تازہ تر ین

پی ٹی وی کے پنشنروں کی فریاد!

چوہدری ریاض مسعود….نقطہ نظر
پاکستان ٹیلی ویژن کے ہزاروں ریٹائرملازمین اس وقت بے شمار مسائل کاشکار ہیں لیکن ان کاکوئی پرسان حال نہیں۔ یہ وہ ریٹائرملازمین ہیں جنہوں نے اس سرکاری ادارے کے قیام سے لے کر اپنی ریٹائرمنٹ تک دن رات محنت کرکے اسے بام عروج تک پہنچایا اور اسے صحیح معنوں میں فیملی چینل بنایاتھا۔ ان ریٹائر ملازمین کے دور میں پی ٹی وی کے ڈرامے‘دستاویزی پروگرام‘ مارننگ شوز‘سپورٹس کی کوریج‘ ڈسکشن پروگرام‘ تعلیمی اور مذہبی پروگرام‘ براہ راست کوریج‘حالات حاضرہ اور خبرنامہ کی مقبولیت پاکستان بھر میں تھی۔ یہ قومی ادارہ اس خطے میں الیکٹرونک میڈیا کاTREND SETTERبھی تھا۔ میرے خیال میں سیاسی بنیادوں پر چیئرمین ،ایم ڈی اورسٹاف کی تقرری کے بعد صورتحال تیزی سے بگڑتی چلی گئی اور آج یہ منافع بخش اوراعلیٰ ساکھ رکھنے والا ادارہ بے شمار مسائل کاشکار ہے ۔ہر حکومت نے اپنی پالیسیوں کو عوام تک پہنچانے اوراپوزیشن کورگڑا لگانے کیلئے اس قومی ادارے کو استعمال کیا۔ آج یہ ادارہ طرح طرح کے انتظامی اور مالیاتی مسائل کاشکار ہے جس کا تمام تر اثر بےچارے ریٹائرملازمین پرپڑ رہاہے۔ بڑھاپے کی عمر میں کبھی انہیں نقد ادائیگی پر ادویات خریدنے پرمجبور کردیا جاتا ہے اورکبھی انہیں ان کے میڈیکل بلوں کی ادائیگی میں تاخیر کی جاتی ہے۔ آپ کویہ جان کریقینا دکھ اورتکلیف محسوس ہوگی کہ پی ٹی وی اپنے ریٹائرملازمین کو پروفیسر ڈاکٹراور سپیشلسٹ سے چیک اپ کروانے کی فیس پوری ادانہیں کرتا۔ یہ ان بزرگ اوربوڑھے پنشنروں کے ساتھ صریحاً زیادتی ہے۔ پی ٹی وی کم ازکم پنشنرز کو پروفیسرڈاکٹر اور سپیشلسٹ کی پوری معائنہ فیس تو ادا کرے۔
اس وقت پنشن میں سالانہ اضافے کے حوالے سے بھی پی ٹی وی کے پنشنرز بے پناہ مسائل کاشکار ہیں۔ حکومت پاکستان ہر سال ریٹائرسرکاری ملازموں کی پنشن میں اضافہ کرتی ہے لیکن پی ٹی وی انتظامیہ اپنی مرضی سے پنشن بڑھاتی ہے۔ بہانہ یہ بنایا جاتاہے کہ پی ٹی وی کے اپنے قواعد وضوابط ہیں او راس کی آڑ میں ہی گزشتہ12سالوں کے دوران پنشنرز کی پنشن میں صرف چھ بار اضافہ کیاگیا۔ حالیہ وفاقی بجٹ2019-20ءمیں حکومت پاکستان نے پنشن میں دس فیصد اضافہ کیاہے جس کا تمام سرکاری محکموں کے پنشنرز پراطلاق بھی ہو چکاہے لیکن پی ٹی وی کے پنشنرز ابھی تک پنشن میں اضافے کے منتظر ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا پی ٹی وی حکومت پاکستان سے بھی بالاکوئی ادارہ ہے جس پر حکومت یا عدلیہ کے کسی فیصلے کااطلاق نہیں ہوتا؟
سپریم کورٹ آف پاکستان نے72سال کی عمر میں ریٹائرملازموں کو پوری پنشن(DOUBLE PANISON)دینے کا حکم صادر کیا تھا لیکن پی ٹی وی انتظامیہ 72سال تو ایک طرف رہے75سال پربھی پوری پنشن دینے کوتیار نہیں‘ اس مسئلے پر بھی یہی بہانہ کیاجاتاہے کہ ہمارے اپنے قواعدوضوابط ہیں جو بورڈ آف ڈائریکٹرز سے منظور شدہ ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیاپی ٹی وی کے اپنے قواعدوضوابط کاسہارا لے کر پنشنرز کو ان کے جائز حق سے محروم کرنا انسانی حقوق اور آئین پاکستان کی کھلی خلاف ورزی نہیں؟ وزارت اطلاعات ونشریات کے تحت کام کرنے والے ادارے ریڈیو پاکستان(PBC) میں پنشنرزکی پنشن ہرسال حکومت کے اعلان کے مطابق بڑھ جاتی ہے اورانہیں پوری پنشن بھی مل جاتی ہے ایسی صورت میںPTVکے انوکھے قواعدوضوابط سمجھ سے بالاتر ہیں۔ اس وقت تک پی ٹی وی کے درجنوں75سال سے زائد عمر کے پنشنرز پوری پنشن کے انتظار میں اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں اورصرف25 کے لگ بھگ زندہ ہیں جبکہ ان میں سے 12شدید بیمار ہیں ،کیا پی ٹی وی انتظامیہ حکومت پاکستان کے قوانین کے عین مطابق72 سال کی عمر سے انہیں پوری پنشن کاحق دے گی؟ کیا پی ٹی وی کابورڈ آف ڈائریکٹر بوڑھے اوربزرگ پنشنروں کی پنشن میں ہرسال اضافہ اور72 سال پرپوری پنشن دینے کاان جائز حق دینے کیلئے فوری اورعملی اقدامات کرے گی؟ ایک بات ذہن نشین رہے کہ ہمارا دین بھی بوڑھے بزرگوں کے ساتھ محبت اورشفقت کرنے کاحکم دیتا ہے۔ ان کی خدمت کرنا ‘ان کاخیال کرنا‘ان کی ضروریات کوپورا کرنا اور ان کو علاج معالجے کی سہولتیں دینا اسلامی احکامات کے عین مطابق ہے۔ کیا اس ملک کو ریاست مدینہ بنانے کادعویٰ اورعزم کرنے والے اس طرف بھی توجہ دیں گے؟
پاکستان ٹیلی ویژن نے اپنے ریٹائرملازمین کی فلاح وبہبود کی طرف کبھی بھی توجہ نہیں دی اورابھی تک پی ٹی وی پنشن فنڈ ٹرسٹ بھی قائم نہیں کیاجس سے ریٹائر ملازموں کو ان کی کمیوٹیشن(COMMUTATION) کی رقم ادا کرنے میں کئی سال کی غیر ضروری تاخیر ہو جاتی ہے۔ ابھی پچھلے دنوں وزیراعظم کی مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان‘ چیئرمین پی ٹی وی اورنئے منیجنگ ڈائریکٹر پی ٹی وی نے203ریٹائرملازموں کو ان کی کمیوٹیشن کی رقم ادا کرنے کاعملی قدم اٹھایا جوکہ قابل صدتحسین ہے۔ یاد رہے کہ یہ ملازمین یکم جولائی 2016ءسے31 دسمبر2017ءکے دوران ریٹائر ہوئے تھے اور انہیں اپنے حق کمیوٹیشن کی رقم لینے کیلئے دو سال سے تین سال تک انتظار کرنا پڑا۔ یکم جنوری2018ءسے اب تک کے تقریباً250کے لگ بھگ ریٹائرملازمین کمیوٹیشن کے حصول کیلئے بے چینی سے ا نتظار کررہے ہیں اوربے پناہ مالی اورمعاشی مسائل کاشکار ہیں۔ اگرپاکستان ٹیلی ویژن نے پی ٹی وی پنشن فنڈ ٹرسٹ قائم کرکے اس میںاس مقصد کیلئے رقم رکھی ہوتی تو کبھی بھی ایسے حالات پیدا نہ ہوتے۔ضرورت اس بات کی ہے انتظامیہ پی ٹی وی پنشن فنڈ ٹرسٹ کافوری طورپر قیام عمل میں لائے اور اس میں پی ٹی وی کے ہرمرکز سے کم ازکم دو دوریٹائرملازمین کو ٹرسٹ میں شامل کرے تاکہ فنڈ اورریٹائرملازموں کے حقوق کاتحفظ ہوسکے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس سے پہلے پی ٹی وی انتظامیہ ملازمین کے پنشن کیلئے مختص رقم میں سےESPNسپورٹس چینل میں خاموشی سے671ملین روپے کی سرمایہ کاری کرچکی ہے جس کی وجہ سے2014-15ءمیں ریٹائرہونے والے ملازمین کو دو سال کی تاخیر سے کمیوٹیشن کی رقم ملی تھی۔اس طرح کی غیرقانونی کارروائیوںکوروکنے کیلئے ٹرسٹ میں ریٹائر ملازمین کی مو¿ثرنمائندگی بے حد ضروری ہے۔ ریٹائرملازمین کایہ مطالبہ بالکل جائز ہے کہ انتظامیہ پی ٹی وی پنشن فنڈ ٹرسٹ کاقیام فوری طورپرعمل میں لائے‘ اس سے معقول رقم رکھی جائے اوریکم جنوری2018ءسے اب تک ریٹائرڈ ہونے والے تمام ملازمین کو ان کی کمیوٹیشن کی رقم فوری طورپر ادا کی جائے اورآئندہ سے یہ پالیسی بنائی جائے کہ تمام سرکاری محکموں کی طرح ریٹائرمنٹ کے وقت ہی ریٹائرملازم کے تمام واجبات موقع پر ہی ادا کردئیے جائیں۔
ملک میں روزبروز بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے پی ٹی وی کے پنشنروں کی پنشن میں کم ازکم15فیصد کافوری اضافہ کیاجائے اور انصاف کے تقاضوں کوپورا کرنے کیلئے گزشتہ 12سالوں کے دوران انتظامیہ نے حکومت پاکستان کے ساتھ6مرتبہ ہماری پنشن میں اضافہ نہیں کیاتھا وہ کھوایاہوا ہمارا حق ہمیں فوراً واپس دیاجائے۔ یہ بات یاد رہے کہ اس وقت پنشن کے تمام معاملات صرف اس وقت زیر غور آتے ہیں جب دو سال بعد پی ٹی وی کی سی بی اے کے ساتھ انتظامیہ کے چارٹر (CHARTER) پر مذاکرات ہوتے ہیں اس سے ریٹائرملازمین کو بے شمار مسائل کاسامنا کرناپڑتاہے اورچارٹر کے انتظار میں کئی پنشنرز اللہ کوپیارے ہو جاتے ہیں لہٰذا انتظامیہ کو چاہئے کو وہ ریٹائرملازمین یعنی پنشنرز کوCBAیونین کے چارٹر کے ساتھ منسلک نہ کرےں بلکہ انہیں حکومت پاکستان کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے پی ٹی وی پنشن فنڈ ٹرسٹ کے ذریعے پنشن میں اضافے کمیوٹیشن کی بروقت ادائیگی اوردیگر مراعات دے۔ پی ٹی وی ریٹائرڈ ایمپلائزویلفیئر ایسوسی ایشن کے چیئرمین احسان اللہ خان کایہ مطالبہ سوفیصد درست ہے کہ پی ٹی وی میں نئی بھرتیوں کے وقت ریٹائرملازمین کے بچوں کیلئے دس فیصد کوٹہ مختص کیاجائے ۔ یاد رہے کہ حکومت پاکستان کے تما م محکموں اور اداروں میں ریٹائرملازمین کے بچوں کیلئے کوٹہ مختص کیاجاتاہے۔ایسا کرنے کیلئے ریٹائرملازمین کی خدمات کااعتراف کرنا سمجھا جاتاہے۔ان حالات میں پی ٹی وی انتظامیہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ EOBIکے قوانین تک تمام ریٹائرملازمین کی کنٹری بیوشن یکم جولائی 2013ءسے فوری ادا کرے تاکہ ریٹائرملازموں کو مزید مالی نقصان سے بچایاجاسکے۔دوسری طرف پی ٹی وی نے اپنے ملازمین کی ماہانہ تنخواہ سے گروپ انشورنس کی پریمیم کی رقم کبھی بھی منہا نہیں کی جس کی وجہ سے آج ریٹائرمنٹ کے بعد ہزاروں پنشنرز گروپ انشورنس کی واپسی کی بھاری رقم سے محروم رہ گئے ہیں۔ اس بدانتظامی اور ریٹائرملازمین کے مالی نقصان کے ازالے کیلئے پی ٹی وی انتظامیہ کو فوری اقدامات کرنا چاہئیں۔ پی ٹی وی کے ریٹائرملازمین پی ٹی وی کے چیئرمین ارشد خان اور منیجنگ ڈائریکٹر عامرمنظور سے بہت سی امیدیں واستہ کیے ہوئے ہیں کہ وہ جہاں پی ٹی وی کے کھوئے ہوئے مقام کوواپس لانے کیلئے عملی اقدامات کرینگے وہاں ملازمین خاص طورپرریٹائرملازمین کومراعات دینے اور ان کے جائزحق کیلئے فوری اقدامات کریںگے۔
(کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved