تازہ تر ین

لٹیرے جائیدادیں کرپشن سے بانٹیں گے، ہم ضبط کرتے جائینگے

میانوالی ( آن لائن+مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم عمران نے کہا ہے کہ چوری کے پیسے کی تمام جائیدادیں ضبط کریں گے، بے نامی جائیدادیں ضبط کرنا شروع کردیں، یہ پیسہ احساس پروگرام کے ذریعے غریبوں پر خرچ کریں گے، مغربی حکمرانوں کو بتاو¿ں گا، انسانیت کی مدد کرنی ہے تو منی لانڈرنگ کا پیسہ چوری ہونے والے ممالک کو واپس کریں۔ انہوں نے میانوالی میں میانوالی ایکسپریس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شیخ رشید کا میں شکریہ ادا کرتا ہوں کہ میانوالی ایکسپریس چلائی۔ پہلا سال مشکل تھا، پیسے کی کمی تھی، مقروض ملک تھا، لیکن اب آسانیاں ہیں۔ پچھلی حکومتوں کے قرضوں کے سود دینے کیلئے ہم نے قرضے لیے۔ جیسے جیسے وسائل زیادہ ہوں گے، ہم وسائل عام آدمی پر لگائیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ انگریز کے جانے کے بعد کسی نے ٹرین کی بہتری کیلئے توجہ نہیں دی۔ ایم ایل ون سے انقلاب آجائے گا۔ کراچی سے لاہور سفر 8 گھنٹے میں ہوگا، عام آدمی کیلئے بڑی آسانی ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میانوالی نے مجھے تب جتوایا جب کسی نے مجھے ووٹ نہیں دیئے۔ میانوالی کا مغربی علاقہ بنوں، کرک، ڈی جی خان، راجن پور سب پیچھے رہ گئے ہیں۔ ہماری حکومت ان علاقوں کو اوپر اٹھائے گی۔ سکولوں میں ٹیچرز ہوں، ہسپتال ٹھیک کرنے ہیں۔ پانی کا مسئلہ حل کرنا ہے۔ عیسیٰ خیل کے علاقے کے مسائل حل کرنے ہیں۔ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دیں گے۔ جب میں شروع میں یہاں آتا تھا تو تھانہ کچہری، پٹواری کا مسئلہ تھا، میں ان مسائل کو ٹھیک کردوں گا۔ نمل یونیورسٹی پھیلتی جائے گی، بڑی ہوتی جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں کرپشن کو ختم کرکے دکھاو¿ں گا۔ میں نے کہتا تھا کہ لوٹا پیسہ واپس دلاو¿ں گا۔ آنے والے دنوں میں دیکھیں گے، بے نامی جائیدادوں کو ضبط کرنی شروع کردیں۔تمام چوری کی جائیدادیں ضبط کریں گے۔ احساس پروگرام شروع کیا ہے، یہ پیسہ غریب طبقے پر خرچ کریں گے۔ میں جہاں بھی مغربی ممالک کا دورہ کروں گا۔ مغربی حکمرانوں کو بتاو¿ں گا، انسانیت کی مدد کرنی ہے تو منی لانڈرنگ کا پیسہ واپس انہی ملکوں کو دیں۔ اس موقع پر وزیرریلوے شیخ رشید نے کہا کہ 20سال بعد ٹرین دی، آج میانوالی کو ماڑی ایکسپریس دوسری ٹرین دی۔ ہمارا ایک سال پورا ہونے کو ہے، 2800 پھاٹک ہے، 15سوکراسنگ پر کوئی آدمی موجود نہیں تھا۔70.1فیصد آبادی ریلوے ٹریک کے اس طرف رہتی ہے یا دوسری رہتی ہے۔ ہمارے ان دس مہینوں میں تین حادثے ہوئے ہیں۔ ان چوروں سے سڑک پل، نالی، گلی محلہ بناکر پیسے ضائع کردیئے۔ان کو سی پیک کا پتا ہی نہیں، سی پیک اصل میں ایم ایل ون ہے۔ ایم ایل ون سے اس علاقے میں انقلاب آجائے گا۔ 10 ارب بچایا ہے اور خسارہ بھی کم کیا ہے۔ یہ غریب کی سواری ہے۔ غریب لوگ دعا دیں گے۔ اس ملک کو بدمعاشوں نے غلط تاثر دیا۔ ان کو کیا پتا شریف وزیراعلیٰ کیا ہے؟ میں نے راولپنڈی کو ایک یونیورسٹی دی۔ اس شریف آدمی نے مجھے 15 دن میں دوسری یونیورسٹی دی ہے۔ اپنے وسائل میں رہتے ہوئے 36 نئی ٹرینیں چلائی ہیں۔کرپٹ عناصر کو میانوالی جیل بھیجنا چاہیے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کی ترقی کے لئے چین کی طرح 450 وزرائ کو جیلوں میں ڈالنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نمل انسٹی ٹیوٹ میں اسپتال کی تعمیرکا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے کیا. ان کا کہنا تھا کہ سب کو مبارک باد دیتا ہوں، ایسے کاموں سے روح کو خوشی ملتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ایسے لوگ تھے، جنہوں نے بڑا پیسہ بنایا، محلات بنائے اور چلے گئے، ایسے افراد کو آج عوام یاد نہیں کرتے، جنہوں نے اللہ کے لئے کام کیا اور لوگوں کی مدد کی، انہیں عوام یاد کرتے ہیں.انہوں نے کہا کہ ہسپتال کی تعمیر نمل یونیورسٹی کا خواب تھا، ایک زمانے میں لوگوں نے کہا کہ آپ کے پاس فیکلٹی ہی نہیں، آج سب جانتے ہیں، نمل یونیورسٹی کی کیا اہمیت ہے، میانوالی سمیت جنوبی پنجاب کے علاقے پیچھے رہ گئے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ جنوبی پنجاب پر خصوصی توجہ دیں، نمل انسٹیٹیوٹ میں اسپتال انیل مسرت بنوا رہے ہیں.انہوں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں، احتساب تو ہو رہا ہے لیکن اس کا عوام کو کیا فائدہ ہے، چین کی مثال سامنے ہے۔ چینی صدر نے گزشتہ 5 سال میں 450 سے زائد وزیروں کو جیلوں ڈالا، پھر بھی ریکارڈ ترقی کی بیرون ملک اور بھی پاکستانی ہیں جن کے بڑے بڑے کاروبار ہیں، پاکستان میں کرپشن زیادہ تھی اس وجہ سے سرمایہ کار آنا نہیں چاہتے تھے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ 60 سال میں ملک کا قرضہ 6 ہزار ارب ہوا اور گزشتہ 10 سال میں قرضہ 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب ہوجاتا ہے، آخر ہم نے اس ملک میں کیاکام ہے؟ کچھ منصوبے ضرور بنائے مگر وہ بھی نقصان میں گئے۔ میٹرو منصوبہ بنایاگیا،عثمان بزدارسے پوچھیں 12 ارب ہر سال نقصان ہوگا۔.انہوں نے کہا کہ اس موقع کا 22 سال سے انتظارکررہا تھا، اللہ سے دعا کرتا تھا کہ ایک موقع دے،جو لوگ ذمہ دار ہیں ان کا احتساب کروں.جب تک ملک لوٹنے والوں کا احتساب نہیں ہوگا پاکستان ترقی نہیں کرے گا۔ ملک کی ترقی کے لئے چین کی طرح 450 وزرائ کو جیلوں میں ڈالنا ہوگا.ہم نے کسی ادارے میں مداخلت نہیں کی، اداروں کو خودمختارکیا، احتساب کا عمل جاری رہے گا، جتنی دھمکیاں دینی ہیں دےں لیں، ان لوگوں نے بیرون ملک سے بھی مجھے پیغامات بھجوائے، کچھ بھی کرلیں، احتساب کا عمل نہیں رکے گا۔.طاقتور اور کمزورکے لئے الگ الگ قانون نہیں ہوگا، احتساب یکساں ہوگا۔ ان لوگوں نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا اور کہتے ہیں کہ جواب نہیں دیں گے.انہوں نے کہا، صنعت کاروں، تاجروں سے درخواست ہے، پاکستان کے ایک ایک ہسپتال کو زیر نگرانی لے لیں، یوں ان کے مسائل ختم ہو جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جو مرضی دھمکیاں دینی ہیں، ڈرامے کرنے ہیں، جو مرضی کرنا ہے کریں احتساب اس ملک کے اندر ہو کر رہے گا اور طاقت ور کا ہوگا۔ عمران خان نے کہا کہ کمزور ہمیشہ پکڑا جاتا ہے، طاقت ور بچ جاتا ہے، آج طاقت ور کو قانون کے دائرے میں لارہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ انسانیت کی بھلائی کرکے انسان کو روحانی خوشی ملتی ہے، جب اس ہسپتال میں مریض آئیں گے وہ آپ کو دعائیں گے تو آپ کو سکون ملے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کبھی امیر آدمی کو یاد نہیں کرتی بلکہ انہیں یاد کرتی ہے جو انسانیت کے لیے کچھ کرجاتے ہیں ، مدر ٹریسا کو دنیا یاد کرتی ہے، گنگا رام ، گلاب دیوی کے نام سے ہسپتال ہیں انہوں نے انسانیت کے لیے کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر میں جو اسلام پھیلا تو بڑے بڑے صوفی تھے، وہ انسانیت کی خدمت کرتے تھے آج بھی ان کے مزاروں پر عرس پر چلے جائیں لاکھوں لوگ نظر آئیں گے، کتنے بادشاہوں کے مزاروں پر لوگ نظر آتے ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ جو انسانوں کے لیے کچھ کرتا ہے اسے دنیا میں عزت ملتی ہے اور دنیا سے جانے کے بعد بھی عزت ملتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک وقت تھا میانوالی میں مفرور بستے تھے یہ علاقہ ایسا تھا جہاں کوئی نہیں آتا تھا، ہم نے میانوالی میں ٹیکنیکل کالج بنانے کا سوچا تھا لیکن یہ خوبصورت جگہ دیکھ کر ہم نے یونیورسٹی بنانے کا سوچا تھا۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی بنانے کا مسئلہ تھا کہ دیہاتوں میں فیکلٹی نہیں آتی، پہلے نمل میں 11 پی ایچ ڈیز تھے آج یہاں 22 پی ایچ ڈیز آچکے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ نمل میں 97 فیصد طلبا کو سکالر شپ ملی ہیں جن میں سے 80 فیصد اردو میڈیم ہیں، نمل سے گریجوایٹ کرنے والے 92 فیصد طلبا کو فورا نوکریاں مل جاتی تھیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ نمل کو توسیع دینے اور اس علاقے کو سہولیات دینے کے لیے ہسپتال قائم کیا جارہا ہے جس سے نالج سٹی کا وڑن آسانی سے پورا ہوسکے گا۔ انہوں نے کہا کہ مغربی پنجاب کے علاقے بہت پیچھے رہ گئے، کوشش ہے میانوالی جیسے پیچھے رہ جانے والے علاقوں کو آگے لائیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کا پیسہ نہیں انیل مسرت کا ہے، حکومت مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال میں پیسہ لگائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج کل بہت شور مچا ہوا ہے کبھی ایک پکڑا جاتا ہے تو دوسرا گھبرا جاتا ہے، کہا جاتا ہے کہ احتساب کررہے ہیں تو لوگوں کو اس کا کیا فائدہ یہ بہت بڑا پراپیگنڈا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چین میں ترقی کی بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ صدر شی جن پنگ نے کرپشن پر 450 وزیروں کو جیل میں ڈالا ہے، ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ کرپشن ہے۔ عمران خان نے کہا کہ میرا 30 سال سے سب سے زیادہ رابطہ اوورسیز پاکستانیوں سے رہا ہے، وہ کرپشن کی وجہ سے پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کرتے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک ملک کا قرضہ 60 سال میں 6 ہزار ارب ہوتا ہے اور 10 سال میں وہ 30 ہزار ارب پر چلا جاتا ہے ایسا کیا کیا ہے کہ24 ہزار ارب قرضہ چڑھ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 3 میٹروز جو بنائی گئی ہیں وہ ہر سال 12 ارب کا نقصان کریں گی۔ عمران خان نے کہا کہ یہ پیسہ جن کی جیبوں میں گیا ہے جب تک ان کا احتساب نہیں ہوگا یہ ملک آگے نہیں بڑھے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان میں سے جتنے کیسز ہیں ہم نے نہیں کیے، ہم نے صرف اداروں کو یہ کہا ہے کہ جس نے چوری کی ہے، جس نے اقتدار میں رہ کر ملک کو یہاں پہنچایا ہے اس کا احتساب کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو مرضی دھمکیاں دینی ہیں، ڈرامے کرنے ہیں، باہر کے ملکوں سے بھی سفارشیں بھجوائی ہیں، جو مرضی کرنا ہے کریں اس ملک کے اندر احتساب ہو کر رہے گا اور طاقت ور کا ہوگا۔ عمران خان نے کہا کہ کمزور ہمیشہ پکڑا جاتا ہے، طاقت ور بچ جاتا ہے، آج طاقت ور کو قانون کے دائرے میں لارہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اصل انتقامی کارروائی تو میرے خلاف کی گئی تھی، میرے خلاف 32 ایف آئی آر درج کرائی گئیں، سپریم کورٹ میں مقدمے کیے گئے لیکن میں لندن نہیں بھاگا، شور نہیں مچایا، میں نے عدالت میں دستاویزات دیں اور اس کے بعد عدالت نے مجھے صادق اور امین کہا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ شور مچا رہے ہیں انہوں نے ایک دستاویز نہیں دیں، کبھی قطری خط دیتے ہیں وہ فراڈ نکلا، کبھی کیلیبری فونٹ وہ 2007 میں آئی کانٹریکٹ 2006 میں ہوا ، سارے معاہدے فراڈ تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہماری حکومت کا مقصد غریب اور متوسط طبقے کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے، ریلوے غریب عوام کی سواری ہے جس کی ترقی کے لیے ہر ممکن وسائل فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں میں لیے گئے قرضوں کی وجہ سے جمع ہونے والے ٹیکس میں سے نصف قرضوں کے سود میں چلا جاتا ہے تو ملک کیسے چل سکتا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت کو پہلے ایک سال میں کٹھن مسائل کا سامنا کرنا پڑا تاہم بتدریج مسائل میں کمی آرہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وسائل کی دستیابی کے ساتھ ہی عوام کو طبی اور تعلیمی سمیت ریلوے میں بہتر سہولیات میسر ہوں گی۔ انہوں نے کہ برطانوی فوج کے جانے کے بعد ریلوے نظام میں بہتری کے لیے کسی نے توجہ نہیں دی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ چین کے ساتھ ایم ایل ون منصوبہ پر بات چیت ہو چکی ہے جس کی تکمیل کے ساتھ ہی کراچی سے لاہور راستہ محض 8 گھنٹے پر مشتمل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اہلیان میانوالی نے سیاست میں اس وقت ساتھ دیا جب کسی نے نہیں دیا تھا اور گزشتہ انتخابات میں ریکارڈ ووٹ دیئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے جنوبی علاقے ترقی کے میدان میں انتہائی پیچے ہیں تاہم ہماری حکومت خصوصی طور پر ان شہروں اور گاں پر توجہ دے گی۔ عمران خان نے کہا کہ میانوالی میں پہلے مرحلے میں تدریسی نظام، دوسرے مرحلے میں طبی مراکز اور پھر پانی کی ترسیل کا نظام بہتر بنایا جائےگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پانچ سال بعد آپ دیکھیں گے کہ پہلے میانوالی کیا تھا اور اب کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے ذریعے اربوں روپے بیرون ملک لے جانے والوں کا مفاد آپ لوگوں سے جدا ہے، گزشتہ 10 برس میں جتنا پیسہ لوٹا، وہ واپس لائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کا پیسہ ملک میں لاکر احساس پروگرام میں لگایا جائے اور اس منصوبے سے غریب عوام کے مسائل دور کیے جائیں گے۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved