تازہ تر ین

”ماں بد دعا نہیں دیتی“

ڈاکٹر نوشین عمران …. (احساس)

اوکاڑہ کی رہائشی بزرگ خاتون فاطمہ کی جانب سے متعلقہ تھانے میں شکایت درج کروائی گئی جس کے مطابق اسکا بیٹا اسکے ساتھ بہت برا سلوک کرتا ہے، ماں کو ڈانٹ ڈپٹ، گالی گلوچ کرتا ہے، کھانا نہیں دیتا، اگر کوئی محلے دار یارشتے دار منع کرے تو سنتا نہیں ، بیٹے کے ہاتھوں بار بار ذلیل ہونے والی ماں نے غالباً تنگ آکر کسی کے ہاتھ یہ درخواست جمع کروائی، شاید یہ بھی ماں کی بددعا کا ایک طریقہ تھاجونافرمان اولاد کے ہاتھوں تنگ تھی، تو معلوم ہوا کہ متعلقہ ایس ایچ او نے گھر پر پولیس بھیج کر بیٹے کو تھانے بلوالیا، آس پاس والوں نے کہا چلو اچھا ہوا، چار دن تھانے بند رہے گا ،مارپیٹ ہوگی تو عقل ٹھکانے آجائیگی،ماں کو خیال آیا کہ تھانوں میں ملزموں کے ساتھ کس قسم کا سلوک ہوتا ہے تو وہ خود کو روک نہ سکی، بیٹے کی ہرزیادتی بھلا کر روتی دھوتی تھانے پہنچ گئی اور ایس ایچ او کے پیر پکڑ لیے، ”اینوں چھڈ دیو،میرا پتر جے ہویا ،میں اینوں معاف کیتا“ یوں ماں نے بددعا والی دنیاوی درخواست تو واپس لے لی۔
کچھ دن پہلے ہمارے گھر میں کام کرنےوالی ماسی کئی سال بعد ملنے آئی۔ بیوہ ہونے کے بعد گھروں میں کھانا پکاکر اپنے تینوںبچوں کو پالا،میٹرک تک پڑھایا، شادیاں کیں، بیٹی تو کسی دوسرے شہر چلی گئی، ایک بیٹا دبئی چلا گیا، دوسرا پاس ہی رہتا ہے ، بیٹے خوشحال ہوئے تو سب سے پہلے اس ماں کو بوجھ سمجھنے لگے جس نے انگلی پکڑ کر چلنا سکھایاتھا، وہ بتارہی تھی کہ میں سارا سال کمیٹی ڈالتی کہ عید پر بچوں کو نئے کپڑے بنا کر دے سکوں، بیوہ ہونے کے بعد کبھی نیا کپڑا نہیں پہنا، ہمیشہ بچوں کیلئے رکھ لیتی، دل کی مریض ہوں،پی آئی سی ہسپتال سے مفت دوا مل جاتی ہے، اگر کوئی اور دوا لینی ہو تو بیٹے پیسے نہیں دیتے، کہتے ہیں جو دوا ملتی ہے کھالو، جو نہیں ملتی تو مر تو نہیں جاو¿گی، آج تک وہی پرانے کپڑے پہنتی ہوں، ایک بار کپڑوں کیلئے پیسے مانگے تو کہنے لگے کہ نئے کپڑے پہن کر کسے دکھانا ہے ، وہ روتی جاتی تھی اور کہتی جاتی تھی، میں کسی رشتے دار سے نہیں ملتی، کہیں زبان سے کوئی گلہ شکوہ نہ نکل جائے تو بیٹے بدنام ہونگے، دل بہت دکھی ہے، پر بددعا نہیں دیتی، اللہ سے انکی خیر ہی مانگتی ہوں۔
ایسی کئی کہانیاں ہمارے ارد گرد موجود ہیں، ایسی خبریں ہم اخبارات میں پڑھتے رہتے ہیں ، گھر کا خرچ زیادہ کرنے پر ماں باپ کو گالیاں دیں، بل زیادہ آنے پر باپ کو ٹھڈے مارے ، پسند کی شادی سے روکنے پر ماں کا سر پھاڑ دیا، بیوی کے کہنے پر ماں یا باپ کو گھر سے نکال دیا، اس طرح کی کئی شکایات خبریں ہیلپ لائن میں بھی موصول ہوتی ہیں ،اکثر ایسا ہوتا تھا کہ ایسی شکایات ملنے پر جب گھر والوں سے رابطہ کیا جاتا یا ایسے بیٹوں کیخلاف کسی کارروائی کی بات کرتی تو وہی ماں رو رو کر منع کردیتی، اور کئی مائیں تو اپنی شکایات کہیں رجسٹرڈ بھی نہیں کرواتیں، رودھو کر چپ ہو جاتی ہیں۔
ماں بڑی مضبوط ہوتی ہے، اپنی اولاد کےلئے کچھ بھی کرگزرتی ہے،لیکن اگر وہی اولاد مقابل آجائے تو ٹوٹ جاتی ہے، معلوم نہیں یہ بچے ایسا کیوں کرتے ہیں، اپنی زبان کی سختی اس ماں پر کیوں آزماتے ہیں جس نے بولنا سکھایا، والدین کی دعائیں تو تسبیح کے دانوں کی طرح ہر وقت اولاد کے حق میں پھرتی ہیں، مائیں بددعا نہیں دیتیں، لیکن کبھی ایسا وقت بھی آتا ہے کہ دعا بھی رک جاتی ہے۔
آج پھر ہیلپ لائن میں ایسا ہی ایک خط موصول ہوا ہے، کوئی رابطے کوئی کارروائی بیکار ہے، کیونکہ عین وقت پر ماں نے پھر یہی کہنا ہے ”اینوں چھڈ دیو، میں معاف کیتا ، میرا پتر جے ہویا“۔
(کالم نگار”خبریں “کی منیجنگ ایڈیٹر ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved