تازہ تر ین

بھارتی اسلاموفوبیا کی جڑیں اور مظاہر(2)

ظہور احمد نیازی….خاص مضمون
نریندرامودی حکومت کی زیادتیوں کو بے نقاب کرنے اور اسے تنقید سے بچانے کے لیے میڈیا کے تمام شعبوں کو سخت قسم کے دباﺅ،دھونس اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔اس میں کچھ اسی نوعیت کے جابرانہ ہتھکنڈے برتے جارہے ہیں جو1950-54ءکے دور میں سینیٹر میکارتھی کی نگرانی میں امریکی حکومت نے مبینہ طور پر کمیونسٹوں کے خلاف اٹھائے تھے۔ تب جن لوگوں کو بلیک لسٹ کیا گیا اور نوکریوں سے نکالا گیا، ان میں بہت سوں کا تو کمیونسٹ پارٹی سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ چنانچہ صحافیوں کا گلا گھونٹنے کے لیے حکومتیں جو بھی سخت اقدامات کرتی ہیں، انھیں اب دنیا بھر میں ’میکارتھی ازم‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بی جے پی کے ’وار روم‘ میں ایسے تمام صحافیوں اور دانش وروں کی نشاندہی کی جاتی ہے، جو اخبارات و جرائد، ریڈیو یا ٹی وی یاسوشل میڈیا پر مودی سرکار پر تنقید کرتے ہیں۔ پھر ان کی درجہ بندی کی جاتی ہے کہ کس کے ساتھ کیا سلوک کرنا ہے؟ پھران میڈیا ہاﺅسز اور صحافیوں کے خلاف آن لائن نفرت انگیز مہم شروع کی جاتی ہے، انھیں قتل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں‘۔ کچھ صحافیوں کا کہنا تھا کہ: ’اگر وہ مودی یا اس کے اداروں کے بارے میں معمولی سی بھی لب کشائی کرلیں تو انھیں سنگین دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ ذرا سی تنقید کی اشاعت پر تین سینئر ایڈیٹروں کو اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔ جو رپورٹر سرکاری لائن سے ہٹ جائیں، انھیں بغاوت کے الزام میں قیدوبند کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے‘۔ ایک خاتون مسلم صحافی رعنا ایوب اور اس کے خاندان کو گینگ ریپ کی دھمکی دی گئی۔ اس کی جان کو اتنا خطرہ لاحق ہوا کہ اقوامِ متحدہ کو مداخلت کرنا پڑی۔2019ءکے بھارتی انتخابات کے پہلے ہی روز بی جے پی کی طرف سے یہ ٹویٹ کیا گیا کہ ہم شہریوں کے قومی رجسٹر سے بودھوں، سکھوں اور ہندوﺅں کے سوا ہر ایک ’گھس بیٹھیے‘ (مراد ہے مسلمان اور عیسائی) کا نام خارج کردیں گے۔اشارہ واضح ہے بی جے پی مذکورہ تین قوموں کے سوا سب کو شہریت اور حق راے دہی سے محروم کرنا چاہتی ہے۔ بی جے پی کے صدر امیت شا جو اَب وزیرداخلہ بن گئے ہیں، وہ بار بار کہتے رہے ہیں: ”ہم ان ’دیمکوں‘ (termites) کو اٹھا کر خلیج بنگال میں پھینک دیں گے“۔ مسلمانوں کے خلاف شدید نفرت ،غصے اور انتقام کی یہ آگ،فیس بک ، وٹس ایپ، ٹویٹر اور سوشل میڈیا کے تمام دیگر ذرائع پر اتنی تیزی اور شدت سے پھیلائی جارہی ہے کہ اس کی تپش ہرمسلمان اپنے دل میں محسوس کر رہا ہے۔
’اسلاموفوبیا رپورٹ‘ کے مطابق 2017ءمیں مودی سرکار پر تنقید کے جرم میں چار صحافیوں کو قتل کر دیا گیا اور2018ءمیں اس رپورٹ کی تیاری تک مزید چار صحافی ہلاک کر دیے گئے۔ انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق: ایک خاتون صحافی گوری لینکش کے قتل کا فیصلہ ایک سال پہلے کیا گیا۔ زیرزمین دہشت گرد تنظیموں کے ایک کارکن پرشورام کو بالآخر حکم دیا گیا کہ ’ہندو دھرم کی خاطر‘ گوری کو ٹھکانے لگا دو۔ نام نہاد تحقیقات کے بعد قاتل پرشورام کو بری کر دیا گیا۔
رفتہ رفتہ یہ دکھائی دے رہا ہے کہ ’مسلمانوں کے لیے کوئی محلہ ،کوئی علاقہ اور کوئی سفر محفوظ نہیں رہا ہے‘۔ اسلاموفوبیا رپورٹ بتاتی ہے کہ بھارت کے مختلف علاقوں میں: ’مسلمان بڑے پیمانے پر نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں‘۔ جب پارٹی ٹکٹ کا معیار یہ ہو کہ: ’امیدوار نے کتنے مسلمان قتل کیے ہیں؟ تو پھر پراگیا ٹھاکرجیسے لوگ لیڈر بنتے ہیں کہ جس نے صرف ایک حملے میں 10مسلمان شہید کر دیے تھے اور مودی نے اسے اپنا چہیتا امیدوار بنا لیا۔ اس پر ایسے قتلِ عمد اور کئی قاتلانہ حملوں کا الزام ہے، لیکن کہیں کسی نے کوئی تحقیقات نہیں کیں۔ رپورٹ میں متعدد واقعات کے حوالے سے ثابت کیا گیا ہے کہ: ’مسلمانوں پر حملوں کی بڑی وجہ سیاسی مفادات ہیں۔ اس فضا کے نتیجے میں مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جارہا ہے۔ اگر کوئی مسلمان، ہندو اکثریت کے محلے میں رہتا تھا تو اس کا گھر حملے کا نشانہ بننے لگا۔ شہروں، قصبوںاور محلوں میں آبادیاں مذہب کے حوالے سے بٹنے لگیں۔ حکومت نے اس رجحان کی روک تھام کرنے کے بجاے مزید ہوا دی، جو اسلاموفوبیا کا واضح ثبوت ہے۔ جس زمین کی ذرا سی بھی اچھی قیمت نظر آئی، اسے مسلمانوں سے خالی کرانے کے لیے پورے محلے اجاڑ دیے گئے اور مسجدیں شہید کردیں۔ اترپردیش، کرناٹک، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، بہار، راجستھان، مغربی بنگال، جھاڑکھنڈ، تلنگانہ اور آسام میں سب سے زیادہ ہندو مسلم فسادات ہوئے۔ان حملوں میں جانی و مالی نقصان مسلمانوں کا ہوتا رہا اور الٹا الزام بھی ان پر دھر دیا جاتا کہ انھوں نے ہندوﺅں پر حملے کیے ہیں۔ مسلمانوں کو اپنے گھروں سے بے دخل کرنے کی پالیسی میں2017ءسے تیزی دیکھنے میں آئی۔ ان کی رہایشی، تجارتی یا زرعی اراضی پر دعوے دائر کردیے گئے۔ مسلمانوں کی جاسوسی شروع کر دی گئی۔ ان کے محلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پمفلٹ تقسیم کیے گئے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں2017ءکے بعد کے حملوں کا ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ: ’مودی حکومت میں مسلمان ٹوٹی پھوٹی، بدحال اور گندی آبادیوں میں منتقل ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ سماجی اور اقتصادی میدانوں میں ان پر آگے بڑھنے کے دروازے بند کیے جاتے ہیں۔ ہرلمحے انھیں اپنی سلامتی کی فکردامن گیر رہتی ہے‘۔
رپورٹ سے ذرا ہٹ کر یہاں بھارت کی ایک مسلم خاتون صحافی رعنا ایوب اپنے ایک مضمون میں لکھتی ہیں کہ:’میرا بھائی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتا ہے۔ ممبئی کے اَپرمڈل کلاس علاقے میں اسے اپنا اپارٹمنٹ، جو اسے مارکیٹ کے نرخ سے زیادہ قیمت پر دیا گیا تھا، اس لیے چھوڑنا پڑا کہ مسلمان ہونے کے ناتے اس کا مکمل سماجی بائیکاٹ کیا جارہا تھا۔ وہ اسی شہر میں پلابڑھا مگرنفرت کا سامنا کرتے ہوئے اسے بے در ہونا پڑا۔ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہے۔ یہاں تجارت اور صنعت سے وابستہ کتنے ہی مسلمان یہ رونا رو چکے ہیں‘۔1993ءکے مسلم کش فسادات میں رعنا کے خاندان کو نقل مکانی کرکے مسلم اکثریتی علاقے میں منتقل ہونا پڑا۔ یہ مالی طور پر مستحکم مسلمانوں کا حال ہے۔ وہ دوسرے ملکوں میں منتقل ہونے یا کم از کم اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے انھیں بیرونِ ملک یونی ورسٹیوں میں بھیجنے کی سبیلیں سوچ رہے ہیں۔ مسلمانوں میں اس اَپرمڈل کلاس کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ذرا سوچیے کہ مسلمانوں کی اکثریت آسودہ حال نہیں ہے، اور وہ اس انسانیت کش فضا میں دوسرے درجے کے شہری بن کر رہنے پر مجبور ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کی تعداد کا تخمینہ23کروڑ لگایا جاتا ہے۔ رعنا اپنے مضمو ن میں یہ تعداد19کروڑ بتاتی ہیں۔ اگر یہ تعداد بھی تسلیم کرلی جائے تو مسلمان کل آبادی کا14فی صد ہیں۔ 2002ءکے مسلم کش فسادات میں ہزاروں مسلمانوں کو بے دردی سے ہلاک کیا گیا۔ ریلیف کیمپوں کے دورے کے بعد رعنا لکھتی ہیں کہ: ”میں نے ان عورتوں کی بے بسی دیکھی جن کی آبروریزی کی گئی تھی۔ ان معصوم بچوں سے ملی جن کے چہروں سے مسکراہٹ چھین لی گئی تھی، جن کے والدین کو ان کی آنکھوں کے سامنے نیزوں، برچھوں اور تلواروں سے ٹکڑے ٹکڑے کیا گیا تھا اور حملہ آور ’جے جے کار‘ کر رہے تھے۔ نریندر مودی اس وقت گجرات کا وزیراعلیٰ تھا۔ اب وہ پورے ملک کا وزیراعظم ہے۔ کیا گجرات کی تاریخ پورے ملک میں دہرائی جائے گی؟“
2014ءمیں مودی سرکار کے آتے ہی ’گاﺅماتا کی رکھشا‘ (تحفظ)کے نام پر بھی مسلمانوں پر حملوں میں تیزی آگئی۔ ایک طرف تو بھارت گائے کے گوشت کا دنیا میں سب سے بڑا برآمد کرنے والا ملک ہے۔ بیف کی برآمدات میں20فی صد حصہ بھارت کا ہے۔ اس کے تمام تاجر ہندو ہیں، مگر دوسری جانب اسی گائے کے نام پر مسلمانوں کے گلے کاٹے جارہے ہیں۔ بی جے پی کی تمام پالیسیاں آر ایس ایس تشکیل دیتی ہے۔ آر ایس ایس اپنی 84سالہ جدوجہد کا پھل اب کھانے کو تیار ہے۔ کیا وہ آئین کو تبدیل کرکے بھارت کو مکمل ہندو ریاست بنالے گی؟ کیا وہ 23کروڑ مسلمانوں کی شہریت ختم کرکے انھیں ملک بدر کرنے میں کامیاب ہوجائے گی؟ میانمار میں اس کا پہلے ہی تجربہ کیاجاچکا ہے۔ روہنگیا مسلمان بے وطن ہوکر کشتیوں میں ملک ملک پھر رہے ہیں اور کوئی ملک انھیں پناہ دینے کو تیار نہیں۔ صرف معمولی سی تعداد کچھ ملکوں میں داخل ہوسکی ہے اور وہاں بھی، ترکی کے سوا، بے سہارا پڑے ہیں۔ اگر بھارت مکمل ہندو ریاست بن گیا تو اس میں بھارتی مسلمانوں کے لیے آزمایش کا ایک سخت دور شروع ہوگا، جس کے بارے میں آقا صلی اللہ علیہ وسلم پیش گوئی کرچکے ہیں کہ: ’ایک دور میں مسلمان ہونا ہاتھ پر انگارہ رکھنے سے زیادہ مشکل ہوگا‘۔
بظاہر دکھائی دیتا ہے کہ بی جے پی کے دورِ حکومت میں پاکستان پر جنگ کے بادل منڈلاتے رہیں گے اور یہ فضا خود بھارتی حکومت قائم رکھے گی، تاکہ اس نفرت سے سیاسی فائدہ اٹھائے۔ اس ماحول میں ضروری ہے کہ پاکستان بدلتے ہوئے منظرنامے پرنظر رکھے۔(ختم شد)
(بشکریہ:عالمی ترجمان القرآن)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved