تازہ تر ین

حلقہ ارباب ذوق میں یونس جاوید کا خاکہ

میم سین بٹ….(ہائیڈپارک)
حلقہ ارباب ذوق کے بیشتر سابق سیکرٹری فوت ہوچکے ہیں ڈاکٹر انور سجاد کا تو ابھی حال ہی میں انتقال ہوا ہے تاہم حلقے کے درجن بھر سابق سیکرٹری حیات ہیں، ڈاکٹر یونس جاوید ان سب میں سے اس حوالے سے منفرد ہیں کہ انہوں نے حلقہ ارباب ذوق پر ضخیم مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی۔ ان کا مقالہ ”حلقہ ارباب ذوق ۔تنظیم،تحریک ،نظریہ “ کے عنوان سے کتابی صورت میں دوست پبلی کیشنز اسلام آباد نے 2003 ءمیں شائع کیا تھا جس کا انتساب انہوں نے یونیورسٹی اورینٹل کالج اور شہر لاہور کے نام کیا تھا،تقریباََ پونے 1100 صفحات پر مشتمل اس کتاب کا دیباچہ انتظار حسین اور ابتدائیہ ڈاکٹر خواجہ زکریا نے تحریرکیا ۔قبل ازیں یونس جاویدکا حلقہ ارباب ذوق پر ایم اے کا تحقیقی مقالہ 395 صفحات پر مشتمل کتاب کی صورت میں مجلس ترقی ادب لاہور نے 1984 ءمیں شائع کیا تھا ۔ ڈاکٹر یونس جاوید خود بھی مجلس ترقی ادب کے ساتھ منسلک رہے ہیں اورتقریباََِِ ڈیڑھ عشرہ قبل ڈائریکٹر کے عہدے سے قبل ازوقت ریٹائر ہو گئے تھے ۔
ڈاکٹر یونس جاوید کا بنیادی حوالہ افسانہ نگاری ہے انہوں نے ناول بھی لکھے ہیں تاہم ڈرامہ نگار کے طور پر زیادہ مشہور ہوئے ،پی ٹی وی کی ڈرامہ سیریز ”اندھیرا اجالا“ ان کی خاص پہچان بنی تھی جس کے پروڈیوسر ،ڈائریکٹر میراجی کے بھتیجے اور اداکار لطیفی کے صاحبزادے راشد ڈار تھے ۔ یونس جاوید کے ڈراموں کی 2کتابیں ”اندھیرا اجالا“ اور” رنجش “ ،3 ناول کانچ کا پل ،کنجری کا پل اورآخر شب جبکہ افسانوں کے 4 مجموعے آوازیں ،ربا سچیا ،تیز ہوا کا شور اورمیں زندہ عورت ہوں انکی تخلیقات میں اہم ہیں۔
عامر فراز نے اتوار کو حلقے کے ہفتہ وار تنقیدی اجلاس میں سابق سیکرٹری ڈاکٹر سعادت سعید کی زیر صدارت ڈاکٹر یونس جاوید کا خاکہ رکھا تھا مگر جب ہم پاک ٹی ہاﺅس کی گیلری میں پہنچے تو وہاں سابق سیکرٹری غلام حسین ساجد صدارتی نشست پر براجمان تھے شاید مصروفیت کے باعث ڈاکٹر سعادت سعید نے پاک ٹی ہاﺅس آنے سے معذرت کرلی تھی ۔ غلام حسین ساجد نے ڈاکٹر یونس جاوید کو ڈاکٹر انور سجاد کا خاکہ تنقید کیلئے پیش کرنے کی دعوت دیتے ہوئے قرار دیا کہ خاکہ محبت کے بغیر نہیں لکھا جا سکتا انہوں نے درست کہا تاہم محبت کے بغیر اور نفرت کے ساتھ کسی کا خاکہ اڑایا ضرور جا سکتا ہے بہت سے خاکہ نگاروں نے یہی کام کیا ہے البتہ یونس جاوید نے انور سجاد کی محبت میں خاکہ لکھا تھا انہوں نے طویل خاکہ پڑھنا شروع کیا تو بار بار مائیک خراب ہونے لگا ۔
حلقے میں یونس جاویدپڑھتے بھی دھیمے سروں میں تھے ،امجد طفیل نے پیشکش بھی کی کہ وہ اپنی پاٹ دار آواز میں خاکہ پڑھ دیتے ہیں لیکن یونس جاوید نے ان کی پیشکش قبول نہ کی۔ ہم عقبی نشستوں پر بیٹھے ہوئے تھے اس لئے خاکہ مکمل طور پر ہمارے پلے ہی نہ پڑا ،خدا خدا کرکے خاکہ مکمل ہوا تو اس پر میاں شہزاد نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے نشاندہی کی اس میں خاکہ نگار کہیں کہیں اپنا بھی خاکہ بیان کرتے رہے ہیں اسے مختصر اور جامع ہونا چاہیے تھا ۔امجد طفیل نے انکشاف کیا کہ خاکہ پہلے ادبی جریدے ”مکالمہ“ میں چھپ چکا ہے تاہم اس میں کچھ ترمیم واضافہ کرلیاگیا ہے ،خاکہ نگار نے ڈاکٹر انور سجاد کے ساتھ اپنے مکالمے تو بیان کردیئے ہیں لیکن پاک ٹی ہاﺅس میں انتظار حسین سمیت دیگرمعروف ادیبوں ،شاعروں کے ساتھ ہونے والی انور سجاد کی گفتگو کا ذکر تک نہیں کیا ،امجد طفیل نے اندرون شہر کے حوالے سے بھی خاکے میں واقعاتی غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ شاہ عالمی سے اندرون شہر داخل ہو کر رنگ محل سے چونا منڈی پہنچ جاتے ہیں خاکہ نگار نجانے ہیرا منڈی کیسے پہنچ گئے ؟“ ڈاکٹر امجد طفیل چونکہ خود بھی اندرون شہر کے رہنے والے ہیں اس لئے انہوں نے غلطی پکڑ لی تاہم یونس جاوید چونکہ بیرون شہر اچھرہ کے رہنے والے ہیں اس لئے وہ غلطی کر گئے ،شفیق احمد خان نے تشنگی کا اظہار کیا کہ بڑے خاکہ نگار اپنے لکھے خاکوں میں کسی مخفی بات کا انکشاف ضرور کرتے ہیں اس میں سرائیکی کے حوالے سے طویل عبارت کا ڈاکٹر انور سجاد سے کوئی تعلق نہیں تھا اس موقع پر ڈاکٹر یونس جاوید نے کسی قسم کی وضاحت کرنے کی کوشش کی تو حسین مجروح نے اعتراض کردیا کہ وہ نہیں بول سکتے۔ صدرمحفل غلام حسین ساجد نے ان سے اتفاق کرتے ہوئے یونس جاوید کو خاموش کرادیا ۔
ڈاکٹر ابراراحمد نے یونس جاوید کی تحریر کو بہت اچھی قرار دیتے ہوئے رائے دی کہ یہ خاکہ کے معیار پر پورا نہیں اترتی ۔حافظ جنید رضانے خاکہ کے اختتام پر اعتراض کیا کہ انور سجاد کی تیسری بیگم کے واقعہ کو مختصر ہونا چاہیے تھا ،ایوب خاور نے یونس جاوید کو بنیادی طور پر کہانی کا آدمی اور ان کی اس تحریر کو بھی کہانی ہی قراردیا ،محمد حسین بلوچ نے سرائیکی کے حوالے سے اظہار خیال کرنا چاہا مگر سیکرٹری عامر فراز نے انہیں روک دیا حالانکہ اگر ڈاکٹر یونس جاوید نے خاکے میں سرائیکی کے حوالے سے خاکے میں کوئی ذکرکیا تھا تو محمد حسین بلوچ کو اس پر بات کرنے کی اجازت ہونی چاہیے تھی ۔ حسین مجروح نے یونس جاوید کی تحریر کو خاکہ ماننے سے سے ہی انکار کردیا اور اسے یادوں کے حوالے سے مضمون قراردیا۔ ان کی یہ بات درست تھی کہ ہشت پہلو انورسجاد کی عائلی اور نجی زندگی کے واقعات مختصر کرکے ان کے افسانوں، ڈراموں اور پینٹنگز کے حوالے سے بات کی جانی چاہیے تھی ،عامر فراز نے مطبوعہ خاکے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کیا کہ ڈاکٹر یونس جاوید نے ڈاکٹر انورسجاد پر خاکہ بہت پہلے لکھ لیا تھا مگر اپنی علالت کے باعث حلقے میں تاخیر سے پیش کیا اس دوران ادبی رسالہ ”مکالمہ“ چھپ گیا اس موقع پر کسی نے لقمہ دیا کہ ”مکالمہ “ کل ہی مارکیٹ میں آیا ہے ، سابق سیکرٹری عامر فراز نے یونس جاوید کی تحریر کو یادنگاری کے حوالے سے بہت اچھا مضمون قراردیا ۔سابق سیکرٹری حسین مجروح نے جب دوبارہ بات کرنا چاہی توسابق سیکرٹری یونس جاوید بھی دوبارہ بول پڑے جس پرسابق سیکرٹری غلام حسین ساجد کو دوبارہ مداخلت کرتے ہوئے اپنے صدارتی اختیارات کے تحت سب کو خاموش کروانا پڑا ۔
آخر میں غلام حسین ساجد نے خاکے پر بحث کو سمیٹتے ہوئے صدارتی کلمات میں قراردیا کہ ڈاکٹر یونس جاوید بہت اچھے نثرنگار ہیں، ان کا خاکہ لکھنے کا یہی انداز ہے یہ یاد نگاری کے حوالے سے لکھتے ہیں ان کا یہ خاکہ بیلنس نہیں ہے تاہم اس سے معلومات ملتی ہیںاس خاکے میں واقعاتی غلطی محسوس ہوئی ،محمد سلیم الرحمان کو صفدر میر کی وفات کے بعد حکومت نے صدارتی ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا تھا جسے محمد سلیم الرحمان نے لینے سے انکار کردیا تھا ،ڈاکٹر یونس جاوید کے طویل خاکے اور مائیک کی بار بار خرابی نے بہت دیر کردی تھی ہمیں حلقہ ادب و صحافت کے اجلاس میں اظہر غوری کی سالگرہ منانے کیلئے لاہور پریس کلب کی لائبریری میں پہنچنا تھا لہٰذا غائر عالم جب اپنی شاعری تنقید کیلئے پیش کرنے لگے تو ہم چپکے سے گیلری کی سیڑھیاں اتر کر پاک ٹی ہاﺅس سے باہر نکل آئے ۔
(کالم نگارسیاسی اورادبی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
کالم
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved