تازہ تر ین

دعا ،دوا اور حج

انجینئر افتخار چودھری ….باعث افتخار
کالم کے چھپنے والے دن یہاں سعودی عرب میں عید ہو گی۔لاکھوں فرزندان توحید اس دن قربانی کریں گے۔سعودی حکومت نے حج کے بہترین انتظامات کئے ہیں ۔مجال ہے اس بار بغیر اجازت کے کسی کو حج کرنے دیا ہو۔جو لوگ اجازت کے بغیر جائیں گے ان کے لئے سخت سزائیں رکھی گئی ہیں جرمانے کی ادائیگی کے بعد جیل کے راستے اپنے ملکوں میں بھیج دیا جائے گا، مقامی لوگوں کو اجازت نامہ لینا ہوتا ہے جو حج کرانے والی کمپنیاں لے کر دیتی ہیں میری معلومات کے مطابق ساڑھے چار ہزار ریال سے لے کر دس ہزار ریال تک فی حاجی خرچہ ہو رہا ہے۔سیکورٹی اداروں نے بڑی سخت چیکنگ شروع کر رکھی ہے مکہ مکرمہ کے راستوں پر تفتیش بہت زیادہ ہے۔پرانی موجیں ختم ہیں۔مجھے یاد ہے ایک بار ہم تو ایک سو بیس ریال میں حج کر کے آ گئے تھے ۔ٹرک کی باڈی میں بیٹھے جائے نماز، لوٹا اور ایک دری لی، کچھ کھانے پینے کا سامان تھا۔منیٰ میں کسی بھی جگہ پہاڑی پر خیمہ لگا لیا چھڑے چھانٹ تھے مٹی کا چولہا، گھر سے دال مصالحے ساتھ لئے ،پکایا اور کھایا ۔ان دنوں اتنی سختی بھی نہ تھی، پانی کی شدید قلت تھی لوگ قربانی کے جانور پہاڑ پر ہی ذبح کر کے پھینک دیتے تھے جس سے حج کے تیسرے روز سخت بو اور تعفن پھیل جاتا تھا ۔آہستہ آہستہ ٹیکنالوجی کا استعمال ہوا اور حج مہنگا تو ضرور ہوا لیکن اللہ کے بندے بڑے اچھے ماحول میں عبادات کرتے ہیں۔حاجیوں کے لئے سبک رفتار ٹرین سہولت بہم پہنچا رہی ہے۔لوگوں کو بسیں یہیں جدہ سے لے جاتی ہیں رہائش گاہوں سے منیٰ کے خیموں میں اور وہاں سے عرفات رات کھلے میدان میں مزدلفہ گزرتی ہے۔حاجی کے لئے عرفات تک پہنچنا آسان ہے ۔سارے دن کی عبادت خیمے میں قیام اور اوپر سے سخت گرم موسم اللہ پاک ہی انہیں ہمت دیتا ہے لوگ پیدل چلنا مناسب سمجھتے ہیں اس لئے کہ بسوں سے عرفات پہنچنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ میں اپنے پانچ سال پہلے والے تجربات کی روشنی میں بتا رہا ہوں ایک ہی وقت میں عرفات سے نکلنا ہوتا ہے نو ذوالحج کو جب مغرب کی نماز ہوتی ہے تو سب لوگ مزدلفہ کی طرف نکلتے ہیں یہی وہ لمحات ہیں جو حاجی کے لئے مشکل ہوتے ہیں۔سڑکیں جام ہو جاتی ہیں حتی کہ ٹرین میں سوار ہونا بھی دشوار ہوتا ہے۔لوگ ایک دو گھنٹے گاڑی میں بیٹھ کر اکتا جاتے ہیں اور پھر پیدل مارچ کرتے ہیں۔یہ کوئی پانچ کلو میٹر کا سفر ہوتا ہے ۔عرفات سے میدان مزدلفہ میں پہنچنے کا۔وہ لوگ جو بزرگ ضعیف ہوتے ہیں ان کے لئے بڑا مشکل وقت ہوتا ہے خواتین اور بچے تو بڑی تکلیف سے پہنچتے ہیں۔ ابھی تک اس مسئلے کا حل نہیں ڈھونڈا جا سکا۔مزدلفہ کی رات تھکے ماندے حاجیوں کے لئے گرچہ آرام کا باعث بنتی ہے کھلے میدان میں لوگ سوتے ہیں اسی رات انہیں شیطان کو مارنے کے لئے کنکریاں چننا ہوتی ہیں۔ حجاج یہاں مغرب اور عشاءکی نمازیں اکٹھی کر کے پڑھتے ہیں۔دس ذوالحج کی صبح کو فجر کی نماز پڑھنے کے بعد قافلوں کا رخ منیٰ کی طرف ہوتا ہے اکثر لوگ بڑے شیطان کو کنکریاں مارنے پہنچتے ہیں۔مزدلفہ سے شیطان کوئی دس کلو میٹر دور ہیں ۔یہ ایک تکلیف دہ دن ہے اور اللہ کے مہمان جو سنت ابراہیمی ادا کرنے یہاں پہنچے ہیں انہیں اس دن انتہائی صبر واستقامت کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے۔گرچہ اب سہولتیں بہت ہیں لیکن اس راستے میں ایک ہی وقت پچیس تیس لاکھ لوگوں کا ہجوم ایک ہی سمت جا رہا ہوتا ہے تو ایسا سمجھیں کہ سڑک کسی بڑی نہر کی شکل اختیار کر لیتی ہے جس میں پانی لبالب بھرا ہوا ہو۔فٹ پاتھوں پر بھی ان دنوں خیمے لگے ہوئے تھے۔ میرے ساتھ بیگم کے علاوہ بیٹی بھی تھی اللہ جنت بخشے جواں سال فہد رئیس ساتھ تھا سردار آصف نے مدد کی حج ہو گیا۔ مزدلفہ سے یہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر جب ایک ہی جگہ سے ایک منزل پر پہنچ رہا ہو تو منظر اس لحاظ سے دیدنی ہوتا ہے کہ ہجوم ایک دوسرے سے جڑا بہتا جا رہا ہوتا ہے آگے جا کے ایک سڑک پر اکٹھا ہو جاتا ہے اور یہی مقام اتصال موت کا منظر بھی بن جاتا ہے۔شیطان کے پاس میدان کھلا ہوتا ہے اور آج کل تین منزلہ ہونے کی وجہ سے آسانی پیدا ہو گئی ہے ورنہ لوگ کچل کے یہیں مرتے تھے، اسی جگہ شیطان مردود نے قربانی سے منع کیا تھا اور حضرت اسماعیل ؑ کو ورغلایا تھا۔لیکن اللہ کے پیارے نبی نے اس مردود کی ایک بھی نہیں مانی۔شیطان نے مہلت مانگی تھی کہ مجھے موقع دیں کہ بندوں کو ورغلاتا رہوں شائد اسی لئے ان دنوں ایسی خبریں پھیلائی جاتی ہیں کہ دنبہ،بکرا،اونٹ قربان کرنے کی بجائے کسی غریب کی مدد کی جائے ۔یہ دیسی لبرل اور لنڈے کے دانشوروں نے ایک مدت سے مہم چلا رکھی ہے حالانکہ وہ سارا کام آئی فون ،سام سنگ اور دیگر مہنگے موبائلوں سے کر رہے ہوتے ہیں۔لیکن جتنا یہ شور ڈالتے ہیں اس سے زیادہ قربانی ہوتی ہے۔
دس ذوالحجہ عید کا دن ہوتا ہے۔حاجی کے لئے جسمانی مشقت کا سخت ترین دن ۔کنکریاں مارنے کے بعد اس نے قربانی دینا ہوتی ہے جو مملکت سعودی عرب کی حکومت نے آسانی پیدا کر دی ہے۔ قربانی آن لائن رقم جمع کر کے کر دی جاتی ہے اس بار کوئی بھی پانچ سو ریال آن لائن جمع کرائے اور قربانی کا فریضہ انجام دے دے۔قربانی کے بعد احرام کھولنا بال منڈوانا نہانا دھونا۔جب یہ کام ہو جاتے ہیں تو اگلی منزل طواف زیارہ کی ہے ۔یہ حج کا انتہائی اہم رکن ہے حج در اصل تین اراکین کا نام ہے ۔احرام باندھ کے حج کی نیت،عرفات میں قیام اور طواف زیارہ۔یہ تین ارکان نہ پورے کئے تو حج نہیں ہو سکتا قربانی کے بغیر والا حج جسے حج افراد کہتے ہیں وہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
جب جدہ میں رہتا تھا تو کئی لوگ نو ذوالحج کی دوپہرکے دن بھی سیدھے عرفات چلے جاتے تھے۔وہاں قیام کیا مزدلفہ ٹھہرے اور اگلے روز طواف زیارہ کیا کچھ کنکریاں مار آتے تھے کچھ دے کے دس ذوالحجہ کو جدہ پہنچ جاتے ۔میں کوئی عالم دین نہیں ہوں لیکن جو دیکھا لکھ رہا ہوں۔دس کے بعد گیارہ اور بارہ ذوالحج کو حجاج کرام تینوں شیطانوں کو کنکریاں مارتے ہیں۔کچھ لوگ جوتے پھینکتے ہیںجو درست نہیں ہے ۔یہ در اصل علامتی اظہار ہے کہ ہم شیطان مردود پر لعنت بھیجتے ہیں اور ایک عہد ہے کہ اللہ جی ہم آپ کو چاہتے ہیں اسے اس لئے مار رہے ہیں۔اس شیطان کو میں نے چالیس سال پہلے بھی دیکھا تھا بالکل چھوٹا تھا اب تو دراز قد ہے امت مسلمہ کی تعداد کے مطابق اس نے بھی قد کاٹھ نکالا ہے تین منزلہ ہے چائینیز کمپنیز نے عمدہ سیمنٹ اور سرئے سے بنایا ہے۔حکومت سعودی عرب نے حجاج کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، یقین کیجئے آج سے چالیس سال پہلے والا سعودی عرب اگر آپ نے دیکھا ہوتا تو آپ حیران ہو جاتے۔ قدرت اللہ شہاب کے دور کا سعودی عرب اور حج اس کے احوال پڑھئے وہ غلاظت کے ڈھیر میں گر گئے تھے اور آج غسل خانوں تک جانے کے لئے برقی زینے۔عربی حمام اور کرسیوں والی سیٹیں ۔غسل خانوں کو معطر بنا دیا گیا ہے۔مجھے وہ حج بھی یاد ہے جب پانی کی بوند بوند کو ترستے تھے اور آج ہر راستے ہر جگہ پانی کی سبیلیں یہاں کے اہل خیر بھی خیرات کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔ جوس ،کھانے ، پانی اتنا کہ سڑک پر گرا ہوا دیکھیں گے۔یہاں کی کاروباری کمپنیاں لاکھوں ریال کا بجٹ حجاج کرام کے لئے رکھتی ہیں۔ پاکستان حج کے انتظامات پہلے سے بہت بہتر ہیں۔حج والینٹئرز کی تعداد بہت زیادہ ہے میرے دوست وسیم بخاری ان انتظامات کے انچارج ہیں۔حج ڈائریکٹوریٹ میں بیٹھے لوگ اپنا کام دکھا رہے ہیں۔عمران خان کیا کوئی آسمان سے فرشتہ بھی آ جائے تو فی حاجی فی بستر فی سواری اور کھانے پر کمیشن کھانا ان کا فرض اولین ہے۔نور الحق قادری ہوں، سردار یوسف ،سردار مہتاب ،عبدالستار نیازی، اعجاز الحق جو مرضی کر لیں یہ لوگ باز نہیں آتے ۔اس بار انتظامات پہلے سے بہت بہتر ہیں لیکن میں لکھے دیتا ہوںکہ میرے خیال میں فی حاجی لاکھ روپیہ خرد برد ہوتا ہے میرے پاس وہ لوگ ہیں جو حلف دینے کے لئے تیار ہیں کہ حاجیوں کو گھر سے نکلنے سے لے کر گھر واپس پہنچانے تک کمیشنیں کھائی جاتی ہیں۔وزراءاگر نہ بھی کھائیں تو حج ڈائریکٹوریٹ میں کمیشن مافیا کی لائن لگی ہوئی ہے،اس کا سد باب نا ممکن ہے۔ہماری بد قسمتی ہے نیک اور صالح شخص ڈیلیور نہیں کرتا جو کچھ کرتا ہے وہ اس کے نزدیک حج بھی کاروبار ہے۔
مجھے یقین ہے حج آپریشن جاری ہے اور اللہ کرے یہ مکمل ہو اور حاجیوں کو شکایت نہ ہو۔یہاں مدینہ منورہ میں ایک پاکستانی ہیں جہان زیب منہاس انہوں نے سوشل میڈیا اور اپنے حوالے سے وزیر اعظم کے دفتر میں شکایت پہنچائی۔ مدینہ منورہ میں حاجیوں کی شکایات سے آگاہ کیا ویسے بھی ہمارے لوگ احتساب کرنا جانتے ہیں ماضی کے حج کے بارے میں جھوٹا پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے اس کی حقیقت بھی میرے پاس ہے۔ اللہ پاک سب کا حج قبول فرمائے۔
مسئلہ کشمیر کے حوالے سے میں یہاں کے دانشوروں سے مل رہا ہوں ۔دعا کی حد تک تو یہ لوگ راضی ہیں دوا کی امید باقی ہے۔
( تحریک انصاف کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ہیں)
٭….٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved