تازہ تر ین

حریت کا استعارہ برہان وانی شہید

مرزا رضوان….حروف بے زباں
یہ حقیت ہے کہ برصغیر کی تقسیم کے ساتھ ہی کشمیری بھارتی ظلم و ستم کا نشانہ بنتے آرہے ہیں ۔ اس وقت سے ہی ریاستی پولیس اور انڈین فوج نے نہ صبح دیکھی اور نہ ہی رات ، نہتے کشمیریوں کے ساتھ جو دل میں آیا سلوک کیا گیا ۔ عالمی امن کے نام نہاد ٹھیکیداروں کو بھارتی دہشت گردی اور ظلم و ستم کو بندکروانے کی بجائے ”امن ایوارڈ “اور پرامن ملک قرار دینے میں کیا مصلحت درپیش رہی ۔پوری دنیا میں امن قائم کرنیوالے تمام تر ادارے ، این جی اوز نجانے کشمیر کی ان خون کی ندیوں کو بہتا دیکھ کر ”خاموش “کیوں ہو جاتی ہیں ۔ اور اگر کشمیری حریت پسندوں کی کوئی تحریک ابھر ے پھر اسے ”دہشت گرد“قرار دینے میں یہی ادارے اور این جی اوز بھارت کے حق میںبولنے اور آزادی کی خاطر اپنے تن من دھن نثارکرنیوالے ان کشمیریوں کے خلاف من گھڑت پراپیگنڈہ کرنے میں مصروف عمل ہوجاتی ہیں ۔ گذشتہ پون صدی سے جاری اس آزادی کی تحریک میں اب تک سوالاکھ سے زائد کشمیری جام شہادت نوش کرچکے ہیں ، ہزاروں کشمیری بہنوں کے سہاگ اجڑ چکے ہیں۔ لاکھوں بچے یتیمی سے گزرچکے ہیں ، ہزاروں نوجوانوں کو آزادی کی اس تحریک کا حصہ بننے پر غائب کیا جاچکا ہے جن کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ۔ ان نوجوانوں کے بوڑھے ماں باپ اپنے بیٹوں کی جدائی میں روز مرتے اور روز جیتے ہیں ۔ اور کئی تو اس جدائی کا دکھ اٹھاتے اٹھاتے اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں ۔ محض شکوک و شبہات کو بنیاد بنا کرنوجوانوں کے ہاتھوں سے قلم اور کتاب چھین کر ان کو اٹھایا جانا اور باغی و دہشت گرد قرار دیا جانا بھارتی فوج کا معمول بن چکا ہے ۔ روز ایک نئے کرب کی صبح ہوتی ہے کشمیر میں اور ایک نئے زخم کے ساتھ شام ۔۔۔مگر افسوس صد افسوس کہ آج تک دنیا کا کوئی ”مسیحا“ان کشمیری مسلمانوں کیلئے کوئی کارہائے نمایاں سرانجام نہیں دے سکا ۔سوائے کشمیریوں پر جاری ظلم و ستم پر اپنی سیاسی دوکانداری چمکانے کے ۔
جب نہتے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے” پہاڑ “ توڑے جائیں ، جب ماﺅں بہنوں کی سرعام عصمتیں نوچی جائیں ، جب خون کی ندیاں بہتی ہوں اور جب انسانیت سوز واقعات معمول بن جائیں تو پھر پیدا ہوتے ہیں عظیم بیٹے ”برہان معظم وانی شہید “جیسے ۔جب جینے کا حق بھی چھین لیا جائے اور درندگی ہر سو چھاجائے پھر اپنا حق لینا اور دوسروں کو ان کا حق دلوانے کیلئے برہان وانی جیسے ”شیر“میدان میں اترتے ہیں ۔معاشرے کو مہذب بنانے اور کشمیری بیٹوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے والے عظیم انسان مظفر احمد وانی اور ایک سکول کی پرنسپل اور سائنس ٹیچرمیمونہ مظفر کے ہاں پرورش پانے والے عظیم نوجوان ”برہان وانی شہید“ کے ہاتھوں میں قلم کی جگہ بندوق آنے کی وجہ یقینا دنیا کے امن کے علمبرداروں کی سمجھ میں بخوبی آگیا ہوگا۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ردی کی ٹوکر میں پھینک کر نہتے کشمیر یوںپر ظلم و ستم اور ان کے ساتھ خون کی ہولی کھیلنے والے بھارت کی دہشت گردی تو کسی کو نظر نہیں آتی اور جو اپنی آزادی کیلئے ، اپنے بنیادی حقوق کی خاطر انڈین آرمی پر ”بجلی“بن کراور ”برہان وانی شہید “بن کر اترے تو اسے ”دہشت گرد“بھارت ”دہشت گرد“کیسے قرار دے سکتاہے ۔ یورپی یونین اور اقوام متحدہ جیسے دیگر پلیٹ فارم پر انسانیت اور انسانی حقوق کے ”بھاشن“دینے والے بھارت کو اب شرم آنی چاہیے ۔ اب اور کتنا خون چاہیے اسکو کشمیر کی آزادی کیلئے ۔نہتے کشمیریوں پر مسلط آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی فوج سے جس قدر ہوا نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے اور ایسا ایسا انسانیت سوز سلوک کیا گیا کہ بیان کرتے یا پھر تحریر کرتے روح ”لرز“جاتی ہے ۔ ان کشمیریوں کا مقدمہ اب تک کسی عدالت میں فائل ہی نہیں ہو سکا جو انہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق حق خود ارادیت دلوا سکے ۔ کوئی عدالت حق و سچ پر فیصلہ دینا تو درکنار مقدمہ سننا گوارہ نہیں کررہی ۔جب ایسی صورتحال میں سانس لینا بھی مشکل کردیا جائے تو پھر یقینا ”برہان وانی شہید“جیسے نوجوان ہی ان درندوں کو جہنم واصل کرنے کیلئے میدان میں اترتے ہیں اور کیوں نا اتریں بعدازاں زمانہ پھر انہیں کچھ بھی گردانے ۔۔۔
لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اس عظیم کشمیری جوان” برہان مظفر وانی“ کا یوم شہادت عقیدت و احترام سے منایا گیا ۔ عظیم کشمیری نوجوان ”برہان معظم وانی“کے یوم شہادت پر بھارتی درندگی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ کشمیرپر جبری طور پرمسلط بھارتی فوج نے پوری وادی میں کرفیونافذ کردیا کہیں فائرنگ تو کہیں پتھراﺅ۔ کہیں شک کی بنیاد پر چھاپے تو کہیں خواتین کے ساتھ بدتمیزی ۔ یہاں تک چادر اور چادر دیواری کی عزت و عظمت کو پامال کرناہمیشہ سے بھارتی درندوں کی اولین ترجیح رہی ۔ اس کے باوجود کشمیریوں کی جانب سے آزادی کی تحریک جاری رکھنے کے عزم کو دہرایا گیا۔بھارتی ظلم و ستم کے باوجود کشمیریوں کے موقف کو مزید مضبوط کیا کہ آزادی کے حصول کیلئے پورا کشمیر اپنی جدوجہد جاری رہیگا جب تک بھارتی فوج اپنا ظلم و ستم بند نہیں کرتی اور کشمیر سے نکل نہیں جاتی ہر گلی سے برہان مظفر وانی شہید ہی نکلے گا۔لیکن افسوس صد افسوس اس عظیم نوجوان کے یوم شہادت پر بھی بھارتی فوج کی طرف سے جاری ظلم و ستم پر انسانیت اور خواتین کے حقوق کی نام نہاد جنگ لڑنے والوں اور بلند و بانگ نعرے لگوانے والوں کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ عالمی امن کے کسی ٹھیکیدار کی طرف سے دو بول مذمت کے سننے کو نہیں ملے ۔بھارت کی ”نئی نویلی “ حکومت کو چاہیے کہ وہ اب کشمیر میں بھارتی فوج کا ظلم و ستم فوری بند کروائے اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر بھارتی فوج کا ظلم سہتی مائیں ”برہان وانی شہید“ہی پیدا کرینگی اور کشمیر کو کشمیریوں کے خون سے لالہ زار بنانے کا عمل جاری رہیگا ۔ لیکن اب وقت آگیا ہے کہ حکومت پاکستان ماضی کی طرح مقبوضہ کشمیر پر اپنے موقف کو مزید مضبوط کرے اور عالمی عدالت انصاف کو دکھائے کہ بھارتی فوج کس قدر نہتے کشمیری مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہی ہے ۔ کشمیری مسلمانوں کواقوام متحدہ کی قراردادوں کے عین مطابق آزادی دلوانے کیلئے بھارت کو بھی اپنی ”ہٹ دھرمی“چھوڑنی ہوگی اور کشمیریوں کو ان کا حق آزادی دینا ہوگا۔آخر میں دعا ہے کہ اللہ رب العزت کشمیری بھائیوں آزادی کی نعمت سے سرفراز فرمائے (آمین یارب العالمین)
(کالم نگار مختلف امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved