تازہ تر ین

عیدالاضحی۔ چمڑے اور حلال گوشت کی صنعت

چوہدری ریاض مسعود….نقطہ نظر
عیدالاضحی کے مبارک موقع پر ملک بھر میں مختلف اقسام کے جانورذبح ہورہے ہیں۔ سنت ابراہیمی کی ادائیگی میں دنیا بھر میں رہنے والے مسلمان دینی جذبے کے تحت یہ مقدس فریضہ انجام دیتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں عید قربان کے موقع پر لاکھوں جانور ذیح کیے جاتے ہیں اور ان سے حاصل ہونے والا گوشت غریبوں‘ مساکین‘ مستحقین اورضرورت مندوں کے ساتھ ساتھ عزیزواقارب میں بھی تقسیم کیاجاتاہے۔ اللہ کا فضل وکرم ہے کہ عید کے مبارک موقع پر لاکھوں جانوروں کی قربانی کے باوجود ملک میں ان کی تعداد کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس وقت لائیوسٹاک کاشعبہ تقریباً4 فیصد سالانہ کے حساب سے ترقی کر رہا ہے جس کی وجہ سے اس سے متعلقہ تمام صنعتیں بھی مسلسل ترقی کررہی ہیں۔ یہ سب کچھ ہمارے مویشی پال کاشتکاروں کی وجہ سے ہورہاہے اس شعبے میں ہونے والی ترقی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایاجاسکتاہے کہ اس وقت پاکستان میں دودھ کی سالانہ پیداوار 50 بلین لِٹر سے بھی زیادہ ہو چکی ہے جس کی مالیت تمام فصلوں سے حاصل ہونے والی آمدن سے بھی زیادہ ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کاشمار دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہے اس شعبے میں مزید ترقی کرنے کی صلاحیت موجود ہے اگر حکومت اس پرخصوصی توجہ دیتے ہوئے مویشی پال کاشتکاروں کو مناسب سہولتیں اورمراعات دےدے۔ لائیوسٹاک کے شعبے کی بدولت پاکستان کو ہرسال تقریباً13 ملینHIDESاور48 ملین کھالیں (SKINS) حاصل ہوتی ہے۔ ان میں سے60سے70 فیصد کھالیں صرف عیدالاضحی کے تین دنوں میں حاصل ہوتی ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اناڑی قصائیوں کی وجہ سے کھالوں کی ایک بڑی تعداد کونقصان پہنچ جاتاہے جس کی وجہ سے کھالوں سے حاصل ہونے والی قیمتی دولت کوبے حد نقصان پہنچتاہے۔ ایک وقت تھا جب لیدر انڈسٹری ٹیکسٹائل کے بعد برآمدات میں دوسرے نمبر پر تھی لیکن اب یہ شعبہ بھی زوال پذیر ہے۔ ہماری لیدرگارمنٹس‘ لیدر گلوز اوردیگر چمڑے کی مصنوعات پیداوار اوربرآمد میں مسلسل کمی ہورہی ہے۔
عیدالاضحی کے حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ ہم اپنے دینی فریضہ سنت ابراہیمی کی پیروی عقیدت واحترام اورجوش وجذبے سے کرتے ہیں اور قربانی کا گوشت ضرورت مندوں تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن فریج اورفریزر میں گوشت بھرنے والوں کی تعداد بھی خاصی ہے اوریہ کوئی مناسب بات نہیں ہے ان کا یہ امرقربانی کی فلسفے کے بالکل متضاد ہے۔ اس وقت پاکستان میں لائیو سٹاک کاشعبہ مسلسل ترقی کررہاہے جس میں ہمارے مویشی پال کسانوں کی بھرپور محنت شامل ہے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت پاکستان میں بڑے گوشت کی پیداوار 21 لاکھ55ہزار ٹن‘ چھوٹے گوشت کی 7لاکھ17ہزار ٹن‘ مرغی کے گوشت کی تقریباً14لاکھ ٹن سے زیادہ ہے۔ اس قدر زیادہ پیداوار کے باوجود حلال گوشت کی عالمی منڈی میں ہمارا دور دور تک کوئی نشان نہیں ملتا۔ لائیوسٹاک کی دولت سے مالامال پاکستان کیلئے یہ کوئی مناسب بات نہیں ہے۔ سرکاری اعدادوشمار ظاہر کررہے ہیں کہ ہم گوشت کی پیداوار میں ترقی کررہے ہیں لیکن ایکسپورٹ کے میدان میں سارے اعدادوشمار ”دوربین بلکہ خوردبین“ سے بھی نظر نہیں آتے۔یہ حقیقت ہے کہ پیداوار کے لحاظ سے ”حلال گوشت کی کتاب“ میں پاکستان دنیا میں نمایاں پوزیشن رکھتاہے لیکن برآمدات میں ہم بہت پیچھے ہیں۔ مسلم دنیا کابھی حلال گوشت کی مارکیت یعنی برآمد میں ٹاپ ٹین میں(ماسوائے ترکی) کوئی نمایاں مقام نہیں‘صرف ترکی اس کی برآمدات میں نویں پوزیشن پر ہے حالات گوشت کی عالمی منڈی میں برازیل پہلے نمبر‘بھارت دوسرے‘ امریکہ تیسرے اورچین چوتھے نمبر پر ہے۔ اس کے بعد تھائی لینڈ‘آسٹریلیا ‘فرانس‘روس‘ ترکی اوردسویں نمبرپریوکرائن آتے ہیں۔
ہمارے منصوبہ سازوں کو اس بات پرغور کرناچاہئے کہ دنیا میں لائیوسٹاک کی پیداوار میں پانچویں پوزیشن ہونے کے باوجود ہم حلال گوشت کی عالمی رینکنگ میں ”ٹاپ ٹین“ میں شامل نہیں ہوسکے آخر اس کی وجوہات کیاہیں؟ ہماری پالیسیوں میں کہاں کہاں خامیاں اورکوتاہیاں ہیں؟ مویشی پال کاشتکاروں کے مسائل اور مشکلات کیاہیں؟ ہم حلال گوشت کی عالمی منڈی میں اپنی پوزیشن کیسے بہتر بناسکتے ہیں؟ یہ بات یاد رہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کی آبادی بڑھ رہی ہے خاص کر یورپ‘ شمالی امریکہ میں مسلم آبادی کا گراف اوپر جارہاہے۔ یہاں پر حلال گوشت برآمد کرناخاصا منافع بخش ہے۔ ایک جائزے کے مطابق ملائیشیا اورتھائی لینڈ پاکستان سے حلال گوشت کی پیداوار میں کہیں پیچھے تھے اوراب یہ اس میدان میں ہم سے آگے نکل چکے ہیں خاص طورپر تھائی لینڈ ٹاپ ٹین پوزیشن میں پانچویں نمبر پربراجمان ہے۔ ہم یہ نہ جانے کیوں صلاحیت رکھنے کے باوجود ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھے ہیں‘ ہم تو اپنی پالیسیوں کی وجہ سے چمڑے اوراس سے بنی ہوئی مصنوعات کی برآمد میں بھی مسلسل نیچے کی طرف جارہے ہیں۔ ہم نے توWTOکے چیلنجز کامقابلہ کرنے کی بجائے اپنے صنعتکاروں اوربرآمد کنندگان پرٹیکسوں اورقوانین کی بھرمارکردی۔ ایوان صنعت وتجارت لاہور کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں حلال گوشت کی مارکیٹ تقریباً25 سے27 فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھ رہی ہے لیکن اس کی برآمد کے شعبے میں ہرکوئی خاطرخواہ ترقی نہیں کرسکے۔ ہم اپنی ناقص منصوبہ بندی‘ آئے دن بدلتی ہوئی پالیسیوں اور قوانین کی وجہ سے ہرشعبے میں مارکھا رہے ہیں۔ ہم تو گوشت کی شیلف لائف بڑھانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے میں بہت پیچھے ہیں ہمارے بیرون ملک سفارت خانوں میں تعینات کمرشل قونصلرز اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دینے میں قاصر رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اس صورتحال کافوری نوٹس لے اورحلال فوڈ خاص حلال گوشت کی برآمد کوبڑھانے کیلئے فوری عملی اقدامات کرے۔ اس وقت گوشت کی ملکی پیداوار کو دیکھ کر ہم یہ کہہ سکتے ہیں ہم تھوڑی سی محنت اور بہتر منصوبہ بندی کرکے مختصر سے عرصے میں حلال گوشت کی ٹاپ ٹین پوزیشن میں جگہ بناسکتے ہیں۔
اس وقت پاکستان کے تمام دریاﺅں میں سیلابی کیفیت ہے اگرچہ اس کی شدت کم ہے اس کے علاوہ ملک بھر میں بارشوں کاسلسلہ بھی جاری ہے۔ ان حالات میں ہمیں اپنے مویشیوں کی حفاظت اور انہیں مرنے سے بچانے کیلئے ہنگامی طورپر انتظامات کرنا ہوں گے۔ ملک میں آنے والے ماضی کے سیلابی ریلوں میں ہمارے ہزاروں قیمتی جانور بہہ گئے تھے جس سے ہماری لائیوسٹاک کی معیشت پرمنفی اثرات مرتب ہوئے تھے۔ ہمارے اقتصادی ماہرین کو چاہئے کہ وہ چمڑے اور اس سے بنی ہوئی مصنوعات کی برآمد کربڑھانے کیلئے ٹھوس پالیسیاں بنائے۔ دودھ کی برآمد کوبڑھانے کیلئے بھی اقدامات کرے دودھ اوراس سے بننے والی مصنوعات کی پیداوار کوبڑھانے کیلئے جدید تحقیق اور ٹیکنالوجی کوفروغ دے۔ حکومت کوچاہئے کہ وہ دودھ اوراس سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد کی حوصلہ شکنی کرے تاکہ ملکی انڈسٹری ترقی کرسکے اس اقدام سے ملک کاقیمتی زرمبادلہ بھی یچے گا اورملکی پیداوار کے بڑھنے سے ہماری برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوگا جس سے وطن عزیز کومزید قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوگا۔
کالم نگارقومی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved