تازہ تر ین

عورت کاپردہ۔ ایک بحث

وجاہت علی خان….مکتوب لندن
ہمیں پرواہ نہیں ہے کہ زمین کا درجہ حرارت بتدریج بڑھ رہاہے، قطبین کی برف تیزی سے پگھل رہی ہے، سمندروں کا طلاطم خشکی کو نگل رہاہے، آنے والی چند دہائیوں میں پینے کے پانی کا مسئلہ عالمگیر سطح پر شدید تر ہو جائیگا یا یہ کہ موسموں اور موحولیات کی تبدیلی سے کس طرح سے زمینی حیات متاثر ہونگی اور ان آفات سے بچاو¿ کیلئے ہمیں بحیثیت انسان کیا اقدامات کرنے ہیں، ہمیں کوئی غرض نہیں کہ اس کائنات کی پیدائش و فنا کی کوئی عملی توجیہات تلاش کریں یا گلوبلائزیشن اور نت نئی سائنسی ایجادات کی وجہ سے’ سکڑتی‘ ہوئی اس دنیا کے انسانوں کا بہتر ماحول میں باہمی رابطہ کیوں ضروری ہے یا ہم اپنے عوام کو ملکی ثمرات کس طرح فراہم کرسکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر اگر ہم ایک وحدت یا امہ ہیں تو ہمیں یہ سوچ کیوں نہیں آتی کہ ایسا کونسا کلیہ ہے جسے بروئے کار لاتے ہوئے ہم اپنے آپ کو دوسری قوموں سے ممتاز یا ان کے برابر مقام پر دیکھ سکتے ہیں اور خود پر لگے مختلف طرح کے منفی لیبل سے جان چھڑا سکتے ہیں۔
ہمیں فکر ہے تو بس یہ کہ پائجامہ ٹخنوں سے کتنا اونچا ہونا چاہیے، داڑھی کی لمبائی اور مونچھوں کی کٹائی طے کرنے کیلئے واعظ کس طرح کرنے ہیں۔ نہ ہمیں آسمانوں کی تسخیر کی جستجو ہے نہ سمندر کے کھنگالنے کا جنون، کبھی ہمارے قومی جذبات آپے سے باہر ہو جاتے ہیں تو کبھی کسی مذہبی معاملے پر آناًفاناًبھڑک اٹھتے ہیں۔ گھیراو¿ جلاو¿ ،مرو مارو، ہر طرف ہاو¿ ہو، ایک عجیب افراتفری کا عالم ہماری زندگیوں میں سراہت کرچکا ہے۔
اب ایک اور مسئلہ جس کیلئے امت نے مشکیں کس لی ہیں اور فرانس ، برطانیہ و امریکہ سے لیکر آسٹریلیا تک ایک غوغا ہے کہ عورت کا جسم کس طرح سے ڈھکا ہونا چاہیے؟ بھانت بھانت کی بولیاں، قسم قسم کی حکائتیں، مولویوں ، مشائخ اور مفتیوں کی طرف سے طرح طرح کے بیانات کہ الامان الحفیظ،مرد حیران اور عورت پریشان کہ آخر کونسا ایسا پردہ ہے جو اسلام کے عین مطابق ہے۔
گذشتہ ایک کالم میں بھی میں نے آسٹریلیا کے ایک امام کا ذکر کیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ ”برقعے یا پردے کے بغیر عورت کھلے عام رکھے گئے گوشت کے تھال کی طرح ہے جس میں کوئی بھی بلی آکر منہ مارسکتی ہے اور ایسی عورت کیساتھ اگر زیادتی ہو جائے تو قصور عورت کا ہے مرد کا نہیں“۔ اسی طرح کچھ عرصہ پہلے برطانیہ کے ایک عالم دین کا بیان بھی ملاخطہ ہو”کریمیہ انسٹی ٹیوٹ “نوٹنگھم کے چیئرمین اور” کرسچین مسلم فورم “ کے صدر ڈاکٹر مشرف حسین نے اپنے ایک اخباری انٹرویو میں واضح طور پر کہا تھا کہ شریعت اسلامیہ میں نقاب کا کہیں ذکر نہیں ہے ، لہٰذا چہرہ ڈھانپنا غیر شرعی ہے۔ ڈاکٹر مشرف نے اسی پر بس نہیں کیا انہوں نے کہا کہ جو خواتین نقاب پہنتی ہیں ان سے گفتگو کرتے ہوئے میں بے چینی محسوس کرتا ہوں کیونکہ بات چیت کرنے میں کافی مسئلہ ہوتا ہے ۔اگر ڈاکٹر مشرف حسین جو ایک عالم دین اور محقق ہیں وہ پوری ذمہ داری سے یہ کہیں کہ شریعت میں نقاب کا ذکر نہیں آیا، سورة نور اور سورة اعراف میں پردے کا ذکر ہے، اصل میں یہ ذکر اس طرح ہے کہ ”مسلمان عورتیں اپنے سر وں اور سینوں کو ڈھانپ کر رکھیں“۔ ڈاکٹر مشرف نے یہ بھی کہا کہ مدارس میں ”کھلے پن“ کی ضرورت ہے کیونکہ مدرسے ایک محدود ڈگر پر چل رہے ہیں اور اس نوع کی صورتحال خصوصی طور پر پاکستانی سوسائٹی اور دینی کاموں کیلئے مضر ہے، انہوں نے غیر مسلموں سے تعلقات بہتر کرنے اور بڑھانے کی بھی بات کی، جو یقینا قابل ستائش اور فی زمانہ مسلمانوں کیلئے انتہائی ضروری بھی ہے۔
اب اگر اسلامی نقطہ نظر کے ساتھ ساتھ برصغیر پاک و ہند کی تہذیبی و تمدنی تاریخ پر بھی نگاہ کی جائے اور ماضی میں زیادہ دور بھی نہ جایاجائے توپتہ چلتا ہے کہ غیر منقسم ہندوستانی معاشرے میں ہر طبقے کی عورت آزادی سے گھر سے باہر نکلتی تھی لیکن گھونگٹ نکالے بازاروں میں نظریں نیچی کرکے اور کسی غیر مرد سے بات چیت نہیں کرتی تھیں۔ درست ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے عہد میں پردے کا رواج ضرور ہوا لیکن اونچے اور درمیانے طبقہ کی عورتوں میں، جبکہ دیہات میں اور مجموعی طور پر نچلے طبقہ کی عورتوں میں پردہ کبھی مقبول نہیں رہا، جبکہ کم و بیش ایسی ہی صورتحال ہندوپاک میں آج بھی نظر آتی ہے۔ابھی کل کی بات ہے پاکستان میں ٹوپی والے برقعے عام استعمال ہوتے تھے، اندازہ کریں کہ ٹوپی والے برقعے سے چادر اور اب برائے نام دوپٹے تک کا سفر کس قدر جلدی طے ہوا ہے، جو بدلتے وقت کے ساتھ ترجیحات کو بدلنے کی زندہ مثال ہے، چنانچہ اگر بھارت و پاکستان میں ایسا ہوسکتا ہے تو مغربی ملکوں میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا۔
ہمارے یہاں تو معیشت ہو، معاشرت ہو، اخلاقیات ہوں، ختنوں سے لیکر شادی اور عام رسم و رواج یا سیاسی و مذہبی ڈیوٹیاں ہوں ہر معاملے میں، ہر طریق کار میں ایک عجیب سی کھچڑی پکی ہوئی ہے، اپنی اپنی راگنی ہر کوئی الاپ رہاہے ، مسلمان عورت کا پردہ کیا اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ اسے ساری دنیا میں زبان زد عام کرکے اپنی رسوائی کروائی جائے۔ ہمیں کیوں سمجھ نہیں آتی کہ آج کے ”سکیورٹی زدہ“ ماحول میں مسلمان عورت اپنا منہ چھپاکے کیا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی چیکنگ کی دعوت نہیں دے رہی؟
پچھلے سینکڑوں برسوں سے جس طرح مسلمانوں میں شریعت و طریقت ، وحدت الوجود اور وحدت الشہود یا واجب الوجود کی بحث جوں کی توں جاری ہے۔ ہم نے کبھی ان موضوعات پر سیر حاصل گفتگو نہیں کی، ہمیں پتہ ہی نہیں کہ امیر خسرو، سچل سرمست، وارث شاہ، داتا گنج بخش، بابا فرید، بلھے شاہ یا دیگر صوفی بزرگوں کی اصل تعلیمات کیا ہیں۔ پاکستان کے 95فیصد لوگوں سے پوچھ لیں وہ کہیں گے یہ سب اللہ کے نیک بندے اور بزرگ تھے اور بس۔
چند رٹے رٹائے جملے اور معصومانہ عبادات کو ہم نے زندگی کا مقصد اور حاصل سمجھ رکھا ہے، حالانکہ زندگی کی نئی حقیقتیں ہم سے نئی تشریحات کا مطالبہ کررہی ہیں، لیکن ہم آنکھیں موندے ایک ہی لکیر کو پیٹ رہے ہیں، کیا ہم رمضان و عیدین کے تعین یا خواتین کے پردے جیسے بے ضرر اور معمولی نوعیت کے معاملات پر بھی کوئی ایک رائے یا کوئی حد مقرر کرنے کی طاقت یا اہلیت نہیں رکھتے۔
پاکستان میں حدود آرڈیننس کی طرح عورت کے پردے پر بھی ایک کھلے ڈائیلاگ کی ضرورت ہے ۔ مدعا یہ ہے کہ اگر پاکستان کسی اسلامی مسئلہ پر کوئی رائے بناتا ہے تو یقینا اس کے اثرات بحیثیت مجموعی امت مسلمہ پر اثر انداز ہوسکتے ہیں، ورنہ ہر مسئلہ پر الجھاو¿ کا شکار ہوکر اور گول مول پالیسیاں رکھنے سے عوام الناس بے یقینی کی سی کیفیت میں رہتے ہیں اور اس کا اثر ملک کے اندر اور بیرون ملک بھی پڑتا ہے۔جس طرح ان دنوں برطانیہ میں صورتحال یہ ہے کہ نقاب اندھادھند بک رہے ہیں ، جن لڑکیوں کی ماو¿ں نے کبھی نقاب نہیں لیا تھا وہ بھی ازراہ فیشن نقاب استعمال کررہی ہیں، پردہ ایک عجیب مذاق سا بن کر رہ گیا ہے، خطرہ یہ بھی ہے کہ ایسی صورتحال رہی تو برطانیہ میں بھی فرانس اور ہالینڈ جیسا قانون لاگو ہو سکتا ہے کہ جہاں نقاب اور حجاب پر مکمل پابندی لگادی گئی ہے۔
( کالم نگار”خبریں“ کے لندن میں بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭
نوٹ:ادارہ کا کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اگر کوئی پڑھنے والا اس کا علمی انداز میں جواب دینا چاہے تو ہمارے صفحات حاضر ہیں۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved