تازہ تر ین

ڈی سی نے عہدے کو خالہ جی کا گھر بنا لیا ، عوام مافیا کے ہاتھوں یرغمال

لاہور(خبر نگار) ڈپٹی کمشنر اور اس کی فوج ظفر موج لاہور کے شہریوں کو منافع خور مافیا کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا 76پرائس مجسٹریٹس، سپیشل مجسٹریٹس اور 5اسسٹنٹ کمشنرکی فوج کے باوجود زائد قیمتیں کنٹرول نہ ہوسکیں چینی مافیا سے گھٹ جوڑ جبکہ پرچون فروشوں کے خلاف کارروائیاں کرنے لگے۔افسران دفتر بیٹھ کر فرضی رپورٹس بنا کر حکومت کو خوش کر نے لگے کئی متعلقہ افسران اپنے ماتحت کلیریکل سٹاف کو فیلڈ میں بھیج کرچالانز کے نام پر منتھلیاں اکٹھی کرنے لگے۔شہری سروے کے دوران ضلعی انتظامیہ کے خلاف پھٹ پڑے۔ڈپٹی کمشنر ضلعی امور کنٹرول کر نے میں ناکام ہوگئی ہے عوام خود ساختہ مہنگائی سے چیخ رہی ہے لیکن انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے حکومت کی طرف سے واضح اعلان کیا گیا ہے کہ عوام کو بھرپور سہولیات دی جائیں اس حوالے سے چند دن قبل وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے واضح احکامات جاری کئے تھے کہ تمام ڈپٹی کمشنر ز عوام کی مشکلات کو حل کرنے کےلئے خود فیلڈ میں نکلیں لیکن صوبائی دارالحکومت لاہور میں ڈپٹی کمشنر اور اس کی من پسند اے سی ایز کی فوج چند کارروائیوں پر فوٹو سیشن کر کے غائب جاتی ہیں۔لاہور شہر کو کنٹرول کر نے کےلئے 76پرائس کنٹرول مجسٹریٹس تعینات کئے گئے ہیں جن میں 9سب رجسٹرار شامل ہیں جبکہ باقی زونزسے اورلیبر ڈیپارٹمنٹ افسران کو اور منڈیوں کے سیکرٹریز کو بھی مجسٹریٹس لگایا گیا ہے جو کوئی کام نہیں کرتے۔سروے کے دوران شہریوں نے کہا کہ اتنے مجسٹریٹس ہونے باوجود مہنگائی کنٹرول ہونے کی بجائے قیمتیں آسمانوں پر باتین کر رہی ہیں۔شہری محمد اقبال نے کہا کہ لاہور 9زونز پر مشتمل ہے جن میں داتا گنج بخش ،راوی ،سمن آباد ،ٹھوکر نیاز بیگ ،گلبرگ ،عزیز بھٹی ،واہگہ ،شالیمار اور علامہ اقبال زونز شامل ہیں اس کو کنٹرول کر نے کےلئے ان افسران کی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں کہ وہ عوام کو سہولت کےلئے شہر میں نکلیں لیکن یہاں اس کے بر عکس ہے مجسٹریٹس اپنے دفتروں تک محدود رہتے ہیں کوئی فیلڈ میں نہیں نکلتا جس کی وجہ سے منافع خور خوب کمائی کر رہے ہیں کیونکہ ان کی منتھلیاں طے ہوتی ہیں۔شہری عابد علی نے کہا کہ میں ایک ودکاندار ہوں ضلعی اعلی انتظامیہ جینی مافیا کے خلاف کیوں کارروائی نہیں کرتی کیونکہ ان سے یہ انتظامیہ ملی ہوئی ہے بھاری بھرکم کیمیشن لیتے ہیں چینی مافیا ہمیں سرکانرخوں سے زیادہ ریٹ پر چینی دیتے ہیں ہم کیسے سرکاری ریٹ پر چینی فروخت کریں ہم جیسے پرچون فروش کے چالان کر دئے جاتے ہیں جبکہ بڑے چینی آڑھتیوں کے خلاف ایکشن نہیں لیا جاتا۔غلام احمد نے کہا کہ روٹی کا ریٹ تو کم ہوا ہے لیکن تندور مافیا نے روٹی کا وزن کم کردیا ہے 190گرام کی بجائے 100سے150گرام کی روٹی دے رہے ہیں۔صابر نے کہا کہ مارکیٹ میں گوشت کے سرکاری ریٹ کچھ ہیں لیکن گوشت دوکاندار چھوٹا گوشت 1100روپے فروخت کر رہے ہیں جبکہ بڑا 400سے 450روپے میں فروخت کیا جارہا ہے سرکاری ریٹ کی بات کی جائے تو دوکاندار گوشت دینے سے انکاری ہوجاتا ہے۔محمد زیشان نے کہا کہ موجودہ ضلعی انتظامیہ پی ٹی آئی حکومت کو ناکام کر نے پر تلی ہوئی ہے متعلقہ افسران صرف فوٹو سیشن کے طور پر آتے ہیں چند ایک کاروائیاں کرتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں۔عالم شیر نے کہا کہ زون میں بیٹھے پرائس مجسٹریٹس اپنے دفتروں میں بیٹھے رہتے ہیں اپنے کلرکوں کو فیلڈ میں بھیج دیتے ہیں وہ وہاں جا کر دوکانداروں کو ڈرا دھمکا کر منتھلیاں لے کر واپس آجاتے ہیں۔شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ وہ ضلعی انتظامیہ خاص کر ڈپٹی کمشنر سے پوچھا جائے کہ وہ پی ٹی آئی ویڑن پر چل رہی ہیں یا اس ویڑن کو ملیامیٹ کر نے پر تلی ہیں۔لاہور (جنرل رپورٹر) صوبائی دارالحکومت میں پولیو ، ڈینگی اور خسرہ سمیت دیگر مہم ناکام ہو نے کی وجہ سامنے آگئی ، ڈینگی اور پولیو ملازمین ضلعی انتظامیہ کے ہاتھوں ذہنی دباﺅ کا شکار ، ڈپٹی کمشنر نے ڈی ڈی ایچ اوز کو دفتر بلا کر ان کی تذلیل کرنا معمول بنا لیا ،لاکھوں بچوں کو قطرے پلانے والے ورکرز اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ آفیسر ز ہیلتھ کو اپنی نوکریوں کے لالے پڑ گئے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈپٹی کمشنر کی انوکھی روش کے باعث لاہور میں اب تک پولیو کا وائرس اس لئے ختم نہیں ہوسکا کیونکہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے افسران اور ملازمین ذ ہنی طور پر شدید دباﺅکا شکار ہوتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر صالحہ سعید کی ڈی ڈی اوز کو شہر میں پولیو سمیت دیگر مہم میں کارکردگی بہتر نہ کرنے پر پیڈا ایکٹ کی دھمکی دے رکھی ہے جس کے باعث صوبائی دارالحکومت میں کوئی بھی ڈاکٹر ڈی ڈی اوایچ کے عہدے کا چارج سنبھالنے کو تیار ہی نہیں اور جوآفیسر موجود ہیں وی ڈپٹی کمشنر کے خوف سے کام کرنا ہی نہیں چاہتے ، چند ماہ قبل بھی ڈپٹی کمشنر لاہور نے ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اختیار کیا گیا تھا جس ڈاکٹرز کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا اور انہوں نے ڈی سی صالحہ کی میٹنگ کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ شہر میں پولیو اور دیگر امراض کے حوالے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی آپس میں میٹنگ بلائی جاتی ہے تاکہ شہریوں کو مہلک امراض سے پاک کیا جا سکے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے بلائی جانے والی میٹنگ میں وہ خود بھی تاخیر سے آتی ہیں او ر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی اور سینئرڈاکٹر کی نازیبا الفاظ میں بے عزتی کرتی ہیں اسی وجہ سے تا حال شہر کی2ڈویڑن میں عارضی طور پر ڈاکٹر تعینات جبکہ تیسری ڈویڑن میں انچارج لمبی چھٹی لے گیا ہے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved