تازہ تر ین

سلمیٰ اعوان کا افسانہ

میم سین بٹ….ہائیڈپارک
حلقہ ارباب ذوق لاہور کے 360 ارکان میں خواتین کی تعداد تقریباََ 35ہے ان میں سے بھی صرف چند خواتین ہفتہ واراجلاس میں شریک ہوتی ہیں زیادہ تر سالانہ جلسے میں آتی ہیں۔ماضی قریب میں درنجف زیبی حلقے کی سیکرٹری رہ چکی ہیں رواں سیشن میں فریحہ نقوی بلامقابلہ جائنٹ سیکرٹری منتخب ہوئی ہیں اس کے باوجود حلقے میں خواتین نے زیادہ تعداد میں شریک ہونا گوارہ نہیں کیا بلکہ گزشتہ سیشن کے دوران آنے والی دانشور خواتین بھی اب منظر سے غائب ہیں حالانکہ حلقے کے موجودہ سیکرٹری حقوق نسواں کے خود خواتین سے بھی زیادہ حامی ہیں تفنن برطرف عامر فراز کو چاہیے کہ کسی اتوار کو حلقہ ارباب کا اجلاس صرف خواتین کیلئے مختص کردیں جس میں صدارت بھی کوئی خاتون قلمکار کرے ،مہمان خصوصی بھی لکھاری خواتین ہوں اور تخلیقا ت بھی صرف خواتین پیش کریں مگر شرط یہ ہو کہ وہ تنقیدی اجلاس نہیں ہونا چاہیے کیونکہ خواتین خود تو بہت بڑی منہ زبانی نقاد ہوتی ہیں مگر اپنی تخلیقات کی صرف تحسین چاہتی ہیں بہت کم لکھاری خواتین میں تنقید سننے کاحوصلہ پایا جاتا ہے اس حوالے سے سلمیٰ اعوان قابل تحسین ہیں۔
سلمیٰ اعوان اردو کی معروف افسانہ نگار، ناول نگار ،سفرنامہ نگار اور کالم نگار ہیںان کی اب تک 25 سے زائد کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں افسانوی مجموعے ،ناول اور سفرنامے شامل ہیں ان کی مشہور کتابوںمیں روپ ،لونا چماری ،وی آئی پی کارڈ ،خبر ہونے تک، میرا بلتستان ،سند رچترال ،روم کا تریوی فاﺅنٹین اور بغداد کا ڈاﺅن ٹاﺅن وغیرہ شامل ہیں۔سلمیٰ اعوان کے افسانے پر سفرنامے اور کالم کے اثرات ملیں تو یہ فطری چیز کہلائے گی تاہم اس پر شعوری کوشش سے قابو پایا جا سکتا ہے ۔حلقہ ارباب ذوق میں اتوار کو زاہد مسعود کی زیر صدارت ان کا افسانہ تنقید کیلئے رکھا گیا تھا ،سلمیٰ اعوان نے جب ” روح فگار اپنی“ کے عنوان سے افسانہ پڑھا تو توقعات کے عین مطابق اس پرسب سے بڑا اعتراض یہی کیا گیا جس کا ابھی ذکر کیا گیاہے متعدد نقاد دانشوروں نے افسانے کے موضوع اور زبان و بیان کی بےحد تعریف کی مگر افسانے کی فنی حیثیت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
افسانے پر گفتگو کا آغاز قاضی ظفراقبال نے کیا اور جہاد کی تعریف بیان کردی ،امجد طفیل کو افسانے پر کہیں سفرنامے اور کہیں رپورتاژ کا گماں ہوتا رہا ،ان کااعتراض درست تھا کہ جب اس موضوع پر ڈھیروں کتابیں شائع ہو چکی ہیں اگر اس موضوع کو افسانے میں استعمال کرنا تھا تو پھر وہ فن پارہ ہونا چاہیے تھا ،میاں شہزاد کو افسانے میں یکطرفہ نظریہ اور افسانہ نگار خود بولتا ہوا محسوس ہوا انہوںنے افسانہ نگارکو مشورہ دیا کہ افسانے کو اس کے وسیع کینوس کی بنا پر ناول بنا لینا چاہیے ،عامر فراز کو افسانے کا اختتام فلمی انداز کا لگا غالباََ اسی وجہ سے انہیں افسانے پر نظر ثانی کی گنجائش محسوس ہوئی ۔حسین مجروح افسانہ ختم ہونے کے بعد حلقے میں پہنچے تھے اور ہم نے سوچا تھا کہ یہ سلمیٰ اعوان کے حق میں اچھا ہی ہوا ہے لیکن حسین مجروح نے قائم مقام جائنٹ سیکرٹری ناصر علی سے افسانے کا مسودہ لے کر اس کا مطالعہ کیا اور پھر حسب معمول انہوں نے پورے افسانے کا پوسٹ مارٹم کرکے رکھ دیا ۔ان کے چند اعتراضات درست تھے واقعی کسی تخلیق کار کوسرکاری بیانیہ نہیں اپنانا چاہیے ،سرکاری بیانیہ تو بدلتا رہتا ہے اور پھر واقعات کے ذریعے ترتیب دیا جانے والا منظر نامہ تخلیق نہیں کہلا سکتا، افسانے میں زبان و بیان اور واقعات نگاری کے توحسین مجروح قائل ہوئے لیکن افسانوی سطح پر سلمیٰ اعوان کی تحریر ان کے نزدیک تخلیق نہیں بن سکی تھی،زاہد مسعود نے افسانے پر بحث کو سمیٹتے ہوئے اظہار خیال کرنے والے بیشتر نقادوں کے ساتھ اتفاق کیا اور افسانے میںزبان و بیان کی تعریف کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں پائے جانے والے فنی سقم پر صدارتی مہر ثبت کردی ۔
سلمیٰ اعوان نے اپنے افسانے پر تنقید کوخندہ پیشانی سے برداشت کیا انہوں نے نقادوں کی تجاویز بھی غالباََ ذہن میں نوٹ کرلی ہوں گی ان کی جگہ کوئی نوآموز ادیبہ ،شاعرہ ہوتیں تو شاید اجلاس ادھورا چھوڑ کر چلی جاتیں لیکن سلمیٰ اعوان اپنا افسانہ پڑھنے کے بعد اس پر گفتگو مکمل ہونے کے بعد بھی اجلاس کے اختتام تک جم کر بیٹھی رہیں۔ افسانے کے بعد حلقے کے رکن توقیر عباس نے نظم جبکہ این سی اے کے طالبعلم رضا جعفری نے غزل تنقید کیلئے پیش کی ،نظم کے حوالے سے میاں شہزاد نے نشاندہی کی کہ دھرپد پر رقص نہیں ہوتا ،حسین مجروح نے مشورہ دیا کہ دھرپد کی جگہ سنگیت اور کسبی کی جگہ نرتکی ہونا چاہیے۔ حسین مجروح کو نظم میں کہیں کہیں مجید امجد کی جھلک محسوس ہوئی شاید توقیر عباس بھی ان کی طرح جھنگ کے رہنے والے ہیں، عامر فراز نے انکشاف کیا کہ توقیر عباس کی نظموں میں پراسراریت اس لئے پائی جاتی ہے یہ فکشن کا بہت زیادہ مطالعہ کرتے ہیں ،شاہد اشرف کو نظم نے ابتدا سے ہی گرفت میں لے لیا تھا اور شروع سے آخر تک انہیں بےحد متاثر کیا ،زاہد مسعود کو نظم میں موسیقیت پسند آئی انہوں نے صدارتی کلمات میں اسے کامیاب تجربہ قرار دیتے ہوئے اسے جاری رکھنے کا مشورہ دیا ۔ رضا جعفری کی نظم بھی ہمیں تجریدی آرٹ کا نمونہ لگی اسے بیشتر نقادوں نے خاصی دیر تک مشق ستم بنائے رکھا ،حسین مجروح نے تو حسب معمول اس کا تفصیلی پوسٹ مارٹم کرنا ہی تھا امجد طفیل اور خالد رامے نے بھی غزل میں ترامیم تجویز کردیں تاہم عامر فراز شاعر کی مدد کو پہنچ گئے اور انہوں نے ترامیم سے اتفاق نہ کیا جس پر حسین مجروح کو دوبارہ مائیک سنبھالنا پڑا اس بار انہوں نے نظم نگار کے ساتھ سیکرٹری حلقہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔حسین مجروح ہماری اگلی نشست پر بیٹھے تھے ہم نے جھک کر ان کے کان میں کہا کہ نئے لوگ حلقے میں سیکھنے کیلئے ہی آتے ہیں آپ ان کی تربیت کریں انہیں دلبرداشتہ نہ کریں آخر میں فیصل آباد سے آئے مہمان شاعر علی زریون نے اپنا کلام سنایا اور خوب داد پائی ،علی زریون کے دو اشعار تھے ۔۔۔۔
عجیب خبط مسیحائی ہے کہ حیرت ہے
مریض مر بھی چکا ہے دوائی جاری ہے
بگڑ گیا ہوں مگر یاد کرتا رہتا ہوں
کتاب چھوڑ چکا ہوں پڑھائی جاری ہے
(کالم نگارسیاسی اورادبی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved