تازہ تر ین

”ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے“

حیات عبداللہ……..انگارے
سانسیں رُوپوش ہونے لگتی ہیں، سینہ دق ہو کر رہ جاتا ہے۔ انسانی حوصلوں کا قد کاٹھ جس قدر بھی سخت جانی اور سخت کوشی کے سانچے میں ڈھلا ہو، حالات کی اس نوع کی خلوت اس کی ذات اور شخصیت میں شکست و ریخت کر کے رکھ چھوڑتی ہے۔ تنہائی کا عذاب جھیل لینا اتنا آسان تو نہیں ہوا کرتا۔ اپنے گھر کے کسی کونے کھدرے میں پڑا تنہائیوں کا مارا انسان یادوں کے دریچے کا کوئی ایک پٹ وا کر کے باہر جھانکتا اور تخیّلات کی دنیا میں گھومتا پھرتا؛ گم گشتہ لوگوں کو کھوجتا اور تلاشتا بڑی دُور جا نکلتا ہے۔ سامنے دور افق پر سورج کی رُوپہلی کرنیں ہوں یا ڈوبتے سورج کی مدھم روشنی کی ٹمٹماتی اور آخری سانسیں لیتی کرنیں، وہ عہدِ گزشتہ میں کی گئی غلطیوں کے بوجھ تلے دبتا چلا جاتا ہے۔ بے بسی اور اضطراب کی شدّت کے باعث کتنی ہی بار وہ مُٹھیاں بھینچ کر رہ جاتا ہے، کتنی ہی بار آنکھوں سے آنسو¶ں کا ایک سلسلہ بہ نکلتا ہے۔ ایسی کوفت میں مبتلا انسان کے سامنے پھر پھول کی پتّیاں خوشبو¶ں میں نہا کر بھی آ جائیں تو اس کی سانسوں کی طرف راحت اور نشاط کا احساس رخ تک نہیں کرتا۔ اس کے دل و دماغ میں پرانی یادوں کے مرغولے اور گردباد، زندگی کا سارا حُسن چھین لیتے ہیں۔ پھر زندگی میں ایسی کیفیت بھی در آتی ہے کہ جن کی خاطر اس نے تنہائی کی اذیت اختیار کی ہوتی ہے، وہی لوگ اس کی تضحیک تک کرنے لگ جاتے ہیں۔
جس کے ایما پر کیا ترکِ تعلق سب سے
اب وہی شخص مجھے طعنہ تنہائی دے
بلّی نے جتنے بھی چھچڑوں کے خواب دیکھے تھے، کوئی ایک چھچڑا بھی اسے نصیب نہ ہوا۔ اس کے خواب میں ایک چھچڑا جو اس کی مونچھوں کے دو چار بالوں سے ٹکرایا، وہ پاکستان کو عالمی طور پر تنہا کر دینے کا تھا، مگر وہ پاکستان کو تو کیا تنہا کرتا، اس کا اپنا انگ انگ اور پور پور شبِ تنہائی میں گرفتار ہوتا جا رہا ہے۔ بھارت کی چھاتی میں کتنے چھید ہو چکے ہیں اس کے بھید اکثر سیاسی حکما اور اطبّا اچھی طرح جان چکے ہیں۔ پاکستان آج بزمِ یاراں اور ہجومِ دوستاں کے جھلملاتے ماحول کی سطح مرتفع پر جلوہ کناں ہوتا جا رہا ہے۔ مضافات کی تمام بڑی طاقتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ پہلے بھی چین کی پاکستان کے ساتھ محبت بامِ اخوت پر سر چڑھ کر بولتی تھی۔ اب تو چاہتوں کے اس بندھن کو مزید چار چاند لگ چکے ہیں۔ جب بھی بھارت، محبت کی اس وجد آفریں کیفیت پر دھیان دیتا ہے، وہ جل بھن کر رہ جاتا ہے۔ 2016 ءمیں پاکستان اور روس کی مشترکہ فوجی مشقیں بھی بھارت کی تنہائی میں کڑواہٹ گھول چکی ہیں۔ پاکستان کو تنہائی کے تاریک گوشوں میں دھکیلنے کی بذلہ سنج دھمکیوں پر آج موجود حقائق بھارت کا تمسخر اڑا رہے ہیں کہ صرف چین اور روس ہی پاکستان کے ساتھ نہیں بلکہ وہ مقبوضہ کشمیر جس میں بھارت کی آٹھ لاکھ سے زائد فوج دندناتی ہے اس مقبوضہ وادی کا بچّہ بچّہ بھی پاکستان کے ساتھ ہے۔ کیا یہ بات بھارتی چھاتی پر مُونگ نہیں دَل رہی کہ مقبوضہ کشمیر پر قبضہ اس کا ہے جب کہ اس کے عوام پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔ پاکستان کو تنہا کرنے کی سازشیں کرنے والا بھارت اپنے زیرِ تسلّط علاقے کشمیر میں ہی آج تک پاکستان کو تنہا نہ کر سکا، دیگر دنیا میں کیا تنہا کرے گا؟ شہید کشمیری نوجوان ہوتا ہے مگر اس کو کفن پاکستانی پرچم کا پہنایا جاتا ہے۔ جس پاکستان کی محبت اس قدر زور آور ہو اسے بھارت جیسی پھدکتی مینڈکی کیا تنہا کرے گی؟ بھارت یہ بھی سن لے کہ وہ اپنے ملک بھارت میں بھی پاکستان کے چاہنے والوں کے دل سے پاکستان کی محبت کم نہیں کر سکتا۔ کتنی ہی بار بھارتی لوگ بھی اپنے گھروں کی چھتوں پر پاکستان کا جھنڈا لہرا کر بھارت کا کھوکھلا پن واضح کر چکے ہیں۔ میں لغت میں تنہائی اور خلوت کے معانی دیکھتا ہوں تو عہدِ حاضر میں بھارت اس کی جامع تشریح اور کامل تفسیر بننے جا رہا ہے۔ جب امریکا افغانستان سے لوٹ جائے گا، بھارت کا کوئی پرسانِ حال تک نہیں رہ جائے گا۔ آٹھ لاکھ آرمی مسلّط کرنے کے باوجود بھارت، مقبوضہ کشمیر میں تنہا ہے۔ بھارت میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبہ مودی کا مجسمہ جلا چکے یہی نہیں بلکہ اب پھر خالصتان کی تحریک سر اٹھانے جا رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بھارت خود بھارت میں تنہا ہے۔ روس اس کا دشمن ہے، چین کی عداوت بھارت کے ساتھ چسپاں ہے۔ یہ عذابِ تنہائی بڑی تیزی کے ساتھ بھارت کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے۔
پاکستانی فوج اور ایجنسیاں مکمل شعور اور ذہنی بیداری کے ساتھ دنیا میں آج جس مقام پر موجو ہیں اور انھوں نے جس طرح عالمی سازشوں کو زیرِ زمین دفن کر کے بھارت کو تنہائیوں کی دلدل میں دھکیل دیا ہے، شاید عام پاکستانی کو اس کا ادراک ہی نہ ہو۔ آئیے آج بھارتی تنہائیوں کی ایک اور داستان بھارتی تجزیہ نگار ایم کے بھدرا کمار کی زبانی ملاحظہ کیجیے۔ وہ لکھتا ہے کہ ” آج دو عشروں پر محیط پراکسی جنگ میں بھارت کو مکمل طور پر شکست ہو چکی ہے۔ جبکہ پاکستانی جنگی ڈاکٹرائن کامیاب ٹھہری ہے۔ پاکستانی فوج نے طاقت کا استعمال کر کے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتی اور پھر بے پناہ قوتِ برداشت کا مظاہرہ کر کے قوم پرستی کے نام پر اٹھنے والی تحریکوں کو غیر م¶ثر کر کے رکھ دیا۔“ایم کے بھدرا کمار ششدر ہے کہ” ناقابل یقین بات تو یہ ہے کہ صرف دو سال قبل ٹرمپ خود کہتا تھا کہ پاکستان ہمارے پیسوں سے ہمیں مار رہا ہے، اس کے باوجود آج وہی ہو رہا ہے جو پاکستان چاہتا تھا “وہ لکھتا ہے کہ” ایسے وقت میں جب پاکستان دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ قیام امن کے لیے بیٹھ رہا ہے، بھارت کسی شکست خوردہ کھلاڑی کی طرح میدان سے باہر کھڑا تماشا دیکھ رہا ہے “
جی ہاں! بھارت آج باہر کھڑا ہے اور تنہائی کی تلخ اذیتیں اس کے گرد حصار بنائے کھڑی ہیں۔
خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے
تنہائی کا عذاب بڑا ہی جان لیوا ہوتا ہے، اس کا آخری وقت نہ بھی آیا ہو تب بھی وہ اپنی سانسیں گننے بیٹھ جاتا ہے۔ ایسے بھیانک اور گھٹن زدہ ماحول میں اس کے منہ سے تیزابی رطوبت نکلنے کے ساتھ ساتھ، ہڑبونگ مچاتے لفظ بھی برآمد ہونے لگتے ہیں۔ وہ سرجیکل سٹرائیک جیسی اونگی بونگیاں بھی مارنے لگتا ہے اور وہ اپنے جنگی طیارے بھی پاکستانی حدود میں داخل کر کے آنِ واحد میں ان طیاروں کی تباہی کے بھیانک اور ہولناک مناظر دیکھ کر مزید حواس باختہ ہو جاتا ہے۔ آج بھارت کا ہر حربہ ناکام اور ہر تدبیر دشنام بن چکی ہے۔ بھارت باز نہ آیا تو پاکستانی فوج کئی ایسے دیگر روگ بھی اس کے تعاقب میں لگا دے گی کہ جن سے وہ جان چھڑوا ہی نہیں پائے گا ۔
(کالم نگارقومی وسماجی امور پر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved