تازہ تر ین

جرمن قوم کی ترقی کا راز

مرزا روحیل بیگ ….مکتوب جرمن
جرمنی ایک ایسا شاندار ملک ہے جہاں میری زندگی کے بہت سے قیمتی سال گزرے ہیں۔ میں جرمنی کے مغربی شہر ڈورٹمنڈ میں مقیم ہوں۔ جرمنی کے مختلف حصوں کو میں نے بہت قریب اور گہرائی سے دیکھا ہے۔ جرمن ثقافت انتہائی شاندار اور بہت گہری جڑوں والی ہے۔ جرمنی اور جرمن قوم نے اپنی سوچ اور ثقافت کے اظہار کےلئے فن تعمیرات، موسیقی، ادب، فلسفے اور بہت سے دیگر شعبوں میں دنیا کو بہت سے نئے زاویے اور امکانات دیئے۔ بلاشبہ آج کا جرمنی اور جرمن بھی دنیا کے لیئے بہت اہم رول ماڈل ہیں۔
سب سے حیران کن بات وہ تہرا معجزہ ہے، جو جرمنی نے دوسری عالمی جنگ کے بعد کر دکھایا تھا۔ ان میں سے پہلا معجزہ تو وہ اقتصادی کامیابی تھی، جو جرمنی نے دوسری عالمی جنگ کے بعد حاصل کی۔ دوسرا معجزہ 1949 ءمیں مغربی جرمنی پر مشتمل وفاقی جمہوریہ جرمنی کا قیام تھا، جو ایک سیاسی معجزہ تھا۔ یہ ریاست دنیا کی مضبوط ترین اور مستحکم ترین جمہوریتوں میں سے ایک ثابت ہوئی اور اس کی یہ حیثیت دونوں جرمن ریاستوں کے دوبارہ اتحاد کے بعد بھی تبدیل نہیں ہوئی۔ شروع میں وفاقی جمہوریہ جرمنی کی اس سیاسی کامیابی سے متعلق کوئی پیش گوئی ممکن نہیں تھی، خاص طور پر ماضی میں“ تیسری رائش“ اور اس سے قبل وائیمار ریپبلک کی ناکامی سے جڑے تاریخی واقعات کی وجہ سے۔ تیسری اور اہم ترین بات یہ حقیقت ہے کہ جدید جرمنی نے اپنے ماضی کے تاریک ترین دور کا سامنا کیسے کیا، لیکن یہ کام بھی یکدم نہیں ہوا تھا۔ اس کے لیئے عشروں تک محنت کی گئی تھی اور جرمن قوم نے خود اپنے ماضی میں جھانک کر دیکھا کہ اس نے کہاں کہاں کیا کچھ غلط کیا تھا۔ ایک نئی، جمہوری اور بہت انسان دوست سیاسی شناخت کے تعین کا یہ عمل بہت تکلیف دہ بھی تھا اور اپنے ہی ماضی کا سامنا کرتے ہوئے جرمنوں نے بڑی ہمت اور اخلاقی حوصلے کا ثبوت دیا تھا۔ جرمنی کا موجودہ کردار دراصل پوری انسانیت کے لیئے ایک ماڈل ہے۔
جرمنی کا جمہوریت پر یقین زیادہ سے زیادہ ممکن حد تک مضبوط ہے۔ یورپ اور جرمنی میں مہاجرین کے بحران کی وجہ سے کچھ کشیدگی اور کچھا¶ دیکھنے میں آئے ہیں لیکن جرمن قوم نے جس طرح سے اس بحران کا سامنا کیا، اس کی وجہ سے جرمنی اور جرمن دونوں ہی اپنا سر فخر سے بلند کر کے کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے وہی کچھ کیا، جو درست تھا۔ 2015 میں تارکین وطن اور مہاجرین کی آمد کی وجہ سے پیدا ہونے والے بحران میں جرمنی نے جو کردار ادا کیا وہ قابل رشک ہے۔ جرمن قوم دنیا میں دوراندیشی اور مستقبل بینی میں سرفہرست ہے۔ جرمن شہری بہت محنتی اور نظم و ضبط والے لوگ ہیں۔ ہر کام وقت پر کرتے ہیں اور ہر کام کی پلاننگ پہلے سے کرتے ہیں۔ آپ نے کسی آفس جانا ہو، ڈاکٹر کے پاس جانا ہو، یہاں تک کہ کسی کے گھر مہمان بھی جانا ہو تو آپ کو پہلے فون کر کے وقت لینا ہوتا ہے بغیر وقت لئے کوئی کام نہیں ہوتا۔ گرمی ہو یا منفی 20 ڈگری وقت پر سکول کھلتے ہیں، وقت پر لوگ آفس پہنچتے ہیں۔ جرمن قوم کی ایک خوبصورت عادت یہ بھی ہے کہ یہ دن میں صرف ایک بار گرم کھانا کھاتے ہیں۔ باقی دو کھانے بریڈ پر شامی اور سلاد وغیرہ رکھ کر کھاتے ہیں۔ پوری فیملی اکٹھے کھانا کھاتی ہے اور رات آٹھ بجے سب اپنے اپنے کمروں میں سونے کے لیئے چلے جاتے ہیں۔
ہفتے کے روز یہ پورے ویک کی شاپنگ کرتے ہیں۔ گھر کی صفائی کی جاتی ہے۔ بچے اپنے کمرے خود صاف کرتے ہیں۔ شوہر گھر کا صحن اور سڑک جہاں تک ان کے گھر کی حد ہو صاف کرتا ہے، گارڈن صاف کرتا ہے۔ جرمنی میں غریب اسے تصور کیا جاتا ہے جس کی ماہانہ آمدنی درمیانے درجے کے جرمن شہریوں کی اوسط آمدنی سے ساٹھ فیصد سے کم ہو۔ ڈیجیٹل ریکارڈ کے باوجود جرمن باشندے کاغذی ریکارڈ اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں۔ جرمن لوگ سیاحت کے بہت شوقین ہوتے ہیں۔ سیاحت کے شوقین جرمن ہر جگہ آپ کو ملیں گے۔ لوگ ٹریفک قوانین کی سختی سے پابندی کرتے ہیں۔ کھانے کی میز پر بیٹھ کر خوراک خوری کے علاوہ مختلف ہلکے پھلکے اور سنجیدہ موضوعات پر گفتگو کرنا بھی جرمنوں کو بہت پسند ہے۔ ویسے تو سارا یورپ ہی خوبصورت ہے لیکن جرمنی سب سے خوبصورت ہے۔ جب آپ موٹروے سے جرمنی کی حدود میں داخل ہوں تو جرمنی کی خوبصورتی کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ ہماری نگاہوں کےسامنے بیسویں صدی عیسوی کے دوران جرمنی دو بار شدید ترین تباہی سے دوچار ہوا، لیکن دونوں مرتبہ چند ہی سال کے اندر اندر پھر نہ صرف یہ کہ اپنے پا¶ں پر کھڑا ہو گیا بلکہ دوسری ہمعصر اقوام اور آس پاس کے ممالک کا ہر اعتبار سے ہمسر ہو گیا بلکہ بعض اعتبار سے ان سے بھی بازی لے گیا۔
(کالم نگارجرمنی میں مقیم ،بین الاقوامی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved