تازہ تر ین

آزادی¿ اظہار کا اپنا ہے سلیقہ!!

علی سخن ور….فل سٹاپ کے بعد
معروف انگریزی اخبار نیویارک ٹائمز کا شمار دنیا کے موثر ترین اور معتبر ترین اشاعتی اداروں میں ہوتا ہے۔1851ءمیں اپنی اشاعت کا آغاز کرنے والے اس اخبار کو اب تک 127بار Pulitzer Prizesمل چکے ہیں ۔ یہ اعزاز آج تک کسی اور اشاعتی ادارے کے حصے میں نہیں آیا۔ اپنی اشاعت کی تعداد کے حوالے سے اس اخبار کو دنیا بھر میں 17ویں نمبر پر شمار کیا جاتا ہے جبکہ امریکا میں اشاعتی تعداد کے حساب سے اس کا دوسرا نمبر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آج دنیا بھر میں امریکا کو جو برتری حاصل ہے اس بر تری کے حصول اور اس کے قائم رہنے میں نیویارک ٹائمز کا بہت اہم کردار ہے۔ماہرین اس اخبار کی رپورٹنگ اور اس میں شائع ہونے والے تجزیاتی مضامین کی غیر جانبداری کو صحافت کی دنیا میں ایک بہترین مثال قرار دیتے ہیں۔گزشتہ جون کے آخری ہفتے میں معروف صحافی بین نارٹن کا ایک مضمون مختلف اخبارات میں شائع ہوا جس میں بین نارٹن نے انکشاف کیا ہے کہ نیویارک ٹائمز اپنی انتہائی شفاف اور غیر جانبدارانہ پالیسی کے باوجود بھی قومی نوعیت کے حساس معاملات پر خبروں اور تجزیوں کی اشاعت سے پہلے بعض مرتبہ حکومتی اداروں سے رضامندی ضرور حاصل کرتا ہے۔ اخبار کی موجودہ اشاعت2,101,611 کے لگ بھگ ہے اور اخبار کی انتظامیہ اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہے کہ معمولی سی بھی غیر ذمے داری اخبار کے لاکھوں قارئین کی مثبت سوچ کو کسی منفی سمت لے جاسکتی ہے۔یہی سبب ہے کہ قومی نوعیت کے انتہائی حساس معاملات کی اشاعت کے بارے میں نہایت احتیاط سے کام لیا جاتا ہے۔نیویارک ٹائمز اور قومی سلامتی کے ذمے دار اداروں کے درمیان رابطوں کا علم عام لوگوں کو اس وقت ہوا جب اس سال 15جون کو اخبار نے ایک مضمون میں یہ دعویٰ کیا کہ صدر ٹرمپ نے روس کے خلاف سائیبر وار کو نہایت سنجیدگی سے لڑنے کے لیے رویے میں زیادہ سختی برتنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔اخبار کے اس دعوے پر صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نیویارک ٹائمز کے اس مضمون کو ملکی سلامتی کے خلاف بغاوت قرار دیا۔ جواب میں نیویارک ٹائمز نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا کہ ہمارا اخبار حساس نوعیت کے مواد کی اشاعت سے پہلے اکثر نیشنل سیکیورٹی کے ذمے دار اداروں سے مشاورت کرتا ہے اور ان کی اجازت اور رضامندی کے بغیر قومی سیکیورٹی سے وابستہ کوئی بھی مواد شائع نہیں کیا جاتا۔مذکورہ مضمون کی اشاعت سے پہلے بھی نیشنل سیکیورٹی کے ذمے دار اداروں سے کلیئرنس لی گئی تھی۔ اخبار نے یہ بھی کہا کہ ایسی صورت حال میں پریس پر بغاوت اور سازش کا الزام لگانا کسی طور بھی ملکی مفاد میں نہیں۔
نیویارک ٹائیمز کے اس اعتراف نے کچھ عرصہ قبل میڈیا میں موضوع بحث بننے والے کہنہ مشق صحافی جیمز رائیزن کے اس بیان کو بھی سچ ثابت کردیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا میں حکومتی ہدایت پر بہت سی ایسی رپورٹوں کو اشاعت سے روک دیا جاتا ہے جنہیں ملکی مفادات کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔صدر ٹرمپ کے ٹویٹ اور اس پرنیویارک ٹائیمز کے وضاحتی بیان نے امریکی صحافتی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ کچھ ماہرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ سچ لکھنے سے پہلے حکومتی اداروں سے Approvalحاصل کرنا صحافت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے جبکہ ایک بہت بڑی تعداد ایسے تجزیہ کاروں کی بھی ہے جن کا کہنا ہے کہ ملکی مفاد ہر سچائی اور ہر حقیقت سے بڑھ کر محترم اور مقدم ہونا چاہیے۔ ہر سچائی کا تذکرہ لاﺅڈسپیکر پر نہیں کیا جانا چاہیے۔بہت سی باتیں سچ ہوتی ہیں لیکن ان کا اظہار قومی بنیادوں کو ہلانے کے مترادف ہوتا ہے۔
آزادی¿ اظہار کی اپنی اہمیت ہے لیکن ملکی سلامتی بہت سی صورتوں میں آزادی اظہار سے کہیں زیادہ اہم ہوا کرتی ہے۔قارئین کو 2008ءکے ممبئی دھماکوں میں ملوث ہونے کے جرم میں سزائے پانے والے بھارتی شہری اجمل قصاب کا قصہ یقینا یاد ہوگا۔ دھماکوں کے فوری بعد بھارتی میڈیا نے اجمل قصاب کو پاکستانی شہری ثابت کرنے کے لیے ایک نہایت منظم مہم کا آغاز کردیا۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے سب کچھ پہلے سے طے شدہ تھا۔ حکومت پاکستان نے اپنی صلح جوئی اور امن پسندی کی دیرینہ روایات کے عین مطابق اس سانحے پر اظہار افسوس بھی کیا اور اس کی مذمت بھی اور ساتھ ہی ساتھ اس الزام کی تردید بھی کی کہ اجمل قصاب کا تعلق پاکستان سے ہے۔پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے بھی حکومتی موقف کو سپورٹ کرنے کے لیے ہر ممکن جدوجہد کی، دنیا کو معلوم ہوا کہ بھارتی میڈیا نے اپنی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں اجمل قصاب کو پاکستانی ثابت کرنے کی جو مہم چلائی تھی وہ بالکل ہی بے بنیاد ہے لیکن اسی دوران پاکستان کے ہی ایک پرائیویٹ نیوز چینل نے حکومت پاکستان کے موقف کو سرے سے جھوٹ کا پلندہ ثابت کرنے کے لیے قصور کے قریب کسی گاﺅں میں اپنے رپورٹر کو بھیج کر وہاں مقامی لوگوں سے بیان لینا شروع کردیا کہ اجمل قصاب اسی گاﺅں کا رہائشی ہے۔ مذکورہ چینل کی اس غیر ذ مے دارانہ رپورٹنگ نے بھارت کو پاکستان کے خلاف شور مچانے کا ایک نہایت مضبوط جواز فراہم کردیا۔آج اسی غلط رپورٹنگ کا نتیجہ ہے کہ انٹرنیٹ پر جہاں جہاں اجمل قصاب کا ذکر آتا ہے، اسے پاکستانی شہری کے طور پر ہی متعارف کرایا جاتا ہے۔
قومی سلامتی کے ذمے دار ادارے ملکی سالمیت کے حوالے سے کچھ معاملات میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی راہنمائی ضروری سمجھتے ہوں تو اس عمل کو آزادی اظہار پر ضرب تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔ترقی یافتہ ممالک میں وسیع تر قومی مفاد کے پیش نظر ملکی سلامتی سے منسلک خبروں اور تجزیوں کو قارئین و ناظرین کے سامنے لانے سے پہلے متعلقہ ذمے دار اداروں سے مشاورت کو ایک قومی فریضہ سمجھا جاتا ہے لیکن ترقی پذیر ممالک میں اس طرح کی مشاورت کوآزادی اظہار پر قدغن اور اظہار رائے پر پابندی جیسے عنوانات دے کر ایک عجیب سا طوفان برپا کردیا جاتا ہے۔ایک حیران کن تضاد یہ کہ تر قی یافتہ خوشحال اور طاقتور ممالک میں اگرچہ اس طرح کی مشاورت کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن پھر بھی وہاں کے میڈیا ہاﺅسز اس حوالے سے محتاط رہتے ہیں شاید اس لیے کہ وہاں بطور قوم اپنی ایک اعلیٰ شناخت کی خواہش ہر ذہن میں گہری جڑوں والے پودے کی طرح ہمیشہ لہلہاتی رہتی ہے جبکہ ترقی پزیر ممالک جہاں اس قسم کی راہنمائی اور مشاورت ازحد ضروری ہوتی ہے وہاں اس راہنمائی اور مشاورت کو بنیادی حقوق پر ڈاکہ قرار دیا جاتا ہے۔اگرچہ پاکستان میں صحافی اور صحافتی ادارے ملکی سالمیت کو لاحق خطرات اور سرحدوں پر مستقل منڈلاتے چیلنجز سے بخوبی آشنا بھی ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے ہر لحظہ تیار بھی لیکن کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی مقام پر ذمے دار حکومتی اداروں سے مشاورت یا ان کی طرف سے راہنمائی معاملات اور صورت حال کو مزید بہتر کرنے میں معاون اور مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ہم چاہیں تو اس حوالے سے نیویارک ٹائمز جیسے 168سالہ قدیم اشاعتی ادارے سے سبق حاصل کر سکتے ہیں۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ چوک میں کھڑے ہوکر پیٹ ننگا کرنے میں اور آزادی اظہار میں بہت فرق ہوتا ہے۔
(کالم نگار اردو اور انگریزی اخبارات میں
قومی اور بین الاقوامی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved