہیں کامیاب کروایا تھا اور جب کچھ عرصہ قبل اسی قسم کی تحریک چلی تھی تب مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چند سینیٹرز نے صادق سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ دینے سے انکار کیا تھا۔اب بظاہر نمبرز گیم میں اپوزیشن کا پلڑا بھاری نظر آ رہا ہے لیکن پاکستانی سیاست میں کچھ کہنا آسان نہیں ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے کہ پس پردہ طاقتیں اس تحریک کو کامیاب نہ ہونے دیں۔ عین ممکن ہے کہ اس دن چند سینیٹرز” بیمار “پڑ جائیں یا کسی کو کوئی ”ضروری“ کام آن پڑے۔ چونکہ اس انتخاب میں خفیہ رائے شماری ہونا ہے اس لئے کسی پر بھی الزام نہیں لگایا جا سکتا کہ اس نے اپنی وفاداری تبدیل کی ہے ۔ اگر اپوزیشن اس عدم اعتماد کی تحریک کو کامیاب نہ کرا سکی تو یہ اس کی بہت بڑی ناکامی ہو گی اور کامیابی کی صورت میں حکومتی مسائل میں بے حد اضافہ ہو جائیگا۔
سینیٹ کے اراکین کی کل تعداد 104 ہے اور چیئرمین کی تبدیلی کے لیے 53 اراکین کے ووٹ درکار ہوں گے۔ اس وقت سینیٹ میں پارٹی پوزیشن کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ نواز، عوامی نیشنل پارٹی، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور حزبِ اختلاف کی دیگر جماعتوں کے ارکان کی کل تعداد 67 ہے جبکہ حکومتی اتحاد کے سینیٹرز کی تعداد صرف 36 ہے۔ سینیٹ میں پارٹی پوزیشن کے مطابق اس وقت 104 کے ایوان میں 103 ارکان ہیں۔ حلف نہ اٹھانے والے اسحاق ڈار کے بغیر مسلم لیگ ن کے پاس 30 سینیٹرز ہیں۔ ان میں سے 17 مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر جیتے تھے باقی 13 آزاد حیثیت سے جیتے ہوئے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس 21، نیشنل پارٹی کے پانچ، جمعیت علمائے اسلام ف اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے چار، چار، جماعت اسلامی کے ساتھ دو، اے این پی کا ایک سینیٹرز ہے۔ یوں سینیٹ میں اپوزیشن کے 67 سینیٹرز ہیں۔ حکمراں اتحاد میں پاکستان تحریک انصاف کے 14، سینیٹر صادق سنجرانی سمیت بلوچستان عوامی پارٹی کے آٹھ، ایم کیو ایم کے پانچ، فاٹا کے سات، مسلم لیگ فنکشنل اور بی این پی مینگل کا ایک ایک سینیٹر ہے۔ چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد لانے کا فیصلہ گذشتہ ماہ کی 26 تاریخ کو اسلام آباد میں جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی زیرِ صدارت ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے متفقہ طور پر کیا تھا۔ اس اجلاس میں چیئرمین سینیٹ کے عہدے کے لیے متبادل نام تجویز کرنے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جسے رہبر کمیٹی کا نام دیا گیا تھا۔ پانچ جولائی کو اس رہبر کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کے فیصلے کی توثیق کی گئی اور یہ بھی طے پایا تھا کہ نو جولائی کو چیئرمین کے خلاف قرارداد لائی جائے گی۔ اس اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کمیٹی کے کنوینر اکرم درانی نے بتایا تھا کہ 11 جولائی کو اپوزیشن کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے لیے اپنے امیدوار کے نام کا اعلان کیا جائے گا۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ سینیٹ کے موجودہ چیئرمین کو ہٹانے کے لیے کوشاں جماعتوں میں پیپلزپارٹی پیش پیش ہے جبکہ اسی کے شریک چیئرمین اور سابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری ان کے انتخاب کے معاملے میں بھی آگے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب اپوزیشن کی تمام جماعتیں پی پی پی کے سینیٹر میاں رضا ربانی کو چیئرمین بنانے کے لیے متفق تھیں لیکن ان کی اپنی ہی پارٹی کے رضا ربانی کو چھوڑ کر آصف علی زرداری کی منشا کے مطابق صادق سنجرانی کی حمایت کی تھی۔ پیپلز پارٹی کی حمایت کی وجہ سے ہی صادق سنجرانی مطلوبہ تعداد میں ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے اور وہ چیئرمین منتخب ہوئے۔اب اپوزیشن جماعتیں بظاہر چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کے معاملہ پر ایک نکتے پر متفق نظر آتی ہیںجبکہ حکومتی اتحاد اسے ناکام بنانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ، کچھ پس پردہ طاقتیں بھی اپنا کام دکھائیں گی ۔ اس لیے ”انا کی جنگ“ کون جیتتا ہے اس کا فیصلہ چند روز میں ہو جائیگا ۔ تاہم اس عدم اعتماد کی تحریک کا جو نتیجہ بھی نکلے اس کے ملکی سیاست کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
(کالم نگارقومی وسیاسی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved