تازہ تر ین

اپوزیشن شرمندگی سے بچے ، تحریک عدم اعتماد واپس لےے ، سنیٹر فیصل جاوید کا خبریں کو خصوصی انٹرویو

اسلام آباد (انٹرویو :ملک منظور احمد ،اویس منیر ،تصاویر : نکلس جان )سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے چیئر مین اور پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما سینیٹر فیصل جا وید نے کہا ہے کہ چیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کا میاب نہیں ہو گی اپوزیشن شرمندگی سے بچنے کے لیے تحریک پہلے ہی واپس لے لے۔ مسلم لیگ ن کے آدھے سے زیادہ سینیٹرز صادق سنجرانی کو ووٹ دیں گے۔پاکستان کو شریف اور زرداری خاندان دونوں نے بے رحمی سے لوٹا اپوزیشن چاہے جتنا بھی شور مچا لے وزیر اعظم عمران خان کسی کو این آر ا? نہیں دیں گے ،اور احتسابی عمل کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔اپوزیشن سیاسی عدم استحکام پیدا نہیں کر سکتی۔پاکستان تحریک انصاف ہارس ٹریڈنگ میں کسی صورت ملوث نہیں ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پانچ سال پورے کرے گی۔یہ تاثر من گھڑت ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت فوج کے سہارے حکومت میں آئی ،پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سول اور ملٹری قیادت ایک صفحہ پر ہے۔جمہوریت کو کوئی ڈی ریل نہیں کر سکتا فوج کبھی بھی سیاست میں نہیں آئے گی۔ نواز شریف کے خلاف فیصلہ ایک جج نے نہیں بلکہ سپریم کورٹ نے دیا سابق وزیر اعظم کی رہائی ممکن نہیں ہے۔ پا کستان تحریک انصاف کی حکومت کے سخت فیصلوں کے نتیجے میں پاکستان اقتصادی بحران سے نکل آئے گا۔ پا کستان تحریک انصاف کی حکومت ملکی معیشت کو دستاویزی شکل دینا چاہتی ہے۔تاجروں سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو ملکی بہتری کے لیے ٹیکس دینا ہو گا۔پا کستان تحریک انصاف کی حکومت کے دور میں خارجہ پالیسی کے محاذ پر بڑی کا میابیاں حاصل ہو ئی ہیں امریکہ سمیت دیگر ممالک سے تعلقات میں بہت بہتری آئی ہے وزیر اعظم عمران خان کا آئندہ دنوں میں ہو نے والا دورہ امریکہ تاریخی ہو گا اور اس دورے کے بہت مثبت نتائج نکلنے کی تو قع ہے۔۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے خبریں کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا ،ایک سوال کے جواب میں سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی ہر وقت جمہوریت کا اور جمہوری اقدار کے فروغ کا پرچار کرتی ہے ، اب ان کو یہ پرچار بند کر دینا چاہیے پیپلز پارٹی کی قیادت نے شیخ مجیب الرحمان کو پڑنے والے ووٹ اور الیکشن کے نتیجے کو ماننے سے انکار کردیا تھا اس وقت ان کی قیادت نے ہی ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ لگایا تھا پیپلزپارٹی کا ملک کی تقسیم میں بڑا کردار ہے۔میں اپوزیشن کی دونوں جماعتوں پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سے پو چھنا چاہتا ہوں کہ آخر چیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف چارج کیا ہے ،حکومتی ارکان کو تو چیرمین سینیٹ سے یہ شکایات رہتی ہے کہ وہ اپوزیشن ارکان کو اسمبلی فلور پر بولنے کے زیادہ مواقع فراہم کرتے ہیں ،صادق سنجرانی پر کسی صورت جانبداری کا الزام بھی نہیں لگا یا جا سکتا انھوں نے تو سینیٹ کو بہت ہی اچھے انداز میں چلا یا ہے اور ابھی بھی چلا رہے ہیں۔سینیٹ کے کئی ارکان ایسے ہیں جن پر اخلاقی اور ٹیکنکل طور پر مسلم لیگ ن کو ووٹ دینے کی کوئی آئینی اور قانونی پا بندی موجود نہیں ہے۔اپوزیشن کو چیرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم واپس لے لینی چاہیے بصورت دیگر ان کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔انھوں نے کہا کہ ڈپٹی چیرمین سینیٹ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا اعتماد کھو چکے ہیں جب اپوزیشن کی طرف سے صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی اسی وقت سلیم مانڈوی والا کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد آجائے گی۔پا کستان پیپلز پارٹی کی قیادت اس حوالے سے دوہرے معیار کا شکار ہے صادق سنجرانی کے انتخاب کے وقت پیپلزپا رٹی نے بھی ان ہی کو ووٹ دیا تھا اور پیپلز پارٹی کے شریک چیر مین بلا ول بھٹو صاحب نے صادق سنجرانی صاحب کے بارے میں فرما یا تھا کہ zia’sopening batsmen is out سنجرانی صاحب کو مبارک ہو بلو چستان کو مبارک ہو۔ اب ان کے موقف میں تبدیلی کیسے ہو گئی۔ایک سوال کے جواب میں سینیٹر فیصل جا وید نے کہا کہ شریف اور زرداری دونوں خاندانوں نے پا کستان کا پیسہ لوٹ کر آپس میں تقسیم کر لیا ہے۔دونوں خاندانوں کی دس سالہ دور حکومت کے دوران پا کستان کے قرضے 6ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 30ہزار ارب روپے تک پہنچ گئے ان کے دور میں 24ہزار ارب روپے قرضہ لیا گیا یہ دونوں خاندانوں نے اپنے درمیان ہی بانٹ لیا۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت حالات کو بہتر بنا رہی ہے پا کستان مسلم لیگ ن کرنٹ اکا ونٹ خسا را تاریخ کی بلند ترین سطح 20ارب ڈالر پر چھوڑ کر گئی تھی ہماری حکومت نے پہلے 11ماہ میں اس خسا رے کو کم کرکے 13ارب ڈالر کی سطح پر لے آئی ہے۔پاکستان کی معیشت اب استحکام حاصل کر چکی ہے اور معاشی بحران سے نکل رہی ہے گزشتہ مالی سال کے دوران پا کستان کی ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے آنے والے دونوں میں پاکستان کی برآمدات اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے کو ملے گا،ایک سوال کے جواب میں سینیٹر فیصل جا وید نے کہا کہ تاجروں کی جانب سے گزشتہ دنوں میں کی جانے والی ہڑتال کے پیچھے سیاسی عوامل کا رفرما تھے کاروباری معا ہدے کرنے کے لیے شنا ختی کارڈ کی شرط ناجائز نہیں ہے تاجروں کو ٹیکس ہر صورت میں دینا پڑے گا۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ میاں صاحب کے خلاف فیصلہ ایک جج نے نہیں کیا تھا ان کے خلاف فیصلہ سپریم کورٹ کا ہے میاں صاحب کی رہائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔شریف خاندان اگر ایون فیلڈ جا ئیدادوں کی رسید دکھا دے تو ان کے خلاف سارے کیسز ختم ہو سکتے ہیں لیکن یہ آج تک ان پرا پرٹیز کی رسیدیں نہیں دکھا سکے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت شریف خاندان کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنا رہی بلکہ شریف خاندان نے وزیر اعظم عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا یا تھا۔عمران خان کے کسی بھی معا ملے کا شریف خاندان کے مالی معا ملات کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا عمران خان نے ملک سے باہر پیسہ بنایا اور پاکستان منتقل کیا جبکہ انھوں نے پاکستان سے پیسہ بنا کر منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر پرا پرٹیز خریدیں عمران خان نے تو ورلڈ کرکٹ سیریز جسے ختم ہو ئے بھی ایک عرصہ ہو چکا اس لیگ سے کمائے جانے والے پیسوں کی رسیدیں بھی سپریم کورٹ میں پیش کر دیں صرف یہ ہی نہیں بلکہ اپنی اہلیہ کے ساتھ ہونے والے مالی معاملات کی رسیدیں بھی سپریم کورٹ میں پیش کر دیں۔مسلم لیگ ن کے ترجمانوں مریم اورنگزیب اور سینیٹر مصدق ملک کو چاہیے کہ گینیز ورلڈ ریکارڈ والوں سے رابطہ کریں کیونکہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے جتنے مواقع نواز شریف صاحب کو ملے اتنے تو کسی بھی نہیں ملے ہوں گے۔سپریم کورٹ کے متعدد بنچوں ،جے آئی ٹی ،اور اس کے بعد ٹرائل کورٹ میں مواقع ملنے کے باوجود یہ اپنی صفائی نہیں پیش کر سکے۔عدالت سے فرار ہو جانے والے افرادکو بیرون ملک سے واپس لانے کے لیے کام کیا جا رہا ہے بیرسٹر شہزاد اکبر اس حوالے سے کام کر رہے ہیں۔مختلف ممالک کے ساتھ میوچل اسیسٹینس پر کام ہو رہا ہے۔میرے خیال میں تو سرے محل اور ایو ن فیلڈ اپارٹمنٹس میں آف شور ڈرلنگ کی جانے چاہیے ان پرا پرٹیز کے نیچے سے بہت سارے ملکی خزانے نکلیں گے۔پا کستان تحریک انصاف کی حکومت نے وزیر اعظم ہاوس کے خرچے میں 40فیصد کمی کی ہے عمران خان کا کوئی کیمپ آفس نہیں ہے وہ اپنے ذاتی گھر بنی گالہ میں رہتے ہیں انھوں نے بنی گالہ گھر کے اطرف باڑ اور سٹرک کی تعمیر بھی اپنے ذاتی خرچے سے کروائی ہے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ افواج پا کستان کو خصوصی خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے انھوں نے مشکل وقت میں اپنے خرچے کم کیے ہیں ،سول اور ملٹری ادارے ایک ہی پیج پر ہیں اور ان کے درمیان کو ئی دراڑ نہیں ہے۔پا کستان کی معیشت بھی بہتری کی جانب گامزن ہے جس کے اثرات کچھ ہی عرصے میں نظر آنے شروع ہو جائیں گے۔جولو گ پاکستان تحریک انصاف کو فوج کے سہارے اقتدار میں آنے کے طعنے دیتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ ہی چور درازوں سے اقتدار میں آتے رہے ،ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر آصف زرداری اور نواش شریف تک سب نے اقتدار میں آنے کے لئے فوج کے کندھوں کا سہارا لینے کی کوشش کی۔وزیر اعظم عمران خان عوام کی نمبر 1چوائس ہیں واحد وزیر اعظم ہیں کو 5مختلف حلقوں سے منتخب ہو کر قومی اسمبلی پہنچے ہیں ،وزیر اعظم عمران خان کو عوام نے سلیکٹ کیا ہے وزیر اعظم عمران خان نے اس مقام تک پہنچنے کے لیے 22سال تک جدو جہد کی ہے اس دوران ان کو جنرل ضیا الحق ،سابق وزیر اعظم نواز شریف اور جنرل مشرف نے اقتدار میں ان کے ساتھ شامل ہونے کی پیشکش کیں لیکن وزیر اعظم عمران خان نے ان سب آفرز کو ٹھکرا دیا۔ایک سوال کے جواب میں سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ یو ٹرن کسے کہتے ہیں یوٹرین آخر ہو تا کیا ہے ؟یہ صرف پلان میں اور سٹریٹیجی میں تبدیلی کا نام ہے اور کچھ نہیں ہے۔ایک سوال کے جواب میں سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ متعدد سینیٹ اراکین اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیوں اور ان کی خاندانی لیڈرشپ سے متنفر ہو چکے ہیں پا کستان میں خاندانی سیاست کا دور ختم ہو چکا ہے اب ممبران پارلیمنٹ کو بھی سمجھ میں آگیا ہے کہ اپوزیشن کی پارٹیوںمیں جمہوریت نام کی کو ئی چیز نہیں ہے اور ان دو خاندانوں کا مستقبل پاکستان کی سیاست میں مخدوش ہو چکا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اپوزیشن رہنما? ں پر بننے والے مقدمات ان کے اپنے ادوار کے ہیں اور پا کستان تحریک انصاف کی حکومت نے نہیں بنائے پا کستان تحریک انصاف پا کستان کی وہ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے کرپشن کے الزامات پر اپنے 20ایم پی اے فارغ کر دئیے وفاق کی سطح پر بھی کسی وزیر پر الزام لگا تو اس کو فوری طور پر فا رغ کرکے الزامات کی تحقیقات کروائیں گئیں اور اس وزیر کو الزام کلیئر ہو نے تک وزارت سے الگ کر دیا گیا۔پا کستان میں میڈیا کی آزادی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے سینیٹر فیصل عزیز نے کہا کہ پا کستان میں میڈیا سب سے زیادہ آزاد ہے پاکستان میں کو نسا صحافی ہے یا کون سا اینکر ہے جو اپنی مرضی سے بات نہ کر سکتا ہو ،کسی پر کوئی پا بندی نہیں ہے پا کستان میں صحافیوں پر کوئی سنسر شپ مسلط نہیں۔ایک سوال کے جواب میں سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ ان کی رائے میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی کو ئی مشترکہ اتھارٹی نہیں ہو نی چاہیے دونوں شعبے الگ الگ ہیں تاہم مجھے اس حوالے سے زیادہ معلومات نہیں ہیں جب یہ معا ملہ کمیٹی میں آئے گا تو اس پر مزید غور کیا جائے گا۔پنجاب اور کے پی کے میں پا کستان تحریک انصاف کی حکومت کی کا رکردگی کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ان دونوں صوبوں میں ہماری حکومت کی کا رکردگی اچھی جا رہی ہے ہیلتھ کارڈ ز کا اجرا کیا جا رہا ہے اوربھی عوامی مفاد کے کام کیے جا رہے ہیں ابھی ہماری حکومت کا پہلا بجٹ پیش ہوا ہے اس بجٹ کے اثرات ایک سال بعد نظر آنے شروع ہوں گے۔ہم پا کستان کی معیشت کو دستا ویزی شکل میں لارہے ہیں۔ترسیلات زر میں مسلسل اضا فہ ہو رہا ہے ایف ڈی آئی بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں امید ہے مستقبل میں پا کستان کی معیشت بہتر حالت میں آجائے گی۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پا کستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنی ٹیم میں منتخب لو گ بھی رکھے ہیں اور غیر منتخب بھی ہما ری ٹیم میں سیاست دان بھی ہیں اور سپیشلسٹ بھی تمام ٹیم کو غیر منتخب قرار نہیں دیا جا سکتا۔پا کستان تحریک انصاف کی ٹیم میں رہنے کا معیار صرف اور صرف کا رکر دگی ہے جو بھی شخص اچھا پر فارم کرے گا وہ ہماری ٹیم میں رہے گا جو نہیں کرے گا اسے گھر جانا پڑے گا۔پا کستان کی خارجہ پا لیسی اور وزیر اعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے سینیٹر فیصل جا وید نے کہا کہ فارن افیرز میں ہماری حکومت نے بے مثال کامیابیاں حاصل کی ہیں۔سعودی عرب کے والی عہد محمد بن سلمان نے اپنے دورہ پا کستان کے دوران کہا کہ ہم اسی انتظار میں تھے کہ پا کستان میں عمران خان جیسا کو ئی ایمان دار وزیر اعظم آئے اور ہم اس کے ساتھ مل کر چلیں۔وزیر اعظم عمران خان دورہ امریکہ تاریخی ہو گا اور اس دورے سے وزیر اعظم کی واپسی کے بعد قوم کا سینہ فخر سے بلند ہو جائے گا۔وزیر اعظم کے دورہ امریکہ کے بہت ہی مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔وزیر اعظم عمران خان اس ملک کو بدل کر رکھ دیں گے انھوں نے زندگی میں جو بھی کام کیا ہے وہ اس میں کامیاب ہو ئے ہیں انشا اللہ پا کستان کو بدلنے میں بھی کا میاب ہو ں گے۔سی پیک کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے سینیٹر فیصل جا وید نے کہا کہ سی پیک منصوبے کی نوعیت میں تبدیلی آئی ہے اب اس منصوبے کے تحت انفرا سٹرکچر سے ہٹ کر ہیومن ڈیولپمنٹ پرتوجہ دہ جا رہی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پا کستان تحریک انصاف کی حکومت پا کستان میں کاروباری آسانیاں پیدا کر رہی ہے ہم اس حوالے سے پاکستان کو 147ویں نمبر سے 132ویں نمبر پر لے آئیں ہیں۔پا کستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے ،پا کستان میں سیاحت کو فروغ دے کر بھی اربوں دالر کمائے جا سکتے ہیں ہماری حکومت ایک بہترین سیاحتی پا لیسی لائی ہے تاہم ایسی پالیسی بہت جلد ہی پا کستان میں آجانی چاہیے تھی۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved