تازہ تر ین

ذکرچند نئی کتابوں کا

عبدالستاراعوان….احوال عصر
ایک دانش ور نے کہا تھا :”کتابوں کا مطالعہ دماغ کو روشن کرتاہے۔ کتاب کے ذریعے ہم دانش مندوں سے ہم کلام ہوتے اور کسی بھی معاشرے میں کتابوں کی وہی حیثیت ہے جو جسم میں روح کو حاصل ہے “۔ افسوس ہمارے معاشرے میں جسم و روح کا یہ تعلق اب تیزی سے کمزور ہوتا جا رہا ہے اور مطالعہ کا رجحان کم ہو رہا ہے ۔ایک المیہ یہ بھی ہے کہ شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے حضرات یا دیگر لکھنے والے بھی محض ”لکھتے“ہیں اور ”پڑھنا“ان کی دلچسپی میں شامل نہیں۔حالانکہ اہل دانش کاکہنا کہ اگر آپ نے ایک جملہ لکھنا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک ہزار جملوں کا مطالعہ کیاجائے۔ ہم اپنے کالموں میں اکثر و بیشترنئی کتابوں کا ذکر کرتے رہتے ہیں جس کا مقصد کتاب کلچر اور مطالعہ کی عادت کو فروغ دینا ہے۔ چند روز پیشتر چند نئی کتابیںہم تک پہنچی ہیں، ان کا مختصرتذکرہ روزنامہ ”خبریں“ کے قارئین کی نذرکیا جا رہا ہے ۔
پہلی کتاب کا نام ہے :”انسائیکلو پیڈیا مدینة البنی اورجستجوئے مدینہ کا تحقیقی و تقابلی مطالعہ“۔یہ یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور کے ایم فل علوم اسلامیہ (تخصص سیرت النبی)کے طالب علم محمد وقار کا مقالہ ہے ۔ اس میں سیرت البنی کی دو ضخیم کتابوں ”جستجوئے مدینہ“اور”انسائیکلو پیڈیامدینة النبی“کا تقابل کیا گیا ہے ۔ آخر ی صفحات پر مصادرومراجع کی فہرست بھی دی گئی ہے ۔ محمد وقار نے علمی ذ وق اور مطالعہ و مشاہدہ سے کام لیتے ہوئے یہ مقالہ قلمبند کیا ہے ۔
دوسری کتاب”چاند پر اختلاف کیوں؟“ رکن اسلامی نظریاتی کونسل رانا محمد شفیق خان پسرور ی کی تالیف ہے ۔کتاب کے مولف مختلف دینی وفقہی علوم پر گہری دسترس رکھتے ہیں ۔ ان کی تازہ تالیف میں مسئلہ رویت ہلال پر جامع تحقیقی و تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے ۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ وطن عزیز میں رویت ہلا ل کے ایک خالص تحقیقی مسئلے کو مختلف عصبیتوں کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے اور ہر سال مسلمان روزے اور عید الفطر کے حوالے سے تقسیم کا شکار ہو جاتے ہیں۔ رانا شفیق پسروری کی یہ کتاب اسی اہم اور حساس موضوع کا احاطہ کرتی ہے ۔ کتاب میں تمام مکاتب فکر کی آراءشامل ہیں اور اس عنوان پر مولف نے مختلف مسالک کے جو مذاکرے منعقد کیے ہیں ان کی تفصیلی روداد بھی شامل کی ہے ۔ سائنسی ایجادات،چاند کی حالتیں اور وقت،عہد صحابہ ؓ میں رویت ہلال کے متعلق مختلف واقعات ، آئن سٹائن اورچاند‘ اور دیگر اہم عنوانات سے یہ کتاب مزین ہے ۔ رابطہ عالم اسلامی کا رویت ہلال کے متعلق اعلامیہ بھی کتاب میں شامل ہے جس کا خلاصہ یہی ہے کہ قمری مہینے کے آغاز اور اختتام کے ثبوت کا اصل معیار چاند کادیکھنا ہے ‘چاہے وہ براہ راست آنکھ سے دیکھا جائے یا فلکی آلات کے ذریعے۔مثال کے طور پر ایک ہے چاند کا وجود اور ایک ہے چاند کا نظر آنا ،اب یہ دو مختلف چیزیں ہیں ۔ شریعت نے چاند دیکھنے کی بات کی ہے ۔ جب تک چاند نظرنہ آئے خواہ وہ افق پر موجود ہی ہو روزے اور عید نہیں ہو سکتی ۔ بہر حال یہ ایک لمبی بحث ہے اور اس کتاب پر جامع تبصرہ محض چند سطور میں نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ مولف کی ایک اچھی کاوش ہے اور ایک قومی اختلافی مسئلے کو حل کرنے کے لئے مختلف انداز سے بات سمجھانے اور سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ مولانا مودودیؒ،مولانامفتی تقی عثمانی،ڈاکٹر سرفراز نعیمیؒ، مفتی منیب الرحمن ، پروفیسر عبد الرحمن لدھیانوی سمیت تمام مسالک کے علماءاور ماہرین فلکیات کے مضامین اورآراءبھی شامل ہیں ۔کتاب اس بات کی دعوت فکر دیتی ہے کہ تمام تعصبات سے بالاتر ہو کریہ مسئلہ حل کیاجاسکتا ہے۔
ہمارے پیش نظرتیسری کتاب ”وفیات پاکستانی اہل قلم علمائ“ ہے۔ یہ کرنل ریٹائرڈ خالد مصطفی کی تحقیقی کاوش ہے۔ اس میں پاکستان کے600سے زائد متوفی اہل قلم علمائے کرام کے سوانحی اعدادو شمار کی تدوین کی گئی ہے اور14اگست1947ءسے 31مارچ2018ءتک وفات پانے والے اہل قلم علماءکے اعداد وشمار جمع کیے گئے ہیں ۔ناموں کی الف بائی ترتیب ہے ۔علمی حلقوں میں خالد مصطفی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ۔ وفیات نگار ی میں خالد مصطفی کے کام کواہل علم کے ہاں بے حد پذیرائی ملی ہے ۔ ان کی اب تک متعدد کتابیں چھپ چکی ہیں ۔مذکورہ کتاب تین سو کے قریب صفحات پر مشتمل ہے ۔ آخری صفحات پر مصنف نے مختلف کتابوں ،رسائل و جرائد اور مقالہ جات کی طویل فہرست پیش کر دی ہے ۔یہ کتاب دینی مدارس اورعربی و اسلامیات کے شعبہ جات سے تعلق رکھنے والوں اور عام باذوق قارئین و محققین کے کتب خانے میں ضرورہونی چاہیے۔ بریگیڈیئر فیوض الرحمن،مولانا زاہد الراشدی،پروفیسر شاکر کنڈا ن کے تاثرات بھی کتاب میں درج ہیں۔
چوتھی کتاب :”ٹی ہاﺅس“ معروف ادیبہ ارم ہاشمی کے اردو افسانوں کا مجموعہ ہے ۔ارم ہاشمی کا تعلق سرزمین میانوالی سے ہے جہاں سے بڑے بڑے علمائ، مشاہیر،ادیبوں ،صحافیوںاور دانش وروں نے جنم لیا۔ارم ہاشمی نے اپنے انہی پیش روﺅں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اور روایت برقرار رکھتے ہوئے علمی سرگرمیوں کو اوڑھنا بچھونا بنا یا ہے۔مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ”ٹی ہاﺅس“میں افسانوں کی ایک خوبصورت مالاپرو دی گئی ہے ۔ مجموعی طور پر ارم ہاشمی کے افسانوں کا موضوع ”عورت “ہے ۔ انہوں نے اپنے ان افسانوں میں معاشرے کی ایک نہایت کمزور اور مقہور عورت کے جذبوں کو زبان دی ہے اور اس کا پیغام سماج کے دانش مند حلقے تک پہنچانے کی کوشش کی ہے ۔ افسانوں کی ایک خوبصورت ان کا اختصاربھی ہے ۔ ارم ہاشمی نے بات کو طول دینے کے بجائے مختصر پیرائے میں مافی الضمیر بیان کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اصغر ندیم سید، حامد سراج،ممتاز راشد لاہوری،ناصر علی سید کی گرانقدر آراءنے ”ٹی ہاﺅس“کی خوبصورتی میں اضافہ کیا ہے ۔ یہ کتاب پاکستان ادب پبلشرزپپلاں ضلع میانوالی نے شائع کی ہے ۔ایک نہایت متحرک علمی اور ادبی نوجوان سمیع اللہ سمیع نے بڑے شہروں سے کوسوں دورایک پسماندہ خطے میں یہ اشاعتی ادارہ قائم کیا ہے جس کے تحت نہایت معیار ی کتابیں شائع ہورہی ہیں اوران کی یہ سرگرمی کسی” حیرت“ سے کم نہیں ۔
”قائداعظم کی شخصیت کاروحانی پہلو“کے عنوان سے پانچویں کتاب جو اس وقت ہمارے سامنے ہے یہ تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن ملک حبیب اللہ کی تالیف اورقلم فاﺅنڈیشن انٹرنیشنل (لاہور)کی شائع کر دہ ہے۔مولف نے ایک منفرد موضوع کا انتخاب کرتے ہوئے بڑی تحقیق کے بعد بانی پاکستان کے روحانی پہلوﺅں کو جمع کیا ہے۔ مولانا ا شرف علی تھانوی،مولانا شبیر احمد عثمانی،مفتی اعظم مولانا محمد شفیع اور دیگر بہت سی شخصیات کے بیانات اور خیالات کی روشنی میں قائداعظم کے روحانی پہلوکو سامنے لایا گیا ہے۔تحریک پاکستان ،مطالعہ پاکستان اور بانی پاکستان جیسے موضوعات سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ ایک اہم کتاب ہے ۔ مولف نے بانی پاکستان کی شخصیت میں کارفرما دینی روح کو اجاگر کرنے کی پوری کوشش کی ہے ۔ چھٹی کتاب کاعنوان ہے :”ڈاکٹرمحمد ہارون قادر،علمی و ادبی خدمات“۔یہ گیریژن یونیورسٹی لاہو ر کے ایم فل اردو کے طالب علم عبد الرحیم مرتضیٰ کا مقالہ ہے جسے اب کتابی صورت میں شائع کیاگیا ہے ۔اس میں ڈاکٹرہارون قادر کے احوال و آثار، بطور محقق، بطور مرتب اور مصنف مجموعی جائزہ لیا گیاہے ۔کتاب 256صفحات پرمشتمل ہے اور اسے پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ آخر میں کتابیات کی فہرست اور ڈاکٹر ہارون قادر کے سوانحی کوائف بھی پیش کر دیے گئے ہیں۔
(کالم نگارسماجی وادبی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved