تازہ تر ین

ریلوے کے اندر تحقیقات کا فیصلہ

سکھر، رحیم یار خان (نمائندگان خبریں) رحیم یار خان کےقریب اکبر ایکسپریس مال گاڑی سے ٹکرا گئی، حادثے میں 21 افراد جاں بحق اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے۔حادثہ اتنا شدید تھا کہ مسافر ٹرین کا انجن اور تین بوگیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں۔ المناک حادثے کے بعد رحیم یار خان اور صادق آباد کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ امدادی کاموں میں شرکت کیلئے پاک فوج کے جوان اور ہیلی کاپٹر بھی حادثے کی جگہ پر پہنچ گئے۔ وزیراعظم نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہارکیا اور زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔ وزیر ریلوے شیخ رشید نے جاں بحق مسافروں کے ورثا کیلئے 15 لاکھ امداد کا اعلان کر دیا۔ زخمیوں کو 3 سے 5 لاکھ روپے فی کس ملیں گے۔ انکا کہنا ہے کہ پرانے ٹریک اور سگنل سسٹم حادثات کا باعث بن رہے ہیں، غفلت پائی گئی تو ذمہ داروں کو نہیں چھوڑیں گے۔ سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ نے حادثے پر وزیر ریلوے شیخ رشید سے استعفے کا مطالبہ کر دیا۔ اویس شاہ کا کہنا ہے کہ شیخ رشید کو وزارت ملنے کے بعد 10 سے زائد حادثات ہوچکے ہیں، شیخ رشید مزید وزیر رہے تو ریلوے کا پشاور میٹرو جیسا حال ہو جائے گا۔وزیر ریلوے شیخ رشید نے صادق آباد کے قریب ٹرین حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ جاں بحق اور زخمی مسافروں کے لیے امداد کا اعلان بھی کر دیا گیا۔وزیر ریلوے شیخ رشید نے ٹرین حادثے اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں شیخ رشید نے کہا کہ حادثہ بظاہر انسانی غفلت کا نتیجہ لگتا ہے جس کی اعلی سطح پر تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، میڈیا پر چلنے والے حادثے کے مناظر دلخراش ہیں جس سے دل افسردہ ہے، ضلعی انتظامیہ کے مطابق حادثے میں 8 سے 9 ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔شیخ رشید کے مطابق جی ایم ریلوے اور متعلقہ حکام کو حادثے کی جگہ روانہ کر دیا گیا جہاں ضلعی انتظامیہ کی مدد سے ریلیف اور ریسکیو کا کام جاری ہے۔ ریلوے حکام کو آپریشن تیز کرنے کا حکم دیا ہے۔ شیخ رشید نے حادثے میں جاں بحق ہر مسافر کے لواحقین کو 15، 15 لاکھ جبکہ زخمیوں کو 3 سے 5 لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کا بھی اعلان کیا۔ رحیم یار خان: ولہار اسٹیشن کے قریب مسافر ٹرین حادثے کا شکار ہوگئی جس کے نتیجے میں 18 افراد جاں بحق اور 84 زخمی ہوگئے۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کو لاہور سے کوئٹہ جانے والی اکبر بگٹی ایکسپریس رحیم یار خان کے قریب ولہار اسٹیشن کی حدود میں کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی، حادثے کے نتیجے میں مسافر ٹرین کا انجن مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور 3 سے 4 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں جب کہ 6 سے 7 بوگیاں شدید متاثر ہوئیں۔واقعے کی اطلاع ملنے پر ریسکیو عملہ جائے حادثہ پر پہنچ گیا اور امدادی کارروائیاں شروع کردیں، حادثے کے زخمیوں اور جاں بحق ہونے والوں کو جناح اور شیخ زائد اسپتال منتقل کیا گیا۔ڈی پی او عمر سلامت نےمیڈیا بتایا کہ رحیم یار خان کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے جب کہ ہیلپ لائن اور کنٹرول روم بھی قائم کردیا گیا ہے۔ڈی پی او عمر سلامت کے مطابق ابتدائی طور پر 13 لاشوں اور 67 زخمیوں کو نکالا جا چکا ہے جن میں 3 سے 4 افراد کی حالت تشویش ناک ہے، زخمیوں کے لیے خون کے عطیات کی ضرورت ہے جس کا انتظام کیا جارہا ہے۔اسپتال ذرائع کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والے مزید 5 افراد دم توڑ گئے جس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 18 ہوگئی۔انہوں نے بتایا کہ کٹرز اور ہیوی مشینری موقع پر پہنچ گئی ہے اور ریسکیو آپریشن بھی جلد مکمل ہوجائے گا۔ایڈیشنل جنرل مینیجر ریلوے زبیر شفیع کے مطابق اکبر بگٹی ایکسپریس کے ڈرائیور عبدالخالق اور اسسٹینٹ ڈرائیور اسپتال میں زیر علاج ہیں۔زبیر شفیع نے بتایا کہ اکبر بگٹی ایکسپریس کی 10 میں سے 4 بوگیاں پٹری سے اتری ہیں، حادثے کے بعد اپ ٹریک پر ٹرینوں کی آمدو رفت روک دی گئی تھی لیکن ساڑھے 8 بجے اسے بحال کردیا گیا ہے۔مسافروں کا کہنا ہے کہ حادثہ صبح 4 بجے کے قریب پیش آیا ہے، ٹرین میں سوار بیشتر مسافر سو رہے تھے، گاڑی کو حادثہ کانٹا تبدیل نہ کرنے کی صورت میں پیش آیا ہے، اسٹیشن والے اپنی ڈیوٹی نہیں کر رہے تھے ورنہ جانی نقصان نہیں ہوتا۔عینی شاہدین نے مزید بتایا کہ ہمیں اپنی مدد آپ ہی بوگیوں سے نکلنا پڑا، حادثہ پیش آنے کے کافی دیر بعد ریسکیو ٹیم جائے وقوعہ پر پہنچی تھی۔دوسری جانب ٹرین حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرلی گئی ہے جس کے مطابق ٹرین حادثہ سگنل سسٹم کی خرابی کے باعث پیش آیا، ولہار کے اسٹیشن ماسٹر نے اکبر بگٹی ایکسپریس کو مین لائن کا گرین سگنل دیا، اسٹیشن کا سگنل عملا لوپ لائن پر ہی رہا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور بریگ لگاکر پیچھے بھاگ گئے، ڈرائیور عبدالخالق اور اسسٹنٹ ڈرائیور فرمان الہی شدید زخمی حالت میں زیر علاج ہیں۔رپورٹ کے مطابق مال گاڑی ولہار اسٹیشن صبح سوا 4 بجے کانٹا بدل کر لوپ لائن پر کھڑی کی گئی، اکبر بگٹی ایکسپریس ساڑھے 4 بجے پہنچی تو حادثے کا شکار ہوگئی۔دوسری جانب وزیر ریلوے شیخ رشید نے واقعہ کا انسانی غفلت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے ۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved