تازہ تر ین

تبدیلی کےلئے کچھ کر گزریں

نصیر ڈاھا …. گستاخی معاف
جس تبدیلی کی تمنا اور خواہش ہمارے دلوں میں عرصہ دراز سے موجود تھی اور اب پچھلے ایک سال سے جس کے بارآور ہونے کی امید میں ہم لمحہ لمحہ اور پل پل اذیتوں اور کرب کی سولیوں پر بیتا رہے تھے، وہ دکھائی تو دی ہے لیکن ایک سراب کے مانند اور محسوس تو ہوئی ہے لیکن خاردار جھاڑی کے مانند۔ جو لوگ اس تبدیلی کے حامی ہیں ان کے دلائل کا کوئی توڑ نہیں اور جو مخالف ہیں ان کے دلائل بھی وزن میں بہت بھاری ہیں۔ ہر شخص بڑھ چڑھ کر حمایت یا مخالفت میں بات کررہاہے اور اس سے بڑھ کر ایک توجیہ پیش کررہاہے۔ ہم لوگ کہ جو عوام کی بات کرتے ہیں، اس ملک و وطن اور دیس کے مسائل کی بات کرتے ہیں اور حقیقی معنوں میں غریب کی آنکھوں میں بسنے والے سپنے اور اس کے دل میں پلنے والے ارمانوں کو اور پھر ہر شام ڈھلتے سورج کے ساتھ اس کی مدھم ہوتی امیدوں کے چراغوں کو سامنے رکھ کر بات کرتے ہیں۔ ہمیں اس سے کوئی دوش نہیں کہ حکومت کس کی ہے اور کیا وہ الیکٹڈ ہے یا سلیکٹڈ!یہ ایک الگ بحث ہے لیکن جب آپ کسی غریب کی بات کریں ، ایسے غریب کی جو صبح گھر سے اس امید کادامن پکڑے نکلتاہے کہ شام کو لوٹوں گا تو بچوں کے لئے روٹی لاﺅں گا لیکن جب وہ سارا دن بے کار گزار کر اور کام ملنے، کام کے بعد اجرت ملنے اور پھر اس اجرت کے پیسوں سے ضروری راشن خریدنے کی تگ ودو میں ناکام ہوجاتاہے تو ایسے شخص کا درد کوئی نہیں جان سکتا۔ ایسے شخص کے نہ دکھائی دینے والے آنسوﺅں کی کڑواہٹ کوئی محسوس نہیں کرسکتا اور ایسے دردمند اور بے کس کے دل سے نکلی ہوئی آہوں کو کوئی سن نہیں سکتا ۔
حکومت کامطمح نظر ہے کہ غربت ہر حال میں ختم ہونی چاہیے۔ امیر اور صاحب ثروت لوگ خود ٹیکس بھی اداکریں اور غربت ختم کرنے اور ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کرنے کے لئے اپنا دستِ تعاون بھی بڑھائیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہرحکومت خواہ وہ کسی بھی جماعت کی ہو، ایسے ہی زریں اور متاثر کن خیالات کی حامل ہوتی ہے اور اپنے مشن کو عملی جامہ پہنانے کی حتی الوسع کوشش بھی کرتی ہے۔ تاہم موجودہ حکومت کے حق میں یہ بات اس لیے بھی زیادہ وزن رکھتی ہے کہ اس کا اول و آخر مشن ہی یہی ہے کہ نہ صرف لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جائے بلکہ ایسے لوگوں کو بھی سسٹم میں شامل کیاجائے جو اس ملک میں رہتے ہوئے بے تحاشا دولت کماکر اپنی عیاشیوں پر خرچ تو کرتے ہیں لیکن ملک کے مسائل کے حل میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ چنانچہ بیک وقت چومکھی لڑائی لڑی جارہی ہے۔ بدعنوان عناصر سے لوٹی ہوئی دولت کی بازیابی، دولتمندوں سے ٹیکسوں کی وصولی، ٹیکس نظام میں اصلاحات ، غیر ملکی قرضوں کی واپسی اور حکومت کے فلاحی اقدامات کے ثمرات براہ راست غریب عوام تک پہنچنے کی کاوشیں ! پھر جو لوگ رنگ میں بھنگ ڈالنے کے عادی ہیں ان کے پراپیگنڈہ اور غلط تشریحات اور گمراہ کن بیانات کی تردید بھی حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہوگئی ہے ۔ یہ ساری باتیں اپنی جگہ درست لیکن بنیادی سوال جو پیدا ہوتاہے وہ اپنی جگہ بدستور موجود ہے کہ کیا غریب کی حالت میں وہ تبدیلی درآئی ہے جس کا خواب پچھلے برسوں کے دوران دیکھا گیا تھا اور کیا ملکی مسائل میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے۔
دراصل اس امر میں کوئی شک نہیں کہ حکومت اپنے اقدامات میں مخلص ہے اور ساری حکومتی مشینری اس کوشش میں ہے کہ حقیقی معنوں میں تبدیلی کا عکس ہر اقدام اور ہر کا م میں ہرگام پر دکھائی دیناچاہیے ۔ اصل معاملات تب گڈمڈ ہوئے ہیں جب پالیسیاں تشکیل دیتے وقت ان کے اثرات کے بارے میں کوئی زیادہ تردد او ر غور وفکر نہیں کیا گیا۔ مثلاً یہی دیکھ لیجیے کہ جی ایس ٹی پچھلے کئی برسوں سے نافذ ہے لیکن اِسے ایک بار پھرایک عجیب صورت میں نافذ کیا گیا ہے۔ بازار سے کوئی بھی چیز خریدی جائے، خواہ کسی بڑے سٹور سے یا محلے کے معمولی کھوکھے سے، اس پر سترہ فیصد جی ایس ٹی دینا پڑتاہے لیکن اب حکومت نے یہ ٹیکس بڑی دکانوں پر اس طرح نافذ کیا ہے کہ دکاندار اپنی آمدن میں سے جی ایس ٹی ادا کرے گالیکن دلچسپ امر ملاحظہ کیجیے کہ دکانداروں نے یہ ٹیکس بھی خریداروں سے وصول کرنا شروع کردیا ہے۔ اس چیز نے عام شہریوں کو الجھا کر رکھ دیا ہے۔ اب ظاہر ہے یہ ٹیکس دکانداروں پر لگاتے وقت یہ سوچا ہی نہیں گیا کہ دکاندار اِسے علیحدہ سے خریداروں سے ہی وصول کریں گے۔ اس بابت ابھی تک حکومت کی جانب سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی۔ پھر اسی طرح عندیہ دیاجارہاہے کہ جلد ہی ریڑھی والوں تک ہر فروخت کنندہ کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیاجائے گا۔ ریڑھی بان ایک ایسا طبقہ ہے جو بمشکل اپنی دووقت کی روٹی کے لئے جدوجہد کرتاہے اور جہاں وہ اپنی ضرورت پوری کرتاہے وہاں اپنے جیسے دیگر غریب خریداروں کی سفید پوشی کا بھرم بھی قائم رکھتاہے۔ ریڑھی بان نہایت معمولی منافع پر اشیاءخاص طور پر پھل وغیرہ فروخت کرتے ہیں ۔ اب اگر ان پر بھی ٹیکس عائد ہواتوظاہرہے اس کا اثر غریب خریدارپر ہی پڑے گا۔ پھر اس طرح گاڑیاں ، گھر اور دیگر قیمتی اشیا ءکی خریداری کے لئے بھی ٹیکسوں کا بھرپورنفاذ عمل میں لایاگیاہے جو پہلے سے کئی گنازیادہ ہیں ۔ کہا گیا ہے کہ ہزار سی سی تک گاڑی کی خریداری پر کوئی سوال وجواب نہیں ہوگا لیکن عملی طور پر دیکھاجارہاہے کہ سات آٹھ سوسی سی کی گاڑی خریدنے والے بھی مرسڈیز اور لینڈکروزرخریدنے والوں کی فہرست میں شامل کردیے گئے ہیں۔ یہی حال چھوٹے مکان اور پلاٹ وغیرہ خریدنے والوں کا ہے۔ دراصل ٹیکس وصول کرتے ہوئے طبقات کا فرق نظرانداز کردیاگیاہے۔ کاروباری طبقہ وغیرہ ایسا ہے کہ جو ٹیکس اپنی جیب یعنی اپنے منافع سے ادا نہیں کریگا اور ساری وصولی غریب عوام سے کریگا لیکن جو طبقہ تنخواہ دارہے یا دیہاڑی دار تو ان کا کیابنے گا۔ چنانچہ پالیسیاں تشکیل دیتے وقت طبقات کا یہ فرق، ٹیکس وصولی کا مکمل میکانزم سامنے رکھنے کی ضرورت ہے ۔ ابھی تک سمجھا جارہاہے کہ حکومت ملک کی ساری 22کروڑ عوام کو ہی ٹیکس نیٹ میں لاناچاہتی ہے۔ ایسا عملی طور پر ممکن نہیں اور نہ ہی دنیا کے کسی ملک میں ایسا ہوتاہے۔ وہاں سب ٹیکس دولت مندوں پر نافذ ہیں۔ اس لیے وہاں ٹیکس دہندگان کو بھرپورعزت دی جاتی ہے۔ پھر یہ دولت مند لوگ اپنے ٹیکس صرف اپنے منافع میں سے ادا کرتے ہیں نہ کہ اسے اشیاءکی قیمت بڑھاکر خریداروں سے ہی وصول کرتے ہیں۔ یہی طریقہ کار یہاں پر بھی ہوناچاہیے۔
معاملات کو خراب ہونے اور عوام کو پریشان کن افواہوں سے بچانے کے لئے لازم ہے کہ طبقات کا فرق بھی بیان کیاجائے اور معاشرتی و معاشی تقسیم کو بھی ملحوظ رکھاجائے۔ صاف بتادیاجائے کہ دولت مندیا ٹیکس دہندہ کی تعریف میں کون سا فرد آتا ہے ۔ اور اگر ایسا ہوجائے کہ سارے ٹیکسوں کو ایک ہی ٹیکس میں ضم کردیاجائے تو اس سے ساری پریشانیاں دور ہوجائیں گی۔ جس کی جو آمدن ہواس پر اسی حساب سے ایک ہی دفعہ ٹیکس وصول کرلیاجائے۔ اس کے بعد وہ چاہے جو کچھ کرے، کوئی جانچ پڑتال نہ ہو۔ تاجر طبقہ اسی چیز کا مطالبہ کررہاہے۔ عملی طور پر بھی دیکھاجارہاہے کہ ایک شخص ایک چیز کی خریداری کے لئے کئی جگہوں پر ٹیکس ادا کررہاہے۔ ان ساری چیزوں پر توجہ دینے کی اشدضرورت ہے۔ یہ سب کچھ ہوگا اور حکومتی ریلیف کے اثرات جب عوام تک پہنچیں گے تو وہ ٹیکس بھی بخوشی ادا کریں گے ۔ وگرنہ ”خزانہ خالی ہے “کی رٹ لگانے سے کوئی ٹیکس ادا نہیں کریگابلکہ ٹیکس دہندگان اس شک میں مبتلا ہیں کہ آخر ان کااداکیا گیا ٹیکس جاتاکہاں ہے؟
(دبئی میں مقیم‘ سیاسی وسماجی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved