تازہ تر ین

عالمی یوم آبادی اورپاکستان

احمد جمال نظامی….نقطہ نظر
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دنیا کی آبادی میں تیزی کے ساتھ اضافہ جاری ہے۔ مختلف ممالک میں آبادی کے تناسب میں اضافے کے ساتھ ساتھ انسانوں کے لئے وسائل بھی محدود ہوتے چلے جا رہے ہیں حالانکہ مختلف تحقیقات کے مطابق دنیا میں اب تک صرف جو معدنیات اور وسائل دریافت کئے گئے ہیں وہ کرہ ارض میں موجود وسائل اور معدنیات کا مختصر سا حصہ ہیں جبکہ ایک بہت بڑا حصہ ابھی اس کائنات میں پوشیدہ ہے جو انسان کی طرف سے دریافت کرنا باقی ہے۔ تاہم آبادی کے تناسب میں اضافے کی وجہ سے مختلف مسائل بھی جنم لے رہے ہیں خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں آبادی کے تناسب میں اضافے کی وجہ سے کئی قسم کے مسائل ایسے ہیں جن کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ان میں سے بیشتر مسائل ایسے ہیں جن کی وجہ سے انسان اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ مثال کے طور پر ترقی پذیر ممالک میں صحت کی مناسب سہولیات نہ ہونے کی بناءپر زچگی کے دوران بہت ساری خواتین اپنی زندگی سے محروم ہو جاتی ہیں جبکہ غریب خاندانوں میں اولاد کی وافر تعداد ہونے کی وجہ سے اکثر وبا اور بیماریاں پھیلنے سے بچے موت کی آغوش میں جا رہے ہیں۔ اس پر قابو پانے کے لئے مختلف تدابیر اختیار کی گئی ہیں اور تاحال کی جا رہی ہیں مگر آبادی میں اضافے کی وجہ سے مختلف مسائل جنم لے رہے ہیں ۔ اتنا ہی نہیں ہے کہ آبادی میں اضافے کی وجہ سے صرف مسائل ہی جنم لیتے ہیں بلکہ آبادی میں اضافے کا مختلف قوموں اور ممالک نے فائدہ بھی اٹھایا ہے جس کی واضح مثال ہمارے دوست ملک چین سے لی جا سکتی ہے۔
چین آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اس ملک نے اپنی آبادی کو اپنی کمزوری بنانے کی بجائے مین پاور میں تبدیل کر لیا ہے۔ چائنا نے اپنی آبادی کو اس انداز میں ملکی ترقی خوشحالی اور فلاح کے لئے استعمال کرنا شروع کیا کہ آج وہ دنیا کی سب سے بڑی معاشی و اقتصادی طاقت بننے جا رہا ہے جس سے امریکہ جیسی بڑی اور طاقتور معیشت بھی خائف ہے۔ گو اس وقت چین میں ون چائلڈ پالیسی ہے اور چائنا میں ایک سے زیادہ بچہ پیدا نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کے باوجود چین میں آبادی کا تناسب بہت زیادہ ہے اور چین اپنی اس آبادی کو طاقت کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان میں بھی آبادی کے تناسب میں روزبروز اضافہ جاری ہے اس سلسلہ میں حکومت کی طرف سے گاہے بگاہے مختلف پروگرامز اور تشہیری مہم چلائی جاتی ہے مگر اس مہم کے ہمارے ہاں کبھی بھی کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے ۔ آبادی کے تناسب میں اضافہ ہونا کوئی ہرج کی بات نہیں اگر حکومتی سطح سے مناسب پلاننگ کی جائے تو آبادی میں اضافہ ملکوں کے لئے طاقت کا ہتھیار بھی بن جایا کرتا ہے۔ گذشتہ ایک دہائی سے کینیڈا مختلف نسل سے تعلق رکھنے والے احباب کو آسان ویزا پالیسی اور شہریت کے اصولوں کے تحت اپنے ملک میں جگہ دے رہا ہے تاکہ اس کی آبادی میں اضافہ ہو سکے۔ کینیڈا رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے مگر اس کی آبادی آٹے میں نمک کے برابر ہے اور اسی لئے وہ اپنی آبادی میں اضافہ کرنے کے لئے مختلف لوگوں کو اپنے ملک میں آباد کاری کے مواقع فراہم کر رہا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آبادی میں اضافہ ہونا اور آبادی کا ہی ہونا کسی ملک کے لئے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ایشو ہوتا ہے۔
اقوام متحدہ کی طرف سے 11جولائی کو عالمی یوم آبادی منایا جاتا ہے تاکہ آبادی کے حوالے سے تمام معاملات زیربحث لائے جا سکیں۔ 11جولائی کو عالمی یوم آبادی منانے کا فیصلہ اقوام متحدہ کے ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 1989ءمیں کیا گیا تھا۔ اس کی تحریک اس وقت ملی تھی جب 11جولائی 1987ءکو دنیا کی آبادی 5ارب ہو گئی تھی۔ ایک اندازے کے مطابق اٹھارویں صدی سے 2005ءتک آبادی کے تناسب میں اس انداز میں اضافہ ہو رہا ہے کہ 30سال سے 65سال کے لوگوں کی شرح آبادی میں اضافہ سامنے آیا ہے۔ 1810ءمیں دنیا کی آبادی ایک ارب لوگوں پر مشتمل تھی جو 2010ءمیں 7ارب لوگوں پر مشتمل بیان کی گئی تھی اور اب 2019ءمیں دنیا کی آبادی میں مزید اضافہ سامنے آ رہا ہے۔ اس اضافے میں وقت کے ساتھ ساتھ مزید تیزی کے ساتھ اضافہ جاری ہے۔ مختلف ممالک میں ہجرت اور دیگر معاملات کی وجہ سے بھی ان ممالک کی آبادی میں اضافہ ہو جاتا ہے جیسے 1980ءکی دہائی میں افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کے دوران افغان مہاجرین کی ایک بہت بڑی تعداد نے پاکستان کا رخ کیا اور آج تک ان مہاجرین کی پاکستان میں موجودگی ایک ایشو بنی ہوئی ہے خصوصاً جبکہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کی وجہ سے ہمارے ہاں بھی دہشت گردی کے مختلف واقعات رونما ہوتے رہے ہیں اور امریکہ جب شدت پسندوں کے خلاف جعلی مہم کی آڑ میں ڈرون حملے کرتا تھا تو ہر مرتبہ یہی سوال ابھرتا ہے کہ پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کی کس طرح رجسٹریشن کا عمل مکمل کیا جائے۔ قیام پاکستان کے وقت بھارت سے پاکستان آنے والے مہاجرین کی تعداد دنیا میں اب تک ہونے والی تمام ہجرتوں میں سے سب سے بڑی ہجرت تھی ،ہر طرف مہاجرین کا ایک سیلاب امڈ آیا تھا۔ لٹے کٹے قافلے جتھوں کی صورت میں اپنے خوابوں کی تکمیل کی جستجو میں پاکستان کی سرحدی حدود میں داخل ہو رہے تھے اور ہر آنکھ جو اشک بار تھی ان کے دل میں ایک ہی مسرت تھی کہ وہ اپنے قائد بانی پاکستان حضرت محمد علی جناح کی قیادت میں جس جدوجہد آزادی کو چلا رہے تھے بالاخر وہ اس کا ثمر حاصل کرنے کے لئے پاکستان داخل ہو رہے ہیں۔ یہ لٹے کٹے قافلے ہندو¶ں اور سکھوں کے ظلم و ستم کا شکار ہوئے۔ دنیا کی تاریخ میں آج تک اس سے بڑی ہجرت نہیں دیکھی اور شاید آئندہ بھی کبھی نہیں دیکھے گی۔ مسلمانوں کی تاریخ میں ہجرت مدینہ کے بعد برصغیر میں یہ ہونے والی دوسری سب سے بڑی ہجرت تھی۔ برصغیر میں ایک کروڑ 80لاکھ سے زائد افراد کو ہجرت کرنی پڑی۔ مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد نے پاکستان میں ہجرت کی کہ پاکستان کے اندر مہاجرین کی آبادکاری کا ایک مسئلہ کھڑا ہو گیا جس پر بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح جنہوں نے مہاجرین کی آبادکاری کے لئے ایوب خان کو سربراہ مقرر کر رکھا تھا اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے لاپرواہی پر ان کی ڈانٹ ڈپٹ بھی کی۔ بہرحال وہ اللہ جس نے پاکستان قائم کروایا تھا اور ہجرت کے دوران شہیدوں کی صورت میں اس کی سرحدوں پر دائمی مجاہدین لگا دیئے تھے اس نے مہاجرین کی آبادکاری کا مسئلہ بھی حل کروا دیا۔
پاکستان کی آبادی میں آج بھی اضافہ جاری ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ کی خاص قدرت اور کرم نوازی ہے کہ دنیا کے بیشتر ترقی یافتہ ممالک تک میں آبادی میں اضافے کی وجہ سے جن مسائل کا ان ممالک کو سامنا ہے اور جس قسم کے نفسیاتی امراض تک میں مبتلا ہو رہے ہیں پاک سرزمین پاکستان اور اس کے باسیوں کو وہ مسائل لاحق اور درپیش نہیں ہیں۔ یہ الگ مسئلہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی کج ادائیوں نے اس ملک میں غربت، بیروزگاری اور مہنگائی جیسے مسائل کو پیدا کر دیا وگرنہ وہ کون سی نعمت ہے جو آج اس ملک میں موجود نہیں۔ اقوام متحدہ نے جس طرح سال کے ہر یوم کو کسی نہ کسی تہوار اور ایشو کے حوالے سے منسلک کر رکھا ہے 11جولائی کو بطور عالمی یوم آبادی منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس دن کی مناسبت کے حوالے سے مختلف تقریبات، سیمینارز اور ورکشاپ منعقد کی جاتی ہیں۔ اس دن کے حوالے سے ہم سب کو اور خصوصاً ہمارے حکمرانوں کو عہد کرنا ہو گا کہ وہ آبادی کے تناسب میں اضافے اور اس تناسب میں اضافے کی روک تھام کے لئے اپنے اعلانات اور اقدامات اٹھانے کی کارکردگی بیان کرنے کی بجائے ان ہم وطنوں جو کہ برصغیر میں قیام پاکستان کے لئے لازوال قربانیاں دے کر یہاں آئے یا پھر پہلے سے یہاں موجود تھے ان کی اور ان کی آئندہ اور موجودہ نسلوں کی فلاح بہبود ترقی اور تمام مسائل کے حل کے لئے اپنا ہرممکن کردار ادا کریں۔ یہ ملک قائم ہے اور تاقیامت قائم رہے گا تو آبادی میں اضافہ ہونا زندہ قوموں اور ملکوں کا شیوہ ہوا کرتا ہے کیونکہ آبادی میں اضافہ ہونا ایک قانون قدرت ہے اور اس قدرت کو نہ کوئی روک سکتا ہے اور نہ ہی کوئی اب تک روک پایا ہے۔بس مناسب حکمت عملی سے اس آبادی کو اپنے حق میں استعمال کرنا شروع کر دیں۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved