تازہ تر ین

عام آدمی کی آواز کون سنے گا؟

مرزا رضوان….حروف بے زباں
بلاشبہ وطن عزیز پاکستان پر حکمرانی کرنیوالوں نے عوام کے ساتھ کئے جانیوالے بلند وبانگ دعوﺅں اور وعدوں کو کبھی پورا نہیں کیا اور جھوٹ، دھوکہ دہی اور فراڈ کی سیاست کو فروغ دیا ۔ عوامی طاقت ”ووٹ“کے بل بوتے پر ”ایوان اقتدار“تک پہنچنے والوں نے مُڑ کر کبھی عوام خبر گیری نہیں کی ۔ لیکن جب بھی الیکشن مہم میں یہ لوگ عوام کے درمیان آئے تو پھر سبز باغ دکھانے اور وعدوں سمیت عوامی خدمت کے بلند و بانگ دعووں کی بنیاد پر عوام کو بیوقوف بنا کر چلتے بنے ۔ عوام کے ”ووٹ“پر منتخب ہو کر منتخب ہونیوالے وزیراعظم نے اگر کچھ خدمات سرانجام دے بھی دیں تو اس میں کمال کیا بات ہوسکتی ہے ۔کیونکہ عوام نے ان کو منتخب ہی اس وجہ سے کیا کہ وہ ایوان میں پہنچ کر عوام کی مکمل ترجمانی کرتے ہوئے ان کو ریلیف دینے میں کوئی کارہائے نمایاں سرانجام دے سکیں ۔ عوام نے ہر دفعہ یہی فیصلہ کیا کہ اب کے بار وہ انتہائی مخلص ، محب وطن اور عملی طور پر ان کے دکھوں کا مداوا کرنے والے کوہی ”ووٹ “دیکر اپنے روشن مستقبل کافیصلہ کریں گے لیکن عوام کو ہمیشہ مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ہماری عوام بہت جلد بھول جاتی ہے کہ ان کے ساتھ ناانصافی کرنے والے ایک بارپھر ان سے ”ووٹ“مانگنے آرہے ہیں اور وہ سب کچھ بھول کر انہی ”نام نہاد“خدمت گزاروں کے جلسے جلوسوں اور ان کے ”نعرے“ لگانے میں مگن ہوجاتے ہیں ،صرف اس امید پر کہ شاید اب یہ ”عوامی نمائندہ“ان کے لیے بہت کچھ کر گزرے گا ۔ عوام کو ان کے ساتھ ایک مرتبہ پھر ”امید“کے سہارے وعدوں پر یقین کرنا پڑجاتا ہے ۔اگر یوں کہا جائے تو بہتر ہو گا کہ ”تبدیلی“کی خواہاں ”عوام“کو بہت جلد ان کی ”خدمت گزاری“دیکھنے کو مل جاتی ہے ۔ اور یوں ”جمہوریت“کے نام پر عوام کو بیوقوف بنانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ حقیقی ”تبدیلی“کی خواہاں عوام کو اپنے روشن مستقبل کی ”امید“کو شرمندہ تعبیر بنانے کیلئے ”سنجیدگی“سے سوچنے کیلئے بھی ایک مرتبہ”بیدار“ہونا ہوگا۔ اپنے آنیوالی نسلوں کو ایک مستحکم پاکستان دینے کیلئے ہمیں ”جاگنا“ہوگا ۔ اس غفلت کی نیند سے جس میں ہمیں ہمارے ان ”خدمت گزاروں“نے گذشتہ کئی سالوں سے ”سُلا“دیا ہوا ہے ۔ ہر پارٹی ہر حکمران اور ہر ”عوامی نمائندے“نے جس قدر ملک وقوم کی خدمت کی ہے وہ سب کے سامنے ہے ۔ کیا یہ بچاری عوام ہر مرتبہ ان کی باتوں میں آکر ایسے حکمران اپنے سروں پر بٹھاتی رہیگی جنہوں نے اپنی ذات اپنے بچوں اور قومی خزانے سے اپنے بنک اکاﺅنٹوں کو بھرنے کے علاوہ ”عوامی خدمت کا کبھی سوچاہی نہیں ۔ کیا ہماری عوام کا حق بس یہیں پر ختم ہوجاتا ہے جہاں وہ اپنا ”ووٹ“ان کے سپرد کردیتے ہیں ۔ اور یہ رِیت پاکستان کی سیاست میں پوری طرح اپنے قدم جماچکی ہے کہ نسل در نسل جس نے حکومت کرنی ہے اس نے حکومت ہی کرنی ہے اور نسل درنسل جس نے ”ووٹ“دینا ہے وہ صرف ”ووٹ “ہی دیگا ۔وہ سیاست میں نہیں آسکتا اور نہ ایوان اقتدار کے دروازے کو ”کراس“کرسکتا ہے۔ چاہے وہ کوئی مزدور یا پھر ہمارے معاشرے کا ایک پڑھا لکھا باشعور فرد۔ یقینا ہمیں ”جاگنا “ہوگا اور سنجیدگی سے سوچنا ہو گا کہ کب تک ہم جھوٹے وعدے اور سبز باغ دکھانے والوں کے پیچھے بھاگتے رہیں گے ۔اور کون ہمارے مسائل کی فریاد کو لیکر ”ایوان اقتدار“کے دروازے پر ”دستک“دے گا۔
گذشتہ دنوں میری ملاقات اسی عوام کے دکھوں کو خوشیوں میں بدلنے اور ان کو حقیقی ”ریلیف“دلوانے کا اپنے دل میں ”درد“رکھنے والے ایک انسان سے ہوئی جس کا کہنا ہے کہ صرف ایک فیصد طبقہ ہماری عوام کو نسل درنسل ”بیوقوف“بناکر اپنے ذاتی مقاصد حاصل کرنے میں مسلسل کامیاب ہورہاہے اور طبقہ ہے ہمارے سیاسی حکمرانوں کا۔باقی ہم 99فیصد مڈل کلاس ، محنت کش اور نوجوان طبقہ ہے جو اپنا ذاتی حق حاصل کرنے سے بھی قاصرہے ۔یہ انسان وطن عزیز پاکستان میں ایک ایسی عوامی اور جمہوری ”ریاست“کے قیام کا خواہاں ہے ۔جہاں مواقع اور وسائل پر سب کی ”برابری“کی ”دسترس“کا اصول کاربندہو۔اور وطن عزیز میں جو کچھ ”اگتا، بنتا اور ملتا“ہو وہ بلاتفریق رنگ و نسل ، زبان ، صنف، ذات، برادری، قومیت، عقیدہ و فرقہ ہر ایک کی دسترس میں ہو۔اس انسان کا مشن انسانی برابری پر مبنی معاشرے ، دولت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کیلئے مڈل کلاس اور محنت کشوں کو ایک بڑی ”سیاسی پارٹی “تعمیرکرکے فراہم کرنا ہے ۔ یہ محب وطن انسان وطن عزیز پاکستان میں انسانوں کو برابری کی بنیاد پر یکساں مواقع فراہم کرنے کا ”علم“اٹھائے تن تنہا میدان عمل میں اترا ہے ۔ جو ملک کے قدرتی اور انسانی محنت سے پیدا کردہ ”وسائل “پر چند لوگوں کے ”کنٹرول“کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنا اور عوام کو خوشحال اور صحت مند، باوقار زندگی گزانے کیلئے موزوں زرائع آمدن کی فراہمی کو ”یقینی “بنانا چاہتاہے ۔گلوکاری میں بلند پایاں مقام حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت نے نے اس کے دل میں ”عوام کا درد“بھی پیدا کررکھا ہے ، جو ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔ اپنے دل میں عوام ”حقیقی درد“رکھنے والا محب وطن یہ انسان جواداحمدملک وقوم کی حقیقی اور عملی خدمت کیلئے سیاسی تحریک ”برابری پارٹی پاکستان “کا چیئرمین بھی ہے۔ملاقات کے دوران جواد احمد سے ملکی ، سیاسی اور سماجی موضوع پر خاصی گفتگو بھی ہوئی ۔ معروف گلوکاراور چیئرمین برابری پارٹی پاکستان جواد احمد نے بتایا کہ” برابری پارٹی پاکستان“ چاہتی ہے کہ جب ساری قانون سازی پارلیمنٹ میں ہی ہوتی ہے تو ہم 99فیصدیعنی عام آدمی ان ایک فیصد کے سامنے کھڑے ہو کر کیوں نہ منظم ہوں۔ اور ان کے مد ِمقابل قومی، صوبائی ،لوکل گورنمنٹ کے الیکشن میں حصہ لیں اور منتخب ہو کر ایسا نظام تشکیل دیں جہاں ضروریاتِ زندگی برابری کی بنیاد پر ہر ایک کی دسترس میں ہوں۔ جہاں ہر ایک کیلئے ایک جیسی مفت تعلیم، ایک جیسا مفت علاج میسرہو، جہاں ہر خاندان کا اپنا گھر ہو، جہاں دیہات میں رہنے والوں کے پاس اتنی زمین ہو کہ وہ کھیتی باڑی کر کے خوش حال زندگی گزار سکیں، جہاں کم از کم تنخواہ ، بیروزگاری الاو¿نس اور بڑھاپاالاو¿نس 50ہزار روپے ماہوار ہو اور افراطِ زر سے منسلک ہو ، ہرشعبہ ہائے زندگی میں کام کرنے والے کیلئے کم از کم 50ہزار روپے ماہانہ آمدنی یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہو۔ جی ہاں۔۔۔ ہم 99فیصد مل کر پرامن اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سیاسی،آئینی، قانونی جدوجہد میں ہمارے ساتھ شریک ہوں۔ہم آپ کو برابری پارٹی پاکستان میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں کیونکہ آپ ہی ہمارے مستقبل کے لیڈرز ہیں۔
آخر میںبس یہی کہوں گا کہ 99فیصد طبقے کی ”آواز “کون سنے گا۔اور ساتھ ہی اللہ رب العزت کے حضور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ برادرم جواد احمدکی مدد و رہنمائی اور مزید کامیابیوں سے ہمکنار فرمائے اور ہم 99فیصد طبقے کیلئے کارہائے نمایاں سرانجام دینے ہمت عطافرمائے ۔ (آمین یارب العالمین)
(کالم نگار مختلف امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved