تازہ تر ین

کشمیربنے گا پاکستان

وزیر احمد جوگیزئی….احترام جمہوریت
آجکل کشمیر کی بات گرم ہے اور گرم کیوں نہ ہو، ہندوستان کے وزیر اعظم نے تہیہ کیا ہوا ہے کہ ایک صاف ستھری ہندو ریاست بنانی ہے اگر یہ اس مشن میں کامیاب ہو ئے تو اس اقدام کی کوئی اپوزیشن نہیں ہو گی کیونکہ اپوزیشن میں خود اعلیٰ ذات کے ہندو بیٹھے ہوں گے، اور اعلیٰ ذات کے ہندو ہی حکمرانی کریں گے ۔ہمیں فکر کرنی چاہیے ایسے وقت کی جب یہ وا قعہ حقیقت میں ہی ہوجائے ۔کہتے ہیں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے ‘ہندو کی ہٹ دھرمی نے اور کچھ کیا ہو نہ ہو اس سے ہندوستان میں ہی ایک انقلابی سوچ ضرور ابھر کر سامنے آسکتی ہے۔ انھوں نے یہ جو کشمیر کے ساتھ کر دیا ہے میرے خیال میں برا ہوا ہے لیکن اب پاکستان کو اس برے کو ایک مثبت طریقے سے استعمال کرنا چاہیے ۔کشمیر کا مسئلہ مختلف مراحل سے ہوتے ہوتے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک دو طرفہ مسئلہ بن کر رہ گیا تھا ۔لیکن اب خود ہندوستان کے وزیر اعظم نے اس کو انٹرنیشنلا ئز کر دیا ہے۔ اب مسئلہ کشمیر کو ہر عالمی فورم پر لے جا یا جا سکتا ہے۔اور کشمیریوں کو خود بھی ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اپنی آزادی کا مصمم ارادہ لیے پہلے سے زیادہ جوش اور ولولے کے ساتھ اس مسئلہ کو ہر سطح پر اجا گر کرنے کے لیے اپنی کو ششوں میں مزید اضافہ کر دینا چاہیے ۔جنگ کشمیر کی ہے اور یہ جنگ کشمیری ہی لڑیں گے ۔بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے واقعہ کے بعد کشمیریوں کو بھی ڈائر یکٹ ایکشن کے لیے ایک لا ئحہ عمل ملا ہے ۔
پاکستان کو بھی فوری طور پر کوئی وقت ضائع کیے بغیر اس مسئلہ کو انٹرنیشنلا ئز کرنے کے لیے کا وشوں کا آغاز کر دینا چاہیے ،اور اس مسئلہ کو اس مقام تک لے جانا چاہیے جہاں پر یہ مسئلہ کسی حل کی طرف جا سکے ،لیکن سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس مسئلہ کا حل کیا ہے ؟آخر اس مسئلہ کو کس طرح حل کیا جا سکتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کشمیر بنے گا پاکستان، پا کستان کشمیر ہی ہے اور کشمیر پاکستان کا حصہ ۔پاکستان بننے کے اتنے طویل عرصے کے بعد سابق وزیر اعلیٰ مقبوضہ کشمیر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ کاش ہم قائد اعظم محمد علی جناح کے دو قومی نظریے کی مخا لفت نہ کرتے اور پاکستان کے حق میں ہی ووٹ دیتے ۔ اب پچھتائے کیا ہو ت جب چڑیاں چگ گئی کھیت ۔اگر انھوں نے پاکستان کو ووٹ دیا ہوتا تو آج ان کو اس خفت کا سامان نہ کرنا پڑتا ۔خفت کا لفظ اس لیے استعمال کر رہا ہوں کہ بھارت نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے اور پاکستان کو اب اس غلطی سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔جو مودی سرکار نے کر دیا ہے، کیا تو بے شک بہت برا ہے لیکن اب جتنا انھوں نے برا کر دیا ہے پاکستان کو اب اس صورتحال میں سے اتنا ہی اچھا نکالنا چاہیے ۔پا کستان کو اب ایک اچھی اپروچ اور اچھی اور موثر سفارت کاری کے ذریعے اس مشکل اور پیچیدہ مسئلے کا کوئی حل تلاش کرنا ہو گا ۔میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے فارن آفس میں بہت ہی بہترین اور تجربہ کار سفارت کار موجود ہیں ان سفارت کاروں کو چاہیے کہ ٹیلی وژن سے ہٹ کر سب اکٹھے ہو کر کہیں بیٹھ جائیں اور اس تمام صورتحال کا کوئی حل نکالنے کی کوشش کریں۔ میرے خیال میں تو ہمارے سفارت کار بہت ہی پڑھے لکھے اور قابل ہیں وہ اس مسئلہ کا کو ئی نہ کوئی حل نکال ہی لیں گے ۔ مسئلہ کشمیر کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور نہ ہی طاقت کے استعمال اور فوج کشی کے ذریعے یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے ۔کشمیر کا مسئلہ صرف اور صرف سفارتی محاذ پر لڑی جانے والی جنگ ہے ۔
پاکستان کو اس مسئلہ کے حوالے سے چین کی مدد بھی حاصل کرنی چاہیے اور ان کی طرف اس مسئلہ کے حل کے حوالے سے بہت مثبت انداز میں دیکھنا چاہیے ۔چین کی حمایت اس لیے بھی اہم ہے کہ بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے پاکستان کے ساتھ ساتھ چین کو بھی لداخ کے معا ملے پر زک پہنچائی ہے ۔اس مسئلہ پر پاکستان اور چین کی سوچ تقریبا ایک جیسی ہی ہو گی اس میں زیادہ فرق نہیں ہو گا ۔مجھے نہیں معلوم کہ لداخ کے معاملے پر چین میں کتنا ردعمل پایا جاتا ہے لیکن چین نے اس حوالے سے بھارت کو ایک شٹ اپ کال ضرور دی ہے ۔اب امید ہے کہ معاملے پر کوئی اچھی پیش رفت ہو گی لیکن ہماری خارجہ پالیسی کے دوستوں کو چین کے مشورے سے اس معا ملہ پر کوئی مشترکہ لا ئحہ عمل اختیار کرنا چاہیے ۔متلاشی کو گوہر مل ہی جاتا ہے لیکن شرط یہ ہو تی ہے کہ تلاش جاری و ساری رہنی چاہیے ۔پا کستان کوکشمیر کے معا ملے پر بھارت پر مسلسل سفارتی دباﺅ رکھنا ہو گا اور اگر میں یہ کہوں کہ پا کستان کو مسلسل عالمی سطح پر کشمیر کا راگ الا پتے رہنا ہو گا تو یہ غلط نہیں ہو گا ۔یہ تجربہ تو ہمیں پا کستان کے اندرونی معا ملات سے بھی ہے کہ جو ایشو نظروں سے اوجھل ہو جائے پھر اس مسئلہ پر بات بھی نہیں کی جا تی ۔مسئلہ کشمیر کو حل کی طرف لے کر جانا بطور قوم پاکستان کا مشن ہے اس راہ میں مشکلا ت کا بھی اندیشہ ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حالات میں پوری قوم حکومت اور اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور وقت آنے پر کسی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرے گی ۔
ان غیر معمولی اور غیر موزوں حالات میں سیاسی اور عسکری قیادت کا ایک صفحہ پر ہونا بے حد ضروری ہے سیاسی اختلافات کو بالا ئے طاق رکھتے ہوئے سیاسی قائدین کو اتحاد اور یگانگت کا پیغام عالمی برادری کو دینا چاہیے ، پر امن سفارت کاری کو فعال اور متحرک کرنا بہت ضروری ہے۔ بھارت کے ماورائے آئین اقدام جنوبی ایشیا میں شاید محاذ آرائی اور کشیدگی پیدا کر رہے ہیں ۔بھارت جس جارحیت پسندی کو فروغ دے رہا ہے اس سے خطے کے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں ۔پا کستان کی امن کی پالیسی کو کمزوری نہ سمجھا جائے ۔
(کالم نگار سابق ڈ۲٭….٭


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved