تازہ تر ین

حافظ سعید دہشت گرد؟

کامران گورائیہ
حافظ سعید کی گرفتاری نے ناصرف ان سے عقیدت رکھنے والوں کو پریشان میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ عوام کے لیے بھی ایک سوال چھوڑ دیا ہے کہ ایک ایسی جماعت کے سربراہ کی گرفتاری کے پس پردہ عوامل کیا ہو سکتے ہیں جو ملک میں قدرتی آفات کی صورت میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے ۔
وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکہ انتہائی معنی خیز قرار دیا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ کے دورہ سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے امریکہ کو حافظ سعید کی گرفتاری، بھارت کیلئے فضائی حدود پر پابندی کا خاتمہ، افغانستان میں قائم امن کے لیے ادا کیا گیا کردار، تحفہ میں پیش کیا ہے۔ اور اس کا صلہ ظاہری طور پر امریکہ کی جانب سے پاکستان کے لیے امدادی فنڈز بحالی صورت میں نکل سکتا ہے۔ لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ حافظ سعید کوعمران خان کے دورہ امریکہ سے قبل ہی کیوں گرفتار کیا گیا اور اگر گرفتار کر بھی لیا گیا ہے توکیا پاکستان اس بات کا اعتراف کر چکا ہے کہ خطے اوربالخصوص بھارت میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں پاکستانی ملوث ہیں۔ اگر حافظ سعید کی گرفتاری صرف اور صرف پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے تو اسکی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جانی چاہئیں اور یہ تاثر قائم نہیں ہونا چاہیے کہ حکومت پاکستان نے غیر ملکی طاقتوں کے سامنے سر جھکا لیا ہے۔ اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کیس میں بھارتی درخواست مسترد ہونے سے خطے میں پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اب ایک دنیا پاکستان کے موقف کو ناصرف سنتی ہے بلکہ اسے تسلیم بھی کرتی ہے۔ اس نازک ترین صورتحال میں پاکستان اور خاص طور پروزیراعظم عمران خان کو اپنے دورہ امریکہ میں انتہائی جرت مندانہ موقف اپنانے کی ضرورت ہے۔
حکومت نے کالعدم تنظیم جماعت الدعوة کے بانی حافظ سعید اور ان کے ساتھیوں سمیت کالعدم لشکرِ طیبہ اور جماعت الدعوةکی ذیلی تنظیم فلاحِ انسانیت فاﺅنڈیشن کے کل 13 رہنماﺅں کے خلاف23 مقدمات درج کیے ہیں۔پنجاب کے انسدادِ دہشت گردی کے محکمے کے حکام کا کہنا ہے کہ ان تنظیموں کے خلاف تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔جماعت الدعوةکو رواں برس مارچ میں ہی کالعدم قرار دیا گیا تھا اور ماضی میں اس جماعت اور اس کے سربراہ حافظ سعید کے حوالے سے عالمی سطح پر پاکستان کا موقف رہا ہے کہ ان کے خلاف پاکستان کی عدالتوں میں کوئی مقدمات نہیں یا ان کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں۔ کالعدم جماعت الدعوة، لشکرِ طیبہ اور فلاحِ انسانیت فاﺅنڈیشن کے معاملات میں بڑے پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔سی ٹی ڈی پنجاب کاکہنا ہے کہ ان تنظیموں نے دہشت گردی کے لیے اکٹھے کیے جانے والے فنڈز سے اثاثے بنائے اور پھر ان اثاثوں کو استعمال کرتے ہوئے دہشت گردی کے لیے مزید فنڈز جمع کیے۔ سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ ان تنظیموں نے یہ اثاثہ جات مختلف غیر سرکاری تنظیموں یا فلاحی اداروں کے نام سے بنائے اور چلائے۔ محکمہ انسدادِ دہشتگردی کے مطابق حافظ سعید اور دیگر 12 افراد انسدادِ دہشت گردی کے قانون1997ءکے تحت دہشت گردی کے لیے پیسے جمع کرنے اور منی لانڈرنگ کے مرتکب ٹھہرے ہیں اور ان کے خلاف انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں مقدمات چلائے جائیں گے۔کالعدم جماعت الدعوةکے ذیلی ادارے فلاحِ انسانیت فاﺅنڈیشن سمیت دیگر تمام وہ ادارے جن کا سی ٹی ڈی کے بیان میں ذکر کیا گیا ایک عرصے سے کام کر رہے ہیں۔ فلاحِ انسانیت فاﺅنڈیشن کے تحت ایمبولینس سروس، سکول و مدارس، ہسپتال اور دیگر فلاحی ادارے چلائے جاتے تھے۔
رواں برس ہی حکومتِ پنجاب نے ان اثاثہ جات کو اپنی تحویل میں لیتے ہوئے فلاحی اداروں کا انتظام سنبھال لیا تھا لیکن عوام یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ حکومتی اداروں کو یہ جاننے میں اتنی دیر کیوں لگی کہ یہ فلاحی ادارے مبینہ طور پر دہشت گردی کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے میں ملوث ہو سکتے تھے۔اس کا ایک سیاق و سباق بظاہر موجود تھا۔ پاکستان کے ایک دوست اسلامی ملک انڈونیشیا نے پہلی بار ایشیا پیسیفک گروپ میں یہ شکایت کی تھی کہ جماعت الدعوةکے چند ذیلی فلاحی ادارے ان کے ملک اور وہاں سے چند ہمسایہ ممالک کے اندر امدادی کاموں میں مصروف تھے۔ اس شکایت کے بعد فنانشل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو دوبارہ گرے لسٹ میں شامل کیا تھا۔ حالیہ مقدمات کے اندراج سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی کا وہ تصور جو عالمی سطح پر قابلِ قبول ہے پاکستان نے پہلی مرتبہ اس کو مانا ہے۔ اس سے قبل دہشت گرد تنظیموں کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا جاتا تھا یعنی وہ جو پاکستان میں متحرک ہیں یا نہیں ہیں اور وہ جو پاکستان کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں یا نہیں۔ ایف اے ٹی ایف میں بھی پاکستان کے اسی تصور کی مخالفت پائی جاتی تھی۔پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے حالیہ اجلاس کو دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان نے کہا تھا کہ یہ تنظیمیں پاکستان کے اندر (دہشت گرد کارروائیوں میں)ملوث نہیں ہیں، ان سے کم خطرہ ہے اور زیادہ خطرے والے گروپوں جیسا کہ تحریکِ طالبان پاکستان یا داعش کو الگ کیا گیا تھا۔ محکمہ انسدادِ دہشت گردی پنجاب کا کہنا ہے کہ کالعدم تنظیموں جماعت الدعوةاور لشکرِ طیبہ کے مالی معاملات میں بڑے پیمانے پر تحقیقات پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات اور اقوامِ متحدہ کی جانب سے ان تنظیموں پر لگائی جانے والی پابندیوں کی روشنی میں کی گئیں لیکن اس حوالے سے تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ مقدمات محض ایف اے ٹی ایف یا عالمی برادری کے دبا ﺅپر قائم کیے گئے یا پھر یہ حکومت پاکستان کی پالیسی میں تبدیلی کی طرف اشارہ ہے؟لیکن بہتر ہوتا کہ تبدیلی پہلے لائی جاتی تاکہ عالمی دبا کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور نہ ہمیں بین الاقوامی فورمز پر شرمندگی اٹھانا پڑتی۔ یہ ضروری ہے کہ ایسے اقدامات پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔ یہ درست ہے کہ لشکرِ طیبہ وغیرہ نے پاکستان کے اندر کارروائیاں نہیں کیں اور اسی وجہ سے وہ ہمارے قریب بھی رہے ہیں مگر اب مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ان کی یہ قربت بھی مہنگی پڑ رہی ہے۔پاکستان شایداب ایسے مرحلے پر آ چکا ہے جہاں آخرکار اسے ان تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنا پڑے گی جب تک نہیں کریں گے عالمی دباﺅ قائم رہے گا اور بڑھتا رہے گا۔
محکمہ انسدادِ دہشت گردی پنجاب نے اس حوالے سے کوئی تفصیلات تاحال جاری نہیں کیں کہ فلاحی اداروں کا جمع کردہ چندہ کس طرح دہشت گردی میں استعمال ہوا۔ان تنظیموں پر عائد کیے جانے والے الزامات انتہائی سنگین نوعیت کے ہیں۔ اس سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ سی ٹی ڈی پنجاب کے پاس ان کے خلاف ثبوت موجود ہوں گے۔ یہ جاننا زیادہ مشکل نہیں کہ ان تنظیموں کے پاس پیسہ کہاں سے آتا تھا۔ ان کے مختلف ذرائع تھے۔ ان میں ایک ان کو موصول ہونے والے عطیات اور دوسرا ان کے قائم کردہ ادارے ہیں۔جماعت الدعوةیا فلاحِ انسانیت فاﺅنڈیشن کے تحت قائم کردہ 700 کے قریب ماڈل سکول یا ہسپتال بھی مکمل طور پر فری نہیں تھے اس معاملہ میں ابہام کا امکان ہے کیونکہ ان سے بھی ان کو آمدن ہوتی تھی لیکن یہ ثابت کرنے کے لیے کہ یہاں سے آنے والا پیسہ کیسے اور کہاں دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتا تھا، سی ٹی ڈی پنجاب کو عدالت میں ٹھوس شواہد دینا ہوں گے۔ اگر سی ٹی ڈی پنجاب کے پاس ٹھوس شواہد موجود نہ ہوئے تو ان الزامات کو عدالتوں میں ثابت کرنا بہت مشکل ہو گا۔یہ اس لیے بھی اہم ہو گا کہ جماعت الدعوةاور اس کے ذیلی ادارے یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ انھوں نے پیسے دہشت گردی کے لیے نہیں بلکہ فلاحی مقاصد کے لیے جمع کیے لیکن سب سے ضروری چیز یہ ہے کہ ہم بیرونی قوتوں کے دباﺅ میں آنے کی بجائے ملک کے وسیع تر مفاد میں مکمل غیر جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حافظ سعید سمیت ان تمام افراد کے خلاف تحقیقات کریں جن کی وجہ سے پاکستان کی سالمیت اور استحکام کو خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ بھارت اور امریکہ کا حافظ سعید کی گرفتاری پر خیر مقدمی بیانات دینا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
(کالم نگارسینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved