تازہ تر ین

خبریں کی خبر پر ایکشن۔۔۔! 15 روپے کی روٹی فروخت کرنا جرم ، سینکڑوں نان بائی گرفتار

پشاور ( محمد نعیم اختر سے ) خیبرپختونخوا اور بالخصوص پشاور میں دس روپے کی روٹی پندرہ روپے ہونے پر عوام سراپا احتجاج ہوگئی ہے یاد رہے کہ نانبائی ایسوسی ایشن نے 11 جولائی کو صوبہ بھر میں روٹی کی قیمت میں اضافے کے حوالے سے ہڑتال کی تھی صوبائی اور ضلعی انتظامیہ نے نانبائی ایسوسی ایشن کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے 150 گرام کی روٹی جس کی قیمت 10 روپے تھی اسے 190 گرام وزن کے حساب سے 15 روپے قیمت کرنے پر اتفاق ہوگیا تھا ضلعی انتظامیہ اور نانبائی ایسوسی ایشن کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد یہ ہڑتال ختم ہوگئی تھی لیکن عوام نے حکومت اور انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ایک ہی دن میں نانبائیوں کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں جو کہ غریب عوام کے ساتھ زیادتی ہے نانبائی اگر دو سے تین دن ہڑتال کرتے تو یہ خود ہی اپنی ہڑتال کر دیتے یاد رہے کہ خیبرپختونخوا اور بالخصوص پشاور کی 95 فیصد عوام تندور کی روٹی اور پراٹھا استعمال کرتے ہیں اور گھروں میں صرف 5 فیصد افراد روٹی بناتے ہیں لیکن دوسری جانب نانبائی ایسوسی ایشن نے 190 گرام کی روٹی جو کہ 15 روپے طے ہوئی تھی لیکن نانبائیوں نے 160 گرام اور 155 گرام کی روٹی 15 روپے میں فروخت کرنی شروع کردی ہے جس پر انتظامیہ حرکت میں آئی اور سینکڑوں تندوروں پر چھاپہ مار کر جب وزن چیک کیا گیا تو 190 گرام سے کم تھا اور پندرہ روپے کی روٹی فروخت کی جارہی تھی ان تندوروں کے مالکان کو فوری گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا اور بھاری جرمانہ بھی کیا گیا ادھر نانبائی ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ گیس اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے سے نانبائی 190 گرام کی روٹی 15 روپے میں فروخت نہیں کرسکتے لہٰذا اسے 20 روپے کیا جائے ا سے انتظامیہ اور عوام نے مسترد کردیا عوام کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے دور میں عوام کے لئے پہلے ہی دس روپے کی روٹی پندرہ میں خریدنا مشکل ہے عوام کا کہنا تھا کہ یہاں گھروں کے لئے روزمرہ ایک ٹائم کی دس سے پندرہ روٹیاں خریدی جاتی ہیں اور اگراسے تین ٹائم پر کیا جائے تو 30 سے 45 روٹیاں بنتی ہیں ایک غریب گھر کو دو ڈھائی سو روپے زیادہ ادا کرنے پڑتے ہیں جب کہ اب نانبائی یہ روٹی 20 روپے کی کرنا چاہتے ہیں جو کہ سراسر زیادتی اور انتظامیہ اسے کسی صورت قبول نہ کرے۔ عوام کا کہنا تھا کہ اگر یہی قیمت رہی تو عوام فاقہ کشی پر مجبور ہوگی کیونکہ ایک گھر کا فرد اپنی مزدوری سے 400 ےا 500 روپے یومیہ کماتا ہے جبکہ اگر وہ 20 روٹیاں بازار سے خریدے گا تو 400 روپے اسے ادا کرنا پڑیں گے جس کی وجہ سے وہ گھر کے دوسرے اخراجات برداشت نہیں کرسکتا بلکہ ناممکن ہے 15 روپے کی روٹی خریدنے کے لئے بھی ہمیں بجٹ بنانا پڑتا ہے اور اب ہم جہاں 10 روٹیاں خریدتے وہاں چھ خریدتے ہیں اور وقت کا گزارا کررہے ہیں حکومت کو چاہیے کہ اس پر غور کرے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved