تازہ تر ین

الٹی گنتی شروع؟

کامران گورائیہ
عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف کو اقتدار سنبھالے ہوئے 11 ماہ سے زائد کا عرصہ بیت گیا لیکن ان گزرے ہوئے مہینوں میں بحیثیت وزیراعظم عمران خان کی ناتجربہ کاری اور کابینہ میں شامل ترجمانوں، مشیروں اور وزرا کی کارکردگی بھی عوام کے سامنے عیاں ہوتی چلی جا رہی ہے۔ داخلی و خارجی پالیسیاں ہوں، معاشی اہداف ہوں یا مہنگائی، پسماندگی اور بیروزگاری کا عفریت، کسی بھی شعبہ پر حکومتی گرفت انتہائی کمزور نظر آ رہی ہے۔پاکستانی عوام تحریک انصاف اور وزیراعظم عمران خان سے بہت زیادہ توقعات لگا بیٹھے تھے لیکن وہ امیدیں اور توقعات ریت کے محل کی طرح مسمار ہو رہی ہیں۔ مہنگائی کا نہ تھمنے والا اور بے لگام طوفان عوام و خواص کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ قومی صنعتی ادارے ہوں یا تاجر برادری، کسان ہوں یا روزانہ کے دیہاڑی دار، ملازمت پیشہ افراد ہوں یا ملک کی اعلی بیورو کریسی ،کہیں پر کوئی بھی مطمئن نظر آرہا ہے اور نہ ہی اپنی اپنی ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے کوئی متحرک دکھائی دے رہا ہے۔ معیشت کا پہیہ رک چکا ہے غیر ملکی سرمایہ کاری میں رکاوٹیں اور مشکلات آڑے آ رہی ہیں۔ ملک کے طول و ارض میں جرائم کی شرح میں بھی تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ پراجیکٹ کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔ شعبہ صحافت جسے ماضی میں آمرانہ ادوار میں بھی مملکت کے چوتھے ستون کے طور پر اہمیت دی جاتی رہی ہے ،اب زبوں حالی کا ایسا شکار ہو چکا ہے کہ شاید ملکی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ شعبہ صحافت میں پیشہ وارانہ امور انجام دینے والے ہزاروں افراد بیروز گاری کی دہکتی بھٹی میں جھونک دیئے گئے ہیں حتی کہ بہت سے ادارے بند کر دیئے گئے ہیں ۔ دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ متعدد ایسے صحافیوں پر عرصہ¿ حیات تنگ کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں جو حکومتی پالیسیوں پر تنقید کر رہے ہیں، ان کا احتساب شروع کر دیا گیا ہے۔ ایسا ماضی میں کبھی نہیں ہوا کہ حکومتی کارکردگی کی ہدف تنقید بنانے والے صحافیوں کو غدار وطن قرار دیا جا ئے۔ اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی قائدین کے چینلز کو دیئے گئے ریکارڈ شدہ انٹرویوز کو نشریات کے آغاز میں ہی رکوا یا جا رہا ہے۔ میڈیا مالکان کو قابو میں رکھنے کے لیے بلوں کی واجبات کی ادائیگیاں روکنے سمیت بہت سی دوسری دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں ۔
بعض تجزیہ نگار یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کو اقتدار میں لانے والی پس پردہ قوتوں کو بھی اب شدت سے احساس ہوگیا ہے کہ اس مرتبہ انہوں نے ایک ناقابل یقین اور نا قابل بھروسہ ایسے شخص کو قومی فیصلے کرنے کے اختیارات سونپ دیئے ہیں جو کبھی بھی اور کسی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے بلکہ اس کے بہت سے فیصلوں پر دنیا بھر میں پاکستان اور اس کے عوام کی جگ ہنسائی اور سبکی ہو رہی ہے۔ ماہرین بلا تامل کہہ رہے ہیں کہ عمران خان حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں اور ان کے لیے اپنا اقتدار زیادہ عرصہ تک برقرار رکھنا نا ممکن ہوتا جا رہاہے ،تو کیا الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے؟ کیا اس ملک کو عمرا ن خان بھی راس نہیں آئے جن کا دعوی ہے کہ وہ عوام کی خدمت کا جذبہ کسی بھی دوسرے سیاستدان سے زیادہ رکھتے ہیں بلکہ صادق اور امین تو ان میں کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا۔مگر اس ملک کے عوام(عام آدمی) اب چلا اٹھے ہیں کہ انہیں تبدیلی کے نام پر ایسا نیا پاکستان نہیں چاہیے جہاں پر ہر نئے دن میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان دیکھنا پڑتا ہے۔ اب عوام کسی نئی تبدیلی کی بجائے پرانے پاکستان کو شدت سے یاد کر رہے ہیں۔ انہیں اب ریلیف نہیں موجودہ حکومت سے نجات کی شاید طلب ہو رہی ہے اور شاید وہ وقت دور نہیں جب عوام سڑکوں پر ہوں گے اور حکومت مخالف تحریک کا فیصلہ کن آغاز ہو جائے۔64 سال کی عمر میں اپنے وقت کا مقبول ترین لیڈر بننے کے بعد اقتدارتک نہ پہنچنا عمران خان کے لئے فرسٹریشن کا سبب بن گیا،اگلے انتخابات تک یعنی تقریباً سترسال کے عمر رسیدہ شخص کو اقتدار کا حصول ناممکن دکھائی دینے لگاتھا۔ اب پانچ سال کا طویل عرصہ، تیزی سے بدلتی ملکی اور بین الاقوامی صورت حال کے علاوہ ان کے مد مقابل مقتدر خاندانوں کے نوجوان لیڈروں بلاول بھٹو اور مریم نواز کے چیلنجز سامنے آنے کے خدشے نے کپتان کے ذہن میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ اس سیاسی ناپختگی اور فرسٹریشن کے عالم میں عمران خان غلطیوں پر غلطیا ں کرتے جا رہے ہیں۔ماضی قریب میں چین اور پاکستان مسئلہ کشمیر سمیت بہت سے معاملات اور مسائل پر ایک موقف پر ڈٹے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے دور حکومت میں چین اور ترکی نے پاکستان کو معاشی اور اقتصادی بحران سے نکالنے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر تاریخی اقدامات کیے مگر عمران خان حکومت کو کشکول سرکارقرار دیا جا رہا ہے۔ کفایت شعاری، تبدیلی اور نیا پاکستان جیسے نعرے لگا کر اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل کرنے والے عمران خان یوٹرن لینے کی انتہائی حدوں کو چھو رہے ہیں۔ خارجہ پالیسی، داخلی معاملات، معاشی مسائل کا معاملہ ہو یا ملک کی اقتصادی صورتحال عمران خان حکومت کہیں پر بھی کسی ایک شعبہ کی بحالی میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ برآمدات ہوں یا درآمدات، سٹاک مارکیٹس کی ابتر صورتحال ہو، مہنگائی کا طوفان ہو، ناجائز تجاوزات کے نام پر جاری بے رحمانہ آپریشن، ڈالر کی اونچی اڑان کا معاملہ یا غیر ملکی سرمایہ کاری لانے کے لیے اقدامات، منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک سے رقوم کی واپسی کا معاملہ ،عمران خان حکومت کو ہر معاملہ میں ناکامی اور بے بسی کا سامناہے۔ حد تو یہ ہے کہ معاشی ماہرین موجودہ حکومت کو پاکستانی تاریخ کی کمزور ترین اور ناسمجھ حکومت قرار دے رہے ہیں۔ سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ عمران خان حکومت امریکا کی جھولی میں گرنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے ۔ عمران خان حکومت ملک کے عوام کو درپیش بنیادی مسائل حل کرنے پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف احتساب کے نام پر تابڑ توڑ حملے کرتی دکھائی دیتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ میں شامل بیشتر وزرا اور دیگر پارٹی رہنما اپوزیشن جماعتوں کے قائدین اور رہنماﺅں پر چور، ڈاکو اور لیٹرے جیسے سنگین الزامات عائد کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ملک میں پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا کی حکومت ہے۔ ملک کے عوام غربت، روزگاری اور مہنگائی کے سونامی سے متاثر ہے، پاکستانی کرنسی کوروزانہ کی بنیاد پر کمزور کیا جا رہا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت کو معیشت چلانے کی سمجھ بوجھ نہیں ہے، ڈالر کنٹرول میں نہیں مہنگائی 16فیصد بڑھ چکی ہے ۔ ایسی صورتحال میں تو تھوڑی سی سمجھ بوجھ اور شعور رکھنے والوں کاادراک یہی ہوگا کہ وزیراعظم عمران خان کے دن گنے جا چکے ہیں کیونکہ اب الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved