تازہ تر ین

فلسفہ قربانی

تابندہ خالد……..بحث ونظر
آج بھی ہو جو ابراہےم کا اےمان پےدا
آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستان پےدا
ےوں تو تقویٰ ہر عبادت مےں مقصود ہے لےکن قربانی مےں بطور خاص اسکا ذکر ہے کہ خود کو مکمل طور پر اﷲ رب العزت کے سپرد کر دےنا۔ اس مےں طمع، نفسانی خواہشات، اولاد، برادری ےا معاشرتی رسم ورواج حائل نہ ہوں۔ اسکا درس ہمےں سنتِ ابراہےمی سے ملتا ہے۔ حالےہ مہنگائی کی لہر اور ٹےکس کٹوتی نے عوام کو محبوط الحواس بنا کر رکھ دےا ہے۔ اسی وجہ سے قربانی کے جانوروں کی قےمتوںمےں غےر معمولی اضافہ دےکھنے مےں آےا ہے۔ رےٹ آسمانوں سے باتےں کر رہے ہےں متوسط طبقے کا گمان ہے کہ شاےد وہ اس مرتبہ مذہبی فرےضہ کی ادائیگی نہےں کر پائےں گے۔ اگر بےوپارےوں سے پوچھا جائے تو وہ ےہ کہتے ہوئے دکھائی دےتے ہےں کہ ہر چیز بہت مہنگی ہو گئی ہے اور جانوروں کو کھلانے والا چارہ بھی اس کی زد میں آیا ہے۔ ایک صاحبِ بصےرت شخص اس چےز کا ادارک تو رکھتا ہی ہے کہ اتنی مہنگائی مےں اتنی زےادہ مقدار مےں بھلا کےونکر کوئی اپنے جانور کو کھلاتا پلاتا ہوگا؟ جانوروں کی فےڈ سے متعلق کئی بار انکشافات سامنے آئے ہےں کہ چند ضمےر فروش بےوپاری قربانی سے قبل گائے، بکرےوں، چھتروں، بھےڑ وغےرہ کو صحت مند دکھانے اور ان کی جلد نشوونما کے لےے انہےں مختلف انجےکشنز اور ادوےات کی بھےنٹ چڑھاتے ہےں۔ جانور اپنے مقررہ وقت سے قبل ہی نشوونما پا کر فربہ دکھائی دےتے ہےں۔ وےٹنرےری اےکسپرٹس کا کہنا ہے کہ جہاں تک سٹےرائڈز کی بات ہے تو اس کا استعمال صرف اس حد تک کارگر ہے کہ اگر جانور بےمار ہے تو ا س کو جلد صحت ےاب کےا جائے۔ لمبے عرصے کی تھراپی نہ صرف بے زبان جانور پر ظلم کے مترادف ہے بلکہ ےہ غےر قانونی ہے۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ قانون کی خلاف ورزی پر کےا سزا ہے۔ اس ضمن مےں کوئی قانون نہےں ہے تو سزا کدھر کی؟ ہاں البتہ فےڈ اےکٹ 2017 ہے جسے محکمہ لائےوسٹاک نے جاری کےا ہے جس مےں صرف فےڈ کے اجزاءپر مشتمل ایک دستاوےز ہے۔ حکومتی سطح پر جانوروں کی صحت سے متعلق مختلف اداروں مےں آگاہی سےمےنار منعقد ہونے چاہئےں کہ کن حفظانِ صحت کے اصولوں کو اپناتے ہوئے ہم جانوروں کی افزائش کر سکتے ہےں۔ مےرے نزدےک جو چےز لوگوں مےں آگاہی کا سبب ہو وہ بعد مےں قانون بن جاتی ہے۔ اولاً ہمےں تو پہلے آگاہی معلومات کو عوام تک ممکن بنانا ہوگا۔
قربانی کے حوالے سے تصوےر کا دوسرا رخ موڑےں اور کڑوی مگر تلخ حقےقت کا سامنا کرنے کے لےے تےار ہو جائےں۔ رےاکاری اب ٹاپ ٹرےنڈ بن چکی ہے۔ خودنمائی سے نہ تو ہمارے سےاستدان محفوظ رہے ہےں نہ ہی سوشل ورکرز، نہ ہی مذہبی رہنما اور نہ ہی ہمارا معاشرہ! آجکل کچھ لوگ دکھاوے کی غرض سے سات سات، بارہ بارہ جانور قربان کر رہے ہوتے ہےں لےکن قربانی کی اصل روح سے ناواقف ہوتے ہےں۔ فلسفہ قربانی کےا ہے؟ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”مےرے پاس نہ قربانی کے جانوروں کا خون پہنچتا ہے اور نہ ہی گوشت لےکن تقویٰ“۔ سنن ترمذی مےں ہے: کسی نے حضرت اےوب انصاریؓ سے پوچھا کہ رسول اﷲ کے زمانے مےں قربانےاں کےسے ہوتی تھےں؟ انہوں نے جواب دےا کہ اےک آدمی اپنی اور اپنے گھروالوں کی طرف سے اےک بکری قربان کےا کرتا تھا۔ مگر ہم آج کے دور مےں بےنک قرضہ ہی کےوں نہ لےں اپنی اَنَا کی خاطر بھاری بھرکم جانور قربان کرتے ہےں تاکہ لوگ ہمارے قصےدہ خواں ہوں۔ اےسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ جہاں 8جانور قربان کرنے ہےں وہاں 6کر لےے جائےں اور معاشرے مےں ضرورت مندوں کی حاجت بھی پوری کی جائے بشرطےکہ تحقےر کا کوئی عنصر شامل نہ ہو۔
بلا شبہ عےدِ قربان کا دوسرا نام عےدِ اےثار ہے۔ اگر پڑوس مےں کسی غرےب کی بےٹےاں جوان ہےں مگر غربت کے باعث وہ بوڑھی ہو رہی ہےں تو ہم اس غرےب کی ذمہ داری کے بوجھ کو ہلکا نہےں کر سکتے؟ نگاہ دوڑائےں اگر کوئی بےمار ہے اور آپرےشن کی رقم کی ادائیگی سے قاصر ہے تو کےا ہم اسکے لےے زندگی کا پےغام نہےں بن سکتے؟ مشاہدے مےں آیا ہے کہ اکثر لوگ ہر سال فرےضہ حج کی ادائیگی کے لےے جاتے ہےں حالانکہ حج صاحبِ استطاعت پر زندگی مےں اےک بار فرض ہے۔ اےسا نہےں ہو سکتا کہ ہم ہر سال کسی مقروض کا قرض ادا کرےں۔ دراصل اےثار اور قربانی کا مقصد اپنے نفس کا محاسبہ کرنا ہے۔ جائزہ لےنا ہے کہ ہم نے اپنے اندر کے دشمن کو کس قدر ڈھےل دے رکھی ہے۔ ان تمام مباحث کے تناظر مےں مےرا مقصد قطعاً ےہ نہےں کہ قربانی پر باقی اخلاقی اقدار کو ترجےح دی جائے ےا فوقےت کی کوئی تطبےق دی جائے۔ سنتِ ابراہےمی کی ادائیگی ہمارا مذہبی فرےضہ ہے لےکن حد سے زےادہ جانور قربان کرنے کی بجائے مقررہ تعداد مےں جانور ذبح کےے جائےں اور کچھ رقم معاشرے کی اصلاح کے لےے وقف کر دی جائے۔
کچھ لوگ بعد ازاں قربانی مےوزک کے راگ پر گوشت بناتے ہوئے نظر آتے ہےں لہٰذا اس قبےح فعل کو ترک کےجئے اور ان حالات و واقعات کو ذہن مےں لائےے جب حضرت ابراہےم علےہ السلام اور حضرت اسماعےل علےہ السلام اﷲ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کی خاطر آپس مےں اےمان افروز گفتگو کر رہے تھے۔ سوشل مےڈےا پر قربانی سے متعلق مزاحےہ اشعار، قربانی کے جانوروں کی آپس مےں رومانٹک تصاوےر، جانوروں کے قربان ہونے کے بارے مےں دکھی فقرے وغےرہ اس قسم کے پوسٹ کرنے سے حد درجہ احتراز کرےں کہےں اےسا نہ ہو کہ مہنگی قربانی کرنے کے باوجود ہماری نےکی اور ثواب رائےگاں چلا جائے۔ قربانی کی کھالےں صرف اور صرف مستحق اداروں اور رجسٹرڈ آرگنائزےشنز کے حوالے کی جائےں تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کو ہمارے ذرےعے پروان چڑھنے کا موقع نہ مل سکے۔
(کالم نگارمختلف موضوعات پرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved