تازہ تر ین

پلاسٹک انڈسٹری بھی مشکل میں

اسحاق جیلانی……..نقطہ نظر
پچھلے 6 ماہ سے حکومت پاکستان کے کچھ ادارے چندنام نہاد این جی اوز کے اشاروں پر پلاسٹک شاپنگ بیگز انڈسٹری کی تباہی و بربادی کے در پے ہیں۔ پلاسٹک شاپنگ بیگز صنعت نے سالہا سال سے پاکستان میں ملکی اور غیر ملکی کثیر سرمایہ کاری کر رکھی ہے جس سے اربوں روپے حکومتی خزانے میں مختلف ٹیکسوں کی مد میں جمع ہوتے ہیںجبکہ شاپنگ بیگزانڈسٹری سے بالواسطہ اور بلا واسطہ ایک کروڑ سے زائد خاندان وابستہ ہیں۔پاکستان کی ٹاپ ٹیکس دینے والی پانچ انڈسٹریز میں سے ایک نام پلاسٹک شاپنگ بیگز انڈسٹری کا آتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس انڈسٹری کا سالانہ ریونیو امپورٹ کی مد میں تقریبا60 ارب روپے کے لگ بھگ جمع ہوتا ہے جبکہ 70 ارب روپے سے زائددیگر مختلف قسم کی مدات میں ٹیکس کلیکشن ہوتی ہے۔ پلاسٹک شاپنگ بیگز انڈسٹری سے وابستہ محب وطن حضرات کا تقریبا 150 ارب روپے مشینری، مارکیٹ،بلڈنگ وغیرہ کی صورت میں انویسٹمنٹ ہے۔بقول شاپنگ بیگز ایسوسی ایشن تمام تر کوششوں اور مسلمہ حقائق کے باوجود وفاقی اور صوبائی محکمہ جات انکا موقف سننے یا تسلیم نہ کرنے کیلئے تیار نہیں، جومیں سمجھتا ہوں انتہائی نا انصافی اور زیادتی ہے ۔ پلاسٹک شاپنگ بیگز انڈسٹری سے منسلک محب وطن جملہ حضرات ان اقدامات کو ہماری ڈوبتی معیشت کیلئے زہر قاتل سمجھتے ہیں جو من حیث القوم ہم کسی صورت برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں ۔ یہ کاروباری طبقہ اب و زیر اعظم عمران خان سے ایک کروڑ سے زائد خاندانوں کے رزق کے تحفظ کیلئے امیدیں وابستہ کیئے ہوئے ہے ۔میں سمجھتا ہوں حکومتی ذمہ داران کو کوئی ایسا قانون نہیں بنانا چاہئے جو ہماری مشکل میں پھنسی معیشت اور غریب عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کا سبب بنے۔
وزیر اعظم عمران خان اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے پلاسٹک انڈسٹری سے وابستہ ایک کروڑ سے زائدخاندان کی داد رسی کر کے ملک اور قوم کے ساتھ ہمدردی کا سامان کرنا ہوگا کیونکہ بہت سے مسائل میں ہم پہلے ہی الجھے ہوئے ہیں ،کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اپنے نادان دوستوں کے غلط فیصلوں کی وجہ سے اپنے محب وطن مذکورہ خاندانوں کو مصائب میں دھکیل کر ان کی آہوں کا راستہ ہموار کر بیٹھیں ۔اخباری اطلاعات کے مطابق آل پاکستان شاپنگ بیگزایسوسی ایشن کا گزشتہ دنوں ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا جس میں وفاقی محکمہ ماحولیاتی تبدیلی کا اسلام آباد میں شاپنگ بیگز پر پابندی کی تجویز اور وفاقی وزیر زرتاج گل کی طرف سے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو چودہ اگست سے اسلام آباد میں شاپنگ بیگز پر مکمل پابندی کی بھیجی گئی سمری کو یکسر مسترد کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں پلاسٹک انڈسٹری سے منسلک تقریبا 75 فیکٹریز مالکان نے شرکت کی تھی ۔جملہ شرکاءنے نام نہاد این جی اوز کے دباﺅ پر فیصلہ سازوں کے غلط فیصلوں کو حکومت کے اندر بیٹھے آستین کے سانپوں سے تعبیر کرتے ہوئے کہاکہ ایسے یک طرفہ اقدامات پاکستانی معیشت کیلئے زہر قاتل کے مترادف ہیں ۔
اجلاس میں مذکورہ نام نہاد این جی اوز کے اشاروں پر اسلام آباد میں شاپنگ بیگز پر پابندی اور اس حوالے سے مسلسل پلاسٹک انڈسٹری کے خلاف جاری تمام منفی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاگیا کہ اگر حکومتی ادارے پلاسٹک انڈسٹری کے سالانہ ٹیکس کی جانچ پڑتال ہی کر لیں تو حکومت وقت پاکستانی معیشت کی مشکلات میں اضافہ کرنے کی بجائے پلاسٹک شاپنگ بیگز کی پابندی کا کبھی سوچنے کا حوصلہ بھی نہیں کر سکتی ۔اس صنعت سے وابستہ فیکٹریز کی تعداد8 ہزار کے لگ بھگ ہے جبکہ 60 ہزار دکاندار اس پلاسٹک شاپنگ بیگز کے کاروبار سے بالواسطہ منسلک ہیں ۔ اس طرح براہ راست تقریباً60 ہزار خاندان ممکنہ فیصلوں سے متاثر ہونگے ۔روز روشن کی طرح واضح ہے اور بچہ بچہ جانتا ہے کہ اس صورتحال کی متحمل سٹریچر پر پڑی ہماری معیشت ہوسکتی ہے اور نہ ہی ہماری محب وطن عوام، جو پہلے سے ہی غربت کی سطح سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ چونکہ پاکستان میں پہلے ہی کروڑوں لوگ غربت کی سطح سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں لہذا حکومتی اداروں کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے مزید ایسے فیصلوں سے گریز کرنا ہوگا جس سے لوگ دو وقت کی روٹی کو ترسنے لگیں ۔
بلا شبہ ہم میں سے ہر ایک محب وطن ہے جو پاکستان کو فلاحی اور کامیاب ریاست دیکھنا چاہتا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کچھ نام نہاد این جی اوز جو حکومت اور پلاسٹک انڈسٹری کے درمیان فاصلے اور لڑائی کا ماحول پیدا کرنے کی مسلسل کوشش میں ہیں حیران کن اور پریشان کن حالات کی عکاسی کرتی ہے ۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پی ٹی آئی کے سینئر ذمہ داران کو فی الفور اپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہوئے ان ملک دشمن جو غیروں کے آلہ کار بن کر محب وطن لوگوں کے رزق پیچھے پڑے ہوئے ہیں انکے آگے بند باندھیں ،کہیں ایسا نہ ہو دوسری انڈسٹریز کی طرح پلاسٹک انڈسٹری کے لوگ بھی فیکٹریاں بند کر کے سڑکوں پرآنے کیلئے مجبور ہوں ۔خداراحکومت وقت کو فوری طور پر ڈوبتی معیشت کا خیال کرتے ہوئے شاپنگ بیگز کیلئے جاری منفی پراپیگنڈہ بند کرانا چاہئے تاکہ لاکھوں لوگوں کا روزگار جو اس انڈسٹری سے وابستہ ہے وہ پر سکون ہوکر ملک و قوم کی خدمت کیلئے کوشاں رہیں ۔اہل فکرو دانش فکر منداں ہیں کہ یہ سب کاروباری حضرات محب وطن لوگ ہیں انکے ساتھ مل کر باہمی مشاورت سے ماحول دوست بہتر فیصلے کیوں نہیں ہوسکتے جبکہ انہی حضرات کے ٹیکسوں پر ہمارے سرکاری آفیسران بڑے بڑے دفاتر میں اے سی،مہنگی گاڑیاں اور دیگر سہولیات دن رات لیتے اور مزے اڑاتے پائے جاتے ہیں وہ ان کی بات سننے کیلئے کیوں تیار نہیں۔ پلاسٹک شاپنگ بیگز ایسوسی ایشن کے نمائندے شکوہ کناں کیوں ہیں کہ ان کی حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی کی جاری ہے۔
وزیر اعظم سمیت دیگر ارباب اقتدار کو عقلمندی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ ہم پہلے ہی بہت سے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں کہیں ایسا نہ ہوکہ یکے بعد دیگرے ہمیں ہمارے اپنے ہی پیدا کردہ مسائل ایک طاقتور ریلے کی شکل اختیار کر کے ہمارا بچا کھچا بھی سب بہا لے جائےں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اداروں کو فوری پابند کیا جائے کہ وہ انڈسٹری کی نمائندگی اور مشاورت کے بغیر کسی قسم کا کوئی قانون نہ بنائےں ۔اور نہ ہی ایسا کوئی قانون بنایا جائے جو ہماری مشکل میں پھنسی معیشت اور غریب عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کا سبب ہو۔
(کالم نگارمختلف امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved