تازہ تر ین

عوامی مسائل نظرانداز

وزیر احمد جوگیزئی….(احترام جمہوریت)

پارلیمنٹ کے کسی بھی ادارے کا چاہے وہ قومی اسمبلی ہو یا سینیٹ عدم اعتماد سے نہ ہاﺅس بگڑتا ہے اور نہ ہی سینیٹ کے معا ملات میں کو ئی تبدیلی آتی ہے مسٹر اے کی جگہ پر مسٹر بی آجاتا ہے اور اسی طرح یہ سرکل چلتا رہتا ہے جو قومی اسمبلی اور اور سینیٹ کے فلور پر نظر آنا چاہیے جو کارروائی ہونی چاہیے عوامی مسائل کے حل پر بات ہونی چاہیے وہ بھی نظر نہیں آرہا ۔عوامی مسائل کے علاوہ باقی ہر کام کیا جا رہا ہے پارلیمان کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کا حل ہوتا ہے جو کہ بد قسمتی سے ہماری پارلیمنٹ کرنے سے قاصر ہے ۔
حاجی سیف اللہ ایک واحد لیجسلیٹر تھا ،جس کو صحیح معنوں میں قانون کی عزت اور اور ہاﺅس کی تکریم کا پاس تھا جتنا میں نے اس آدمی کو جمہوریت کی حرمت کا قائل دیکھا اور کسی کو نہیں دیکھا ۔چیئرمین سینیٹ کے بدلنے سے کوئی تبدیلی نہیں آئے گی ،نیا آنے والا چیئرمین سینیٹ بھی کچھ نیا نہیں لے کر آئے گا ۔اس وقت تو سینیٹ پاکستان ارب پتیوں کا ایک کلب ہے اس کلب میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی ایک پرائزئڈنگ افسر کو تبدیل کرنے سے ارب پتی لوگوں کے خیالات اور ان کی ترجیحات میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آسکتی ۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر موجودہ چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو بھی جاتی تو اس سے چہرے کی تبدیلی کے علاوہ اور کوئی بڑی تبدیلی نہ آ تی ۔
اگر ہم پارلیمانی نظام میں واقعی کوئی حقیقی تبدیلی لانا چاہتے ہیں قانون سازی بہتر کرنے کے معا ملات پر توجہ دی جائے ایک بل جب ٹیبل کیا جاتا ہے تو اس کی تین ریڈینگز کروائی جاتی ہیں ۔1st ریڈنگ 2nd ریڈنگ اور 3تیسری ریڈنگ ایک سپیکر یا چیئرمین سینیٹ کا کام ہے کہ اس بل پر پوری پارلیمنٹ سے بحث کروائے اور اگر ضروری ہے تو ترمیم کر کے بل کو تھرڈ ریڈنگ کی طرف لے جائے لیکن آجکل تو یہ لگتا ہے کہ ہاﺅس قانون سازی کے علا وہ سب کچھ کر رہے ہیں اور آجکل تو ہمارے قانون سازوں پر نیا پریشر آپڑا ہے اور یہ پریشر این جی اوز کی کی وجہ سے پڑا ہے کہ ہر معاملے کو کمیٹی میں لے جایا جائے اور کمیٹیوں میں قانون سازی کے معا ملا ت کو طے کیا جائے ۔میرے خیال میں تو یہ طریقہ کار مناسب نہیں ہے ہر بل کو پوری پارلیمنٹ کے سامنے پیش ہونا چاہیے اور تمام اراکین پارلیمنٹ کو اس بل پر مکمل اور تفصیلی جائزہ لینا چاہیے ہر قانون ساز کو معلوم ہو نا چاہیے کہ وہ کیا قا نون بنا رہا ہے عوام پر اس بل کے کیا اثرات ہوں گے ۔ہمارے ہاں تو یہ حال ہے کہ قانون سازوں کو ہی یہ علم نہیں ہو تا کہ وہ کیا قانون بنا رہے ہیں اور کیوں بنا رہے ہیں ۔اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔
کہتے ہیں کہ اون کو جتنا بیٹا جائے اون میں اتنی ہی چمک پیدا ہو تی ہے اور یہ اتنی ہی پا ئیدار ہوجا تی ہے ،یہ بات قانون سازی کے لیے بھی درست ہے جتنا کسی قانون پر بحث کی جائے گی اتنا ہی اس قانون میں بہتری آئے گی ۔لیکن ہمارے ہاں تو حکومت ہمیشہ ہی قانون منظور کروانے کی جلدی میں ہو تی ہے ۔ہمارے ملک میں بس یہ ہی صدائیں سنائی دیتی ہیں کہ چیئرمین کو نکالو، سیکرٹری کو نکالو ،سپیکر کو نکا لو ،فلاں کو نکا لو ان تمام معا ملات میں ہاﺅس کی کارروائی اور اصل مقصد کہیں اورکھو جا تا ہے ۔پارلیمان میں ہونے والی سازشوں سے عوام کو کچھ نہیں ملتا عوام کو پا رلیمان سے کچھ ملتا ہے تو وہ عوامی مسائل کا حل ہے اور پارلیمان کو عوام کو ان مسائل کا حال کر کے دینا چاہیے ۔اگر قانون ساز مسائل پر بولیں گے نہیں تو قانون بہتر نہیں ہو گا اور عوام کے مسائل کا کوئی حل نہیں نکل سکتا ۔
مجھے صاد ق سنجرانی صاحب سے دلی ہمدردی ہے لیکن اگر خدانخواستہ اس تحریک عدم اعتماد میں کام آ گئے تو دل چھوٹا نہ کریں اور عوامی مسا ئل پرڈٹ کر محنت کریں خود بخود آپ کی قدر و قیمت میں اضافہ ہو تا چلا جائے گا ۔آخر میں یہ ہی کہوں گا کہ پارلیمان کو اپنا کام قانون سازی کرنا چاہیے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے زور لگانا چاہیے چیئرمین سینیٹ چاہے کوئی بھی آ جائے اس سے عوام کوبراہ راست کوئی فرق نہیں پڑتا ۔اصل کامیابی عوامی مسائل کا حل ہے ۔
(کالم نگار سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved