تازہ تر ین

ناصر بٹ کے ڈیرے کا سارا حساب لگے گا

اسلام آباد ( مظہر شیخ سے ) مبینہ جج ویڈیو سیکنڈل کی تحقیقات کے حوالے سے ایف آئی میں درج مقدمہ کے مرکزی کردار ناصر بٹ کے راولپنڈی مین مختلف تھانوں یں درج مقدمات کی تفصیلات 2013میں بیرونِ ملک آنے جانے کا امیگریشن ریکارڈ قبضے میں لیا گیا۔ایف آئی آر میں نامزد دیگر افراد کے خلاف بھی ایف آئی اے کی طرف سے آئندہ چند روز میں کاروائیاں متوقع ۔ناصر بٹ کی غنڈہ و قتل و غارت گری کا شکار افراد کا بھی ایف آئی اے کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سکینڈل کیس کی تحقیقات کے حوالے سے ویڈیو اسکینڈل میں شامل افراد کو گرفتار کرنے کےلئے فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی نے ملک کے مختلف شہروں میں چھاپے ما ر نے شروع کر د یئے، ایف آئی اے کی جانب سے مبینہ ویڈیو کے مرکزی کردار ناصر بٹ کے ڈیرے ڈھوک رتہ راولپنڈی میں چھاپہ مارا، چھاپے کے دوران ایف آئی اے کو ناصر بٹ نہیں ملا جبکہ اس کا چھوٹا بھائی ڈیرے سے فرار ہو گیا۔ دوسری طرف ایف آئی اے کی جانب سے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو میں شامل کرداروں کے خلاف چھاپے مارنے کا سلسلہ جاری ہے، ایف آئی اے کی جانب سے ناصر بٹ کی بیرون ملک سفر کی تفصیلات بھی حاصل کرلی گئی ہیں۔ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ 2013میں نواز شریف کی حکومت آنے کے بعد لندن میں اشتہاری زندگی گزارنے والے ناصر بٹ نے مبینہ طور پر پاکستان واپس آکر حکومتی مدد سے اپنے آپ کو مقدمات سے بری کروانے کی کوشش کی تاہم قتل کے ایک مقدمہ میں ناصر بٹ علاقہ مجسٹریٹ کی رکاوٹ کے باعث بری نہ ہو سکا ، یہ قتل روالپنڈی کا ایک مشہور قتل ہے جس میں ناصر بٹ بعد ازاں لندن فرار ہو گیا تھا اور بعد ازاں برطانوی شہریت حاصل کرلی۔ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی قابل اعتراض و یڈیو بنانے پر 6 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔زرائع کے مطابق جج ارشد ملک کی وزارت قانون کے ذ ریعے ڈی جی ایف آئی اے کی درخواست پر دائر مقدمے میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ 2002ئسے 2003ءکے درمیان ملتان میں بطور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تعینات تھے۔میاں طارق نے انہیں ورغلا کر نشہ آور چیزکھلائی اور ن کی خفیہ ویڈیو بنا لی پھر اس میں رد و بدل کر کے غیر اخلاقی ویڈیو بنا ڈالی۔غیر اخلاقی ویڈیو ن لیگ کے رہنما میاں رضا کو فروخت کی گئی۔پھر ویڈیو کی بنیاد پر ہی ناصر بٹ، ناصر جنجوعہ ، خرم یوسف اور دیگر نے دباو¿ ڈالنا شروع کیا کہ نواز شریف کی مدد کریں اور ان کی مرضی کا بولیں۔ جج ارشد ملک نے مریم نواز اور شہباز شریف کے خلاف بھی کاروائی کی درخواست کی اور کہا کہ ان افراد نے ٹیمپرڈ ویڈیو چلائی اور اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سامنے لانے پر مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔ذرائع کے مطابق جج ارشد ملک کی شکایت پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے سائبر کرائم ونگ نے الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کردیاہے۔ مقدمے میں مریم نواز، شہبازشریف، شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف ، عظمیٰ بخاری، پرویز رشید، احسن اقبال و دیگر کو نامزد کیا گیا۔ایف آئی آر کے متن میں لکھا گیا ہے کہ مریم نواز نے ویڈیو ہیر پھیر کر کے دکھائی اور اسے ٹیمپر کر کے الیکٹرانک فارجری بھی کی۔ایف آئی آراندراج کے بعدویڈیوبلیک میلنگ اسکینڈل میں میاں رضا نامی نیا کردار بھی سامنے آیا جس نے ویڈیو میاں طارق سے خرید کر اسے آگے فروخت کیا۔ جج ارشدملک کی ہی شکایت پر ایف آئی اے نے دبئی فرار ہونے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے میاں طارق کو گرفتارکیا۔متن میں کہا گیا ہے کہ جب ملتان میں ڈسٹرکٹ جج تھا تو میاں طارق نے غیراخلاقی ویڈیوبنائی۔5ماہ پہلے میاں طارق نے ویڈیو مسلم لیگ ن کے رہنمامیاں رضا کو فروخت کی، ویڈیو کے ذریعے ناصرجنجوعہ،ناصربٹ،خرم یوسف، مہرگیلانی نے بلیک میل کیا اور کہا کہ نوازشریف کی مدد کرو۔جج ارشد ملک کی درخواست پر کاٹی جانے والی ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ بلیک میل کرکے کہاجاتاتھا کہ تاثر پیش کروں نوازشریف کے خلاف فیصلہ دباﺅمیں دیا۔

 


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved