تازہ تر ین

یورپ کا شوق ایران ، ترکی بارڈر پر ہی جان لے گیا

علی پور چٹھہ( نمائندہ خبریں) علی پور چٹھہ گزشتہ پانچ سالوں میں تحصیل وزیر آباد سے 55سو افراد کی غیر قانونی یورپ منتقلی کی کوشش!! 15 فیصد ہلاک، 35فیصد لاپتہ، 40 فیصد ذلیل و رسوا ہو کرواپس، 10 فیصد یورپ داخل ہونے میں کامیاب!! 10افراد تھانہ علی پور چٹھہ کے علا قے سے جان کی بازی ہار گئے!! موت کے سوداگروں کا گھنا?نا فعل!!ظلم ،زیادتی ، بربر یت کی سنسنی خیز داستانیں !!والدین عزیزو اقارب شدید صدمات سے بے حال !!زندگیا ں اجیرن بن گئی!! لخت جگر اور پیاروں کی یادیں آسیب کی طرح دن رات پیچھا کرتی ہیں!!عوامی سماجی حلقوں کا مذکورہ المناک واقعات پر اظہار افسوس!!تفصیلات کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں تحصیل وزیرآباد سے تعلق رکھنے والے 55سو نوجوان غیر قانونی طور پر آنکھوں میں سہانے مستقبل کو سجائے ترکی ایران کے راستے یورپ عازم سفر ہوئے۔ جن میں سے 15فیصد ایران ،ترکی بارڈرز کے پر خطر برف پوش پہاڑ کراس کرتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔مذکورہ 55سو افراد میں سے 35فیصد ابھی تک لا پتہ ہیں جن کی راہیں ان کے والدین کی نم ناک بزرگ آنکھیں دیدہ راہ ہیں۔ ان افراد میں سے صرف 10فیصد سفری صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے یورپ داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔جبکہ 40فیصد کی واپسی ب±رے ناگزیر حالات کے سبب ممکن ہوئی۔ انہی افراد میں 10افراد تھانہ علی پور چٹھہ سے تعلق رکھتے تھے جو کہ اپنے والدین کی نظروں کے سامنے تو سہی سلامت روانہ ہوئے مگران کی واپسی بند تابوتوں میں ممکن ہوئی ان میں بیس سالہ علی حمزہ جہانگیر سانسی نامی ایجنٹ کو ڈیڑھ لاکھ روپیہ دے کر روانہ ہوا جہاں پر ایجنٹ کے ظلم و بربریت کا شکار ہو کر ترکی ہستپال اور بعدازاں پاکستان واپس آکر شدید بیماری کی حالت میں انتقال کرگیا۔ ایک اور علی مرتضی 25سالہ نوجوان کی ڈیڈ باڈی واپس آئی اور بوڑھے والدین کی ناتواں کمر توڑ گئی علی حسن 20سالہ نوجوان جوکہ 4لاکھ 60ہزار محمد قمر عرف عدنان چٹھہ کو دیکر سنہرے سپنے آنکھوں میں سجائے یورپ جارہا تھا کہ بارڈر کراس کرتے وقت زندگی کی بازی ہار گیا اور اس کی ڈیڈ باڈی واپس آئی۔ 25سالہ احسن رضا یورپ جانے کی کوشش کرتے ہوئے پاکستان ایران بارڈر پر لبریشن فرنٹ کے ہاتھوں مارا گیا جبکہ نواحی جامکے چٹھہ کا 30سالہ غلام ربانی بھی احسن رضا کے ہمراہ گولیوں کا نشانہ بن گیا۔ علی پور چٹھہ سٹی کے رہائشی محمد 45سالہ محمداسلم عرف بوٹا کشمیری اور22سالہ کاشف بٹ یورپ جاتے ہوئے ایران میں ایکسیڈنٹ سے ملک راہی عدم ہو گئے۔ تھانہ علی پور چٹھہ سے ہی تعلق رکھنے والے 24سالہ حافظ شہباز اور 5بہنوں کا بھائی 22سالہ عمر حیات بھی ترکی پہاڑوں میں ہلاک ہو گئے اور ان کی نعشیں وطن واپس آئیں۔جبکہ علی پور چٹھہ کے علاقے سے ہی 50سالہ الطاف حسین چیمہ ترکی بارڈر پر برف پوش پہاڑوں میں زندگی کی بازی ہار گیا اور اس کی ڈیڈ باڈی واپس آئی۔ یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ حکومت نے ان واقعات کے زمہ دار انسانی سمگلرز کے خلاف کوئی سخت قانونی کاروائی نہیں کی بس اعلانات اور طفل تسلیوں سے غمزدہ والدین کو تسلی تشفی دی گئی یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک میں انتہائی بے روزگاری کے عالم میں جب کوئی نوجوان یورپ جانے کیلئے اس موت کے سفر پر روانہ ہوتا ہے تو اس کی نظر میں اپنے گھریلو حالت ،معاشی مالی مشکلات بہنوں کی شادیوں سمیت بوڑھے والدین کیلئے نان و نفقہ کمانے کا عزم ہوتا ہے مگر زیادہ کردار ان موت کے سوداگر انسانی سمگلرز کا ہوتا ہے جو ان کو محفوظ راستوں سے لے جانے کی بجائے دیار غیر میں بے یارو مددگار چھوڑ جاتے ہیں جہا ں وہ لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ علاقے کے عوامی سماجی حلقوں نے وزارت داخلہ حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ اس بارے سخت قانون سازی کی جائے اور ایک گرینڈ آپریشن کے زریعے موت کے بیوپاری ،سنگ دل ایجنٹوں کے خلاف سخت کاروائی کرتے ہوئے انہیں نشان عبرت بنایا جائے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved