تازہ تر ین

مہنگائی میں دن بدن اضافہ سے عوام کا ڈپریشن بڑھ رہا ہے آپ کیا کر رہے ہیں:ضیا شاہد کا سوال ، پہلا سال مشکل ترین تھا ، مہنگائی کے جن پر جلد قابو پا لینگے : غلام سرور کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ احتساب کا ادارہ جو کارروائیاں کر رہا ہے اس سے وزیراعظم یا تحریک انصاف کا کوئی تعلق نظر نہیں آتا، اگر تحریک انصاف نیب سے ملی ہوتی تو اپنے لوگوں کے خلاف تو کارروائی نہ کرتی۔ پنجاب سے سینئر وزیر علیم خان کو گرفتار کیا گیا ان کا کیس جاری ہے میانوالی سے وزیر سبطین خان کو گرفتار کیا گیا۔ اگر تحریک انصاف میں احتساب عمل کے پیچھے ہوتی تو یہ کارروائیاںتو نہ کرتی۔ ضیا شاہد نے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور سے سوالات کئے کہ سابق ادوار میں بے تحاشا قرضے لئے گئے تاہم مہنگائی اتنی نہ تھی حکومت کا کام تو عوام کو ریلیف دینا ہوتا ہے جبکہ مہنگائی دن بدن بڑھ رہی ہے عوام میں ڈپریشن بڑھ رہا ہے آپ کیا کر رہے ہیں۔ کرپشن کے الزامات پر گرفتار ارکان اسمبلی کی پروڈکشن آرڈر جاری کر دیئے جاتے ہیں اور وہ آزاد گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں کیا یہ درست ہے۔ شاہد خاقان کی اپنی فضائی کمپنی تو فائدے میں جاتی ہے جبکہ پی آئی اے نقصان میں جاتی ہے۔ حکومت پی آئی اے کی بہتری کے لئے اقدامات کر رہی ہے یا ڈنگ ٹپا? پروگرام پر ہی چل رہی ہے۔ جس کے جوابات دیتے ہوئے وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کا واویلا کہ حکومت احتساب عمل کے پیچھے ہے نیب سے ملی ہوئی ہے غلط ہے۔ چیئرمین نیب کو ہم نہیں لائے انہوں نے ہی انہیں منتخب کیا۔ پانامہ کیس عالمی سطح پر سامنے آیا۔ نوازشریف اسمبلی میں کھڑے ہو کر جھوٹ بولتے رہے کہ یہ ہیں وہ وسائل، عدالتوں میں جھوٹ بولا اور منی ٹریل کے بجائے قطری خط پیش کر دیا۔ اب تو صورتحال یہ ہے کہ یورپ کی گلیاں کوچے ہوں یا مکے مدینے کی فضائیں ہوں ہر جگہ سے یہی آوازیں سنائی دیتی ہیںکہ ”نوازشریف اوراس کا سارا ٹبر چور ہے“ ان لوگوں کے خلاف کیسز تحریک انصاف یا عمران خان نے نہیں بنائے بلکہ انہی کے ادوار میں درج ہوئے تھے۔ اس کرپٹ مافیا کے باعث پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔ ملک کے ادارے فعال ہیں ان کی کارکردگی سے دنیا میں پاکستان کی نیک نامی ہوئی ہے کہ کوئی کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو قانون کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے۔ احتساب کے عمل سے عوام خوش ہے۔ احتساب بلا امتیاز ہونا چاہئے اور ہو رہا ہے تحریک انصاف کے اپنے لوگ بھی اس کی زد میں آ رہے ہیں۔ وزارت کا حلف اٹھانے کے بعد ہیڈ کوارٹر جا کر تفصیلی بریفنگ لی پی آئی اے 436 ارب کے خسارے میں ہے۔ ڈیفالٹ ہونے کے باعث کوئی ہمیںسپیئرپارٹس تک دینے کو تیار نہیں ہے ہم نے اپنے وسائل سے ایئرکرافٹس کی ریپیئرنگ کی اس پر 3 ملین ڈالر خرچ آیا 2 طیارے اڑنے کے قابل بنا لئے ایک کو ٹھیک کیا جا رہا ہے پی آئی اے سے کمیشن مافیا کا خاتمہ کیا ہے، ادارے کا خسارہ کم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ سابق ادوار میں پی آئی اے، ریلوے، سٹیل ملز سمیت ہر ادارے کو برباد کر دیا گیا، پی آئی اے کو پا?ں پر کھڑا کرنا منافع بخش ادارہ بنانا ہمارا ٹارگٹ ہے۔ حکومت کو ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا، پچھلے 10 سال میں ملکی قرضہ 6 سے 30 ہزار ارب ڈالر تک پہنچا دیا گیا جس کی اول وجہ منی لانڈرنگ اور ٹی ٹی مافیا تھا۔ توانائی سیکٹر میں 1280 ارب گردشی قرضہ ہے گیس محکمہ کا 155 ارب خسارہ ہے اس صورتحال میں بجلی گیس تو مہنگی ہونی تھی۔ کرپٹ مافیا نے کمیشن سے جائیدادیں بنائیں۔ اس وقت مہنگائی کے باعث عام آدمی پریشان ہے ہم اس سے زیادہ پریشان ہیں کہ ہم سے تو لوگوں کی بڑی توقعات ہیں۔ پہلا سال مشکل ترین تھا اب اس کے بعد آنے والا سال بہتری اور خوشحالی کا ہو گا۔ ہم نے بڑے بڑے دیو قابو کر لئے ہیں تو مہنگائی کے جن پر بھی قابو پا لیں گے عوام کو ریلیف دیں گے۔ ایل این جی کیس میں بھی ہمارے حکومت میں آنے سے پہلے نیب اور ایف آئی اے کی انکوائریاں چل رہی تھیں۔ اس معاہدے پر تحریک انصاف کو تحفظات تھے کہ حکومت کا مینڈیٹ تو پانچ سال کا ہے اور معاہدہ 15 سال کا کیا جا رہا ہے۔ جس طرح معاہدہ کیا گیا کہ اس پر بات نہیں ہو سکتی 15سال بعد بھی مزید 3 سال تک اس پر بات نہیں کی جا سکتی سامنے نہیں لایا جا سکتا اس نے شکوک و شبہات کو جنم دیا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر ایف آئی اے اس کی انکوائری کر رہی ہے نیب نے بھی اس پر ایکشن لیا ہے اس لئے اس معاملے پر زیادہ بات نہیں کروں گا تاہم یہ سمجھتا ہوں کہ نیب نے اس پر ٹھیک ایکشن لیا ہے۔ ہم پاکستان کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے ایل این جی معاہدے پر بات نہیں کرتے کہ قطر سے ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں تاہم ادارے اس پر ٹھیک انکوائری کر رہے ہیں۔ اپوزیشن کے پاس بات کرنے کے لئے کوئی ایشو نہیں ہے کہ نیب سے گٹھ جوڑ کا الزام لگاتی ہے ہمارا نیب، عدالت یا میڈیا سے کوئی گٹھ جوڑ نہیں ہے اپوزیشن کے پاس ہمارے خلاف کوئی ٹھوس چیز ہے تو سامنے لائے ہمیں اپنی عدلیہ اور اداروں پر مکمل اعتماد ہے۔ پروڈکشن آرڈر جاری کرنا سپیکر کی صوابدید ہے۔ میں نے سپیکر سے کہا تھا کہ جن لوگوں نے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے آپ ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرکے پبلک اکا?نٹس کمیٹیوں کے چیئرمین بنا دیتے ہیں اور وہ اداروں کے سربراہوں کو طلب کر کے دبا? ڈالتے ہیں ایسے ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز نہیں ہے۔ قومی مجرموں کے ساتھ وہی سلوک کیا جانا چاہئے جو ایک چور ڈاکو کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ میرے نزدیک کرپشن میں ملوث ارکان کا پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کرنا چاہئے اور انہیں میڈیا تک رسائی بھی نہیں ہونی چاہئے ہم اپوزیشن کی گیڈر بھبھکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ عمران خان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی قسم کا کوئی دبا? قبول نہیں کریں گے اور جو کچھ بھی ہو گا قانون کے مطابق ہو گا۔ ہم نے ایوی ایشن پالیسی دی، پی آئی اے کا نیا ویڑن دیا ہے اصلاحات کر رہے ہیں ادارے سے کرپٹ، سفارشی مافیا کا خاتمہ کیا۔ جعلی ڈگری والے پائلٹس کو فارغ کیا، مینجمنٹ کو ٹھیک کیا آنے والا ہر دن بہتری کی جانب ہو گا۔ اس وقت فلیٹ 30 جہازوں پر مشتمل ہے، 4 جہاز گرا?نڈ تھے دو کو آن ایئر کر دیا فلیٹ کو 45 جہازوں تک لے جانے کے ٹارگٹ پر عمل پیرا ہیں۔ پی آئی اے فلائٹس میں اگر باقی اخبارات جا رہے ہیں تو ”خبریں“ جیسا اہم اخبار بھی وہاں ضرور ہونا چاہئے اس مسئلہ کا نوٹس لوں گا اور اس بارے تحفظات دور کروں گا۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved