تازہ تر ین

بڑھتی مہنگائی ، ذمہ دار کون؟

ضیاءالحق سرحدی….یقیں محکم
وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد سے ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان سا آ گیا ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمانوں کو چھو رہی ہیں ۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)نے یکم جولائی سے سی این جی مہنگی بھی کر دی ہے۔گیس قیمتوں میں اضافے کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی گئی۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق سی این جی سیکٹر کے لیے گیس کی قیمت 980روپے سے بڑھ کر 1283روپے فی ایم ایم بی ٹی مقرر کر دی گئی۔گھریلو صارفین کےلئے گیس بلوں پر ون سلیب بینیفٹ کی منظوری دی گئی۔ماہانہ50مکعب میٹر گیس استعمال پر گھریلو صارفین کےلئے گیس کی قیمت 121روپے فی مکعب میٹر پر برقرار رکھی گئی ہے۔ماہانہ سو مکعب میٹر گیس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کےلئے گیس کی قیمت میں66فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ماہانہ 200مکعب میٹر گیس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کےلئے فی مکعب میٹر گیس کی قیمت میں61.7فیصد ، 300مکعب میٹر گیس استعمال کرنیوالے صارفین کےلئے گیس کی فی مکعب میٹر قیمت میں123.63فیصد جبکہ 400مکعب میٹر گیس کے استعمال پر گھریلو صارفین کےلئے فی مکعب میٹر گیس 6.4فیصد مہنگی کی گئی ہے۔ماہانہ 400مکعب میٹر سے زائد گیس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لئے گیس کی قیمت 1460روپے فی یونٹ پر برقرار رکھی گئی ہے۔ ماہانہ50یونٹ والے صارفین کو اضافے سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا۔100یونٹ والوں کے گیس کی قیمت127سے بڑھا کر 300روپے فی ایم ایم بی ٹی یو،200یونٹ والے صارفین کے لئے گیس کی قیمت 264روپے سے بڑھا کر530روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کیا گیا ہے۔ 400یونٹ سے زائد والے صارفین گیس کی قیمت 1460روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ادا کریں گے۔گیس کا کم سے کم بل 172روپے58پیسہ ماہانہ بھجوایا جائے گا۔
بجلی اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عوام کے کڑاکے نکال دیے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد گیس کی قیمتوں میں یہ دوسرا اضافہ ہے۔اپوزیشن کے سیاستدان بھی مہنگائی پر چیخ وپکار رہے ہیں لیکن اصل میں وہ خود بھی اس مہنگائی کے ذمہ دار ہیں۔آیئے پس منظر دیکھتے ہیں۔پانچ سال پہلے ملک میں قدرتی گیس کی شدید قلت پیدا ہو چکی تھی۔سردیوں میں سی این جی اسٹیشن بند کر دیے جاتے تھے۔گھریلو صارفین کے لئے گیس کی لوڈ شیڈنگ کی جاتی تھی۔اس کمی کو کسی حد تک دور کرنے کے لئے پاکستان نے مائع شکل میں گیس یعنی ایل این جی درآمد کرنے کا ایک بہت بڑا معاہدہ قطر سے کیا جو اپریل 2016ءمیں عمل میں آیا۔معاہدہ کے تحت پاکستان ہر سال قطر سے ستائیس لاکھ ٹن ایل این جی خریدنے کا پابند ہے۔سمجھوتہ پندرہ برسوں پر محیط ہے۔مجموعی مالیت کا تخمیہ بیس ارب ڈالر ہے۔ایل این جی بنانے کے لئے قدرتی گیس کومنفی 180سینٹی گریڈ تک ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔پھر اس مائع کو بڑے بڑے ویسلز (کنٹینرز )میں بھرا جا تا ہے اور سمندر کے راستے خریدار ملک میں بھیجا جا تا ہے جہاں یہ مائع دوبارہ گیس میں تبدیل کی جاتی ہے۔اس سارے عمل پر تقریباً ساڑھے تین ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ ( ایم بی ٹی یو)خرچ آتا ہے۔اس لحاظ سے ایل این جی کی قیمت ہمیشہ پائپ لائن سے ملنے والے قدرتی گیس سے زیادہ ہوتی ہے کیونکہ اسے مائع میں بدلنے اور واپس گیس میں بدلنے کا عمل نہیں کرنا پڑتا۔پاکستان نے ایران سے پائپ لائن کے ذریعے گیس خریدنے کی بجائے قطر سے ایل این جی خرید کر بہت مہنگا سودا کیا۔ایل این جی کی قیمت پائپ لائن گیس سے تقریباً دگنی ہے۔پاکستان قطر کو ایل این جی کی جو قیمت ادا کرتا ہے وہ عالمی منڈی میں خام تیل (برینٹ)کی فی بیرل قیمت کا13.3فیصد ہے۔سمجھنے کے لئے فرض کریں کہ اگر برینٹ(خام تیل)کی قیمت 100روپے فی بیرل ہو تو پاکستان قطر کو ایک ایم بی ٹی یو ایل این جی کے لیے 13روپے 30پیسے دیتا ہے۔ایک اعتبار سے تو یہ اچھا معاہدہ تھا کہ ملک میں گیس کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملی۔گیس سے چلنے والے بجلی کے نئے پلانٹ لگائے گئے۔لیکن اعتراض یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن)کی حکومت نے بہت مہنگے داموں پر قطر سے معاہدہ کیا۔یہی بات دیکھیے کہ قطری ڈیل کے آٹھ ماہ بعد (ن)لیگی حکومت نے گنوورکمپنی سے ایل این جی درآمد کرنے کا ایک اور عالمی معاہدہ کیا۔یہ برینٹ کی قیمت کے گیارہ فیصد پر کیا گیا یعنی قطری سودے سے پندرہ فیصد کم نرخ پر۔قطر سے ایل این جی خریدنے کا معاہدہ اس لئے بھی مہنگا ہے کہ یہ طویل مدت کے لئے کیا گیا حالانکہ عالمی منڈی کے حالات کا تقاضا تھا کہ مختصر مدت کا معاہدہ کیا جاتا۔حالیہ کئی برسوں سے عالمی منڈی میں ایل این جی کے نرخوں میں کمی کارجحان ہے کیونکہ اس کی سپلائی بہت بڑھ گئی ہے۔قطر کے ساتھ ساتھ آسڑیلیا اور امریکہ نے بھی ایل این جی بیچنا شروع کر دی ہے۔تین چار سال پہلے جاپان اور جنوبی کوریا نے ایل این جی کی خریداری کم کر دی تھی۔ایل این جی کی طلب کم ہوگئی تھی۔جب عالمی مارکیٹ میں کسی شے کے نرخ کم ہو رہے ہوں تو اسے خریدنے کے لیے طویل مدت کا سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔ہمارے حکمران قطرسے 5سال کا معاہدہ بھی کر سکتے تھے۔کم مقدار کا معاہدہ کرتے تو ملک کا فائدہ ہوتا۔لیکن شاید جتنا بڑا معاہدہ اتنے زیادہ” کک بیکس“۔حکمران چھوٹا کام کیوں کریں۔مشکل یہ ہے کہ کک بیکس کی کوئی رسید نہیں ہوتی،اس لیے سب کہتے ہیں کہ کرپشن ثابت ہو جائے تو انہیں جو چاہے سزادی جائے۔ایک بہتر متبادل یہ تھا کہ ہم عالمی منڈی سے سپاٹ نرخوں پر ایل این جی خریدتے رہتے۔سپاٹ مارکیٹ کا مطلب ہے کہ آپ کوئی معاہدہ نہیں کرتے بلکہ عالمی منڈی میں فوری طور پر دستیاب نرخ پر خرید لیتے ہیں۔مثلاً ان دنوں عالمی منڈی میں سپاٹ مارکیٹ میں ایل این جی قطری قیمت سے تیس پینتیس فیصد کم نر خوں پر میسر ہے۔برازیل دنیا میں ایل این جی کا بہت بڑا خریدار ہے اور زیادہ تر سپاٹ مارکیٹ سے ہی خریداری کرتا ہے۔اگر قطری قیمت اور سپاٹ مارکیٹ کا فرق قائم رہتا ہے تو پاکستان کو روزانہ لاکھوں ڈالر کا نقصان ہوتا رہے گا۔15برسوں میں سینکڑوں ارب روپے کا خسارہ ۔یہ کارنامہ ہمارے ”حکمران“ ہی انجام دے سکتے تھے۔قطر سے مہنگے ڈیل کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔اس ایل این جی کے سسٹم میں آتے ہی صارفین کے لئے گیس مہنگی ہوگئی۔خاص طور سے صنعتوں کے لیے۔ان کی مال بنانے کی لاگت بڑھ گئی۔ن لیگ کے دور میں بہت سے کارخانے بند ہوئے۔مہنگی ایل این جی سے بنے والی بجلی بھی مہنگی تھی جس کا صارفین کو بوجھ اٹھانا پڑا۔آج (ن)لیگ کے لیڈرز مہنگائی کا رونا رو رہے ہیں لیکن ان کے گزشتہ دور حکومت میں بجلی کی قیمتیں تقریباً دگنی ہوگئیں۔(ن)لیگ حکومت نے گیس کے شعبہ کا گردشی قرضہ صفر سے بڑھا کر 150ارب کر دیا۔چالاکی یہ دکھائی کہ گھریلو استعمال کے لیے گیس کی قیمتیں زیادہ نہیں بڑھائیں تاکہ عوام کے ردعمل سے بچ سکے۔جب گردشی قرضہ پیدا ہو گیا بوجھ تو قومی خزانہ پر ہی پڑا۔ وہ بھی عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ ہے۔موجودہ حکومت اس گردشی قرضہ کو ختم کرنے کے لئے گیس کی قیمتیں بڑھادی ہیں تو (ن)لیگ کے لیڈر اس پر شوروغوغامچا رہے ہیں۔یہ انہیں کا بویا تھا جو قوم آج کاٹ رہی ہے۔اہم بات یہ ہے کہ جب تک ہم پائپ لائن سے نسبتاً سستی گیس نہیں خریدتے گیس مہنگی ہوتی رہے گی۔
وزیر اعظم عمران خان اپنے عوامی جلسوں میں برملا کہا کرتے تھے کہ ہم بجلی،گیس اور پٹرولیم مصنوعات مہنگی نہیں کرینگے کیونکہ اس سے غریب آدمی نیچے چلا جاتا ہے لیکن آج وہ انہیں تین چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے یہ کہہ دیتے ہیں کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے سے ہو رہا ہے جبکہ بجلی اور گیس کی بنیادی لاگت بھی موجود ہ قیمت سے پوری نہیں ہوتی،یہ عجب منطق ہے۔گیس قیمتوں میں اضافے کا ایک بھونڈا سایہ جواز تراشا جاتا ہے کہ سابق حکومت نے اپنے دور میں قومی خزانہ سے سبسڈی دے کر گیس کی قیمتوں کو ایک جگہ پر منجمد رکھا۔اس لیے اب سبسڈی ختم کر کے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے حالانکہ پی ٹی آئی تو غریب عوام کی محب ہونے کی (ن )لیگ سے زیادہ دعویدار ہے۔اگر (ن)لیگ قومی خزانے کو عوامی فلاح پر خر چ کرتی تھی تو موجودہ حکومت کو اس سے بڑھ کر عوامی فلاح کے منصوبوں پر خرچ کرنا چاہیے تھا۔
(کالم نگار سیاسی و سماجی مسائل پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved