تازہ تر ین

پاسپورٹ پالیسی ‘وزیر داخلہ توجہ دیں

فیصل مرزا……..اظہار خیال
گذشتہ روزفیملی کے پاسپورٹ کے حصول کےلئے پاسپورٹ دفتر اسلام آباد کا دورہ کیا، تو چند شناسا چہرے بھی نظر آ گئے جو کہ سرکاری محکموں میں افسران تعینات ہیں، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وزارت داخلہ کی طرف سے سرکاری ملازمین کےلئے چند ماہ پہلے نئی پالیسی بنائی گئی ہے جس کی رو سے تمام سرکاری ملازمین پاسپورٹ کے ڈیٹا میں اپنا پیشہ سرکاری ملازم درج کروائیں، ایسا نہ کرنے والوں کےلئے 5000روپے جرمانہ بھی عائد کیا جا رہا ہے ۔ 22جولائی اس پر عمل درآمد کیلئے آخری تاریخ بتائی گئی ہے جس کے بعدڈیٹا میںپیشہ سرکاری ملازم درج نہ کروانے والے ملازمین کو 50ہزار روپے جرمانہ اور ان کے خلاف ایف آئی آربھی درج کروا کر سزا دیئے جانے کا بتایا جا رہا ہے۔ میں نے چند منٹ جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ اس وقت پاسپورٹ دفاتر میں موجود سینکڑوں درخواست گذاروں میں سے بیسیوں سرکاری ملازمین ہیں جو کہ اپنا پیشہ سرکاری ملازم درج کروانے آئے ہیں، ان ملازمین کا ڈیٹا کا¶نٹر پر جب ڈیٹا چیک کیا جاتا تو وہاں سب سرکاری ملازمین کا پیشہ otherدرج تھا۔ اکثر ملازمین کہتے پائے گئے کہ انہوں نے اپنا پروفیشن تو ٹیچر، خودمختار ادارے کا ملازم، سرکاری ملازم وغیرہ وغیرہ درج کروایا تھا۔ میرے لئے یہ حیرانگی کاباعث تھا کہ تمام سرکاری ملازمین کا پیشہ otherکیوں درج ہے ۔ تمام لوگوں نے غلط اندراج نہیں کروایا اور اگر غلط اندراج کروایا بھی ہے توotherمیں مزید جو لائبریری میں پیشہ موجود نہیں وہ درج ہونا چاہیے تھا۔غلط اندراج کروانے کی صورت میں پرائیویٹ ملازم، تاجر یا دیگر کوئی بھی پیشہ درج ہونا چاہیے تھا۔اور اگر دفتری غلطی کی وجہ سے other لکھا گیا ہے تو یہ دفتری غلطی کی مد میں بلا معاوضہ درست کیا جانا چائیے۔
یہ پاسپورٹ محکمہ کے ڈیٹا انٹری سٹاف کی غلطی ہے کہ لاکھوں سرکاری ملازمین کا پیشہ غلط درج ہوا، اس میں کوئی شک نہیں کہ چند سرکاری ملازمین نے قصداً بھی غلط اندراج کروایا ہو گا، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محکمہ کی غلطی کی سزا غریب سرکاری ملازمین کو کیوں دی جارہی ہے اور اتنا بھاری جرمانہ وصول کیا جا رہا ہے جو کہ اس مہنگائی کے دور میں گریڈ 12سے نیچے کے سرکاری ملازمین جن کی تنخواہ 25سے 30ہزار روپے ہے ان کےلئے برداشت کرنا ناممکن ہے، 50ہزارجرمانہ تو وہ ساری زندگی بچت سے ادا نہیں کر سکتے۔
اس پالیسی کے حوالے سے تمام سرکاری ملازمین با خبر بھی نہیں ہیں ، اکثر تو میڈیا مہم نہ ہونے کی وجہ سے لاعلم ہیں کہ سرکاری ملازم پیشہ درج کرانا لازمی ہے اور اس کیلئے محکمہ کی طرف سے22جولائی آخری تاریخ تعین کی گئی ہے۔ میڈیا مہم کے نام پر صرف ایک اشتہار اخبار میں دیا گیا جبکہ 50فیصد سے زائد ملازمین اخبار پڑھتے ہی نہیں، کیونکہ زیادہ تر عوام ٹی وی دیکھتے ہیں اسلئے الیکٹرانک میڈیا مہم بھی ساتھ چلا کر مطلوبہ نتائج مقررہ وقت میں حاصل کئے جا سکتے تھے، لیکن خیر میڈیا مہم پاسپورٹ کے محکمہ میں چلانا ڈی جی پاسپورٹ کے لئے ممکن بھی نہیں تھا کیوں کہ ڈی جی پاسپورٹ کے سٹاف میں پی آر او برائے میڈیا موجود ہی نہیں، اتنا اہم محکمہ جس کے ملک بھر میں سینکڑوں دفاتر ہیں میں پبلک ریلیشن آفیسر برائے میڈیا کی اسامی ہی موجود نہیںتو میڈیا مہم کیسے ممکن ہو سکتی تھی۔ اسی وجہ سے بھرپور میڈیا مہم نہ چلائی جا سکی اور سرکاری ملازمین کے صرف 20فیصد ہی اپنا پیشہ تبدیل کروانے کیلئے درخواست دے سکے۔
سرکاری ملازمین کے پاسپورٹ ڈیٹا میں پیشہ کے اندراج کے حوالے سے بنائی گئی پالیسی اورشائع کردہ اشتہار سے معلوم ہوتا ہے کہ اس پالیسی میں بہت سے شکوک و شبہات ہیں کہ کون سے سرکاری ملازمین پیشہ کا اندراج کروائیں، پالیسی میں چار قسمیں فیسوں کے حوالے سے توبیان کی گئی ہیں لیکن سرکاری ملازمین کی قسموں کے حوالے سے واضح نہیں کیا گیا، سرکاری ملازمین بھی ہمارے ملک میں کئی قسم کے ہیں جن میں مستقل ملازمین، مستقل کنٹریکٹ ملازمین، شارٹ ٹرم ملازمین، عارضی کنٹریکٹ ملازمین اور ڈیلی ویجز والے ملازمین شامل ہیں، پالیسی میں واضح نہیں کیا گیا کہ کون سے ملازمین کا پیشہ درج کروانا ضروری ہے، کیوں کہ ڈیلی ویجز اور عارضی کنٹریکٹ ملازمین تو نام کے سرکاری ملازمین ہیں، ان کو تو کسی بھی وقت نوکری سے برخاست کیا جا سکتا ہے۔ تمام سرکاری ملازمین کے باخبر نہ ہونے کی وجہ سے آخری تاریخ میں توسیع کرناانتہائی ضروری ہے جبکہ جرمانہ فیس کے حوالے سے بھی غور کیا جانا ضروری ہے کہ گریڈ 12سے نیچے کے ملازمین کے تو گھر کے اخرجات بڑی مشکل سے بھوکے رہ کر پورے ہوتے ہیں تو جرمانہ فیس کیسے ادا کریں گے،اس حوالے سے وزارت خارجہ اور ڈی جی پاسپورٹ کو چند تجاویز پیش خدمت ہیں تاکہ سرکاری ملازمین کے پیشہ اندراج کی مہم سے مطلوبہ نتائج حاصل کئے جا سکیں اور سرکاری ملازمین کی مشکلات میں بھی اضافہ نہ ہو ۔
آخری تاریخ میں کم سے کم تین ماہ کی توسیع کی جائے۔میڈیا مہم بذریعہ اشتہارات قومی اور لوکل اخبارت اور ٹی چینلز باقاعدہ چلائی جائے تاکہ تمام ملازمین کو پالیسی کے حوالے سے آگاہی حاصل ہو، اور پبلک ریلیشن آفیسر برائے میڈیا تعینات کیا جائے تا کہ محکمہ کی عوامی پالیسیوں کے حوالے سے بہتر میڈیا مہم چلائی جا سکے۔ جن سرکاری ملازمین کا پیشہ other درج ہے ان کی درستگی بلا معاوضہ کی جائے کیونکہ otherکوئی پیشہ نہیں اور یہ ڈیٹا انٹری آپریٹر کی غلطی سے درج ہوا اور جن کا پیشہ اس کے علاوہ کوئی اور درج کروایا گیا ہے ان سے جرمانہ فیس5000تک وصول کی جائے۔پالیسی کو واضح کرتے ہوئے صرف مستقل ملازمین اور مستقل کنٹریکٹ والے ملازمین پر یہ لاگو کی جائے جبکہ دیگر عارضی کنٹریکٹ ملازمین، شارٹ ٹرم اور ڈیلی ویجز سرکاری ملازمین کو اس سے مستثنیٰ کیا جائے۔
وزیر داخلہ کو پالیسی میکرز کی مانیٹرنگ کرنی چاہیے کہ پالیسی کو ہر طرح سے جانچ کے بعد لانچ کیا جانا چاہیے تھا لیکن اس میں سرکاری ملازمین کے حوالے سے وضاحت نہیں کی گئی۔ مزید پاسپورٹ افسران کے مطابق اس مہم کا مقصد سرکاری ملازمین کا ڈیٹا اکٹھا کرنا ہے، تو عرض کرتا چلوں کہ چند ماہ پہلے سابقہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کے احکامات پر تمام سرکاری ملازمین سرکار کی طرف سے لانچ کی گئی ویب سائٹ پر اپنا اندراج کروا چکے ہیں، اگر حقیقت میں اس مہم کا مقصد سرکاری ملازمین کے پیشہ کااندراج پاسپورٹ کے ڈیٹا میںاپ ڈیٹ کرنا مقصود ہے تواوپر دی گئی تجاویز سے بہتر اور بروقت نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں اور اگر صرف عوام سے محکمہ پاسپورٹ کا پیسہ اکٹھا کرنا مقصود ہے تو پھر ملازمین تو مجبور ہیں۔ یا جیل جائیں گے یا کسی بھی طریقہ سے پیسہ حاصل کر کے جرمانہ ادا کریں گے۔
(کالم نگارسماجی اورمعاشرتی امورپر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved